سوال
علماء کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ:
بنام حاجی ریاست علی بن محمد مصطفی کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے اپنے ورثاء میں سے ایک بیوی، پانچ بیٹیاں، ایک بھائی اور دو بہنیں چھوڑے ہیں۔
شریعتِ محمدی کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ ہر وارث کو کتنا حصہ ملے گا؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ:
◄ میت کے ترکہ (چھوڑے ہوئے مال) سے سب سے پہلے کفن و دفن کے اخراجات پورے کیے جائیں گے۔
◄ اس کے بعد قرضوں کی ادائیگی کی جائے گی۔
◄ پھر اگر میت نے کوئی وصیت کی ہے تو وہ ایک تہائی (1/3) مال میں سے پوری کی جائے گی۔
ان سب مراحل کے بعد جو مال باقی بچے گا، وہ ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔
تقسیمِ وراثت
فوت شدہ: حاجی ریاست علی بن محمد مصطفی
کل ملکیت: 1 روپیہ
ورثاء اور ان کے حصے:
◈ بیوی: 2 آنہ
◈ پانچ بیٹیاں: 8 پیسہ 10 آنہ
◈ بھائی: 1 آنہ 8 پیسہ
◈ دو بہنیں (مشترکہ): 1 آنہ 8 پیسہ
جدید اعشاری طریقہ تقسیم (فیصد کے حساب سے)
کل ملکیت = 100 فیصد
◈ بیوی: 1/8 = 12.5%
◈ پانچ بیٹیاں: 2/3 = 66.66%
➤ فی کس (ہر بیٹی کا حصہ) = 13.33%
◈ بھائی (عصبہ): 10.42%
◈ دو بہنیں (عصبہ، مشترکہ): 10.42%
➤ فی کس (ہر بہن کا حصہ) = 5.21%
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب