مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

والدین یا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ :فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 426
مضمون کے اہم نکات

سوال

علماء کرام اس مسئلہ پر کیا فرماتے ہیں کہ اگر ایک لڑکی کا نکاح والدین کی رضامندی کے بغیر کیا جائے تو کیا ایسا نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر لڑکی راضی نہ ہو لیکن والدین راضی ہوں تو کیا اس نکاح کی شرعی حیثیت ہوگی؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ایسا نکاح ناجائز اور حرام ہے۔ اس کی دلیل درج ذیل احادیث سے ملتی ہے:

والدین کی اجازت کے بغیر نکاح کا حکم

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((أيماإمرة نكحت بغيرإذن مواليها فنكاحها باطل وثلاث مراة.))
ابوداود: كتاب النکاح، باب فی الولی، رقم الحديث: ٢٠٨٣

‘‘جس عورت نے اپنے والد کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے۔’’

اس حدیث سے واضح ہوا کہ اگر والدین ناراض ہوں اور خوشی سے نکاح کی اجازت نہ دیں تو ایسا نکاح باطل ہے۔

ولی کے بغیر نکاح کا حکم

ایک اور حدیث میں فرمایا گیا:

((لانكاح إلابولى.))
ترمذى، كتاب النکاح، باب ماجاء لانكاح إلابولى

‘‘ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے۔’’

لڑکی کی رضا مندی کے بغیر نکاح

اگر لڑکی نکاح پر راضی نہ ہو لیکن والدین راضی ہوں، تب بھی یہ نکاح نہیں ہوگا۔ ایسا نکاح بھی حرام ہے۔

اسی طرح اگر کسی نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو وہ نکاح نہیں ہوگا بلکہ یہ زنا شمار ہوگا اور اس پر زنا کی سزا دی جائے گی:

◄ اگر دونوں غیر شادی شدہ ہوں تو ➊ ١۰۰ کوڑے مارے جائیں گے۔
◄ اگر شادی شدہ ہوں تو انہیں ➋ رجم (سنگسار) کیا جائے گا۔

زبردستی نکاح کی صورت

اگر عورت سے زبردستی نکاح کیا گیا ہے تو عورت بے قصور ہے، صرف مرد کو سزا دی جائے گی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔