مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

وتر کے بعد نفل تہجد کے ساتھ پڑھنے کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ، جلد 1، صفحہ 534

سوال

اگر کوئی شخص وتر کو تہجد کے ساتھ پڑھنا چاہے تو وہ نفل جو وتر کے بعد پڑھے جاتے ہیں، کیا انہیں عشاء کے وقت ادا کرے یا چھوڑ دے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

◄ اس معاملے میں آسانی ہے، جیسا سہولت ہو ویسا کرے کیونکہ اس میں کشادگی اور فراخی ہے۔
◄ اگر ان نفلوں کو چھوڑ دے تو ثواب سے محروم تو رہے گا لیکن اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔