مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وحی کا جھوٹا دعویٰ: قرآن و اجماعِ امت کی روشنی میں حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کوئی دعویٰ کرے کہ اسے وحی آتی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت آخری شریعت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کردہ کتاب آخری کتاب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت آخری امت ہے، انبیائے کرام کی تعمیر کردہ مساجد میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد آخری مسجد ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ساتھ وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، اب دین کے متعلق کوئی وحی نہیں آئے گی۔ جو وحی کا دعویٰ کرے، وہ جھوٹا اور مفتری ہے۔ اس سے اس کے جھوٹ پر دلیل نہیں مانگی جائے گی۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ
(سورة الأنعام: 93)
اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے، جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا یہ کہے کہ مجھے وحی ہوئی ہے، جبکہ اسے کوئی وحی نہ ہوئی ہو؟
❀ امام محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ (310ھ) فرماتے ہیں:
أولى الأقوال فى ذلك عندي بالصواب، أن يقال: إن الله قال: ومن أظلم ممن افترىٰ على ٱلله كذبا أو قال أوحي إلى ولم يوح إليه شيء، ولا تمانع بين علماء الأمة أن ابن أبى سرح كان ممن قال: إني قد قلت مثل ما قال محمد، وأنه ارتد عن إسلامه ولحق بالمشركين، فكان لا شك بذلك من قيله مفتريا كذبا، وكذلك لا خلاف بين الجميع أن مسيلمة والعنسي الكذابين ادعيا على الله كذبا أنه بعثهما نبيين، وقال كل واحد منهما: إن الله أوحى إليه، وهو كاذب فى قيله، فإذ كان ذلك كذلك، فقد دخل فى هذه الآية كل من كان مختلفا على الله كذبا، وقائلا فى ذلك الزمان وفي غيره أوحى الله إليه، وهو فى قيله كاذب لم يوح الله إليه شيئا، فأما التنزيل فإنه جائز أن يكون نزل بسبب بعضهم، وجائز أن يكون نزل بسبب جميعهم، وجائز أن يكون عني به جميع المشركين من العرب، إذ كان قائلو ذلك منهم فلم يغيروه، فعيرهم الله بذلك وتوعدهم بالعقوبة على تركهم نكير ذلك، ومع تركهم نكيره، هم بنبيه محمد صلى الله عليه وسلم مكذبون، ولنبوته جاحدون، ولآيات كتاب الله وتنزيله دافعون، فقال لهم جل ثناؤه: ومن أظلم ممن ادعى على النبوة كاذبا وقال: أوحي إلى ولم يوح إليه شيء ومع ذلك يقول: ما أنزل الله علىٰ بشر من شيء
میرے نزدیک آیت کی سب سے صحیح تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے، جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا یہ کہے کہ مجھے وحی ہوئی ہے، جبکہ اسے کوئی وحی نہ ہوئی ہو؟ علمائے امت میں اس بارے کوئی اختلاف نہیں کہ ابن ابی سرح نے بھی کہا تھا کہ میں بھی اسی طرح بات کرتا ہوں، جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم بات کرتے ہیں۔ وہ اسلام سے مرتد ہو گیا تھا اور مشرکوں سے مل گیا تھا، بے شک وہ اپنے قول میں جھوٹا اور مفتری تھا۔ اسی طرح اس میں بھی کسی کا اختلاف نہیں کہ مسیلمہ اور اسود عنسی دونوں جھوٹوں نے بھی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مبعوث کیا ہے، ان میں سے ہر ایک نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف وحی کرتا ہے، جبکہ وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے تھے۔ جب بات ایسی ہے، تو اس آیت میں ہر وہ شخص داخل ہے، جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑے اور اسی زمانہ یا کسی بھی زمانہ میں یہ دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی کی ہے، جبکہ وہ اپنی بات میں جھوٹا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف کچھ وحی نہیں کیا۔ ممکن ہے کہ آیت کا نزول کسی خاص شخص کی وجہ سے ہوا ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سبب نزول تمام جھوٹے ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد تمام مشرکین عرب ہوں، کیونکہ وحی کا دعویٰ کرنے والے مشرکین عرب میں سے ہی تھے، مگر انہوں نے وحی کے دعویٰ دار پر نکیر نہیں کی، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ عار دلائی اور نکیر نہ کرنے کی وجہ سے انہیں سزا سنائی، انہوں نے نہ صرف ان کی نکیر نہیں کی، بلکہ ساتھ ساتھ اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جھٹلا دیا اور اللہ تعالیٰ کی کتاب اور وحی کو رد کیا، تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے، جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے اور کہے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے، جبکہ اس کی طرف کچھ وحی نہیں کیا گیا؟ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: مَا أَنْزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٍ مِّن شَيْءٍ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا۔ لہذا اللہ نے اپنے فرمان کے ذریعے اس (جھوٹے) کے قول کا رد کر دیا، حقیقت کے ساتھ اس کی تکذیب کر دی اور اس شے کی نفی کر دی، جسے اس (جھوٹے) نے ثابت کیا تھا، کیونکہ جب کوئی عقل مند اور باشعور آدمی اس پر تدبر کرے گا، تو جان جائے گا کہ وہ بے وقوف اور دیوانہ ہے۔
(تفسير الطبري: 407/9)
❀ علامہ جعفر بن محمد رحمہ اللہ (732ھ) فرماتے ہیں:
أجمعوا على أن شريعة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم باقية إلى يوم القيامة، لقوله تعالى: ولٰكن رسول ٱلله وخاتم ٱلنبيين
اہل علم کا اجماع ہے کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت قیامت تک باقی رہے گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔
(رسوخ الأحبار: 132)
❀ مذکورہ آیت کی تفسیر میں علامہ عبد الرحمن بن ناصر سعدی رحمہ اللہ (1376ھ) فرماتے ہیں:
لا أحد أعظم ظلما، ولا أكبر جرما، ممن كذب على الله بأن نسب إلى الله قولا أو حكما وهو تعالى بريء منه، وإنما كان هذا أظلم الخلق، لأن فيه من الكذب، وتغيير الأديان أصولها، وفروعها، ونسبة ذلك إلى الله ما هو من أكبر المفاسد، ويدخل فى ذلك ادعاء النبوة، وأن الله يوحي إليه، وهو كاذب فى ذلك، فإنه مع كذبه على الله، وجرأته على عظمته وسلطانه يوجب على الخلق أن يتبعوه، ويجاهدهم على ذلك، ويستحل دماء من خالفه وأموالهم، ويدخل فى هذه الآية كل من ادعى النبوة، كمسيلمة الكذاب والأسود العنسي والمختار، وغيرهم ممن اتصف بهذا الوصف
اس سے بڑا ظالم اور مجرم کوئی نہیں، جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے کہ اس کی طرف ایسی بات یا حکم منسوب کر دے، جس سے باری تعالیٰ بری ہے۔ یہ شخص کائنات کا سب سے بڑا ظالم ہے، کیونکہ اس نے جھوٹ بولا اور ادیان کے اصول و فروع کو تبدیل کر دیا ہے، پھر اس کام کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا، جو کہ سب سے بڑی خرابی ہے۔ اس جھوٹ میں یہ بھی شامل ہے کہ کوئی نبوت کا دعویٰ کرے اور کہے کہ اللہ نے اس پر وحی کی ہے، جبکہ وہ اس بات میں جھوٹا ہو، کیونکہ اس نے ایک تو اللہ پر جھوٹ باندھا ہے اور اس کی عظمت و بادشاہت پر جرات و جسارت کی ہے، دوسرا یہ کہ لوگوں کے لیے اپنا اتباع واجب قرار دیا ہے، ان سے اس بارے میں زبردستی کی ہے اور اپنے مخالف کے مال و جان کو حلال قرار دیا ہے۔ نیز اس آیت میں ہر وہ شخص داخل ہے، جس نے نبوت کا (جھوٹا) دعویٰ کیا ہے، مثلاً مسیلمہ کذاب، اسود عنسی اور مختار ثقفی وغیرہ۔
(تفسير السعدي: 264)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔