وراثت کی شرعی تقسیم: والدین، بیوہ، بیٹے اور بیٹیوں کا حصہ

فونٹ سائز:
ماخوذ: احکام و مسائل، جلد 1، صفحہ 404
مضمون کے اہم نکات

 (وراثت کی تقسیم اور قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی)

سوال:

اڑھائی ماہ قبل ایک شخص قضائے الٰہی سے وفات پا گیا – إنا ﷲ وإنا إليه راجعون – جس کے پیچھے گیارہ وارث ہیں۔ ان وارثوں میں شامل ہیں: والد، والدہ، بیوہ، تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں۔

اگر میت کے ترکہ کی کل مالیت (نقد کیش اور جائیداد) ایک لاکھ روپے ہو، تو شریعت کے مطابق ہر وارث کو کتنا حصہ ملے گا؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں ان لوگوں کا اجر کیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مقرر کردہ حدود پر عمل کرتے ہیں؟ اور ان لوگوں کا انجام کیا ہے جو ترکہ کی تقسیم میں اللہ اور رسول ﷺ کی حدود کو توڑتے ہیں؟

ورثاء کی تفصیل:

  • والد
  • والدہ
  • بیوہ
  • 3 بیٹے
  • 5 بیٹیاں

کل ورثاء: 11

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کے ذکر کردہ مسئلے میں اسلامی شریعت کی روشنی میں میت کے ترکہ کی تقسیم حسبِ ذیل ہوگی:

✅ والدین کا حصہ:

قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے:

﴿وَلِأَبَوَيۡهِ لِكُلِّ وَٰحِدٖ مِّنۡهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدٞۚ﴾
(النساء: 11)

"اگر میت کی اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا حصہ دیا جائے گا۔”

لہٰذا:

  • والد کا حصہ = 1/6
  • والدہ کا حصہ = 1/6

✅ بیوہ کا حصہ:

قرآن مجید میں فرمایا گیا:

﴿فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ﴾
(النساء: 12)

"اور اگر تمہاری اولاد ہو تو تمہاری بیویوں کو آٹھواں حصہ ملے گا اس میں سے جو کچھ تم نے چھوڑا، بعد وصیت یا قرض کی ادائیگی کے۔”

لہٰذا:

  • بیوہ کا حصہ = 1/8

✅ اولاد کا حصہ:

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

﴿يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ﴾
(النساء: 11)

"اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے: ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔”

لہٰذا:

  • ہر بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دوگنا حصہ ملے گا۔

تقسیم کی تفصیلی وضاحت:

بنیادی تقسیم:

اصل مسئلہ: 24
تصفیہ: 24 × 11 = 264 (مشترکہ کل حصص)

وارث حصہ (اصل مسئلہ) فیصد میں 264 میں حصص
والد 1/6 = 4/24 16.66% 44 حصے
والدہ 1/6 = 4/24 16.66% 44 حصے
بیوہ 1/8 = 3/24 12.5% 33 حصے
اولاد باقی حصہ = 13/24 54.16% 143 حصے

کل بچے: 3 بیٹے + 5 بیٹیاں = 8 اولاد
بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دُگنا ملتا ہے، اس لیے:

  • ہر بیٹے = 2 حصے
  • ہر بیٹی = 1 حصہ

کل اولاد کے حصے: (3×2) + (5×1) = 6 + 5 = 11 حصے

اب اولاد کے لیے بچنے والے 143 حصے کو 11 برابر حصوں میں تقسیم کریں:

  • ہر بیٹے کو = 2 حصے × (143/11) = 26 حصے
  • ہر بیٹی کو = 1 حصہ × (143/11) = 13 حصے

خلاصہ: اگر ترکہ 1 لاکھ روپے ہو تو تقسیم یوں ہو گی:

وارث حصے (264 میں سے) ترکہ میں مالیت (روپے میں)
والد 44 16,666.67 روپے
والدہ 44 16,666.67 روپے
بیوہ 33 12,500 روپے
ہر بیٹا 26 9,848.48 روپے
ہر بیٹی 13 4,924.24 روپے

✅ شریعت پر عمل کرنے والوں کا اجر:

جو لوگ ترکہ کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق تقسیم کرتے ہیں ان کے لیے قرآن مجید میں عظیم اجر کی بشارت ہے:

﴿وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدۡخِلۡهُ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ﴾
(النساء: 13)

"اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اللہ اسے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔”

❌ شریعت کی نافرمانی کرنے والوں کی سزا:

ترکہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مقرر کردہ حصوں کو توڑنے والوں کے لیے سخت وعید ہے:

﴿وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدۡخِلۡهُ نَارٗا خَٰلِدٗا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٞ مُّهِينٞ﴾
(النساء: 14)

"اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدوں سے تجاوز کرے، اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔”

ھٰذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب