مضمون کے اہم نکات
اگر ہم اپنے معاشرے پر سرسری سی نظر ڈالیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ بہت سی خرابیاں پھیل چکی ہیں اور بدعملی عام ہے۔ اس صورتحال کے پیچھے دو بنیادی اسباب نمایاں دکھائی دیتے ہیں: ایمان کی کمزوری اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا خاطر خواہ اہتمام نہ ہونا۔ زیرِ نظر مضمون میں اسی دوسرے سبب پر گفتگو کی گئی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت، فضائل و فوائد، اس کے ترک کے خطرناک نتائج، اس کی شرائط اور منکر کو روکنے کے مراتب واضح کیے جائیں، تاکہ ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق اس عظیم فریضے کو سمجھ کر ادا کرے اور معاشرہ اصلاح کی طرف بڑھ سکے۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت
ہمارے معاشرے کی بگاڑ کی بڑی وجہ یہ ہے کہ برائی کے مقابلے میں اصلاحی ذمہ داری کمزور پڑ گئی ہے۔ حالانکہ:
❀ امر بالمعروف و نہی عن المنکر دینِ اسلام کے فرائض میں سے ایک نہایت اہم فریضہ ہے۔
❀ اگر ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق یہ ذمہ داری ادا کرے تو معاشرے میں برائیاں بہت حد تک کم ہو سکتی ہیں۔
❀ اگر اسلامی حکومت بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے تو معاشرہ بڑی حد تک برائیوں سے پاک ہو سکتا ہے۔
❀ معروف کا حکم دینے سے نیکی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اور منکر سے روکنے سے برائی سے نفرت جنم لیتی ہے۔
❀ اس فریضے کی برکت سے سنتیں زندہ اور بدعات ختم ہوتی ہیں، نیک لوگوں کو تقویت ملتی ہے اور برے لوگ کمزور پڑ جاتے ہیں۔
❀ اور اگر یہ فریضہ چھوڑ دیا جائے تو اہلِ ایمان کمزور، اور اہلِ شر طاقتور ہو جاتے ہیں، جس سے معاشرہ مزید فساد کا شکار ہوتا ہے۔
یہ ذمہ داری عمومی طور پر حدیثِ نبوی کی بنا پر ہر شخص کی ہے، لیکن ہر معاشرے میں اہلِ علم اور اربابِ دانش کی ایک ایسی جماعت کا ہونا ضروری ہے جو معروف و منکر کا علم رکھتی ہو، شرائط سے واقف ہو اور لوگوں کو خیر کی طرف دعوت دے، اچھے کاموں کی تلقین کرے اور برے کاموں سے روکے۔
(کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ)
“تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔”
دعوت الی الخیر اور کامیابی کا راستہ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾
(آل عمران 3:104)
ترجمہ:
اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر کی طرف دعوت دے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے، اور یہی لوگ کامیابی پانے والے ہیں۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ دعوت الی الخیر، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہیں، وہی دنیا و آخرت میں کامیاب ہیں۔ اللہم اجعلنا منہم
امتِ محمدیہ کے بہترین امت ہونے کی بنیاد
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤمِنُوْنَ بِاللّٰہِ﴾
(آل عمران 3:110)
ترجمہ:
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کیلئے پیدا کی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
پس امت کے بہترین ہونے کا ایک بڑا سبب یہی ہے کہ وہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور ایمان باللہ کا اہتمام کرے۔
اہلِ کتاب کے صالحین کی ایک جماعت کی تعریف
اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب کے ایک گروہ کی تعریف کی جو حق پر قائم تھا، تلاوت و عبادت کرتا تھا اور نیکی کا حکم دیتا، برائی سے روکتا تھا:
﴿مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآئَ الَّیْلِ وَ ھُمْ یَسْجُدُوْنَ یُؤمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَاُولٰٓئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴾
(آل عمران 3:113-114)
ترجمہ:
اہلِ کتاب کا ایک گروہ حق پر قائم ہے، وہ رات کی گھڑیوں میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے اور سجدہ کرتے ہیں، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں، اور خیر کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں، اور یہی لوگ صالحین میں سے ہیں۔
مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کی اجتماعی ذمہ داری
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کی اجتماعی صفات و فرائض میں شامل فرمایا:
﴿وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْضٍ یَأمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَیُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤتُونَ الزَّکَاۃَ وَیُطِیْعُونَ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ أُوْلَـئِکَ سَیَرْحَمُہُمُ اللّٰہُ إِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ﴾
(التوبۃ 9:71)
ترجمہ:
مومن مرد اور مومنہ عورتیں ایک دوسرے کے دوست و مددگار ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکاۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔ بے شک اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔
اس آیت میں اللہ کی رحمت کے مستحق بندوں کی صفات میں سے ایک صفت یہی بیان ہوئی کہ وہ نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں، لہٰذا اللہ کی رحمت پانے کیلئے اس فریضے پر عمل لازم ہے۔
مومنوں کی عمدہ صفات میں شامل
اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی صفات گنواتے ہوئے فرمایا:
﴿اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰکِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاھُوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰہِ وَ بَشِّرِ الْمُؤمِنِیْنَ﴾
(التوبۃ 9:112)
ترجمہ:
وہ (مومن) توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اللہ کی حمد کرنے والے، (دین کی خاطر) زمین میں چلنے والے (یا روزہ رکھنے والے)، رکوع و سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے منع کرنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور آپ ایسے مومنوں کو بشارت دے دیجئے۔
نبی ﷺ کو بھی نیکی کا حکم دینے کا فرمان
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی ﷺ کو حکم دیا:
﴿خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَ﴾
(الأعراف 7:199)
ترجمہ:
درگزر کیجئے، نیکی کا حکم دیجئے اور جاہلوں سے اعراض کیجئے۔
یہ حکم در حقیقت امت کیلئے بھی ہے کہ نیکی کی تلقین کرے، اور اگر اس راہ میں کوئی جاہل ایذا دے تو درگزر کرے اور جاہلوں کی باتوں کو خاطر میں نہ لائے۔
راستوں میں بیٹھنے والوں کیلئے خاص تاکید
حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((إِیَّاکُمْ وَالْجُلُوسَ فِی الطُّرُقَاتِ))
“راستوں میں (بلا ضرورت) بیٹھنے سے بچو۔”
صحابہ نے عرض کیا:
(یَا رَسُولَ اللّٰہ! مَا لَنَا بُدٌّ مِن مَّجَالِسِنَا…)
“اے اللہ کے رسول! ہمیں تو اپنی مجلسوں (میں بیٹھنے) کے سوا کوئی چارہ نہیں …”
آپ ﷺ نے فرمایا:
((فَإِذَا أَبَیْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِیْقَ حَقَّہٗ))
“اگر تم (راستوں پر) بیٹھنے کے علاوہ باز نہ آؤ تو پھر راستے کا حق ادا کرو۔”
انہوں نے پوچھا:
(مَا حَقُّہٗ؟)
“اس کا حق کیا ہے؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
((غَضُّ الْبَصَرِ، وَکَفُّ الْأَذَی، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ))
صحیح البخاری: 2465، صحیح مسلم: 2121
ترجمہ:
نظر نیچی رکھنا، تکلیف نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فضائل و فوائد
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر محض ایک اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایسا عظیم فریضہ ہے جس کے بے شمار دنیوی اور اُخروی فوائد بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن و حدیث میں بار بار اس کے فضائل کا ذکر آیا ہے تاکہ اہلِ ایمان اس کی اہمیت کو سمجھیں اور اس پر عمل پیرا ہوں۔
➊ جہنم سے نجات کا ذریعہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((إِنَّہُ خُلِقَ کُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِیْ آدَمَ عَلٰی سِتِّیْنَ وَثَلَاثِمِائَۃِ مِفْصَلٍ… وَأَمَرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ، عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلَاثِمِائَةِ السُّلَامَى، فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زُحْزِحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ))
صحیح مسلم: 1007
ترجمہ:
بنی آدم میں سے ہر انسان کو تین سو ساٹھ جوڑوں پر پیدا کیا گیا ہے۔ جو شخص ان کے برابر اللہ اکبر، الحمد للہ، لا إلہ إلا اللہ، سبحان اللہ اور استغفار کہے، لوگوں کے راستے سے پتھر، کانٹا یا ہڈی ہٹا دے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے تو وہ یقین کر لے کہ اس دن اس نے اپنے آپ کو جہنم سے دور کر لیا۔
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا جہنم سے نجات کا ایک مضبوط ذریعہ ہے۔
➋ نیکی کا حکم اور برائی سے روکنا صدقہ ہے
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بعض صحابہؓ نے عرض کیا کہ مالدار لوگ زیادہ اجر لے گئے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا:
((إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ))
صحیح مسلم: 1006
ترجمہ:
ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، ہر تحمید صدقہ ہے، ہر تہلیل صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے منع کرنا بھی صدقہ ہے۔
یوں یہ فریضہ ہر مسلمان کیلئے صدقہ کا مستقل ذریعہ ہے، خواہ اس کے پاس مال ہو یا نہ ہو۔
➌ گناہوں کی معافی کا ذریعہ
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ))
صحیح البخاری: 1435، 3586، 7096 – صحیح مسلم: 144
ترجمہ:
آدمی اپنے گھر والوں، مال، اولاد اور پڑوسی کے سلسلے میں جو آزمائشوں میں پڑتا ہے، انہیں روزہ، نماز، صدقہ، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا مٹا دیتے ہیں۔
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر گناہوں کی بخشش کا مؤثر ذریعہ ہے۔
➍ اجرِ عظیم کا وعدہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿لَا خَیْرَ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰھُمْ اِلاَّ مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍ بَیْنَ النَّاسِ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ فَسَوْفَ نُؤتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا﴾
(النساء 4:114)
ترجمہ:
ان کی بہت سی سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں، سوائے اس کے جو صدقہ یا نیکی یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے، اور جو یہ کام اللہ کی رضا کیلئے کرے گا ہم اسے عنقریب اجر عظیم عطا کریں گے۔
➎ بہترین جہاد
حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِر))
“سب سے افضل جہاد یہ ہے کہ ظالم حکمران کے سامنے حق بات (انصاف کی بات) کہی جائے۔”
سنن ابن ماجہ: 4011 – وصححہ الألبانی
ایک اور روایت میں ہے:
((إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِر))
جامع الترمذی: 2174 – وصححہ الألبانی
ترجمہ:
سب سے افضل اور عظیم جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے۔
یہ واضح دلیل ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر، خصوصاً ظلم کے خلاف حق بات کہنا، اسلام میں عظیم ترین جہاد میں شمار ہوتا ہے۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی شرائط
عزیزانِ گرامی!
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایک عظیم فریضہ ہے، لیکن اس کی ادائیگی کیلئے شریعت نے کچھ اہم شرائط مقرر کی ہیں۔ اگر ان شرائط کا خیال نہ رکھا جائے تو فائدے کے بجائے نقصان کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے ہر اُس شخص کیلئے جو یہ فریضہ انجام دینا چاہے، ان شرائط کو جاننا اور ان پر عمل کرنا بے حد ضروری ہے۔
❀ پہلی شرط: علم
یعنی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے والے شخص کو یہ یقینی علم ہونا چاہئے کہ:
◈ جس کام کا وہ حکم دے رہا ہے وہ واقعی شریعت کی نظر میں معروف ہے
◈ اور جس کام سے وہ منع کر رہا ہے وہ حقیقت میں منکر ہے
کیونکہ:
معروف یا منکر کا معیار لوگوں کا عرف، رسم و رواج یا ذاتی رائے نہیں
بلکہ معروف وہ ہے جس کا حکم قرآن و حدیث میں دیا گیا ہو
اور منکر وہ ہے جس سے کتاب و سنت میں منع کیا گیا ہو
لہٰذا:
◈ ہر وہ کام جو قرآن و حدیث سے ثابت نیکی ہو وہ معروف ہے
◈ اور ہر وہ کام جو قرآن و حدیث میں گناہ، حرام یا ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہو وہ منکر ہے
اگر کسی شخص کو شرعی علم حاصل نہ ہو اور وہ محض گمان یا سنی سنائی باتوں پر لوگوں کو ٹوکنا شروع کر دے تو اس سے اصلاح کے بجائے فساد پیدا ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْ اَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰهِ عَلٰی بَصِیْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ﴾
(یوسف 12:108)
ترجمہ:
آپ کہہ دیجئے: یہ میرا راستہ ہے، میں اور میرے پیروکار بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔
یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دعوت، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بصیرت و علم کے بغیر درست نہیں۔
اسی لئے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ایک مستقل باب قائم کیا ہے:
باب: العلم قبل القول والعمل
اور اس کے تحت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ذکر کیا:
﴿فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ﴾
“پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اپنے گناہ کی معافی مانگو۔”
(محمد 47:19)
❀ دوسری شرط: نرمی اور حسنِ اسلوب
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے وقت نرمی، حکمت اور حسنِ اخلاق اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو فرعون جیسے سرکش انسان کے پاس بھیجتے وقت فرمایا:
﴿فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰی﴾
(طٰهٰ 20:44)
ترجمہ:
تم دونوں اس سے نرم بات کہنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کر لے یا ڈر جائے۔
جب فرعون جیسے ظالم کے ساتھ بھی نرمی کا حکم ہے تو عام مسلمانوں کے ساتھ سختی کا کیا جواز ہو سکتا ہے؟
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾
“اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو۔”
(النحل 16:125)
نبی کریم ﷺ کی سیرت اس معاملے میں کامل نمونہ ہے۔
مسجد میں پیشاب کرنے والے دیہاتی کا واقعہ، اور نماز میں بات کرنے والے صحابی کا واقعہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ:
◈ سختی دلوں کو بند کر دیتی ہے
◈ جبکہ نرمی دلوں کو کھول دیتی ہے
❀ تیسری شرط: صبر
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے راستے میں تکلیف، مخالفت، طعن و تشنیع آ سکتی ہے۔ ایسے میں صبر کرنا لازمی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾
“اور انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی اور صبر کی تلقین کی۔”
(سورۃ العصر)
اور حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَاصْبِرْ عَلٰی مَآ اَصَابَكَ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ﴾
“اور جو مصیبت تم پر آئے اس پر صبر کرو، یقیناً یہ بڑے حوصلے کے کاموں میں سے ہے۔”
(لقمان 31:17)
یعنی:
◈ نیکی کا حکم دو
◈ برائی سے روکو
◈ اور جو تکلیف آئے اس پر صبر کرو
یہی اہلِ حق کا راستہ ہے۔
انکارِ منکر کے مراتب
رسول اکرم ﷺ نے انکارِ منکر کے تین مراتب بیان فرمائے:
((مَنْ رَأَی مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهٖ، فَاِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهٖ، فَاِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهٖ، وَذٰلِكَ اَضْعَفُ الْاِيْمَانِ))
صحیح مسلم: 49
ترجمہ:
تم میں سے جو شخص برائی دیکھے وہ اسے ہاتھ سے روکے، اگر طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
◈ ہاتھ سے روکنا: صاحبِ اختیار کیلئے
◈ زبان سے روکنا: عام داعی کیلئے
◈ دل سے برا جاننا: ہر مسلمان کیلئے کم از کم لازم
انکارِ منکر کی عملی مثالیں
عزیزانِ گرامی!
انکارِ منکر کے مراتب جان لینے کے بعد اب آئیے قرآن و حدیث سے عملی مثالیں دیکھتے ہیں تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ ان مراتب پر عملاً کیسے عمل کیا گیا۔
❀ پہلا مرتبہ: ہاتھ کی طاقت کے ساتھ منکر سے منع کرنا
یہ درجہ اُن لوگوں کیلئے ہے جنہیں اختیار اور اقتدار حاصل ہو، جیسے:
حاکم، قاضی، پولیس، ذمہ دار ادارے، گھر کا سربراہ، یا کسی ادارے کا منتظم۔
➊ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا عمل
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِيْنَ﴾
“اور اللہ کی قسم! میں تمہارے بتوں کے خلاف ضرور ایک تدبیر کروں گا، اس کے بعد کہ تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔”
(الأنبیاء 21:57)
پھر فرمایا:
﴿فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا اِلَّا كَبِيْرًا لَّهُمْ﴾
(الأنبیاء 21:58)
ترجمہ:
ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے بتوں کو (بزورِ بازو) توڑ ڈالا، سوائے بڑے بت کے۔
➋ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عمل
﴿لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِي الْيَمِّ نَسْفًا﴾
(طٰهٰ 20:97)
ترجمہ:
ہم اس معبود کو جلا ڈالیں گے اور پھر اس کی راکھ سمندر میں بہا دیں گے۔
➌ فتحِ مکہ کے موقع پر نبی ﷺ کا عمل
جب نبی کریم ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے تو 360 بتوں کو اپنی چھڑی سے گراتے جاتے اور فرماتے:
﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ﴾
“حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔”
(الإسراء 17:81)
➍ سونے کی انگوٹھی کا واقعہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، آپ ﷺ نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا:
((يَعْمِدُ اَحَدُكُمْ اِلٰی جَمْرَةٍ مِنْ نَّارٍ فَيَجْعَلُهَا فِيْ يَدِهٖ))
“تم میں سے کوئی شخص آگ کے انگارے کی طرف بڑھتا ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں رکھ لیتا ہے۔”
صحیح مسلم: 2090
➎ گھروں میں تصویروں کا خاتمہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
((كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ لَا يَدَعُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصَاوِيْرُ اِلَّا نَقَضَهُ))
“رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں ایسی کوئی چیز باقی نہیں رکھتے تھے جس میں تصویریں ہوں، مگر یہ کہ آپ اسے مٹا دیتے (یا ختم کر دیتے) تھے۔”
صحیح البخاری: 5952
❀ دوسرا مرتبہ: زبان کے ساتھ منکر سے منع کرنا
یہ اُن لوگوں کیلئے ہے جو ہاتھ کی طاقت نہیں رکھتے لیکن نصیحت اور گفتگو کر سکتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
((إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُوْنُ فِي شَيْءٍ اِلَّا زَانَهُ))
“نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے خوبصورت بنا دیتی ہے۔”
صحیح مسلم: 2594
➊ بائیں ہاتھ سے کھانے والا شخص
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
نبی ﷺ نے فرمایا:
((كُلْ بِيَمِيْنِكَ))
“دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔”
صحیح مسلم: 2021
➋ بچے کو کھانے کا طریقہ سکھانا
حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
((يَا غُلَامُ! سَمِّ اللّٰهَ، وَكُلْ بِيَمِيْنِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيْكَ))
“اے لڑکے! اللہ کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔”
صحیح البخاری: 5376، صحیح مسلم: 2022
➌ تہبند لٹکانے سے منع کرنا
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
((يَا عَبْدَ اللّٰهِ! اِرْفَعْ اِزَارَكَ))
“اے اللہ کے بندے! اپنا تہبند (لباس) اونچا کرو۔”
صحیح مسلم: 2086
❀ تیسرا مرتبہ: دل سے برائی کو برا جاننا
جب انسان ہاتھ اور زبان سے روکنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے نفرت رکھنا لازم ہے۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
(اَلَّذِيْ لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا)
الأمر بالمعروف لابن تیمیہ: ص9
ترجمہ:
جو نیکی کو نیکی نہ سمجھے اور برائی کو برا نہ جانے، وہ زندہ ہوتے ہوئے مردہ ہے۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ترک کرنے کے خطرناک نتائج
➊ اجتماعی عذاب کا نزول
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاصَّةً﴾
(الأنفال 8:25)
ترجمہ:
اس فتنے سے ڈرو جو صرف ظالموں ہی کو نہیں پہنچے گا۔
شیخ شنقیطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب لوگ برائی دیکھ کر خاموش رہتے ہیں تو عذاب سب کو لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
(اضواء البیان 1/171)
➋ صرف منع کرنے والے نجات پاتے ہیں
﴿اَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْءِ﴾
(الأعراف 7:165)
ترجمہ:
ہم نے صرف ان لوگوں کو نجات دی جو برائی سے منع کرتے تھے۔
➌ دعاؤں کی عدم قبولیت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
((مُرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ قَبْلَ اَنْ تَدْعُوْا فَلَا يُسْتَجَابَ لَكُمْ))
“نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے۔”
سنن ابن ماجہ: 4004 – حسنہ الألبانی
➍ اجتماعی تباہی کی مثال (کشتی والی حدیث)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((اِنَّمَا مَثَلُ الْقَائِمِ عَلٰی حُدُوْدِ اللّٰهِ…))
صحیح البخاری: 2493
“اللہ کی حدود پر قائم رہنے والے کی مثال …”
➎ لعنت کا سبب
﴿كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ﴾
“وہ لوگ ایک دوسرے کو اُس برائی سے منع نہیں کرتے تھے جو وہ کیا کرتے تھے۔”
(المائدۃ 5:79)
➏ لوگوں کی رضا کیلئے اللہ کو ناراض کرنا
نبی ﷺ نے فرمایا:
((مَنِ الْتَمَسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللّٰهِ…))
“جو شخص اللہ کی ناراضی مول لے کر لوگوں کی رضا تلاش کرے …”
صحیح الترغیب والترہیب: 2250
امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں قدوۂ حسنہ کی اہمیت
محترم قارئین!
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فضائل، شرائط، مراتب اور اسے ترک کرنے کے خطرناک نتائج جان لینے کے بعد اب یہ سمجھ لینا نہایت ضروری ہے کہ اس فریضے میں قدوۂ حسنہ (عملی نمونہ) کی حیثیت بنیادی ہے۔ یعنی جو شخص لوگوں کو نیکی کی دعوت دے اور برائی سے روکے، اس کیلئے لازم ہے کہ وہ خود بھی اس نیکی پر عمل کرے اور اس برائی سے مکمل اجتناب کرے۔
❀ انبیائے کرام علیہم السلام کا اسوہ
حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا:
﴿وَمَآ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰی مَآ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ﴾
(ہود 11:88)
ترجمہ:
میں یہ نہیں چاہتا کہ جس بات سے تمہیں منع کروں خود ہی اس کے خلاف کرنے لگوں، میرا مقصد تو جہاں تک ہو سکے اصلاح کرنا ہے۔
یہی تمام انبیاء علیہم السلام کا طریقہ رہا کہ وہ جس بات کی دعوت دیتے پہلے خود اس پر عمل کرتے تھے۔
❀ قول و فعل کا تضاد اللہ کی ناراضگی کا سبب
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴾
(البقرۃ 2:44)
ترجمہ:
کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے بھی ہو؟ کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
اسی طرح فرمایا:
﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ﴾
(الصف 61:2-3)
ترجمہ:
اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر خود عمل نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ بہت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہ کرو۔
❀ قول و عمل میں تضاد کی سخت سزا
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقٰى فِي النَّارِ، فَتَنْدَلِقُ اَقْتَابُهُ، فَيَدُوْرُ كَمَا يَدُوْرُ الْحِمَارُ بِرَحَاهُ…))
صحیح البخاری: 3267
ترجمہ:
قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا، اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی اور وہ گدھے کی طرح چکی کے گرد گھومے گا۔ اہلِ جہنم اس سے پوچھیں گے: کیا تم نیکی کا حکم اور برائی سے منع نہیں کرتے تھے؟ وہ کہے گا: میں حکم تو دیتا تھا مگر خود عمل نہیں کرتا تھا، اور منع تو کرتا تھا مگر خود وہی کام کرتا تھا۔
❀ خطباء اور واعظین کیلئے خصوصی تنبیہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
((رَاَيْتُ لَيْلَةَ اُسْرِيَ بِي رِجَالًا تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَّارٍ…))
ترجمہ:
میں نے شبِ معراج میں کچھ لوگوں کو دیکھا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے۔ پوچھا: یہ کون ہیں؟ بتایا گیا: یہ آپ کی امت کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور خود بھول جاتے تھے۔
نتیجہ
یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے بغیر کوئی معاشرہ صالح اور پاکیزہ نہیں بن سکتا۔ یہ فریضہ ہر مسلمان پر حسبِ استطاعت لازم ہے، مگر بالخصوص اہلِ علم، خطباء، والدین اور ذمہ دار افراد پر اس کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہم پر نازل ہو، دعائیں قبول ہوں اور معاشرہ فساد سے محفوظ رہے تو ہمیں خود بھی نیکی پر عمل کرنا ہوگا اور دوسروں کو بھی حکمت، نرمی اور صبر کے ساتھ اس کی دعوت دینی ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم فریضے کو صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں قول و عمل کے تضاد سے محفوظ رکھے۔
آمین یا رب العالمین۔