مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وراثت کی تقسیم: بیوی، بیٹے اور بیٹیوں کے حصے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 645

سوال

علماء دین کی خدمت میں عرض ہے کہ ایک شخص بنام حاجی محمد جمالی کا انتقال ہوگیا۔ ورثاء میں اس نے دو بیٹے (بلاول اور عبدالحئی)، دو بیٹیاں (خیران اور نعمت) اور ایک بیوی (جادو) چھوڑے ہیں۔ شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ ان سب کا حصہ کس طرح تقسیم ہوگا؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سب سے پہلے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ میت کی جائیداد سے:
◄ کفن و دفن کا خرچ
◄ قرض کی ادائیگی
◄ اور وصیت (بشرطیکہ ایک تہائی مال سے زیادہ نہ ہو)

ادا کی جائے گی۔ ان امور کی تکمیل کے بعد باقی ترکہ تقسیم ہوگا۔

ترکہ کی تقسیم کا اصول یہ ہے کہ:
◄ بیوی کو کل مال کا آٹھواں (1/8) حصہ دیا جائے گا۔
◄ باقی مال میں بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دگنا حصہ ملے گا۔

مثال کے طور پر:

کل مال کو 1 روپیہ فرض کیا جائے:

◈ بیوی کو: 2 آنے
◈ بیٹا (بلاول): 4 آنے 8 پائی
◈ بیٹا (عبدالحئی): 4 آنے 8 پائی
◈ بیٹی (خیران): 2 آنے 4 پائی
◈ بیٹی (نعمت): 2 آنے 4 پائی

جدید فیصدی اور اعشاریہ طریقہ تقسیم:

اگر کل مال کو 100 فیصد مان لیا جائے تو تقسیم یوں ہوگی:

بیوی → 12.5% (یعنی آٹھواں حصہ)
دو بیٹے (عصبہ) → 58.33% (فی کس 29.16%)
دو بیٹیاں (عصبہ) → 29.16% (فی کس 14.58%)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔