والد کا اولاد سے ہبہ واپس لینا شرعی حکم اور حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر: 556

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ احمد خان نے اپنی ملکیت اپنے بیٹوں کے نام کروا دی۔ ان میں سے ایک بیٹا نافرمان ہوگیا اور ساری ملکیت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اب احمد خان اپنے اس بیٹے کو دی ہوئی ملکیت واپس لینا چاہتا ہے۔ بتائیں کہ شریعتِ محمدی ﷺ کے مطابق اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ والد اپنے بیٹے کو دی ہوئی ملکیت واپس لے سکتا ہے۔

حدیث شریف کی دلیل:

((عن ابن عباس وابن عمررضی االله عنه النبى صلى الله عليه وسلم قال لايحل لرجل أن يعطى عطية أويهب هبة فيرفيهاإلاالوالدفى مايعطى ولده.))
أخرجه ابوداود، كتاب البيوع، باب في الرجوع في الهبة، رقم الحديث: ٣٥٣٩

ترجمہ:
ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"کسی آدمی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ عطیہ یا ہبہ دے کر واپس لے، مگر والد اپنی اولاد کو دی ہوئی چیز واپس لے سکتا ہے۔”

خلاصہ

لہٰذا احمد خان کے لیے شرعاً یہ جائز ہے کہ وہ اپنے نافرمان بیٹے کو دی ہوئی ملکیت واپس لے۔

ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب