مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وراثت کا شرعی مسئلہ: بیوی، بھتیجا اور بھتیجی کا حصہ

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 611

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بنام حاجی محمد رمضان فوت ہوگیا جس نے ورثاء میں سے ماموں کی اولاد یعنی بیٹا، بیوی، مائتا (ماں کی طرف سے) بھتیجا اور بھتیجی چھوڑے ہیں۔ شریعت کے مطابق بتائیں کہ ہر ایک کو کتنا حصہ ملے گا؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ سب سے پہلے میت کی جائیداد میں سے درج ذیل امور پورے کیے جائیں گے:

➊ کفن دفن کے اخراجات
➋ قرض کی ادائیگی
➌ اگر کوئی وصیت ہو تو اس کی تکمیل (بشرطیکہ وہ شرعی حدود میں ہو)

اس کے بعد جو مال باقی بچے، خواہ منقول ہو یا غیر منقول، اس کو ایک روپیہ قرار دے کر ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔

کل جائیداد = 1 روپیہ

ورثاء کا حصہ:

بیوی → 4 آنے
بھتیجا → 12 آنے (بطور عصبہ)
بھتیجی → محروم (کیونکہ ماں کی طرف سے ہے اور اس صورت میں حصہ نہیں پائے گی)

جدید اعشاریہ / فیصدی طریقہ تقسیم

◈ کل جائیداد = 100 حصے
◈ بیوی = 1/4 (یعنی 25 حصے)
◈ بھتیجا = بقیہ عصبہ (یعنی 75 حصے)
◈ بھتیجی = محروم

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔