مضمون کے اہم نکات
سوال
علماء کرام سے دریافت کیا گیا ہے کہ ایک شخص جس کا نام حکیم تھا، وفات پا گیا۔ اس نے اپنے پیچھے درج ذیل ورثاء چھوڑے:
- دو بیٹے: حاجی مٹھو اور حاجی میود
- دو بیٹیاں: مسمات بھراں اور مسمات بختاور
اس کے بعد حاجی مٹھو کا انتقال ہوگیا، جس کے ورثاء درج ذیل ہیں:
- دو بیٹے: حاجی حسین اور ایک گونگا بیٹا
- آٹھ بیٹیاں
پھر حاجی میود کا انتقال ہوا، جس کے ورثاء میں شامل ہیں:
- ایک بیوی
- دو بھتیجے (یعنی حاجی مٹھو کے بیٹے)
شرعی اصولوں اور چویعت محمدی کے مطابق ہر ایک کو کتنا حصہ ملے گا؟ اس کی وضاحت فرمائیں۔
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی میت کے ترکہ کی تقسیم سے قبل درج ذیل امور کو پورا کرنا ضروری ہے:
میت کے ترکہ کی ترتیب:
- کفن و دفن کا خرچ میت کی ملکیت سے نکالا جائے گا۔
- اگر میت پر قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔
- اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو تو وہ ثلث مال (1/3) سے پوری کی جائے گی۔
- باقی ترکہ کو منقولہ و غیر منقولہ سب کو ملا کر ایک روپیہ تصور کیا جائے گا اور اسی کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔
مرحلہ 1: میت حکیم کی ترکہ کی تقسیم
ورثاء:
- بیٹا: حاجی مٹھو
- بیٹا: حاجی میود
- بیٹی: مسمات بھراں
- بیٹی: مسمات بختاور
تقسیم (روپے کے حساب سے):
- بیٹا حاجی مٹھو: 5 آنے 4 پائی
- بیٹا حاجی میود: 5 آنے 4 پائی
- بیٹی بھراں: 2 آنے 8 پائی
- بیٹی بختاور: 2 آنے 8 پائی
مرحلہ 2: حاجی مٹھو کی ترکہ کی تقسیم
حاجی مٹھو کے انتقال کے بعد اس کی ملکیت کو بھی ایک روپیہ قرار دیا گیا۔ اس کے ورثاء درج ذیل ہیں:
ورثاء:
- دو بیٹے: (حاجی حسین اور گونگا بیٹا)
- آٹھ بیٹیاں
تقسیم (روپے کے حساب سے):
- ہر بیٹا: 2 آنے 8 پائی
- آٹھ بیٹیاں: مجموعی طور پر 10 آنے (پائی مشترکہ)
مرحلہ 3: حاجی میود کی ترکہ کی تقسیم
حاجی میود کے انتقال کے بعد اس کی ملکیت بھی ایک روپیہ فرض کی گئی۔
ورثاء:
- ایک بیوی
- دو بھتیجے (عصبات کے طور پر، کیونکہ کوئی اولاد نہیں ہے)
تقسیم (روپے کے حساب سے):
- بیوی: 4 آنے
- دو بھتیجے: 12 آنے (مشترکہ) → ہر ایک کو 6 آنے
جدید اعشاریہ فیصد میں تقسیم:
میت عبدالحکیم – کل ترکہ: 100%
| وارث | مجموعی حصہ % | فی کس حصہ % |
|---|---|---|
| 2 بیٹے | 66.66 | 33.33 فی کس |
| 2 بیٹیاں | 33.34 | 16.67 فی کس |
میت حاجی مٹھو – کل ترکہ: 33.33%
| وارث | مجموعی حصہ % | فی کس حصہ % |
|---|---|---|
| 2 بیٹے | 11.11 | 5.555 فی کس |
| 8 بیٹیاں | 22.22 | 2.777 فی کس |
میت حاجی میود – کل ترکہ: 33.33%
| وارث | حصہ % | فی کس حصہ % |
|---|---|---|
| بیوی | 4/1 (یعنی 25%) | 8.33 |
| 2 بھتیجے | 75% (عصبات) | 12.5 فی کس |
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب