مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

واقعہ ایک صحابی اور اس کی بیوی کا جن کے پاس ایک ہی چادر تھی

فونٹ سائز:
تالیف: حافظ محمد انور زاہد حفظ اللہ

اپنے خطبات میں بیان کرتے ہیں۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ وہ مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد فورا گھر چلے جاتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ! یہ روزانہ ہی جلدی جلدی گھر چلے جاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تو وہ صحابی رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میرے پاس اور میری بیوی کے پاس صرف ایک چادر ہے جس میں میں اور میری بیوی نماز ادا کرتے ہیں، جب وہ چادر لے کر مسجد میں آ جاتا ہوں تو میری بیوی گھر میں برہنہ حالت میں بیٹھی رہتی ہے اس لیے میں مغرب کے وقت جلدی جلدی گھر چلا جاتا ہوں کیونکہ اس نماز کا وقت کم ہوتا ہے جب میں جاتا ہوں تو یہ چادر اپنی بیوی کو دیتا ہوں پھر وہ اس میں نماز ادا کرتی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر کوئی جنتی جوڑا دیکھنا چاہتا ہے تو اس جوڑے کو دیکھ لے۔ پھر آپ نے انھیں اونٹ دیے، جب وہ گھر پنچ تو ان کی بیوی نے کہا مجھے ساتھ رکھ لیں یا اونٹوں کو پاس رکھ لیں انھوں نے اونٹ واپس کر دیے اور بیوی کو اپنے ساتھ رکھ لیا، اس واقعے کو قاری عبد الحفیظ فیصل آبادی نے اپنی کیسٹ میں بیان کیا ہے۔

تحقیق الحدیث :

اس روایت کی کوئی سند یا ثبوت ہمیں کسی کتاب میں نہیں ملا۔ روایت الفاظ اور قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ موضوع اور بے اصل روایت ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔