مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وراثت میں رہائشی مکان اور پلاٹ کی تقسیم کا شرعی حکم

فونٹ سائز:

سوال

جس گھر میں رہائش ہے، کیا اس میں بیٹوں کا حق ہے یا نہیں؟ اگر حق ہے تو کیا اس عمارت اور پلاٹ دونوں کے حساب سے حق دیا جائے گا یا صرف پلاٹ سے حق دیا جائے گا؟ چار بھائی اور دو بہنوں کی موجودگی میں وضاحت سے جواب دیں۔

جواب از فضیلۃ الشیخ سعید مجتبیٰ سعیدی حفظہ اللہ ، فضیلۃ العالم عمر اثری حفظہ اللہ

انسان کی وفات کے بعد اس کے تمام ترکہ میں اس کے تمام شرعی ورثاء کا حق ہوتا ہے۔ والد کی وفات کے بعد رہائشی مکان میں بیٹوں کے ساتھ بیٹیاں بھی شرعی طور پر وارث ہیں۔

پلاٹ اور تعمیر دونوں کی قیمت کا تعین کر کے ہر حصے دار کو ان کے شرعی حصے کے مطابق حصہ دیا جائے گا۔

جی بالکل، پلاٹ اور عمارت، چاہے وہ رہائشی مکان ہی کیوں نہ ہو، اگر یہ والد کی وفات کے بعد کا معاملہ ہے تو وراثت کے احکام کے مطابق حصہ دیا جائے گا۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔