ماخوذ : قرآن و حدیث کی روشنی میں احکام و مسائل، جلد 01، صفحہ 565
سوال
وحی کی کتنی قسمیں ہیں؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا ہے:
{وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ یُّكَلِّمَهُ اﷲُ إِلاَّ وَحْیًا أَوْ مِنْ وَّرَآئِ یْ حِجَابٍ أَوْ یُرْسِلَ رَسُولاً فَیُوحِیَ بِإِذْنِهِ مَا یَشَآءُ}
[اور نہیں طاقت کسی آدمی کو کہ بات کرے اس سے اللہ مگر وحی سے یا پردے کے پیچھے سے یا بھیجے فرشتہ پیغام لانے والا پس جی میں ڈال دیوے ساتھ حکم اس کے کے جو کچھ چاہتا ہے]
[الشوری ۵۱ پ۲۵]
کتاب و سنت میں وحی کی جتنی بھی صورتیں وارد ہوئی ہیں، وہ سب کی سب اسی آیتِ کریمہ میں بیان کردہ تین قسموں ہی کی طرف لوٹتی ہیں۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب