وراثت، ہبہ اور جائیداد کے متعلق شرعی احکام
الحمد للہ، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
(1) بھانجے کو جائیداد بطور ہبہ (گفٹ) دینے کا حکم
سوال میں مذکور شخص محمد بشیر کا شمار کلالہ (یعنی وہ شخص جس کا کوئی بیٹا یا باپ زندہ نہ ہو) میں ہوتا ہے۔ اس کے دو بھائی اور ایک بہن زندہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء کی آخری آیت میں ارشاد فرمایا:
﴿ وَإِن كَانُوٓاْ إِخۡوَةٗ رِّجَالٗا وَنِسَآءٗ فَلِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۗ ﴾
(النساء:176)
یعنی:
"اور اگر کئی وارث ہوں، کچھ مرد اور کچھ عورتیں، تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا”
اس موجودہ صورت حال میں محمد بشیر کے بھانجے اور بھانجیاں اس کے شرعی وارث نہیں ہیں کیونکہ یہ ذوی الارحام (قریبی رشتہ دار) کے درجے میں آتے ہیں، اور عصبات (قریبی نسبی مرد وارث جیسے بھائی) کی موجودگی میں ذوی الارحام وارث نہیں بنتے۔
لہٰذا:
◈ محمد بشیر اپنی جائیداد (زمین وغیرہ) بھانجے یا بھانجیوں کے نام بطور ہبہ (تحفہ) نہیں لکھوا سکتا۔
◈ البتہ، وہ وصیت کر سکتا ہے، مگر صرف اپنی کل جائیداد کے ایک تہائی (1/3) حصے تک۔
(2) ساری زمین فروخت کر کے راہِ اللہ میں خرچ کرنا
اگر کوئی شخص اپنی پوری جائیداد فروخت کر کے راہِ اللہ میں خرچ کر دیتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے وارثوں کو ان کے شرعی حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے، جب کہ شریعت میں وارث کو محروم کرنا منع ہے۔
لہٰذا:
◈ محمد بشیر اپنی پوری زمین فروخت کر کے سارا مال راہِ خدا میں نہیں لگا سکتا۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا واقعہ اس پر دلیل نہیں بنتا کیونکہ:
◈ انہوں نے اپنی پوری جائیداد نہیں دی تھی بلکہ گھر کے کچھ مال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جہاد کے لیے پیش کیا تھا۔
(3) زمین فروخت کر کے حج کرنا یا کاروبار کرنا
یہ عمل شرعاً جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔
لہٰذا:
◈ محمد بشیر اگر اپنی زمین فروخت کر کے اس رقم سے فریضہ حج ادا کرے یا کسی اور نیک یا جائز کام جیسے کاروبار میں خرچ کرے تو یہ جائز ہے۔
(4) بہن کے نام جائیداد لگوانا
محمد بشیر کی عینی (سگی) بہن کا اس کی جائیداد میں اللہ تعالیٰ نے از خود حصہ مقرر کر دیا ہے۔
لہٰذا:
◈ اس کو اتنا ہی حصہ دیا جا سکتا ہے جتنا شرعی طور پر بنتا ہے۔
◈ لیکن یہ حصہ محمد بشیر کی زندگی میں متعین نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جائیداد کی مالیت اور مقدار زندگی میں بدلتی رہتی ہے۔
◈ مزید یہ کہ انسان زندگی بھر اپنی ملکیت میں تصرف کا حق رکھتا ہے۔
پس:
◈ بہن کے نام زندگی میں جائیداد لکھوانا درست نہیں۔
◈ وفات کے بعد جو وارث ہو گا، وہ اپنا حصہ شرعی طور پر وصول کرے گا۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب