مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وراثت کی شرعی تقسیم: بیوی، بیٹیاں، بہن اور بھتیجا کا حصہ

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 639

سوال

کیافرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ کے متعلق کہ محمد یعقوب فوت ہوگیا جس نے وارث چھوڑے: ایک بیوی، دو بیٹیاں، ایک بھتیجا اور ایک بہن۔ بتائیں کہ شریعتِ محمدی کے مطابق ہر ایک کو کتنا حصہ ملے گا؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ میت کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے:

کفن دفن کا خرچ میت کی جائیداد سے نکالا جائے۔
➋ اگر قرض باقی ہے تو اسے ادا کیا جائے۔
➌ اگر میت نے وصیت کی ہے تو کل مال کے ایک تہائی تک اس کو پورا کیا جائے۔
➍ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، وہ تمام مال (منقول یا غیر منقول) کو ایک روپیہ فرض کر کے وارثوں میں تقسیم ہوگا۔

تقسیمِ وراثت

میت: محمد یعقوب
کل ملکیت: 1 روپیہ

وارثوں کے حصے:
بیوی: 2 آنے
دو بیٹیاں: 10 آنے 8 پائیاں
بہن: 3 آنے 4 پائیاں
بھتیجا: محروم (حصہ نہیں پائے گا)

جدید اعشاریہ فیصد نظام میں تقسیم

کل ملکیت: 100

بیوی: 1/8 = 12.5%

دو بیٹیاں: 2/3 = 66.66% (فی کس 33.33%)

بہن (عصبہ مع الغیر): 20.84%

بھتیجا: محروم

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔