وراثت کے اسباب، ورثاء اور میراث کے اہم احکام قرآن و صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل، وراثت کے مسائل:جلد 02: صفحہ 188
مضمون کے اہم نکات

وراثت کے اسباب، ورثاء اور ان کے احکام

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شرعی اصطلاح میں وراثت سے مراد یہ ہے کہ کسی میت کا مال شریعت کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق زندہ فرد یا افراد کی طرف منتقل ہو جائے۔

وراثت کے اسباب

وراثت کے بنیادی اسباب تین ہیں:

① رحم، یعنی نسبی قرابت

اس سے مراد وہ رشتہ داری ہے جس کی بنا پر آدمی وارث بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ”
"اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ اولیٰ ہیں اللہ کے حکم میں۔” [الانفال:8/75]

نسبی قرابت رکھنے والے لوگ، خواہ میت سے قریب ہوں یا دور، وارث بن سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کے درمیان کوئی ایسا قریبی رشتہ دار موجود نہ ہو جو ان کے لیے مانع بن جائے۔ یعنی جب قریب کا رشتہ دار موجود ہو تو دور والا رشتہ دار وارث نہیں بنتا۔

نسبی رشتہ دار ورثاء تین درجوں میں تقسیم ہوتے ہیں:

✔ اصول:
اس سے مراد باپ، دادا، پردادا اور اس سے اوپر تک کے آباء ہیں۔

✔ فروع:
اس میں صلبی اولاد اور بیٹیوں کی اولاد نیچے تک شامل ہے۔

✔ حواشی:
اس سے مراد بھائی بہن، بھائیوں کی اولاد نیچے تک، اور چچا خواہ سگے ہوں یا اوپر کے آباء کی طرف سے، نیز ان کی اولاد نیچے تک۔

② نکاح

نکاح سے مراد مرد اور عورت کا شرعی طریقے پر عقدِ زوجیت میں منسلک ہونا ہے، اگرچہ خلوت یا مباشرت کا موقع نہ بھی ملا ہو، کیونکہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم عام ہے:

﴿وَلَكُم نِصفُ ما تَرَكَ أَزو‌ٰجُكُم إِن لَم يَكُن لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِن كانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمّا تَرَكنَ مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ يوصينَ بِها أَو دَينٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمّا تَرَكتُم إِن لَم يَكُن لَكُم وَلَدٌ فَإِن كانَ لَكُم وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمّا تَرَكتُم…﴿١٢﴾… سورةالنساء
"تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ مریں اور ان کی اولاد نہ ہو تو آدھوں آدھ تمہارا ہے اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے تمہارے لئے چوتھائی حصہ ہے۔ اس وصیت کی ادائیگی کے بعد جو وه کر گئی ہوں یا قرض کے بعد۔ اور جو (ترکہ) تم چھوڑ جاؤ اس میں ان کے لئے چوتھائی ہے، اگر تمہاری اولاد نہ ہو اور اگر تمہاری اولاد ہو تو پھر انہیں تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا،” [النساء:4/12]

محض عقدِ نکاح کے قائم ہو جانے سے شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے وارث بن جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر طلاق رجعی ہو اور عدت کے اندر میاں بیوی میں سے کوئی فوت ہو جائے تو دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، کیونکہ عدتِ رجعیہ میں زوجیت باقی رہتی ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ نکاح کی تعریف میں شرعی کی قید اس لیے لگائی گئی ہے کہ غیر شرعی یا فاسد نکاح اس سے خارج ہو جائے، کیونکہ ایسا نکاح شرعاً معتبر نہیں، لہٰذا اس سے وراثت بھی ثابت نہیں ہوتی۔

③ ولاء

شرعی اعتبار سے ولاء ایسی میراث ہے جو آزاد کرنے والے کو اپنے آزاد کردہ غلام کی وفات کے بعد ملتی ہے۔ فقہاء کی اصطلاح میں اسے عصوبة سببية کہا جاتا ہے۔

ولاء کی وجہ سے آزاد کرنے والا اپنے آزاد کردہ کا وارث بنتا ہے، اس کے برعکس نہیں۔ اگر آزاد کرنے والا زندہ نہ ہو تو اس کے عصبات بالنفس، مثلاً بیٹا، باپ، بھائی اور چچا، آزاد کردہ کی ولاء کے وارث ہوں گے۔ البتہ عصبہ بالغیر یا عصبہ مع الغیر اس میں وارث نہیں بنتے۔

اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات ہیں:

"الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ”
"ولاء کا تعلق نسبی تعلق کی طرح ہے۔” [صحیح ابن حبان (الاحسان ) 7/4929والمستدرک للحاکم 4/379۔حدیث 7990۔7991]

"إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ”
"ولاء صرف اسے ملتی ہے جو آزاد کرے۔” [صحیح البخای الزکاۃ باب الصدقۃ علی مولیٰ ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث 1493۔وصحیح مسلم العتق باب بیان ان الولاء اعتق حدیث1504]

واضح رہے آزاد کردہ شخص کی ولاء اس کو آزاد کرنے والے یا اس کے عصبات کو تب ملتی ہے جب آزاد کردہ کا اپنا کوئی نسبی عصبہ نہ ہو۔ اس مسئلے کی مزید تفصیل کے لیے تفہیم المواریث ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ [(صارم)]

جنس کے اعتبار سے ورثاء کی تقسیم

ورثاء جنس کے اعتبار سے دو قسم کے ہیں:

① مرد
② عورت

مرد ورثاء

① بیٹا اور پوتا نیچے تک

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يوصيكُمُ اللَّهُ فى أَولـٰدِكُم لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ الأُنثَيَينِ… ﴿١١﴾… سورة النساء
"اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔” [النساء:4/11]

یہ بات یاد رہے کہ جب بیٹا موجود نہ ہو تو پوتا اس کا قائم مقام سمجھا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اولاد کے لفظ کا استعمال عام طور پر نسل کے افراد پر بھی ہوتا ہے، جیسے:

"يَا بَنِي آدَمَ "
"اے آدم کے بیٹو!”

اور:

"يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ "
"اے یعقوب کے بیٹو!”

② باپ اور دادا اوپر تک

اس سے مراد وہ آباء ہیں جن کا تعلق میت سے صرف مردوں کے واسطے سے ہو، یعنی وارث اور میت کے درمیان کسی عورت کا واسطہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿”وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ”﴾
"اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے۔” [النساء:4/11]

دادا باپ کے قائم مقام ہوتا ہے جب باپ موجود نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے میت کے دادا کو چھٹا حصہ دیا تھا۔

③ بھائی

بھائی تین قسم کے ہوتے ہیں:

✔ عینی: جو ماں اور باپ دونوں کی طرف سے سگے ہوں۔
✔ علاتی: جو صرف باپ کی طرف سے ہوں۔
✔ اخیافی: جو صرف ماں کی طرف سے ہوں۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے حق وراثت کو یوں بیان فرمایا:

﴿يَستَفتونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفتيكُم فِى الكَلـٰلَةِ إِنِ امرُؤٌا۟ هَلَكَ لَيسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُختٌ فَلَها نِصفُ ما تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُها إِن لَم يَكُن لَها وَلَدٌ فَإِن كانَتَا اثنَتَينِ فَلَهُمَا الثُّلُثانِ مِمّا تَرَكَ وَإِن كانوا إِخوَةً رِجالًا وَنِساءً فَلِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ الأُنثَيَينِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُم أَن تَضِلّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَىءٍ عَليمٌ ﴿١٧٦﴾… سورة النساء
"آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ (خود) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص مر جائے جس کی اولاد نہ ہو اور ایک بہن ہو تو اس کے لئے چھوڑے ہوئے مال کا آدھا حصہ ہے اور وه بھائی اس بہن کا وارث ہوگا اگر اس کے اولاد نہ ہو۔ پس اگر بہنیں دو ہوں تو انہیں کل چھوڑے ہوئے کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر کئی شخص اس ناطے کے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کے لئے حصہ ہے مثل دو عورتوں کے، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے بیان فرما رہا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ تم بہک جاؤ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے” [النساء 4۔176]

اس آیت میں عینی اور علاتی بھائیوں کا ذکر ہے۔ جبکہ اخیافی بھائی بہن کے بارے میں فرمایا:

﴿وَإِن كانَ رَجُلٌ يورَثُ كَلـٰلَةً أَوِ امرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَو أُختٌ فَلِكُلِّ و‌ٰحِدٍ مِنهُمَا السُّدُسُ…﴿١٢﴾… سورة النساء
"اور جن کی میراث لی جاتی ہے وہ مرد یا عورت کلالہ ہو(اس کا باپ بیٹا نہ ہو)اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے۔” [النساء:4/12]

④ بھتیجا

اسی طرح عینی اور علاتی بھتیجا بھی وارث بنتا ہے، البتہ اخیافی بھتیجا وارث نہیں ہوتا، کیونکہ وہ ذوی الارحام میں شمار ہوتا ہے۔

⑤ چچا اور ان کے بیٹے

عینی اور علاتی چچا اور ان کی اولاد بھی وارث ہوتی ہے۔ اس کی دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ”
"اصحاب الفروض کوان کے حصے دو۔ پھر جو بچ جائے وہ قریبی مرد(عصبہ) کو دو۔” [صحیح البخاری،الفرائض باب میراث الولد ایہ وامہ حدیث6732۔وصحیح مسلم الفرائض باب الحفوالفرائض بالھلھا فما بقی فلاولیٰ رجل ذکر حدیث 1615]

⑥ خاوند

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلَكُم نِصفُ ما تَرَكَ أَزو‌ٰجُكُم …﴿١٢﴾… سورةالنساء
"تمھاری بیویاں جوکو کچھ چھوڑ مریں اور ان کی اولاد نہ ہو تو آدھا حصہ تمھارا ہے۔” [النساء:4۔12]

⑦ صاحب ولاء

آزاد کرنے والا، یا اس کے عصبات، آزاد کردہ کے وارث ہوتے ہیں۔ دلیل یہ ہے:

"الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ”
"ولاءبھی نسب کی طرح کا ایک تعلق ہے۔” [صحیح ابن حبان (الاحسان ) 7/4929والمستدرک للحاکم 4/379۔حدیث 7990۔7991]

اور:

"إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ”
"ولاء کا حقدار وہ ہے جو آزاد کرنے والا ہے۔” [صحیح البخای الزکاۃ باب الصدقۃ علی مولیٰ ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث 1493۔وصحیح مسلم العتق باب بیان ان الولاء اعتق حدیث1504]

عورت ورثاء

① بیٹی اور بیٹے کی بیٹی

بیٹی اور بیٹے کی بیٹی، خواہ نیچے تک ہو، وارث بنتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿يوصيكُمُ اللَّهُ فى أَولـٰدِكُم لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ الأُنثَيَينِ فَإِن كُنَّ نِساءً فَوقَ اثنَتَينِ فَلَهُنَّ ثُلُثا ما تَرَكَ وَإِن كانَت و‌ٰحِدَةً فَلَهَا النِّصفُ… ﴿١١﴾… سورة النساء
"اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیاده ہوں تو انہیں مال متروکہ کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے” [النساء:4/11]

② ماں، دادی اور نانی

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿فَإِن لَم يَكُن لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَواهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِن كانَ لَهُ إِخوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ …﴿١١﴾… سورة النساء
"اور اگر اولادنہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے۔ ہاں اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا (حصہ) ہے۔” [النساء:4/11]

اور سیدنا بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لِلْجَدَّةِ السُّدُسَ إذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهَا أُمٌّ "
"دادی نانی کو صرف چھٹا حصہ ملتا ہے بشرطیکہ میت کی ماں زندہ نہ ہو۔” [سنن ابی داؤد الفرائض باب فی الحدۃ حدیث:2895]

③ عینی بہن، علاتی بہن اور اخیافی بہن

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَإِن كانَ رَجُلٌ يورَثُ كَلـٰلَةً أَوِ امرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَو أُختٌ فَلِكُلِّ و‌ٰحِدٍ مِنهُمَا السُّدُسُ…﴿١٢﴾… سورة النساء
"اور جن کی میراث لی جاتی ہے وہ مرد یا عورت کلالہ ہو(اس کا باپ بیٹا نہ ہو)اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے۔” [النساء:4/12]

اور نیز فرمایا:

﴿يَستَفتونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفتيكُم فِى الكَلـٰلَةِ إِنِ امرُؤٌا۟ هَلَكَ لَيسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُختٌ فَلَها نِصفُ ما تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُها إِن لَم يَكُن لَها وَلَدٌ فَإِن كانَتَا اثنَتَينِ فَلَهُمَا الثُّلُثانِ مِمّا تَرَكَ وَإِن كانوا إِخوَةً رِجالًا وَنِساءً فَلِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ الأُنثَيَينِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُم أَن تَضِلّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَىءٍ عَليمٌ ﴿١٧٦﴾… سورة النساء
"آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ (خود) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص مر جائے جس کی اولاد نہ ہو اور ایک بہن ہو تو اس کے لئے چھوڑے ہوئے مال کا آدھا حصہ ہے اور وه بھائی اس بہن کا وارث ہوگا اگر اس کے اولاد نہ ہو۔ پس اگر بہنیں دو ہوں تو انہیں کل چھوڑے ہوئے کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر کئی شخص اس ناطے کے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کے لئے حصہ ہے مثل دو عورتوں کے، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے بیان فرما رہا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ تم بہک جاؤ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے” [النساء:4/176]

④ بیوی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمّا تَرَكتُم إِن لَم يَكُن لَكُم وَلَدٌ …﴿١٢﴾… سورة النساء
"اور جو(ترکہ) تم چھوڑ جاؤ اس میں ان کے لیے چوتھائی ہے اگر تمھاری اولاد نہ ہو۔” [النساء:4/12]

⑤ آزاد کرنے والی عورت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ”
"ولاء کا حقدار وہ ہے جو آزاد کرنے والا ہے۔” [صحیح البخای الزکاۃ باب الصدقۃ علی مولیٰ ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث 1493۔وصحیح مسلم العتق باب بیان ان الولاء اعتق حدیث1504]

یہ وہ مرد اور عورتیں ہیں جنہیں اسلام نے وارث قرار دیا ہے۔ مزید تفصیل کے لحاظ سے مرد ورثاء کی تعداد پندرہ اور عورت ورثاء کی تعداد دس تک پہنچتی ہے۔ اس کی مکمل تفصیل بڑی اور مفصل کتابوں میں موجود ہے۔

وارث بننے کے اعتبار سے ورثاء کی اقسام

وارث بننے کے اعتبار سے ورثاء تین قسم کے ہیں:

① اصحاب الفروض
وہ لوگ جن کے حصے شریعت میں مقرر ہیں۔ ان کے حصے میں اضافہ صرف رد کی صورت میں ہو سکتا ہے اور کمی صرف عول کی صورت میں۔

② عصبات
وہ ورثاء جو اصحاب الفروض کو ان کے حصے دینے کے بعد باقی بچا ہوا ترکہ لیتے ہیں۔ اگر عصبہ اکیلا ہو تو پورا مال لے لیتا ہے۔

③ ذوو الارحام
یہ وہ رشتہ دار ہیں جو اس وقت وارث بنتے ہیں جب اصحاب الفروض (زوجین کے سوا) اور عصبات موجود نہ ہوں۔

اصحاب الفروض کی تعداد بارہ ہے۔ ان میں چار مرد ہیں: باپ، دادا، خاوند اور اخیافی بھائی۔ اور آٹھ عورتیں ہیں: ماں، دادی، نانی، بیوی، بیٹی، پوتی، اخیافی بہن، عینی بہن اور علاتی بہن۔

اب ہر صاحبِ فرض کے حصوں کی تفصیل ذکر کی جاتی ہے۔

خاوند اور بیوی کی میراث

خاوند کا حصہ

خاوند نصف ترکہ کا وارث ہوتا ہے، بشرطیکہ فوت شدہ بیوی کی کوئی اولاد نہ ہو اور نہ بیٹے کی اولاد ہو۔ اور اگر فوت شدہ بیوی کی اپنی اولاد یا بیٹے کی اولاد موجود ہو تو خاوند ربع (چوتھائی) کا حقدار ہوتا ہے۔ [بیوی کی اولاد ،خواہ موجود شوہر سے ہو یا سابق شوہر سے ہو۔]

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلَكُم نِصفُ ما تَرَكَ أَزو‌ٰجُكُم إِن لَم يَكُن لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِن كانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمّا تَرَكنَ مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ يوصينَ بِها أَو دَينٍ…﴿١٢﴾… سورةالنساء
"تمھاری بیویاں جوکو کچھ چھوڑ مریں اور ان کی اولاد نہ ہو تو آدھا (نصف) تمھارا ہے۔” اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کو چھوڑے ہوئے مال میں سے تمھارےلیے چوتھائی حصہ ہے اس وصیت کی ادائیگی کے بعد جو وہ کر گئی ہوں یا قرض کے بعد۔ [النساء:4۔12]

بیوی کا حصہ

بیوی ایک ہو یا ایک سے زیادہ، اگر فوت شدہ شوہر کی اپنی اولاد یا بیٹے کی اولاد نہ ہو تو سب بیویاں مل کر چوتھائی حصہ لیں گی۔ اور اگر شوہر کی اولاد یا بیٹے کی اولاد موجود ہو تو سب بیویاں مل کر آٹھواں حصہ لیں گی۔ [خاوند کی اولاد موجود ہ بیوی سے ہو یا کسی اور بیوی سے جو زندہ ہویا فوت ہوگئی ہو۔(صارم)]

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمّا تَرَكتُم إِن لَم يَكُن لَكُم وَلَدٌ فَإِن كانَ لَكُم وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمّا تَرَكتُم مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ توصونَ بِها أَو دَينٍ …﴿١٢﴾… سورةالنساء
"اور جو(ترکہ) تم چھوڑ جاؤ اس میں ان کے لیے چوتھائی ہے اگر تمھاری اولاد نہ ہو۔اور اگر تمھاری اولاد ہو انھیں تمھارےترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔” [النساء:4/11]

باپ اور دادا کی میراث

اگر میت کا باپ موجود ہو تو دادا میراث سے محروم ہو جاتا ہے۔

باپ ہو یا دادا، اگر میت کی مذکر اولاد موجود ہو، جیسے بیٹا یا پوتا، تو اسے چھٹا حصہ بطور فرض ملے گا، خواہ میت کی مونث اولاد بھی موجود ہو یا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ وَلِأَبَوَيهِ لِكُلِّ و‌ٰحِدٍ مِنهُمَا السُّدُسُ مِمّا تَرَكَ إِن كانَ لَهُ وَلَدٌ… ﴿١١﴾… سورة النساء
"اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لیے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے۔اگر اس (میت ) کی اولاد نہ ہو۔” [النساء:4/11]

اور اگر میت کی کوئی اولاد، نہ بیٹا نہ بیٹی نہ پوتا نہ پوتی، موجود نہ ہو تو باپ یا دادا عصبہ بن کر باقی سارا ترکہ لے گا۔ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے:

﴿وَلَدٌ فَإِن لَم يَكُن لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَواهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ…﴿١١﴾… سورة النساء
"اور اگرمیت کے لیے اولادنہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے۔” [النساء:4/11]

اس آیت میں والدین کو وارث قرار دیا گیا، پھر ماں کا حصہ مقرر فرما دیا گیا، جب کہ باپ کا حصہ الگ ذکر نہیں کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ باپ عصبہ کی حیثیت سے باقی سارا مال لے گا۔

اگر میت کی صرف مونث اولاد ہو، مثلاً ایک یا زیادہ بیٹیاں یا پوتیاں، تو باپ یا دادا کو چھٹا حصہ بطور فرض بھی ملے گا اور باقی مال بطور عصبہ بھی ملے گا۔ اس کی دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ”
"اصحاب الفرائض کوان کے حصے اداکرو۔ پھر جومال بچ جائے وہ قریبی مرد(عصبہ) کو دو۔” [صحیح البخاری،الفرائض باب میراث الولد ایہ وامہ حدیث6732۔وصحیح مسلم الفرائض باب الحفوالفرائض بالھلھا فما بقی فلاولیٰ رجل ذکر حدیث 1615]

کیونکہ بیٹے اور پوتے کے بعد باپ ہی قریب ترین مرد ہوتا ہے۔

اس طرح باپ کی تین حالتیں ہوئیں:

✔ بیٹا یا پوتا موجود ہو تو صرف صاحب فرض ہوگا۔
✔ بیٹا یا پوتا نہ ہو تو صرف عصبہ ہوگا۔
✔ صرف بیٹی یا پوتی ہو تو صاحب فرض بھی ہوگا اور عصبہ بھی۔

دادا بھی انہی تین حالتوں میں باپ کے حکم میں ہے، جب باپ موجود نہ ہو۔ اس پر نصوصِ شرعیہ دلالت کرتی ہیں۔

دادا اور بھائیوں کا مسئلہ

دادا کے باب میں ایک چوتھی اضافی حالت بھی پیش آتی ہے، اور وہ یہ کہ اگر دادا وارث ہو اور اس کے ساتھ میت کے سگے یا پدری بھائی بہن بھی ہوں تو کیا دادا ان کو محروم کردے گا، جیسے باپ کرتا ہے، یا دادا ایک بھائی کے برابر حصہ لے گا؟ اس مسئلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے۔

پہلی رائے

علماء کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ دادا ایک بھائی کے برابر حصہ لے گا، کیونکہ دونوں کی نسبت میت سے باپ کے واسطے سے ہے۔ دادا خود باپ ہے اور بھائی باپ کے بیٹے ہیں، لہٰذا میراث میں دونوں برابر ہوں گے۔ صحابہ میں سے سیدنا علی، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی یہی رائے ہے۔ ائمہ میں امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام ابو یوسف اور امام محمد شیبانی رحمہم اللہ نے بھی یہی قول اختیار کیا ہے۔ ان حضرات نے اپنے موقف پر مختلف دلائل، توجیہات اور قیاسات سے استدلال کیا ہے، جن کی تفصیل کتبِ مطولہ میں موجود ہے۔

دوسری رائے

دوسرے فریق کا قول یہ ہے کہ دادا بھی باپ کی طرح بھائی بہنوں کو محروم کر دیتا ہے۔ یہ رائے سیدنا ابو بکر صدیق، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن زبیر، سیدنا عثمان، سیدہ عائشہ، سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہی مذہب ہے، اور امام احمد سے بھی ایک روایت اسی کے موافق آئی ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ، امام ابن قیم، اور شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہم اللہ نے بھی اسی موقف کو اختیار کیا ہے۔ اس کے حق میں قوی اور کثیر دلائل ہیں، اسی لیے ہمارے نزدیک یہی رائے پہلی رائے سے زیادہ مضبوط ہے۔ [جو صاحب علم اس مسئلے میں تفصیل کا طالب ہو وہ تفہیم المواریث "کا مطالعہ کرے۔(صارم)]

ماں کی میراث

ماں کے حصے کی تین صورتیں ہیں:

① دو حالتوں میں چھٹا حصہ

ماں دو صورتوں میں چھٹا حصہ لیتی ہے:

✔ جب میت کی وارث اولاد، خواہ مذکر ہو یا مونث، یا بیٹے کی اولاد موجود ہو۔
✔ جب میت کے دو یا دو سے زیادہ بھائی بہن ہوں، خواہ وہ وارث بنتے ہوں یا نہ بنتے ہوں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلِأَبَوَيهِ لِكُلِّ و‌ٰحِدٍ مِنهُمَا السُّدُسُ مِمّا تَرَكَ إِن كانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِن لَم يَكُن لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَواهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِن كانَ لَهُ إِخوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ …﴿١١﴾… سورة النساء
"اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لیے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے۔اگر اس (میت ) کی اولادہو،اگر نہ ہو۔اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے۔ ہاں !اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے۔” [النساء:4/11]

② ایک تہائی کل مال

اگر نہ میت کی اولاد ہو، نہ بیٹے کی اولاد، اور نہ دو یا دو سے زیادہ بھائی بہن ہوں، تو ماں کل مال کا ایک تہائی لے گی۔ اسی آیت سے اس کی دلیل لی جاتی ہے:

﴿فَإِن لَم يَكُن لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَواهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِن كانَ لَهُ إِخوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ …﴿١١﴾… سورة النساء
"پس اگراولادنہ ہو،اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے۔ہاں !اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے۔” [النساء:4/11]

③ ثلث ما بقی

ماں کو باقی ماندہ مال کا ایک تہائی دو مشہور صورتوں میں ملتا ہے، جنہیں عمر يتين کہا جاتا ہے:

(ا) خاوند، ماں اور باپ
(ب) بیوی، ماں اور باپ

ان مسائل کو عمر يتين اس لیے کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان میں یہ فیصلہ فرمایا کہ زوجین میں سے کسی ایک کی موجودگی میں ماں کو ثلث ما بقي ملے گا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ماں کے لیے ثلث ما بقي کا فیصلہ نہایت درست ہے، کیونکہ قرآن نے ماں کو تہائی اس وقت دیا ہے جب صرف والدین وارث ہوں۔ جب زوجین میں سے کوئی ایک شامل ہو تو پہلے اسے اس کا حصہ دیا جائے گا، پھر باقی مال والدین کے درمیان اسی اصول کے مطابق تقسیم ہوگا، جیسے قرض یا وصیت کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس طرح باقی مال کے تین حصے ہوں گے، ایک ماں کے لیے اور دو باپ کے لیے۔ [مجموع الفتاوی :16/197۔198۔بتصرف]

جدہ صحیحہ (دادی، نانی) کی میراث

جدہ صحیحہ وہ عورت ہے جس کی میت سے قرابت جد فاسد کے واسطے سے نہ ہو۔ مثلاً نانی کی نانی، دادی کی دادی وغیرہ۔
اور اگر کسی عورت کی نسبت میت سے ایسے واسطے سے ہو جس میں جد فاسد ہو تو وہ جدہ فاسدہ کہلاتی ہے اور وارث نہیں بنتی، کیونکہ وہ ذوی الارحام میں داخل ہے، جیسے نانا کی ماں۔ [جد فاسد وہ ہے جس کے اور میت کے درمیان واسطہ عورت ہو مثلاً:نانا یا دادی کا باپ وغیرہ۔(صارم)]

جدہ صحیحہ کی پہچان

جو جدہ وارث بن سکتی ہے اس کا ضابطہ یہ ہے کہ اس کی میت سے نسبت یا تو صرف عورتوں کے ذریعے ہو، جیسے نانی کی نانی، یا صرف مرد کی طرف سے ہو، جیسے دادی کی دادی۔

اور جو جدہ وارث نہیں بنتی اس کا ضابطہ یہ ہے کہ اس کی قرابت میں دو عورتوں کے درمیان ایک مرد ہو، جیسے ماں کے باپ کی ماں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہر جدہ صحیحہ وارث ہے اور ہر جدہ فاسدہ وارث نہیں۔

جدہ صحیحہ کے وارث ہونے کی دلیل

اس کی دلیل سنت اور اجماع ہے۔

حضرت قبیصہ بن ذویب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک نانی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئی اور اپنے حصۂ میراث کے بارے میں پوچھا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کتاب اللہ میں تمہارا کوئی حصہ مذکور نہیں، اور میرے علم کے مطابق سنتِ رسول میں بھی تمہارا حصہ معلوم نہیں، تم واپس جاؤ، میں لوگوں سے دریافت کرتا ہوں۔ پھر جب صحابہ سے پوچھا گیا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں اس مجلس میں حاضر تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نانی کو چھٹا حصہ دیا تھا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی اس کا گواہ ہے؟ تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر یہی بات کہی۔ چنانچہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نانی کے حق میں یہی فیصلہ نافذ کر دیا۔ [(ضعیف ) سنن ابی داؤد الفرائض باب فی الجدۃ حدیث2894وجامع الترمذی الفرائض باب ماجاء فی المیراث الجدہ حدیث 2101۔سنن ابن ماجہ الفرائض باب فی الجدۃ حدیث2724۔ومسند احمد 2254۔226]

پھر سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں ایک دادی آئی اور میراث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: کتاب اللہ میں تمہارے لیے الگ کوئی حصہ نہیں، اور جو فیصلہ پہلے ہو چکا ہے وہ تمہاری دوسری ہم جنس کے لیے ہوا تھا۔ میں وراثت میں اپنی طرف سے اضافہ نہیں کرسکتا، البتہ وہی چھٹا حصہ ہے، اگر تم دونوں (دادی اور نانی) اکٹھی ہو تو تم دونوں میں تقسیم ہوگا، اور اگر ایک ہی ہو تو اسے پورا مل جائے گا۔ [(ضعیف ) سنن ابی داؤد الفرائض باب فی الجدۃ حدیث2894وجامع الترمذی الفرائض باب ماجاء فی المیراث الجدہ حدیث 2101۔سنن ابن ماجہ الفرائض باب فی الجدۃ حدیث2724۔ومسند احمد 2254۔226]

اسی طرح سیدنا بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جدہ کے لیے چھٹا حصہ مقرر فرمایا، بشرطیکہ میت کی ماں موجود نہ ہو۔ [(ضعیف ) سنن ابی داؤد الفرائض باب فی الجدۃ حدیث2895]

ان روایات سے معلوم ہوا کہ جدہ صحیحہ کو سدس ملتا ہے۔ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے یہ جو فرمایا کہ کتاب اللہ میں اس کا حصہ مذکور نہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن میں مذکور ماں سے مراد قریبی ماں ہے، ہر وہ عورت نہیں جسے لغت کے اعتبار سے ماں کہا جا سکتا ہے۔ چنانچہ دادی اور نانی اگرچہ ماں کہلاتی ہیں، مگر وراثت کے اس حکم میں داخل نہیں، جبکہ حرمتِ نکاح والی آیت میں داخل ہیں، جیسے:

"حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ” [مجموع الفتاوی :31/352]

اجماع

جدہ کی میراث امت کے اجماع سے ثابت ہے۔ نانی اور دادی کے حق میراث میں اہل علم کا اختلاف نہیں، البتہ ان کے علاوہ جدات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور علماء کی ایک جماعت کے نزدیک ایک درجے کی جدہ صحیحہ ایک ہو یا زیادہ، سب وارث ہوں گی۔ البتہ جدہ فاسدہ ان کے نزدیک بھی وارث نہیں۔ بعض علماء نے تین جدات کو وارث قرار دیا ہے: نانی، دادی، اور دادا کی ماں۔

شرط

جدہ صحیحہ کے وارث ہونے کی ایک شرط یہ ہے کہ ماں زندہ نہ ہو، کیونکہ ماں میت اور جدہ کے درمیان واسطہ ہے، اور اصولاً قریب والا دور والے کو محروم کر دیتا ہے، الا یہ کہ شریعت نے کسی کو مستثنیٰ قرار دیا ہو۔ [مثلاً: اخیاتی بھائی اور اخیاتی بہنیں ماں کی موجدگی میں بھی حالانکہ وہ واسطہ ہے وارث ہو جاتے ہیں۔(صارم)]
اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ ماں تمام جدات کو محروم کر دیتی ہے۔

جدات میں تقسیم

✔ اگر صرف ایک جدہ ہو اور میت کی ماں موجود نہ ہو تو اسے چھٹا حصہ ملے گا۔
✔ جدہ کا حصہ چھٹے سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ بعض اہل علم نے کہا کہ اگر اولاد اور دو یا زیادہ بھائی بہن نہ ہوں تو جدہ کو ایک تہائی ملے، مگر یہ قول شاذ اور ناقابل اعتماد ہے۔
✔ اگر ایک درجے کی ایک سے زیادہ جدات ہوں تو وہ سب سدس میں برابر شریک ہوں گی۔
✔ اگر مختلف درجوں کی جدات ہوں تو قریب والی وارث ہوگی اور دور والی محروم ہوگی، خواہ قرابت ماں کی طرف سے ہو یا باپ کی طرف سے۔
✔ میت کی دادی، میت کے باپ کی موجودگی میں بھی وارث ہوتی ہے۔ اسی طرح دادا کی ماں، دادا کی موجودگی میں وارث ہوتی ہے۔ یہ عام قاعدے کے خلاف ایک مستثنیٰ صورت ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ کی موجودگی میں دادی کو چھٹا حصہ دیا تھا۔ [(ضعیف) جامع الترمذی الفرائض باب ماجاء فی میراث الجدۃ مع ابنھا،حدیث 2102]

اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ جدہ اپنے واسطے کی وراثت نیابتاً نہیں لے رہی کہ اس کی موجودگی میں محروم ہو۔ [حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ وہ داوی کو اس کے بیٹے(میت کے باپ) کی موجودگی میں وارث نہیں بناتے تھے۔(صارم)]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس اصول کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بات صحیح نہیں کہ جو بھی کسی واسطے سے وارث بنتا ہو، وہ واسطے کی موجودگی میں ہمیشہ محروم ہو۔ کیونکہ بعض اوقات واسطہ موجود ہونے کے باوجود وارث حصہ لیتا ہے، جیسے اخیافی بھائی بہن ماں کی موجودگی میں۔ اور بعض اوقات واسطہ ہی نہیں ہوتا پھر بھی اقرب غیر کو محروم کر دیتا ہے، جیسے پوتا چچا کو محروم کر دیتا ہے۔ اصل کلی قاعدہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص ساقط ہوتا ہے جو اس سے زیادہ قریب شخص کی موجودگی میں ہو۔ [مجموع الفتاویٰ 16/204]

بیٹی اور پوتی کی میراث

① ایک اکیلی بیٹی کا نصف

جب صرف ایک بیٹی ہو تو وہ دو شرطوں کے ساتھ نصف ترکہ کی حقدار ہوگی:

✔ اس کے ساتھ دوسری کوئی بیٹی نہ ہو۔
✔ اس کے ساتھ کوئی ایسا بھائی نہ ہو جو اسے عصبہ بنا دے۔

اس کی دلیل یہ آیت ہے:

﴿يوصيكُمُ اللَّهُ فى أَولـٰدِكُم لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ الأُنثَيَينِ فَإِن كُنَّ نِساءً فَوقَ اثنَتَينِ فَلَهُنَّ ثُلُثا ما تَرَكَ وَإِن كانَت و‌ٰحِدَةً فَلَهَا النِّصفُ… ﴿١١﴾… سورة النساء
"اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیاده ہوں تو انہیں مال متروکہ کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے” [النساء:4/11]

اللہ تعالیٰ کے فرمان (وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً) سے اس کا اکیلا ہونا شرط ثابت ہوتا ہے، اور (لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس کے ساتھ بھائی موجود ہو تو وہ عصبہ بن جائے گی۔

② ایک پوتی کا نصف

پوتی کے نصف ترکہ لینے کی تین شرطیں ہیں:

✔ اس کے ساتھ کوئی عاصب نہ ہو، جیسے اس کا بھائی یا اس کے درجے کا چچا زاد۔
✔ اس کے ساتھ اس کے درجے کی کوئی دوسری پوتی نہ ہو۔
✔ میت کی کوئی ایسی اولاد موجود نہ ہو جو اس سے زیادہ قریب ہو، جیسے بیٹی۔

③ دو یا زیادہ بیٹیاں

اگر دو یا زیادہ بیٹیاں ہوں تو وہ دو شرطوں کے ساتھ دو تہائی کی حقدار ہیں:

✔ تعداد دو یا زیادہ ہو۔
✔ کوئی عاصب، یعنی صلبی بیٹا، موجود نہ ہو۔

دلیل:

﴿يوصيكُمُ اللَّهُ فى أَولـٰدِكُم لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ الأُنثَيَينِ فَإِن كُنَّ نِساءً فَوقَ اثنَتَينِ فَلَهُنَّ ثُلُثا ما تَرَكَ… ﴿١١﴾… سورة النساء
"اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیاده ہوں تو انہیں مال متروکہ کا دو تہائی ملے گا۔ ” [النساء:4/11]

اگرچہ آیت کے ظاہر سے فوق اثنتين میں دو سے زیادہ معلوم ہوتا ہے، لیکن جمہور کے نزدیک دو بیٹیوں کا حصہ بھی دو تہائی ہے۔ اس کی دلیل سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی اپنی دو بیٹیوں کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ ان کے چچا نے سارا مال لے لیا ہے۔ پھر آیتِ میراث نازل ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ان دونوں بیٹیوں کو ترکہ کی دو تہائی دو اور ان کی والدہ(سعد کی بیوہ) کو آٹھواں حصہ ادا کرو پھر جو باقی بچے گا وہ تمہارا ہے۔” [جامع الترمذی الفرائض باب ماجاء فی میراث البنات،حدیث :2092 وسنن ابی داود الفرائض باب ماجاء فی میراث الصلب حدیث 2891،2892۔وسنن ابن ماجہ،الفرائض ،باب فرائض الصلب،حدیث :2720،ومسند احمد:3/352]

یہ حدیث زیر بحث آیت کی تفسیر بھی ہے اور شان نزول بھی۔ اس لیے جمہور کا قول راجح ہے کہ دو بیٹیوں کا حصہ بھی دو تہائی ہے۔

④ دو یا زیادہ پوتیاں

دو پوتیاں بھی دو بیٹیوں کی طرح دو تہائی کی مستحق ہیں، خواہ دونوں سگی ہوں یا سوتیلی، یا ایک درجے کی دو چچازاد بہنیں ہوں۔ ان کو حقیقی بیٹیوں پر قیاس کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے تین شرطیں ہیں:

✔ دو یا دو سے زیادہ ہوں۔
✔ کوئی عاصب موجود نہ ہو۔
✔ ان سے اوپر درجے کی اولاد موجود نہ ہو، جیسے بیٹا، بیٹی، پوتا۔

عینی اور علاتی بہنوں کی میراث

اللہ تعالیٰ نے سورہ نساء کے آخر میں سگی اور پدری بہنوں کے حصے کو واضح فرمایا:

﴿يَستَفتونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفتيكُم فِى الكَلـٰلَةِ إِنِ امرُؤٌا۟ هَلَكَ لَيسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُختٌ فَلَها نِصفُ ما تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُها إِن لَم يَكُن لَها وَلَدٌ فَإِن كانَتَا اثنَتَينِ فَلَهُمَا الثُّلُثانِ مِمّا تَرَكَ وَإِن كانوا إِخوَةً رِجالًا وَنِساءً فَلِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ الأُنثَيَينِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُم أَن تَضِلّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَىءٍ عَليمٌ ﴿١٧٦﴾… سورةالنساء
"آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ (خود) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص مر جائے جس کی اولاد نہ ہو اور ایک بہن ہو تو اس کے لئے چھوڑے ہوئے مال کا آدھا حصہ ہے اور وه بھائی اس بہن کا وارث ہوگا اگر اس کے اولاد نہ ہو۔ پس اگر بہنیں دو ہوں تو انہیں کل چھوڑے ہوئے کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر کئی شخص اس ناطے کے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کے لئے حصہ ہے مثل دو عورتوں کے، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے بیان فرما رہا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ تم بہک جاؤ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے” [النساء:4/176]

اخیافی بہنوں کی میراث کا ذکر سورہ کے شروع میں ہے:

﴿ إِنِ امرُؤٌا۟ هَلَكَ لَيسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُختٌ فَلَها نِصفُ ما تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُها إِن لَم يَكُن لَها وَلَدٌ فَإِن كانَتَا اثنَتَينِ فَلَهُمَا الثُّلُثانِ مِمّا تَرَكَ … ﴿١٧٦﴾… سورة النساء
"اور جن کی میراث لی جاتی ہے وہ مرد یا عورت کلالہ ہو(اس کا باپ بیٹا نہ ہو)اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہےاور اس سے زیاده ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک ہیں”۔ [النساء:4/12]

① سگی بہن کا نصف

سگی بہن نصف ترکہ کی حقدار ہوگی، بشرطیکہ:

✔ اس کے ساتھ سگا بھائی نہ ہو۔
✔ وہ اکیلی ہو۔
✔ میت کا باپ موجود نہ ہو، اور صحیح قول کے مطابق دادا بھی نہ ہو۔
✔ میت کی وارث اولاد نہ ہو۔

② علاتی بہن کا نصف

علاتی بہن بھی نصف ترکہ لے گی، مگر پانچ شرطوں کے ساتھ:

✔ اس کے ساتھ علاتی بھائی نہ ہو۔
✔ وہ اکیلی ہو۔
✔ میت کا باپ نہ ہو۔
✔ میت کی اولاد نہ ہو۔
✔ میت کا کوئی سگا بھائی یا سگی بہن موجود نہ ہو۔

③ دو یا زیادہ سگی بہنوں کا دو تہائی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿فَإِن كانَتَا اثنَتَينِ فَلَهُمَا الثُّلُثانِ مِمّا تَرَكَ … ﴿١٧٦﴾… سورة النساء
"پس اگر بہنیں دو ہوں تو انہیں کل چھوڑے ہوئے کا دو تہائی ملے گا” [النساء:4/176]

اس کے لیے شرائط ہیں:

✔ دو یا دو سے زیادہ ہوں۔
✔ ان کو عصبہ بنانے والا بھائی نہ ہو۔
✔ میت کی وارث اولاد نہ ہو۔
✔ میت کا باپ اور دادا موجود نہ ہوں۔

④ دو یا زیادہ علاتی بہنوں کا دو تہائی

علاتی بہنیں بھی دو یا زیادہ ہوں تو دو تہائی کی مستحق ہوتی ہیں، کیونکہ آیتِ کلالہ کے عموم میں وہ بالاتفاق شامل ہیں۔ مگر یہ تب ہے جب وہی چار شرطیں موجود ہوں جو سگی بہنوں کے لیے بیان ہوئیں، اور پانچویں شرط یہ کہ سگے بھائی یا سگی بہنیں موجود نہ ہوں۔

اگر ایک سگا بھائی یا دو سگی بہنیں ہوں تو علاتی بہنیں محروم ہو جائیں گی، الا یہ کہ ان کے ساتھ علاتی بھائی موجود ہو، تب وہ عصبہ بنیں گی۔

⑤ ایک سگی بہن کے ساتھ علاتی بہن کا چھٹا

اگر ایک سگی بہن نصف لے رہی ہو اور اس کے ساتھ ایک یا زیادہ علاتی بہنیں ہوں تو علاتی بہن یا بہنیں چھٹا حصہ لیں گی تاکہ دو تہائی مکمل ہو جائے۔ اس پر اہل علم کا اجماع ہے، اور یہ مسئلہ پوتی کے چھٹے پر قیاس کیا گیا ہے۔

⑥ ایک بیٹی کے ساتھ ایک یا زیادہ پوتیاں

اگر ایک بیٹی ہو اور اس کے ساتھ ایک یا زیادہ پوتیاں ہوں تو بیٹی کو نصف ملے گا اور پوتیوں کو چھٹا حصہ، تاکہ دو تہائی مکمل ہو جائے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہی فیصلہ فرمایا اور کہا:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیاکہ بیٹی کے لیے نصف ہے اور پوتی کے لیے چھٹا حصہ ہے دوثلث مکمل کرتے ہوئے اور جو بچ جائے وہ بہن کا ہے۔” [صحیح البخاری الفرائض باب میراث ابنتہ ابن مع ابنتہ حدیث :6736]

بیٹیوں کی موجودگی میں بہنوں کا حصہ

اگر میت کی ایک یا زیادہ بیٹیوں کے ساتھ ایک یا زیادہ سگی یا پدری بہنیں موجود ہوں تو بیٹیاں اپنا مقررہ حصہ، یعنی دو تہائی، لے لیں گی، اور جو باقی بچے گا وہ جمہور صحابہ و تابعین کے نزدیک سگی بہنوں کو، اور ان کے نہ ہونے کی صورت میں علاتی بہنوں کو عصبہ مع الغیر کے طور پر ملے گا۔

اس کی دلیل صحیح بخاری کی یہ روایت ہے:

"سئل أبو موسى عن بنت وابنة ابن وأخت فقال للبنت النصف وللأخت النصف وأت ابن مسعود فسيتابعني فسئل ابن مسعود وأخبر بقول أبي موسى فقال لقد ضللت إذا وما أنا من المهتدين أقضي فيها بما قضى النبي صلى الله عليه وسلم للابنة النصف ولابنة ابن السدس تكملة الثلثين وما بقي فللأخت "
"سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا کہ بیٹی،پوتی اور بہن تینوں میں ترکہ تقسیم کیسے ہوگا؟انھوں نے فرمایا:بیٹی اور بہن دونوں کو نصف نصف ترکہ ملےگا اور پوتی محروم ہوگی،پھر سائل سے کہا تم یہی مسئلہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھو،نیز انھیں میرے فتوے سے بھی آگاہ کرنا،اُمید ہے وہ میری تائید فرمائیں گے،چنانچہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فتویٰ سن کر فرمایا:اگر میں بھی یہی فتویٰ دوں تو گمراہ ہوں گا ہدایت یافتہ نہ رہوں گا۔میں تو وہی فیصلہ دوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا کہ بیٹی کا حصہ نصف اور پوتی کا حصہ چھٹا ہے۔(تاکہ دوثلث مکمل ہو) جبکہ باقی ترکہ(ایک تہائی) بہن کا ہے۔” [صحیح البخاری الفرائض باب میراث ابنتہ ابن مع ابنۃ حدیث 6736]

یہ روایت واضح کرتی ہے کہ جب بیٹی اور پوتی اپنے مقررہ حصے لے لیں، تو باقی ترکہ بہن کو بطور عصبہ ملتا ہے۔

اخیافی بھائی بہنوں کی میراث

① ایک اخیافی بھائی یا بہن

اگر صرف ایک اخیافی بھائی ہو یا ایک اخیافی بہن ہو تو اسے چھٹا حصہ ملے گا۔

② ایک سے زیادہ اخیافی بہن بھائی

اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب کو ملا کر ایک تہائی ملے گا، اور مذکر و مؤنث سب اس میں برابر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَإِن كانَ رَجُلٌ يورَثُ كَلـٰلَةً أَوِ امرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَو أُختٌ فَلِكُلِّ و‌ٰحِدٍ مِنهُمَا السُّدُسُ فَإِن كانوا أَكثَرَ مِن ذ‌ٰلِكَ فَهُم شُرَكاءُ فِى الثُّلُثِ …﴿١٢﴾… سورة النساء
"اور جن کی میراث لی جاتی ہے وہ مرد یا عورت کلالہ ہو(اس کا باپ بیٹا نہ ہو)اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہےاور اس سے زیاده ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک ہیں”۔ [النساء:4/12]

علماء کا اجماع ہے کہ اس آیت میں اخیافی بھائی بہن مراد ہیں۔ نیز سیدنا ابن مسعود اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی قراءت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں:

"وله أخ أو أخت من أم”

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہی مفہوم قرآن کے دلالتی اور قیاسی اصول کے بھی زیادہ مطابق ہے کہ اس صورت میں مذکر و مؤنث برابر ہوں۔

③ چھٹا حصہ لینے کی شرائط

اخیافی بھائی بہن چھٹا حصہ تب لیتے ہیں جب:

✔ وارث اولاد موجود نہ ہو۔
✔ باپ یا دادا موجود نہ ہو۔
✔ اخیافی بھائی یا بہن ایک ہو۔

④ ایک تہائی لینے کی شرائط

اخیافی بھائی بہن ایک تہائی تب لیتے ہیں جب:

✔ وہ دو یا زیادہ ہوں۔
✔ وارث اولاد موجود نہ ہو۔
✔ باپ یا دادا موجود نہ ہو۔

⑤ خصوصی احکام

اخیافی بھائی بہنوں کے چند خاص احکام یہ ہیں:

✔ مذکر اور مؤنث ان میں برابر حصہ لیتے ہیں۔
✔ یہ اپنی ماں کی موجودگی میں بھی وارث بنتے ہیں، حالانکہ ماں ہی ان کے اور میت کے درمیان واسطہ ہے۔
✔ یہی بھائی بہن ماں کے حصے کو تہائی سے کم کر کے چھٹا کر دیتے ہیں، بشرطیکہ دو یا زیادہ ہوں۔ ایک بھائی یا ایک بہن ماں کے حصے پر اثر انداز نہیں ہوتے۔
✔ یہ اپنی ماں کے ساتھ وارث ہوتے ہیں، جب کہ دوسرے بہت سے وارث ایسے نہیں ہوتے جو اپنے قریبی واسطے کی موجودگی میں وارث بن سکیں۔

اس کی حکمت غالباً یہ ہے کہ ان کی قرابت صرف ماں کے ذریعے ہے، اور اس قرابت میں مرد و عورت برابر ہیں، اس لیے یہاں ترجیح کی کوئی وجہ نہیں۔

عصبات کا بیان

عصبہ، عصب سے مشتق ہے، جس کے معنی باندھنے، گھیرنے اور تقویت دینے کے ہیں۔ پگڑی کو عصائب اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ سر کو گھیر لیتی ہے۔ عاصب اس کا واحد ہے۔ یہ لفظ واحد، تثنیہ، جمع، مذکر اور مؤنث سب کے لیے آتا ہے۔

فقہِ فرائض کی اصطلاح میں عاصب وہ وارث ہے جس کا کوئی مقرر حصہ نہ ہو۔ اگر وہ اکیلا ہو تو سارا مال لے لیتا ہے، اور اگر صاحب فرض کے ساتھ ہو تو اصحاب الفروض کو ان کے حصے دینے کے بعد باقی ترکہ لیتا ہے۔ اس کی دلیل حدیث نبوی ہے:

"أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ”
"اصحاب الفروض کوان کے حصے دو۔ پھر جو بچ جائے وہ قریبی مرد(عصبہ) کو دو۔” [صحیح البخاری،الفرائض باب میراث الولد ایہ وامہ حدیث6732۔وصحیح مسلم الفرائض باب الحفوالفرائض بالھلھا فما بقی فلاولیٰ رجل ذکر حدیث 1615]

عصبات کی اقسام
① عصبہ بنفسہ

اس میں وہ مرد شامل ہیں جن کے میراث لینے پر اجماع ہے، سوائے خاوند اور اخیافی بھائی کے۔ یہ چودہ افراد ہیں:

✔ بیٹا
✔ پوتا نیچے تک
✔ باپ
✔ دادا
✔ سگا بھائی
✔ سگے بھتیجے
✔ علاتی بھائی
✔ علاتی بھتیجے
✔ سگا چچا
✔ سگے چچے کے بیٹے
✔ علاتی چچا
✔ علاتی چچے کے بیٹے
✔ آزاد کرنے والا
✔ آزاد کرنے والی

② عصبہ بالغیر

ہر وہ صاحب فرض عورت جو اپنے بھائی کے ساتھ مل کر عصبہ بن جاتی ہے۔ یہ چار عورتیں ہیں:

✔ بیٹی، جب اپنے بھائی یعنی میت کے بیٹے کے ساتھ ہو۔
✔ پوتی، جب اپنے درجے کے پوتے کے ساتھ ہو، خواہ وہ اس کا بھائی ہو یا چچا کا بیٹا یا اس سے نیچے درجے کا۔
ان دونوں کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿يوصيكُمُ اللَّهُ فى أَولـٰدِكُم لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ الأُنثَيَينِ…﴿١١﴾… سورة النساء
"اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے” [النساء:4/11]

✔ سگی بہن، جب سگے بھائی کے ساتھ ہو۔
✔ علاتی بہن، جب علاتی بھائی کے ساتھ ہو۔

ان دونوں کی دلیل یہ آیت ہے:

﴿ وَإِن كانوا إِخوَةً رِجالًا وَنِساءً فَلِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ الأُنثَيَينِ… ﴿١٧٦﴾… سورة النساء
"اور اگر کئی بھائی بہن ،یعنی مرد بھی اور عورتیں بھی ہوں تو مرد کے لیے دو عورتوں کے مثل حصہ ہے۔” [النساء:4۔176]

③ عصبہ مع الغیر

یہ دو عورتیں ہیں:

✔ سگی بہن
✔ علاتی بہن

یہ دونوں بیٹی یا پوتی کے ساتھ مل کر عصبہ بن جاتی ہیں، بشرطیکہ ان کے ساتھ سگا بھائی یا سگے بہن بھائی کی ایسی صورت نہ ہو جو حکم بدل دے۔ اس کی دلیل سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مذکورہ فیصلہ ہے جو صحیح بخاری میں ہے۔ [صحیح البخاری الفرائض باب میراث ابنتہ ابن مع ابنۃ حدیث 6736]

عصبہ کا حکم

✔ اگر عصبہ بنفسہ میں سے کوئی اکیلا ہو تو سارا مال لے گا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"وَهُوَ يَرِثُهَا إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌ ۚ "
"اور وہ بھائی اس بہن کا وارث ہوگا اگر اس کی اولاد نہ ہو۔” [النساء:176:4]

✔ اگر اس کے ساتھ کوئی صاحب فرض ہو تو صاحب فرض کا حصہ دینے کے بعد باقی مال عصبہ لے گا۔
✔ اگر اصحاب الفروض کو دینے کے بعد کچھ نہ بچے تو عصبات محروم ہو جائیں گے۔

عصبات کی جہات

عصبات کی پانچ جہتیں ہیں:

① بنوت: بیٹا، پوتا، پرپوتا وغیرہ
② ابوت: باپ، دادا، پردادا
③ اخوت: سگا بھائی، علاتی بھائی، ان کے بیٹے
④ عمومت: سگا چچا، علاتی چچا، اور ان کے بیٹے
⑤ ولاء: آزاد کرنے کے سبب سے پیدا ہونے والی عصوبت

ولاء کی دلیل:

"إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ”
"ولاء اسے ملے گی جو آزاد کرے گا۔” [صحیح البخاری ،البیوع ، باب الشراء والبیع مع النساء حدیث:2155،وصحیح مسلم،العتق ،باب بیان ان الولاء لمن اعتق ،حدیث :1504]

متعدد عصبات میں ترجیح

اگر دو یا زیادہ عصبات جمع ہوں تو:

✔ جہت، درجہ اور قوت میں برابر ہوں تو سب شریک ہوں گے۔
✔ جہت مختلف ہو تو قوی جہت والے کو ترجیح ہوگی، جیسے بیٹا باپ پر مقدم ہے۔
✔ جہت ایک ہو مگر درجہ مختلف ہو تو قریب تر مقدم ہوگا، جیسے بیٹا پوتے پر مقدم ہے۔
✔ جہت اور درجہ ایک ہو مگر قوت مختلف ہو تو قوی رشتہ مقدم ہوگا، جیسے سگا بھائی علاتی بھائی پر مقدم ہے۔

حجب کا بیان

علم میراث میں حجب نہایت اہم باب ہے، کیونکہ اسی کے علم سے یہ طے ہوتا ہے کہ کون وارث ہے اور کون محروم۔ اگر اس باب کا علم نہ ہو تو ممکن ہے وارث کو غیر وارث اور غیر وارث کو وارث بنا دیا جائے۔ اسی لیے بعض ماہرینِ فرائض نے کہا ہے کہ جو شخص حجب سے ناواقف ہو، اس کے لیے میراث کے مسائل میں فتویٰ دینا حرام ہے۔

لغت میں حجب کے معنی ہیں: روک دینا، منع کرنا، پردہ ڈال دینا۔ قرآن مجید میں ہے:

"كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ”
"ہرگز نہیں! یہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ(پردے) میں رکھے جائیں گے۔” [(المطففین:15:83)]

اصطلاح میں حجب سے مراد یہ ہے کہ ایک وارث دوسرے کی وجہ سے یا تو اپنے پورے حصے سے محروم ہو جائے یا زیادہ حصے سے کم حصے کی طرف منتقل ہو جائے۔

حجب کی دو قسمیں
① حجب اوصاف

جب کسی شخص میں میراث کے موانع میں سے کوئی مانع پایا جائے، مثلاً غلامی، قتل یا اختلاف دین، تو وہ وارث نہیں بنتا۔ گویا اس کا وجود عدم کے برابر ہو جاتا ہے۔

② حجب اشخاص

جب ایک وارث دوسرے وارث کی وجہ سے متاثر ہو۔

اس کی دو صورتیں ہیں:

✔ حجب حرمان: بالکل محروم ہو جانا
✔ حجب نقصان: زیادہ کے بجائے کم حصہ ملنا

حجب اشخاص کی سات صورتیں

① ایک وارث دوسرے کی وجہ سے صاحب فرض کی حیثیت سے کم حصہ لے، جیسے اولاد کی وجہ سے خاوند نصف کے بجائے ربع لے۔
② عصبہ دوسرے وارث کی وجہ سے کم لے، جیسے بہن عصبہ مع الغیر کی بجائے عصبہ بالغیر بن جائے۔
③ صاحب فرض عصبہ بن کر کم لے، جیسے بیٹی اپنے بھائی کے ساتھ عصبہ بالغیر بن جائے۔
④ عصبہ صاحب فرض بن کر کم لے، جیسے اولاد کی موجودگی میں باپ عصبہ نہ رہ کر صاحب فرض بن جائے۔
⑤ ایک مقرر حصہ زیادہ شرکاء میں تقسیم ہو، جیسے متعدد بیویاں۔
⑥ عصبہ لینے والوں کی تعداد بڑھ جائے، جیسے بیٹے زیادہ ہوں۔
⑦ عول کی وجہ سے سب کا حصہ کم ہو جائے۔

حجب کے اہم قواعد

✔ جو رشتہ دار کسی دوسرے وارث کے واسطے سے میت سے ملتا ہو، وہ عموماً اس واسطے کی موجودگی میں محروم ہو جاتا ہے، جیسے پوتا بیٹے کی موجودگی میں، دادا باپ کی موجودگی میں، دادی نانی ماں کی موجودگی میں۔
✔ الاقرب فالاقرب: زیادہ قریب والا مقدم ہوگا۔
✔ اصول، اصول ہی کی وجہ سے محجوب ہوتے ہیں، جیسے دادا باپ کی وجہ سے۔
✔ فروع، فروع ہی کی وجہ سے محجوب ہوتے ہیں، جیسے پوتا بیٹے کی وجہ سے۔
✔ حواشی، اصول و فروع اور اقرب حواشی کی وجہ سے محروم ہو جاتے ہیں، جیسے چچا باپ یا بیٹے یا بھائی کی موجودگی میں۔

آخر میں پھر تاکید کی جاتی ہے کہ حجب کا باب بہت اہم ہے۔ میراث کے مسائل میں فتویٰ دینے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس باب کے قواعد اور باریکیوں کو خوب اچھی طرح سمجھے، تاکہ مستحق محروم نہ ہو اور غیر مستحق وارث نہ بن جائے۔

دادا کے ساتھ بھائیوں کی وارثت کے احکام

اگر میت کے دادا کے ساتھ ایک یا زیادہ بھائی بہن موجود ہوں تو مشہور ائمہ، یعنی امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ نے اس باب میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مسلک اختیار کیا ہے۔ ابو یوسف، محمد بن حسن شیبانی اور دیگر اہل علم بھی اسی کے قائل ہیں۔

اس مسلک کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر دادا کے ساتھ شریک بھائی صرف عینی ہوں، یا صرف علاتی ہوں، یا دونوں قسم کے ہوں، تو اگر صرف ایک قسم کے بھائی ہوں تو دادا کی دو حالتیں ہیں:

① دادا اور بھائیوں کے ساتھ کوئی صاحب فرض نہ ہو

اس صورت میں دادا کے لیے تین امکان ہوتے ہیں، اور جو زیادہ بہتر ہو، وہی اختیار کیا جائے گا:

(1) مقاسمت ثلث مال سے بہتر ہو

مقاسمت سے مراد یہ ہے کہ دادے کو ایک بھائی فرض کر کے تقسیم کی جائے۔ اس کا ضابطہ یہ ہے کہ بھائی دادے سے نصف یا نصف سے کم مال لیں۔ اس کی پانچ صورتیں ہیں:

✔ دادا اور ایک بہن
✔ دادا اور ایک بھائی
✔ دادا اور دو بہنیں
✔ دادا اور تین بہنیں
✔ دادا، ایک بھائی اور ایک بہن

ان سب صورتوں میں مقاسمت دادے کے حق میں بہتر ہے۔

(2) مقاسمت اور تہائی برابر ہوں

اس کی تین صورتیں ہیں:

✔ دادا اور دو بھائی
✔ دادا، ایک بھائی اور دو بہنیں
✔ دادا اور چار بہنیں

ان میں مقاسمت اور ثلث مال دونوں صورتوں میں دادے کے لیے ایک تہائی بنتا ہے۔

اس موقع پر اہل علم میں اختلاف ہے کہ دادے کو یہاں عصبہ کہا جائے یا صاحب فرض، یا دونوں احتمال قائم رکھے جائیں۔ بعض اہل علم نے تہائی کے اعتبار سے اسے صاحب فرض قرار دیا، کیونکہ فرض کی حیثیت سے میراث لینا عصبہ کی نسبت قوی تر سمجھا جاتا ہے۔

(3) ثلث مال مقاسمت سے بہتر ہو

اس صورت میں دادا صاحب فرض کی حیثیت سے تہائی لے گا۔ یہ صورتیں محدود نہیں، مگر اس کی کم ترین مثالیں یہ ہیں:

✔ دادا، دو بھائی اور ایک بہن
✔ دادا اور پانچ بہنیں
✔ دادا، ایک بھائی اور تین بہنیں

② دادا اور بھائیوں کے ساتھ کوئی صاحب فرض بھی ہو

اس حالت میں دادے کی سات مختلف صورتیں بنتی ہیں:

① مقاسمت متعین ہو
② ثلث ما بقی متعین ہو
③ کل مال کا چھٹا حصہ بہتر ہو
④ مقاسمت اور ثلث ما بقی برابر ہوں
⑤ مقاسمت اور سدس برابر ہوں
⑥ ثلث ما بقی اور سدس برابر ہوں
⑦ تینوں برابر ہوں

پہلی حالت: مقاسمت بہتر ہو

مثال: خاوند، دادا اور بھائی
اس میں خاوند کو نصف ملے گا، باقی نصف دادا اور بھائی میں تقسیم ہوگا۔ اس طرح دادے کو چوتھائی ملے گا، جو ثلثِ باقی اور سدس سے زیادہ ہے۔

حل:
2*2=4

خاوند۔۔۔1/2۔ دادا۔1 بھائی۔1

دوسری حالت: ثلث ما بقی بہتر ہو

مثال: ماں، دادا اور پانچ بھائی
ماں کو چھٹا دینے کے بعد باقی پانچ حصے رہتے ہیں۔ دادے کو ثلث ما بقی دینا مقاسمت اور سدس سے بہتر ہے۔

حل:
3*6=18

ماں ۔1۔3۔دادا۔1صحیح 2بٹا 3۔5۔5بھائی ۔3صحیح 1بٹا 3 ۔2/10۔

تیسری حالت: سدس بہتر ہو

مثال: خاوند، ماں، دادا اور دو بھائی
اس صورت میں کل مال کا چھٹا حصہ باقی صورتوں سے دادے کے حق میں بہتر ہے۔

حل:
2*6=12۔۔۔خاوند 3۔6۔ماں۔1۔2۔دادا۔1۔2۔2بھائی۔1۔1بٹا 2۔

چوتھی حالت: مقاسمت اور ثلث باقی برابر

مثال: ماں، دادا اور دو بھائی

حل:
3*6=18

ماں:1۔3۔دادا: 1صحیح 2بٹا3۔5۔2بھائی:3صحیح 1بٹا 3۔5/10۔

پانچویں حالت: مقاسمت اور سدس برابر

مثال: خاوند ،دادی ،دادا اور بھائی

حل:
ٹوٹل:6۔خاوند۔3۔دادی۔1۔دادا۔1۔بھائی۔1۔

چھٹی حالت: سدس اور ثلث باقی برابر

مثال: خاوند، دادا اور تین بھائی

حل:
33=36=18۔

خاوند:1۔3۔9۔دادا۔1۔1۔3۔3بھائی۔2۔6/2۔

ساتویں حالت: تینوں برابر

مثال: خاوند، دادا اور دو بھائی

حل:
2*3=6

خاوند:1۔3۔دادا:1بٹا3۔1۔2بھائی:2بٹا3۔2/1۔

مُعادہ کا بیان

پہلے یہ ذکر ہوا کہ دادا کے ساتھ اگر صرف عینی یا صرف علاتی بھائی ہوں تو حکم کیا ہے۔ اب یہ ذکر ہے کہ اگر دادا کے ساتھ دونوں قسم کے بھائی، یعنی عینی اور علاتی، جمع ہو جائیں تو معادہ کیا ہوتی ہے۔

معادہ میں عینی بھائی دادے کا حصہ کم کرنے کے لیے علاتی بھائیوں کو بھی اپنے ساتھ شمار کرتے ہیں۔ جب دادا اپنا حصہ لے لیتا ہے، تو پھر عینی بھائی علاتی بھائیوں کی طرف رجوع کر کے ان کے ہاتھ میں آیا ہوا مال بھی واپس لے لیتے ہیں۔ البتہ اگر ایک عینی بہن ہو تو وہ اپنا پورا نصف لے گی، اور اگر کچھ بچے گا تو علاتیوں کو ملے گا۔

دادے کے مقابلے میں عینی اور علاتی بھائی اس لیے متحد سمجھے جاتے ہیں کہ دونوں کی نسبت باپ کی طرف سے ہے۔ عینی بھائیوں میں ماں کی طرف کا اضافہ ہے، مگر دادا کی موجودگی میں وہ جہت ساقط ہو جاتی ہے، کیونکہ دادا کی موجودگی میں اخیافی تو بالاتفاق محروم ہیں۔ اس لیے دادے کے مقابلے میں علاتی بھائی بھی شامل کیے جاتے ہیں تاکہ دادا کے حصے میں کمی ہو۔

معادہ کی عملی صورت

عینی بھائی علاتی بھائیوں کو اپنے ساتھ ملا کر دادے سے کہتے ہیں کہ دادے کے مقابلے میں ہم سب ایک ہی درجے کے ہیں، اس لیے تقسیم میں ہم سب شریک ہوں گے۔ پھر جب دادا اپنا حصہ لے لیتا ہے، تو عینی بھائی علاتی بھائیوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے اصل وارث نہیں ہو، ہم نے تمہیں صرف دادے کا حصہ کم کرنے کے لیے شمار کیا تھا، اب تمہارے ہاتھ آیا ہوا مال بھی ہمارا ہے۔ [العذاب الفائض:114/1]

معادہ کی ضرورت کب پیش آتی ہے؟

معادہ اس وقت ضروری ہوتی ہے جب عینی بھائیوں کا حصہ دادے سے دوگنا نہ ہو، اور صاحب فرض کو اس کا حصہ دینے کے بعد چوتھائی مال سے زیادہ باقی بچتا ہو۔ اگر عینی بھائیوں کا حصہ دادے سے دوگنا یا زیادہ ہو تو معادہ کی ضرورت نہیں رہتی۔

معادہ کی صورتیں

معادہ کی کل اڑسٹھ صورتیں ہیں، جن کی تفصیل مفصل کتابوں میں موجود ہے۔

کیا ہر صورت میں علاتیوں کو حصہ ملتا ہے؟

اگر ایک عینی بھائی ہو یا دو یا زیادہ عینی بہنیں ہوں تو علاتیوں کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ اگر صرف ایک عینی بہن ہو تو وہ اپنا نصف لے گی، پھر اگر کچھ بچے تو علاتیوں کو ملے گا۔

جن صورتوں میں علاتیوں کے لیے کچھ بچتا ہے وہ چار ہیں، اور یہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منسوب ہونے کی وجہ سے زیدیات اربع کہلاتی ہیں۔ [یہ تقسیم موصوف کے مسلک کے مطابق ہے۔]

① عشرية

ارکان: دادا، ایک عینی بہن، ایک علاتی بھائی

حل:
2*5=10

دادا:2۔4۔عینی بہن:2صحیح 1بٹا 2۔5۔علاتی بھائی:1بٹا 2۔1۔

② عشرينية

ارکان: دادا، عینی بہن، دو علاتی بہنیں

حل:
25=102=20۔

دادا:2۔4۔8 عینی بہن:2صحیح 1بٹا2۔5۔10۔علاتی بھائی:1بٹا 2۔1۔2۔

③ مختصرۃ زید

ارکان: ماں، دادا، عینی بہن، ایک علاتی بھائی، ایک علاتی بہن

حل:
66=363=108/2=54۔

ماں:1۔6۔18۔9۔
دادا:5۔10۔30۔15۔
عینی بہن:5۔18۔54۔27۔
علاتی بھائی:5۔2۔4۔2۔
علاتی بہن:5۔2۔2۔1۔

④ تسعينية زيد

ارکان: ماں، دادا، عینی بہن، دو علاتی بھائی، ایک علاتی بہن

حل:
36=185=90۔

ماں:1۔3۔15۔
دادا:5۔5۔25۔
عینی بہن:5۔9۔45۔2
علاتی بھائی:5۔9۔4۔
ایک علاتی بہن:5۔1۔1۔

اختتامی نوٹ

دامنِ کتاب کی تنگی کی وجہ سے یہاں حساب، مناسخات اور تقسیمِ ترکہ کے ابواب ذکر نہیں کیے گئے۔ ان موضوعات کو سمجھنے کے لیے علم الفرائض کی کتب کی طرف رجوع کیا جائے، خصوصاً عربی کتاب "فقہ المواریث” اور اس کا اردو ترجمہ "تفہیم المواریث” مفید ہے۔ [ان ابواب کو سمجھنے کے لیے عربی کتاب”فقہ المواریث” جس کا اردو ترجمہ”تفہیم المواریث” کے نام سے مارکیٹ میں دستیاب ہے۔(صارم)]

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب