وراثت میں معاف کردہ حق بعد میں واپس لیا جا سکتا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : احکام و مسائل، وراثت کے مسائل، جلد 1، صفحہ 401

سوال

ایک عورت کے دو بیٹے تھے، جن میں سے ایک فوت ہو گیا۔ مرحوم کے ترکہ میں والدہ کو جو سدس (چھٹا حصہ) ملنا تھا، والدہ نے اس سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ:

"میں یہ حصہ یتیم بچوں سے نہیں لیتی بلکہ ان کے لیے معاف کرتی ہوں۔”

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس عورت کے پاس سدس کے علاوہ بھی بہت سا مال موجود تھا۔ کچھ سال بعد جب وہ عورت بھی وفات پا جاتی ہے تو اس کا دوسرا بیٹا (یعنی یتیم بچوں کا چچا) یہ دعویٰ کرتا ہے:

"میرے بھائی کے ترکہ میں سے جو سدس میری والدہ کو ملنا تھا، وہ مجھے دے دو کیونکہ والدہ کا ترکہ اب میرے حصے میں آئے گا۔”

اب سوال یہ ہے کہ:
کیا یتیم بچوں کو اپنی دادی کے معاف کردہ سدس کو واپس کر دینا چاہیے؟
اس معاملے کی وضاحت قرآن و سنت کی روشنی میں کی جائے۔

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس مسئلے کی صورت میں اگر:

یتیم بچوں کا چچا یہ تسلیم کرتا ہے کہ اس کی والدہ نے سدس (چھٹا حصہ) یتیم بچوں کو معاف کر دیا تھا،
اور وہ یہ اعتراف بھی کرتا ہے کہ اس کی والدہ نے یہ واضح الفاظ کہے تھے کہ:

"میں یہ سدس یتیم بچوں سے نہیں لیتی”

تو ایسی صورت میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ:

چچا اپنی والدہ کے معاف کردہ سدس کو واپس لینے کا کوئی شرعی حق نہیں رکھتا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ والدہ کا یہ فیصلہ کسی بھی شرعی نص کے خلاف نہیں بلکہ قرآن کریم کی درج ذیل ہدایت کے مطابق ہے:

﴿يَسۡ‍َٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَۖ قُلۡ مَآ أَنفَقۡتُم مِّنۡ خَيۡرٖ فَلِلۡوَٰلِدَيۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِينَ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۗ﴾
— البقرة: 215

"تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں، تو کہہ دے کہ جو کچھ بھی تم خرچ کرو وہ والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو۔”

یہ آیت والدہ کے طرزِ عمل کا آئینہ دار ہے، کیونکہ اس نے یتیم پوتوں پر اپنا حقِ وراثت (سدس) خرچ نہ کر کے معاف کر دیا، جو ایک نیکی اور احسان کا کام ہے۔

لہٰذا:

◈ جب والدہ اپنے حق سے دستبردار ہو چکی تھیں،
◈ تو اس حق کا دعویٰ بعد از وفات کوئی اور نہیں کر سکتا،
◈ یہاں تک کہ اس کا اپنا بیٹا (یعنی یتیم بچوں کا چچا) بھی نہیں۔

نتیجہ

یتیم بچوں کی دادی نے سدس معاف کر کے شرعی طور پر اپنا حق چھوڑ دیا تھا،
لہٰذا اس کے بیٹے کا یہ کہنا کہ "اب وہ حصہ مجھے دیا جائے” شرعی طور پر جائز نہیں۔
چونکہ والدہ نے یہ حصہ معاف کیا تھا، اس لیے یتیم بچوں پر اسے واپس کرنے کی کوئی شرعی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب