والدین کے حقوق سے متعلق 23 ضعیف احادیث کی نشاندہی

یہ اقتباس شیخ جاوید اقبال سیالکوٹی کی کتاب والدین اور اُولاد کے حقوق سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

ضعیف روایت کی تعریف:

ضعیف روایت وہ ہے جس میں صحیح اور حسن حدیث کی شرائط موجود نہ ہوں، یعنی جو پایہ ثبوت تک نہ پہنچے۔

ضعیف روایت کا حکم:

صحیح اور راجح بات یہی ہے کہ ضعیف روایت پر عمل جائز نہیں، نہ اعمال میں اور نہ فضائل میں۔ یہی مذہب امام بخاری، امام مسلم، یحیی بن معین اور ابن حزم وغیرہ کا ہے۔
قواعد التحديث لفضيلة الشيخ جمال الدين القاسمي ص 13
فائدہ:
میرے بھائیو! ضعیف روایت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس روایت میں حدیث کے صحیح اور حسن ہونے کی شرائط موجود نہیں، یعنی اس کا ثبوت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہے تو جب ایک روایت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے ثابت ہی نہیں تو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا کیسے جائز ہوگا؟
پھر اصول حدیث کی تمام کتب میں ضعیف کو مردود (جن کو رد کیا گیا ہے) کی اقسام میں شمار کیا گیا ہے۔ جو چیز ہی مردود ہے تو اس کو بیان کرنا اور اس پر عمل کرنا کیسے جائز ہوگا؟
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھیں معمولی سے شبہ کی وجہ سے حدیث کو بیان نہیں کرتے تھے، تا کہ اس حدیث کے مصداق نہ بن جائیں:
من كذب على متعمدا فليتبوا مقعده من النار
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“
صحیح البخاری: 107
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ جیسے فلاں فلاں شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (کثرت کے ساتھ )احادیث بیان کرتا ہے آپ نہیں بیان کرتے؟ زبیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں، آپ سے جدا اور الگ نہیں رہا لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
”جس شخص نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“
صحیح البخاری: 107
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے زیادہ احادیث بیان کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان روکتا ہے:
”جس شخص نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“
صحيح البخاری: 108
میرے بھائیو! ذرا سوچیں اور غور کریں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث سننے کے باوجود معمولی شک وشبہ کی بنا پر احادیث بیان نہ کرتے، تا کہ آپ پر جھوٹ نہ باندھا جائے اور جو روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہی نہیں اس کی نسبت آپ کی طرف کرنا کیسے جائز ہے؟

ضعیف روایت پر عمل کرنے کی تین شرائط ہیں

بعض علمائے کرام ضعیف روایت پر عمل کرنے کی چند شرائط لگاتے ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ان شروط العمل بالضعيف ثلاثة.
أحدها: أن يكون الضعف غير شديد فيخرج من انفرد من الكذابين والمتهمين بالكذب ومن فحش غلطه، نقل العلائي الاتفاق عليه
الثاني: أن يندرج تحت أصول معمول به وفي جامع الصغير أصل عام.
الثالث: ألا يعتقد عند العمل ثبوته لئلا ينسب الى النبى ﷺ ما لم يقله

➊ یہ کہ ضعف زیادہ سخت نہ ہو (یعنی معمولی ہو) اس شرط کے لگانے سے جھوٹے راوی اور جن پر جھوٹ کی تہمت ہے اور جن کی غلطیاں بہت زیادہ ہیں وہ خارج ہو گئے (یعنی ان کی روایت قبول نہیں کی جائے گی) ضعیف روایت پر عمل کرنے کی اس شرط پر سب کا اتفاق
ہے۔
➋ یہ ضعیف روایت کسی اصل عام کے تحت درج ہو( یعنی جو حکم ضعیف روایت میں بیان کیا گیا ہے وہ عمومی طور پر قرآن کی کسی آیت یا کسی صحیح حدیث میں بیان ہوا ہو)۔
➌ اس کے ساتھ عمل کے وقت ثبوت کا اعتقاد نہ رکھے (یعنی یہ اعتقاد نہ ہو کہ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے) تا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وہ بات منسوب نہ ہو جائے جو آپ نے نہیں کہی۔
تدريب الراوى ص 196 قواعد التحديث للعلامة الشيخ جمال الدين القاسمي ص 113، صحيح الجامع الصغير ج 2 ص 48

خلاصہ

ان تین شرائط سے معلوم ہوا کہ ضعیف روایت پر عمل اس وقت جائز ہے جب روایت میں ضعف معمولی ہو اور جو حکم ضعیف روایت میں بیان ہوا ہے وہ حکم عمومی طور پر کسی آیت یا کسی صحیح حدیث میں ذکر ہو۔
اس دوسری شرط سے معلوم ہوا کہ عمل حقیقت میں اصل عام (قرآن کی آیت یا صحیح حدیث) کے ساتھ ہے نہ کہ کسی ضعیف روایت کے ساتھ۔۔
كما قال الألباني: ان العمل فى الحقيقة ليس بالحديث الضعيف وانـمـا بـالأصل العام والعمل به وارد وجد الحديث أو لم يوجد ولا عكس، أعنى العمل بالحديث الضعيف اذا لم يوجد الأصل العام
اللہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ اس دوسری شرط پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عمل حقیقت میں ضعیف حدیث کے ساتھ نہیں، بلکہ اصلِ عام کے ساتھ ہے اور اصل عام پر عمل ہوگا، خواہ ضعیف حدیث ہو یا نہ ہو لیکن اس کے الٹ نہیں، یعنی اگر اصل عام نہیں تو ضعیف حدیث پر عمل نہیں ہو گا۔
صحيح الجامع الصغير ج 1 ص 51
ضعیف احادیث پر عمل کی تیسری شرط پر بھی غور کریں وہ یہ تھی کہ یہ اعتقاد نہیں ہونا چاہیے کہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
فتفكر وتدبر ولا تكن من الغافلين المتعصبين

والدین کے حقوق سے متعلق 23 ضعیف روایات کی تحقیق

◈ عن أبى أمامة أن رجلا قال: يا رسول الله ما حق الوالدين على ولدهما؟ قال: هما جنتك ونارك
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ماں باپ کا اولاد پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں ماں باپ تیری جنت اور دوزخ ہیں۔“
سنن ابن ماجه رقم: 3662

تحقیق:

یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں علی بن یزید الہاشمی دشتی راوی ضعیف ہے۔
تقريب الرقم: 44817 تهذيب التهذيب الرقم: 4967 تهذيب الكمال الرقم: 4781؛ میزان الاعتدال جلد ه ص 195؛ الكاشف 2/ 1298 الجرح والتعديل جلده ص 270؛ التاريخ الكبير للبخارى جلد 6 ص 127؛ كتاب الضعفاء للعقيلي جلد 1 ص 975 الرقم 1261؛ المغنى في الضعفاء الرقم: 4358؛ ديوان الضعفاء جلد 2 ص 178 الرقم 2977
◈ عن ابن عباس قال: قال رسول الله عل: من أصبح مطيعا فى والديه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن كان واحدا فواحدا ومن أمسى عاصيا لله فى والديه أصبح له بابان مفتوحان من النار وإن كان واحدا فواحدا قال الرجل: وإن ظلماه؟ قال: وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے لیے اپنے ماں باپ کی فرمانبرداری میں صبح کرتا ہے اُس کے لیے جنت کے دو (2) دروازے کھل جاتے ہیں؟ اگر ایک ہے (ماں باپ سے) تو ایک دروازہ کھل جاتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے لیے ان کی نافرمانی میں صبح کرتا ہے اس کے لیے دوزخ کے دو (2) دروازے کھل جاتے ہیں اگر (ماں باپ میں سے) ایک ہے تو ایک دروازہ کھل جاتا ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اگر والدین اس پر ظلم کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چہ وہ اس پر ظلم کریں، اگر چہ وہ اس پر ظلم کریں، اگر چہ وہ اس پر ظلم کریں۔“
الشعب الايمان للبيهقى الرقم: 7916

تحقیق:

یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں عبد اللہ بن یحیی السرخسی راوی متہم بالکذب ہے۔ (اس پر جھوٹ کی تہمت ہے)
میزان الاعتدال جلد 4 ص 227 ديوان الضعفاء والمتروكين جلد 2 ص 174 المغني في الضعفاء جلدة ص 578؛ الكامل لابن عدى جلده ص 439؛ لسان الميزان الرقم: 4510
قال ناصر الدين الألباني: ورواه ابن وهب فى الجامع ص 14، وفيه أبان بن أبى عياش وهو ضعيف جدا
هداية الرواة جلد 4 ص 418
◈ عن أنس قال: قال رسول الله م: ان العبد ليموت والداه أو أحدهما وإنه لهما لعاق فلا يزال يدعو لهما ويستغفر لهما حتى يكتبه الله بارا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے ماں باپ دونوں یا دونوں میں سے ایک فوت ہو جاتے ہیں اور وہ ان کا نافرمان ہوتا ہے پس وہ ان کے لیے ہمیشہ استغفار اور دعا کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے نیکو کارلکھ دیتا ہے۔“
الشعب الايمان للبيهقى الرقم: 7902

تحقیق:

اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ سند میں یحی بن عقبہ راوی ہے۔ اس کے متعلق ابن معین لکھتے ہیں: یہ راوی کذاب (بہت چھوٹا)، خبیث اور اللہ کا دشمن ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ منکر الحدیث ہے۔
ميزان الاعتدال: جلد 7 ص 205؛ لسان الميزان جلد 8 ص 464: مجمع الزوائد جلد 2 ص 477؛ الجرح والتعديل جلدة ص 220؛ المغني في الضعفاء الرقم 7022؛ كتاب الضعفاء للعقيلى الرقم 2052؛ الكامل لابن عدی ج9 ص 70؛ ديوان الضعفاء جلد 2 ص 2 451 الرقم 4667
فائده:
اس روایت کو امام ابن جوزی نے موضوعات میں اور ابن ابی دنیا نے کتاب القبور کے اندر بھی نقل کیا ہے۔ ابن جوزی والی روایت میں لاحق بن حسین رادی کذاب ہے۔
ابن ابی دنیا والی روایت دو اعتبار سے ضعیف ہے۔
① یہ روایت مرسل ہے اس لیے کہ محمد بن سیرین تابعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا ہے۔
② اس روایت میں خالد بن خداش راوی ضعیف ہے۔
انظر التفصيل في سلسلة الأحاديث الضعيفة جلد 2 ص 316 رقم الحديث: 915
◈ عن جابر عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ثلاث من كن فيه يسر الله كنفه وأدخله جنته: رفق بالضعيف وشفقة على الوالدين واحسان إلى المملوك
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میں تین چیزیں ہوں اس کا مرنا اللہ تعالی آسان کر دیتا ہے اور اس کو جنت میں داخل کر دے گا:
① ضعیف کے ساتھ نرمی کرنا
② ماں باپ پر شفقت کرنا
③ اپنے غلاموں سے احسان کرنا۔
جامع الترمذي، الرقم: 2494
تحقیق:
اس روایت میں دو علتیں ہیں۔
① اس میں عبداللہ بن ابراہیم الغفاری راوی متروک اور منکر الحدیث ہے۔
تقريب، الرقم: 3199؛ تهذيب التهذيب الرقم 3287؛ تهذيب الكمال الرقم 3164؛ میزان الاعتدال جلد 4 ص 56؛ كتاب الضعفاء للعقيلى الرقم 783؛ ديوان الضعفاء جلد 2 ص 24 الرقم 2116؛ المغني في الضعفاء جلد 1 ص 523 الرقم 3091
② اس میں ابراہیم بن ابی عمر والغفار کی راوی مجہول ہے۔
تقريب، الرقم: 225
علامہ ناصر الدین البانی صاحب فرماتے ہیں:
یہ روایت موضوع (من گھڑت اور خود ساختہ) ہے۔
سلسلة الاحاديث الضعيفة الرقم: 92
◈ عن ابن عباس أن رسول الله ما قال: ما من ولد بار ينظر إلى والديه نظرة رحمة إلا كتب الله بكل نظرة حجة مبرورة. قالوا: وإن نظر كل يوم مائة مرة؟ قال: نعم الله أكبر وأطيب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” کوئی ماں باپ کا فرمانبردار لڑکا نہیں ہے جو اپنے ماں باپ کی طرف نظر رحمت سے دیکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر نظر کے بدلے میں حج مبرور کا ثواب لکھ دیتا ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اگر چہ ہر روز سو مرتبہ دیکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اللہ تعالیٰ بہت بڑا اور پاکیزہ ہے۔“
الشعب الايمان للبيهقى الرقم 7856
تحقیق:
یہ روایت موضوع ہے۔ اس کی سند میں محمد بن حمید الرازی راوی ضعیف اور کذاب ہے۔
تقريب، الرقم 5834؛ تهذيب التهذيب الرقم: 6049؛ تهذيب الكمال الرقم 5794؛ میزان الاعتدال، جلد 6 ص 126، الجرح والتعديل جلد 7 ص 311؛ كتاب الضعفاء للعقيلي الرقم 1617؛ ديوان الضعفاء جلد 2 ص 293 الرقم 3680؛ المغني في الضعفاء جلد 2 ص 289 الرقم 5452
وقال الألباني: وما أراه الا موضوعا
هداية الرواة ج 4 ص 419
◈ عن ابن عباس أن رسول الله ما قال: ما من ولد بار ينظر إلى والدته نظرة رحمة إلا كان له بكل نظرة حجة مبرورة
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں کوئی نیک لڑکا جو اپنی والدہ کی طرف نظر رحمت سے دیکھتا ہے مگر اس کے لیے ہر نظر کے بدلے حج مبرور کا ثواب ہوتا ہے۔“
الشعب الايمان للبيهقى الرقم: 7859
تحقیق:
اس روایت کی سند میں نہشل بن سعید رادی متروک اور کذاب ہے۔
تقريب، الرقم: 7198؛ میزان الاعتدال ج 7 ص 50 تهذيب التهذيب الرقم 7478 تهذيب الكمال جلد 10 ص 355؛ الجرح والتعديل جلد 8 ص 564 الكامل ابن عدی جلد ص 323؛ كتاب الضعفاء للعقيلى الرقم 1914: ديوان الضعفاء ج 2 ص 407 الرقم 44408 المغني في الضعفاء ج 2 ص 465 الرقم 6674
◈ عن أبى الطفيل قال: رأيت النبى من يقسم لحما بالجعرانة إذ أقبلت امرأة حتى دنت إلى النبى ما فبسط لها ردانه فجلست عليه فقلت: من هى فقالوا: هذه أمه التى أرضعته
سیدنا ابوالکفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ جعرانہ جگہ میں گوشت تقسیم کر رہے تھے اچانک ایک عورت آئی حتی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آئی، پس آپ نے اس کے لیے اپنی چادر پھیلا دی اور وہ اس پر بیٹھ گئی۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی ماں ہے۔
ابوداود: 5144
تحقیق:
یہ روایت ضعیف ہے۔
اولاً: اس کی سند میں جعفر بن یحیی بن یحیی بن ثوبان راوی مجہول ہے۔
تهذيب التهذيب الرقم 1005 جلد 2 ص 75 تهذيب الكمال الرقم 960 جلد 2 ص 296 میزان الاعتدال جلد 2 ص 151؛ المغني في الضعفاء جلد 1 ص 214 الرقم: 1173 ديوان الضعفاء جلد 1 ص 153 الرقم 774
ثانیاً: اس کی سند میں عمارہ بن ثوبان راوی مستور ہے۔
تقريب الرقم: 4839؛ تهذيب التهذيب الرقم 4990؛ ديوان الضعفاء الرقم: 2998، جلد 2 ص 181
◈ أن عمر بن السائب حدثه أنه بلغه أن رسول الله ما كان جالسا فأقبل أبوه من الرضاعة فوضع له بعض ثوبه فقعد عليه ثم أقبلت أمه من الرضاعة فوضع لها شق ثوبه من جانبه الآخر فجلست عليه ثم أقبل أخوه من الرضاعة فقام له رسول الله ع فأجلسه بين يديه
”عمر بن سائب کو یہ بات پہنچی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے تو آپ کا رضاعی باپ آیا تو آپ نے اس کے لیے اپنا کچھ کپڑا بچھایا تو وہ اُس پر بیٹھ گیا۔ پھر آپ کی رضاعی ماں آئی تو آپ نے اُس کے لیے کپڑے کی دوسری جانب بچھادی وہ اُس پر بیٹھ گئی۔ پھر آپ کا رضاعی بھائی آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کھڑے ہوئے اور اُس کو اپنے سامنے بٹھا لیا۔“
ابوداود: 5145
تحقیق:
یہ روایت ضعیف ہے۔ اس حدیث کو عمر بن سائب تک پہنچانے والا مجہول ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وہ صحابی ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ تابعی ہو۔
ومع الاحتمال يسقط الاستدلال
سلسلة الاحاديث الضعيفة جلد 2 ص 246
زیادہ احتمال نہیں ہے کہ وہ تابعی ہو، اس لیے کہ ابن حبان نے عمر بن سائب کو تبع تابعی میں شمار کیا ہے۔
کتاب الثقات: 197/2
تو جب عمر بن سائب کو حدیث پہنچانے والا تابعی ہو تو حدیث مرسل ہوگئی اور مرسل ضعیف کی اقسام میں سے ہے۔
امام منذری فرماتے ہیں:
هذا معضل عمر بن السائب يروى عن التابعين
عون المعبود
◈ روي عن عبد الله بن أبى أوفى قال: كنا عند النبى صلى الله عليه وسلم فأتاه آت فقال: شاب يجود بنفسه. فقيل له: قل: لا إله إلا الله فلم يستطع فقال:كان يصلى؟ فقال: نعم فنهض رسول الله صلى الله عليه وسلم ونهضنا معه فدخل على الشات، فقال له قل: لا إله إلا الله فقال: لا أستطيع، قال: كان يعق والديه فقال النبي: أحية والدته؟ قالوا: نعم قال: ادعرها فدعوها فجاءت فقال: هذا ابنك؟ قالت: نعم. فقال لها أرأيت لو أحجت نار ضحمة، فقيل لك: إن شفعت له خلينا عنه وإلا حرقناه بهذه النار أكنت تشفعين له؟ قالت: يا رسول الله إذا أشفع له. قال: فأشهدى الله وأشهديني قد رضيت عنه قالت: اللهم إني أشهدك وأشهد رسولك أني قد رضيت عن ابني. فقال له رسول الله: يا غلام! قل: لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله فقالها فقال رسول الله مع:الحمد لله الذى أنقذه بي من النار
”سیدنا عبد اللہ بن اونی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ایک آدمی آیا، اس نے کہا: فلاں نوجوان موت کی کشمکش میں ہے تو اسے کہا گیا کہ تو لا اله الا الله پڑھ، وہ اس کے پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا وہ نمازی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ اٹھے اور ہم بھی ساتھ اٹھے۔ آپ اس نوجوان کے پاس آئے اور اسے کہا: تو لا اله الا الله پڑھے اس نے کہا: میں اس کے پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ (آپ نے کہا: تو کیوں اس کے پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا) تو اس نے جواب دیا کہ وہ والدین کا نافرمان تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس کی ماں زندہ ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو بلاؤ پس لوگوں نے اسے بلایا تو وہ (یعنی اس کی ماں) آئی۔ آپ نے پوچھا: یہ تیرا بیٹا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے اس عورت کو کہا: اگر بہت بڑی آگ لگائی جائے اور پھر تجھے کہا جائے کہ اگر تو اس بیٹے کی سفارش کرے گی تو ہم اس کو چھوڑ دیتے ہیں اور اگر تو اس کی سفارش نہ کرے تو ہم اسے اس آگ کے ساتھ جلا دیں گے کیا تو اس کی سفارش کرے گی؟ اس نے کہا اے اللہ کے رسول! اس وقت تو میں اس کی (ضرور) سفارش کروں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کو اور مجھے گواہ بنا کہ تو اس سے راضی ہوگئی ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ! میں تجھے اور تیرے رسول کو گواہ بناتی ہوں کہ بے شک میں اپنے بیٹے سے راضی ہوگئی ہوں۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان کو فرمایا: اے لڑکے! لا اله الا الله وحده لاشريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله پڑھ پس اس نے یہ کلمہ پڑھ لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لیے ہیں جس نے اس کو میرے ذریعے آگ سے بچالیا۔“
الترغيب والترهيب: 3626
تحقیق:
یہ روایت ضعیف ہے۔ اس حدیث کی تمام سندوں میں فائد بن عبد الرحمن راوی ضعیف، متروک اور منکر الحدیث ہے۔
تقريب الرقم 5373؛ تهذيب التهذيب الرقم 5561؛ تهذيب الكمال الرقم 5331؛ التاريخ الكبير للبخاری جلد 7ص 23؛ میزان الاعتدال جلده ص 1409 الجرح والتعديل جلد ا ص 111؛ الكامل لابن عدى جلد 2 ص 138؛ كتاب الضعفاء العقيلي الرقم 1519؛
ديوان الضعفاء جلد 2 ص 233؛ المغني في الضعفاء جلد 2 ص 184 الرقم 4888

◈” سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یارسول اللہ! میں اپنی ماں کو سخت گرم پتھریلی زمین میں اپنے کندھوں پر اٹھا کر چھ میل لے گیا، وہ زمین اتنی گرم تھی کہ میں اگر اس پر گوشت کا ٹکڑا ڈال دیتا تو وہ پک جاتا تو کیا میں نے اس (ماں) کے احسانات کا بدلہ ادا کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید درد زہ کی ایک ٹیس کا بدلہ ہو گیا ہو۔“
الطبراني، رواه الطبراني في الصغير بحواله مجمع الزوائد، رقم: 13394
تحقیق:
یہ روایت ضعیف ہے۔
اولاً: اس میں حسن بن ابی جعفر راوی ضعیف ہے۔
تقريب الرقم: 1222؛ تهذيب التهذيب الرقم 1278؛ تهذيب الكمال الرقم 1211 جلد 2 ص 520؛ میزان الاعتدال جلد 2 ص 228؛ الجرح والتعديل جلد 2 ص 33؛ الكامل لابن عدی جلد 3 ص 133؛ المغني في الضعفاء جلد 2 ص 245 الرقم 1386؛ كتاب الضعفاء للعقيلي الرقم 270 ديوان الضعفاء جلد 1 ص181 الرقم 887
ثانیاً: اس میں راوی لیث بن ابی سلیم ہے اس کو آخری عمر میں اختلاط ہو گیا تھا۔ اب یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کونسی احادیث اختلاف سے پہلے کی ہیں اور کونسی بعد کی ہیں، اس لیے اس کی حدیث کو چھوڑ دیا گیا ہے۔
تقريب الرقم 5685؛ تهذيب التهذيب الرقم 5881؛ تهذيب الكمال الرقم 5644؛ لسان الميزان الرقم 6250؛ میزان الاعتدال جلدة ص 509؛ الجرح والتعديل جلد 2 ص 242؛ الكامل لابن عدى جلد 7 ص 233 کتاب الضعفاء الرقم: 1572 ديوان الضعفاء جلد 2 ص 266) المغني في الضعفاء جلد 2 ص 235 الرقم 5127
◈ عن بريدة أن رجلا كان فى الطواف حاملا أمه يطوف بها فسأل النبى صلى الله عليه وسلم هل أذيت حقها؟ قال: لا، ولا برفرة واحدة أو كما قال صلی اللہ علیہ وسلم
”سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اپنی ماں کو اٹھا کر بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا میں نے اپنی ماں کا حق ادا کر دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے تو اس کے ایک سانس کا بھی حق ادا نہیں کیا۔“
مسند البزار: 4380
تحقیق:
یہ روایت ضعیف ہے۔ اس حدیث میں حسن بن ابی جعفر ضعیف ہے۔
تقريب الرقم: 1222؛ تهذيب التهذيب الرقم 1278؛ تهذيب الكمال الرقم 1211 جلد2 ص 520؛ میزان الاعتدال جلد 2 ص 228؛ الجرح والتعديل جلد 3 ص 33؛ الكامل لابن عدي جلد 3 ص 133؛ المغني في الضعفاء جلد 2 ص 245 الرقم 1386؛ كتاب الضعفاء للعقيلي الرقم 270؛ ديوان الضعفاء جلد 1 ص 181 الرقم 887
◈” ایک یمنی آدمی نے اپنی ماں کو پشت پر سوار کر کے بیت اللہ کا طواف کیا۔ بعد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے آکر پوچھا: کیا میں نے اپنی ماں کا حق ادا کر دیا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: تو نے اپنی ماں کے ایک سانس کا بھی حق ادا نہیں کیا۔“
الأدب المفرد: 110
تحقیق:
یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں ابو بردہ عمرو بن یزید الکوفی راوی ضعیف ہے۔
تقريب الرقم: 5140؛ میزان الاعتدال جلده ص 353؛ المغنى في الضعفاء الرقم 4731 جلد 2 ص 156
◈ سورۃ البقرہ کے شان نزول میں مفسرین ایک واقعہ نقل فرماتے ہیں کہ جب اللہ کریم نے بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا، جس طرح کی گائے ذبح کرنے کا اللہ تعالی نے حکم دیا تھا وہ صرف ایک بچے کے پاس ملی جو ماں باپ کا بڑا اطاعت گزار تھا الغرض اس نے گائے کے برابر سونا لے کر اپنی گائے دی، یہ ایک طویل واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔
تحقیق:
ہمارے علم کے مطابق اس کی کوئی صحیح مرفوع متصل سند نہیں۔
◈ موسی علیہ السلام رب سے سوال کرتے ہیں: اے اللہ! مجھے دنیا میں میر اوہ رفیق دکھا دے جو جنت میں میرا ساتھ ہو اللہ فرماتے ہیں: اے موسی! فلاں گوشت بیچنے والے قصاب کو میں نے جنت میں تیرا ساتھی بنا دیا ہے۔ بالآخر موسی علیہ السلام اس قصاب کے گھر جاتے ہیں دیکھوں تو سہی کہ یہ کیا کام کرتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام دیکھتے ہیں کہ یہ قصاب روٹی باریک کر کے اس کے چھوٹے چھوٹے لقمے بنا کر شوربے میں گیلا کر کے وہ روٹی کے ٹکڑے اپنی ماں کے منہ میں داخل کر رہا ہے اور پھر پانی پلا رہا ہے۔ الی آخرہ۔۔
تحقیق:
یہ واقعہ بے اصل ہے، موضوع (من گھڑت) ہے، اس کی کوئی سند بھی تک نہیں ملی۔
◈ إن الرحمة لا تنزل على قوم فيهم قاطع رحم
”بے شک رحمت اس قوم میں نہیں اترتی جس قوم میں رشتہ داری کو توڑنے والا موجود ہو۔“
شرح السنة للبغوى، رقم: 3439
تحقیق:
اس کی سند میں سلیمان بن زید ابو ادام کوفی راوی ضعیف ہے۔
تقريب الرقم 2561؛ تهذيب التهذيب الرقم 2637؛ تهذيب الكمال الرقم: 2518 میزان الاعتدال جلد 3 ص 294؛ الكامل لابن عدى جلد 4 ص 243؛ المغني في الضعفاء جلدا ص 437 الرقم 2587؛ كتاب الضعفاء للعقيلي الرقم 612؛ ديوان الضعفاء جلد 1 ص 351 الرقم 1748
◈ من زار قبر أبويه أو أحدهما فى كل جمعة غفر له وكتب برا
” جو ہر جمعہ کو اپنے والدین یا دونوں میں سے ایک کی قبر کی زیارت کرتا ہے اس کو بخش دیا جاتا ہے اور وہ اُس کے ہاں (یعنی اللہ کے ہاں) نیک لکھا جاتا ہے۔“
المعجم الاوسط للطبراني 6114؛ شعب الايمان للبيهقي، الرقم: 7901
تحقیق:
یہ روایت موضوع ہے اس کی سند میں تین راوی نا قابل احتجاج ہیں۔
① محمد بن نعمان راوی متروک اور مجہول ہے۔
ميزان الاعتدال جلد 7 ص 356؛ لسان الميزان جلد 7 ص 550؛ الجرح والتعديل جلده ص 125؛ كتاب الضعفاء للعقيلي الرقم 1716؛ المغني في الضعفاء جلد 2 ص 383 الرقم 6048
② یحیی بن علاء راوی کذاب ہے اور اس پر حدیثیں گھڑنے کا الزام ہے۔
تـقـريـب الرقم: 7618؛ تهذيب التهذيب الرقم 7898؛ تهذيب الكمال الرقم 7529؟ میزان الاعتدال جلد 7 ص 205؛ الجرح والتعديل جلد 9 ص 221؛ ديوان الضعفاء الرقم 1 467؛ جلد 2 ص 452؛ المغني في الضعفاء جلد 2 ص 525۔
③ عبد الکریم بن ابی المخارق راوی ضعیف ہے۔
تقريب الرقم 4156؛ تهذيب التهذيب الرقم 4281؛ تهذيب الكمال جلد 6 ص 409 الرقم 44633 مجمع الزوائد جلد 2 ص 289؛ میزان الاعتدال جلد 4 ص 387؛ الجرح والتعديل جلد 6 ص 75 الكامل لابن عدی جلد 7 ص 37 دیوان الضعفاء جلد 2 ص 122 الرقم 2595؛ المغني في الضعفاء جلد 2 صية الرقم 3784
◈ من زار قبر والديه كل جمعة فقرأ عندهما أو عنده يس غفر له بعدد كل آية أو حرف .
”جو ہر جمعہ کو اپنے والدین یا دونوں میں سے ایک کی قبر کی زیارت کرتا ہے اور ان کی قبروں کے پاس سورۃ یس پڑھتا ہے تو اس کو سورت کی آیتوں یا حرفوں کی تعداد بدلے بخش دیا جاتا ہے۔“
تحقیق:
یہ روایت موضوع ہے، اس کی سند میں عمرو بن زیاد بن عبد الرحمن الثوبانی ابوالحسن راوی حدیث چور اور باطل روایات نقل کرنے والا ہے۔
لسان الميزان جلدة ص 207؛ میزان الاعتدال جلده ص 315؛ الكامل لابن عدي جلد 6 ص 259؛ المغنى في الضعفاء الرقم 4659 جلد 2 ص 145
◈ عبدالرحمن بن مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصحاب الاعراف کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ نے فرمایا: وہ ایسی قوم ہے جو اپنے والدین کی نافرمانی کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں قتل ہوگئی ۔۔ الی آخرہ
تحقیق:
یہ روایت ضعیف ہے اس کی سند میں نجیح بن عبدالرحمن سندھی ابومعشر راوی ضعیف ہے۔
تقريب الرقم 7100؛ تهذيب التهذيب الرقم 7380؛ تهذيب الكمال جلد 10 ص 269 الرقم. :7020؛ میزان الاعتدال جلد 7 ص 12 الكامل لابن عدى جلد 8 ص 311؛ دیوان الضعفاء جلد 2 ص 398 الرقم 4352؛ المغني في الضعفاء جلد 2 ص 453 الرقم: 6601
◈ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصحاب الاعراف کے متعلق پوچھا گیا آپ نے فرمایا: ”وہ ایسی قوم ہے جو اللہ کی راہ میں اس حالت میں قتل ہوئی کہ وہ اپنے والدین کی نافرمانی کرنے والی تھی۔“
تحقیق:
اس کی سند بھی ضعیف ہے اس کی سند میں بھی نجیح بن عبدالرحمن سندھی ابو معشر راوی ضعیف ہے۔
◈ ابوسعید رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت آتی ہے۔
تحقیق:
یہ روایت بھی ضعیف ہے۔ اس روایت کی سند میں دوراوی ضعیف ہیں۔
① محمد بن مخلد ابو اسلم ضعیف ہے۔
میزان الاعتدال جلد 6 ص 327؛ لسان الميزان الرقم 3790؛ الكامل لابن عدی جلد7 ص 4503 ديوان الضعفاء الرقم 3966؛ المغني في الضعفاء جلد 2 ص 330 الرقم 5965
② عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہے۔
تقريب الرقم: 3865؛ تهذيب التهذيب الرقم: 3974؛ تهذيب الكمال جلد6 ص الرقم 3847؛ میزان الاعتدال جلد 4 ص 282؛ التاريخ الكبير للبخاری جلد5 ص 168؛ الجرح والتعديـل جلده ص 289؛ كتاب الضعفاء للعقيلى الرقم 928؛ ديوان الضعفاء جلد 2 ص 97 الرقم 2446؛ المغني في الضعفاء جلدأ ص 602 الرقم 3568؛ الكامل لابن عدي جلده ص 441
◈ عن ابن عمر أن رسول الله لم قال: ثلاثة قد حرم الله عليهم الجنة مدمن الخمر والعاق والديوت الذى يفر فى أهله الخبث
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کر دی ہے، شراب پر ہمیشگی کرنے والا، والدین کا نافرمان اور دیوث جو اپنے گھر میں خباثت کو برقرار رکھتا ہے۔“
احمد: 6113
تحقیق:
اس کی سند ضعیف ہے اس کی سند میں مجہول راوی ہے۔
◈ عن أبى موسى الأشعري أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ((ثلاثة لا يدخل الجنة مدمن الخمر وقاطع الرحم ومصدق بالسحر
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمی جنت میں نہیں داخل ہوں گے، شراب پینے پر ہمیشگی کرنے والا، رشتہ داری کو توڑنے والا اور جادو کی تصدیق کرنے والا۔“
احمد، رقم: 19461
تحقیق:
یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں عبد الله بن حسین از دی ابوحریز راوی ضعیف ہے۔
تحرير تقريب التهذيب جلد2 ص 202؛ كتاب الضعفاء الرقم: 4794 ديوان الضعفاء الرقم 2143؛ المغني في الضعفاء الرقم: 3135۔
◈ عن أبى بكرة عن النبى قال: (كل الذنوب يؤخر الله منها ما شاء الله إلى يوم القيامة إلا عقوق الوالدين فإن الله يعجلة لصاحبه فى الحياة قبل الممات .
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام گناہوں میں سے اللہ جس کو چاہے معاف کر دیں سوائے والدین کی نافرمانی کے، پس اللہ اس کی سزا والدین کے نافرمان کو موت سے پہلے زندگی میں جلدی دیتے ہیں۔“
شعب الايمان للبيهقي، الرقم: 7890

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے