مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وتر کی قنوت رکوع سے پہلے یا بعد ہاتھ اٹھا کر یا بغیر ہاتھ کے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : احکام و مسائل، نماز کا بیان، جلد 1، صفحہ 225

سوال

قنوت ہاتھ اٹھا کر پڑھیں یا بغیر ہاتھ اٹھائے بھی پڑھ سکتے ہیں؟ وتر میں رکوع کے بعد قنوت ہاتھ اٹھا کر صحابی سے ثابت ہے، مگر اگر رکوع سے پہلے قنوت پڑھی جائے تو کیا ہاتھ اٹھا کر پڑھنی چاہیے یا بغیر ہاتھ اٹھائے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وتر کی قنوت دعا ہاتھ اٹھا کر بھی پڑھی جا سکتی ہے اور بغیر ہاتھ اٹھائے بھی۔ دونوں طریقے درست ہیں۔
اسی طرح قنوت دعا رکوع سے پہلے ہو یا رکوع کے بعد، دونوں صورتوں میں ہاتھ اٹھانا یا نہ اٹھانا صحیح ہے۔

یعنی:

❀ قنوت رکوع سے پہلے ہو یا بعد میں، دونوں جائز ہیں۔

❀ قنوت ہاتھ اٹھا کر پڑھنا بھی درست ہے۔

❀ قنوت بغیر ہاتھ اٹھائے بھی صحیح ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔