سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ احمد خان نے اپنی ملکیت اپنے بیٹوں کے نام کروا دی۔ ان میں سے ایک بیٹا نافرمان ہوگیا اور ساری ملکیت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اب احمد خان اپنے اس بیٹے کو دی ہوئی ملکیت واپس لینا چاہتا ہے۔ بتائیں کہ شریعتِ محمدی ﷺ کے مطابق اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ والد اپنے بیٹے کو دی ہوئی ملکیت واپس لے سکتا ہے۔
حدیث شریف کی دلیل:
((عن ابن عباس وابن عمررضی االله عنه النبى صلى الله عليه وسلم قال لايحل لرجل أن يعطى عطية أويهب هبة فيرفيهاإلاالوالدفى مايعطى ولده.))
أخرجه ابوداود، كتاب البيوع، باب في الرجوع في الهبة، رقم الحديث: ٣٥٣٩
ترجمہ:
ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"کسی آدمی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ عطیہ یا ہبہ دے کر واپس لے، مگر والد اپنی اولاد کو دی ہوئی چیز واپس لے سکتا ہے۔”
خلاصہ
لہٰذا احمد خان کے لیے شرعاً یہ جائز ہے کہ وہ اپنے نافرمان بیٹے کو دی ہوئی ملکیت واپس لے۔
ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب