مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

واضح نقصان نہ ہونے کی صورت میں جھوٹی گواہی دینے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

ایسی جگہ جھوٹی گواہی دینے کا حکم جہاں واضح طور پر کسی کو بھی نقصان نہ پہنچتا ہو

جھوٹی گواہی دینا مطلقا حرام ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے:
«فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ» [الحج: 30]
”پس بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو۔“
حضرت ابو بکرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں؟“
ہم نے کہا کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا:
”اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔“
آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا:
”یاد رہے، جھوٹی بات بھی، یاد رہے، جھوٹی گواہی بھی۔“
آپ اس کا مسلسل تکرار کرتے رہے کہ ہم نے تمنا کی: کاش ! آپ خاموش ہو جائیں ! [صحيح البخاري، رقم الحديث 5976 صحيح مسلم 87/143]
[اللجنة الدائمة: 6355]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔