مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وارثت کا شرعی مسئلہ: بیٹی، بیوی، بہنیں اور سسر کے حصے

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 639

سوال

کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص (پھوٹا) فوت ہوگیا، جس نے درج ذیل وارث چھوڑے:

◄ ایک بیٹی
◄ دو بھتیجیاں
◄ مرحوم کا سسر

اب مرحوم کے سسر کا کہنا ہے کہ ساری ملکیت میری ہے اور وہ اب تک پوری جائیداد پر قابض ہے۔ براہِ کرم بتائیں کہ شریعتِ محمدی کے مطابق ہر ایک کا حصہ کتنا ہوگا؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سب سے پہلے یہ بات جان لینی چاہیے کہ میت کی ملکیت کی تقسیم سے پہلے درج ذیل امور پورے کیے جائیں گے:

➊ سب سے پہلے کفن و دفن کا خرچہ نکالا جائے گا۔
➋ اس کے بعد اگر مرحوم پر کوئی قرض ہے تو اسے ادا کیا جائے۔
➌ پھر اگر کوئی جائز وصیت کی گئی ہے تو اسے کل مال کے ایک تہائی (1/3) حصے سے پورا کیا جائے گا۔
➍ ان سب امور کے بعد جو مال بچے گا، اسے وارثوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

تقسیمِ ترکہ

میت: فوت ہونے والا (پھوٹا)
کل جائیداد: 1 روپیہ (منقولہ یا غیر منقولہ)

وارثوں کا حصہ

بیٹی → 8 آنے
بیوی → 2 آنے
دو بہنیں → 6 آنے (یعنی عصبہ مع الغیر)
سسر → محروم

جدید اعشاریہ (فیصدی) نظام تقسیم

کل ملکیت = 100%

بیوی → 1/8 = 12.5%
بیٹی → 1/2 = 50%
دو بہنیں (عصبہ مع الغیر) → 37.5% (یعنی فی کس 18.75%)
سسر → محروم

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔