سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ ایک جگہ جو رہائش کے لیے تھی اور ایک دکان اپنی بیوی کے نام پر ہبہ کروا کر گورنمنٹ کے ریکارڈ میں بھی درج کرادی۔ مکان کا کرایہ وغیرہ مرحوم خود ہی وصول کرتا رہا۔ اب اس مکان میں موجود تمام سامان اس بیوی کا شمار ہوگا یا وہ سامان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا؟ اسی طرح ایک اور مکان بھی تھا جو مرحوم اور اس کی بہن کے نام تھا۔ مرحوم نے یہ مکان اپنے بھانجوں کے نام کردیا تھا لیکن اس مکان میں ابھی تک کوئی بھی رہائش پذیر نہیں ہوا۔ براہ کرم بتائیں کہ شریعت محمدی کے مطابق یہ سامان وغیرہ ہبہ شمار ہوگا یا نہیں؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ بات سمجھنی چاہیے کہ مرحوم نے جو مکان ہبہ کیا تھا وہ بحال اور قائم رہے گا۔
◈ اگر مرحوم نے سامان بھی ہبہ کیا تھا اور اس کی تحریر یا گواہ موجود ہیں تو وہ سامان بھی ہبہ میں شامل ہوگا۔
◈ اور اگر تحریر یا گواہ موجود نہیں ہیں تو پھر وہ سامان ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
◈ اور اگر مرحوم نے اپنی ذاتی اشیاء ہبہ کرکے دے دی تھیں تو وہ ہبہ بھی برقرار رہے گا۔
قبضہ کی شرط کے بارے میں
بعض علماء کرام نے ہبہ میں قبضہ کو شرط قرار دیا ہے، لیکن یہ موقف درست نہیں ہے۔ وہ حضرات اپنی دلیل اس حدیث سے لیتے ہیں:
((لاتجوزالهبة الامقبوضة.))
یہ حدیث ضعیف ہے جیسا کہ علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الاحادیث الضعیفہ والموضوعة صفحہ 360 پر بیان کیا ہے:
‘‘لا اصل له مرفوعا وانما رواه عبدالرزاق من قول النخعي كماذكره الذيلعي في نصب الراية ٤/١٢١’’
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قبضہ شرط نہیں ہے۔
اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں آیا ہے:
((أن المسوربن مخرمة رضى الله عنه ومروان أخبره أن النبى صلى الله عليه وسلم حين جاءه وفدهوازن قام فى الناس فاثنى على الله بماهواهله ثم قال:امابعدفان اخوانكم جاوناتائبين واني رايت ان ارداليهم سهم فمن احب منكم ان يطيب ذلك فليفعل ومن احب ان يكون علي حظه حتي نعطيه اياه من اول مايفي الله علينافقال الناس قدطيبناذلك يارسول الله.)) صحیح البخاری: كتاب الوكالة، باب نمبر ٧، رقم الحديث ٢٣٠٧، ٢٣٠٨
حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت مروان بن حکم نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں قبیلہ ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر حاضر ہوا۔
آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور لوگوں میں خطاب فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا:
"امابعد! یہ تمہارے بھائی توبہ کرکے مسلمان ہو کر تمہارے پاس آئے ہیں۔ اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ ان کا حصہ (قیدی اور مال و دولت) واپس کردوں۔ اب جو شخص خوشی کے ساتھ ایسا کرنا چاہے وہ کرے، اور جو چاہے کہ اس کا حصہ باقی رہے تو ہم اس کو قیمت کی شکل میں واپس کردیں گے جب اللہ تعالیٰ ہمیں سب سے پہلا مالِ غنیمت عطا کرے گا۔”
لوگوں نے کہا: "ہم بخوشی دل سے اس کی اجازت دیتے ہیں۔”
یہ حدیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قبضہ شرط نہیں ہے۔ اگر قبضہ شرط ہوتا تو صحابہ کرام نے قبضہ کیا ہی نہیں تھا، پھر واپس کیسے کردیا؟ اس سے واضح ہوا کہ قبضہ شرط نہیں ہے۔
اسی طرح الروضۃ الندیہ صفحہ 165 میں ہے:
‘‘ولاحجة لمن اشترط القبض في الهبة.’’
خلاصہ
◈ مکان جو مرحوم نے ہبہ کیا تھا وہ قائم ہے۔
◈ سامان اگر گواہ یا تحریر کے ساتھ ہبہ کیا گیا تھا تو ہبہ میں شمار ہوگا۔
◈ اگر کوئی ثبوت موجود نہیں تو سامان ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
◈ مرحوم نے جو اشیاء بیوی کو ہبہ کی تھیں وہ بدستور اس کے پاس رہیں گی۔
◈ شریعت محمدی کی رو سے ہبہ میں قبضہ شرط نہیں ہے۔
ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب