مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وراثت کی تقسیم: بیوی، ماں اور بھائیوں کا شرعی حصہ

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 604
مضمون کے اہم نکات

سوال

کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ الھداد فوت ہوگیا جس نے وارث چھوڑے: ایک بیوی، ماں اور دو بھائی۔ بتائیں کہ شریعت محمدی کے مطابق ہر ایک کو کتنا حصہ ملے گا؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یاد رہے کہ سب سے پہلے فوت ہونے والے کی ملکیت سے یہ ترتیب اختیار کی جائے گی:

کفن دفن کے اخراجات نکالے جائیں گے۔
➋ اگر مرحوم پر کوئی قرضہ تھا تو اسے ادا کیا جائے گا۔
➌ اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی تھی تو اسے کل مال کے تیسرے حصے تک پورا کیا جائے گا۔

اس کے بعد باقی بچی ہوئی جائیداد کو ایک روپیہ قرار دے کر اس طرح تقسیم کیا جائے گا:

وراثت کی تقسیم

فوت ہونے والا:

الھداد
◈ کل ملکیت: 1 روپیہ

ورثاء اور ان کے حصے:

وارث پائیاں آنے
بیوی 08 04
ماں 08 02
دونوں بھائی مشترکہ 04 09

جدید اعشاریہ فیصد نظام تقسیم

◈ کل ملکیت: 100

بیوی: 4/1 = 25%

ماں: 6/1 = 16.66%

دونوں بھائی (عصبہ): 58.34%
❀ فی کس: 29.17%

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔