سوال:
والدہ نصرانی ہے، تو اس کا کفن دفن نصرانی طریقہ کے مطابق ہوگا یا اسلامی طریقہ کے مطابق؟
جواب:
کفر پر فوت ہونے والا کوئی بھی، اسے مسلمانوں کی طرح کفن دفن نہیں کیا جائے گا۔ کافر قریبی رشتہ دار فوت ہو جائے، تو اسے کپڑے میں لپیٹ کر سپرد خاک کر دینا چاہیے۔ اسے غسل نہیں دیا جائے گا، نہ کفن پہنایا جائے گا اور نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا اور نہ مسلمانوں کی طرف قبر کھود کر دفن کیا جائے گا، صرف گڑھا کھود کر اس میں چھپا دینا چاہیے۔ مشرک اور کافر کو دفن کرنے کے بعد غسل کرنا مستحب ہے۔
❀ خلیفہ راشد، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
جب میرے والد کی وفات ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا وفات پا گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جائیے اور انہیں دفن کیجیے۔ میں نے عرض کیا: وہ تو شرک کی حالت میں فوت ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: جائیے اور انہیں دفن کیجیے۔ میں فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کا حکم فرمایا۔
(مسند أبي داود الطيالسي، ص: 19، ح: 120، وسندہ حسن متصل)
❀ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:
میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا یا میرے والد فوت ہو گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جائیے اور انہیں دفن کر دیجیے۔ میں نے عرض کیا: وہ تو شرک کی حالت میں فوت ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جائیے اور انہیں دفن کیجیے۔ میں نے انہیں دفن کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا کر غسل کر لیجیے۔
(مسند الإمام أحمد: 1/97، سنن أبی داود: 3214، سنن النسائی: 190، 2008، وسندہ حسن)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (311ھ) (كما في الإصابة لابن حجر: 7/114) اور امام ابن جارود رحمہ اللہ (307ھ) (550) نے صحیح قرار دیا ہے۔