مضمون کے اہم نکات
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ پیر حاجی یونس وفات پا گئے، انہوں نے درج ذیل ورثاء چھوڑے:
◄ ایک بیوی
◄ والد پیر عبدالحق
◄ والدہ
◄ 9 بیٹے
◄ 3 بیٹیاں
اس کے بعد پیر عبدالحق بھی وفات پا گئے، انہوں نے ورثاء میں دو بیویاں، 7 بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی۔
وضاحت فرمائیں کہ شریعتِ محمدی کے مطابق ہر وارث کو کتنا حصہ ملے گا؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ میت (پیر یونس) کی ملکیت میں سے درج ذیل ترتیب سے تقسیم ہوگی:
➊ سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالا جائے گا۔
➋ اس کے بعد اگر میت پر قرضہ ہو تو اسے ادا کیا جائے گا۔
➌ پھر اگر کسی کے حق میں وصیت کی گئی ہو تو کل مال کے ایک تہائی حصے کے اندر پوری کی جائے گی۔
ان مراحل کے بعد باقی ترکہ تقسیم ہوگا۔
پیر یونس کا ترکہ
میت کی وراثت کو ایک روپیہ فرض کر کے تقسیم اس طرح ہوگی:
◄ بیوی کو آٹھواں حصہ (2 آنے) ملے گا۔
﴿فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ﴾
◄ والد (پیر عبدالحق) کو چھٹا حصہ (2 آنے 8 پیسے) ملے گا۔
◄ والدہ کو بھی چھٹا حصہ (2 آنے 8 پیسے) ملے گا۔
﴿وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ﴾
اس کے بعد جو ترکہ بچے گا (یعنی 8 پیسے) اسے 21 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا:
◄ ہر بیٹے کو 2 حصے۔
◄ ہر بیٹی کو 1 حصہ۔
﴿يُوصِيكُمُ اللَّـهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾
پیر عبدالحق کا ترکہ
پیر عبدالحق کو اپنے بیٹے (پیر یونس) سے جو حصہ ملا تھا، وہ (2 آنے 8 پیسے) ان کی میراث ہے۔
اس ترکہ کی تقسیم یوں ہوگی:
◄ دو بیویوں کو آٹھواں حصہ دیا جائے گا۔
◄ باقی ماندہ ترکہ کو 15 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا:
▪ ہر بیٹے کو 2 حصے۔
▪ بیٹی کو 1 حصہ۔
موجودہ اعشاری نظام میں تقسیم
میت: پیر حاجی یونس
کل ترکہ = 100
◄ بیوی = 8/1 = 12.5
◄ والد = 6/1 = 16.666
◄ والدہ = 6/1 = 16.666
◄ 9 بیٹے (عصبہ) = 46.429 → فی کس 5.158
◄ 3 بیٹیاں (عصبہ) = 7.738 → فی کس 2.579
میت: پیر عبدالحق
کل ترکہ = 100
◄ 2 بیویاں = 8/1 = 12.5
◄ 7 بیٹے (عصبہ) = 81.67
◄ 1 بیٹی (عصبہ) = 5.83
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب