نیت کا درست طریقہ اور نماز میں خشوع صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔

نیت اور خشوع و خضوع کا بیان

❀ نماز سے پہلے دل میں نیت کرنا لازمی ہے، ورنہ نماز نہیں ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنما الأعمال بالنيات
تمام اعمال کا مدار نیت پر ہے۔
[بخاری، کتاب بدء الوحي، باب كيف كان بدء الوحى إلى رسول الله الخ: 1]
نیت کا معنی ارادہ ہے اور ارادہ کرنا دل کا فعل ہے، زبان سے نیت کے الفاظ کہنا نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور نہ کسی صحابی سے، حتیٰ کہ کسی تابعی اور امام نے اسے پسند نہیں کیا۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کوئی انسان سیدنا نوح علیہ السلام کی عمر کے برابر تلاش کرتا رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے زبان سے نیت کی ہو تو وہ ہرگز کامیاب نہیں ہو گا، سوائے سفید جھوٹ بولنے کے، اگر اس میں کوئی بھلائی ہوتی تو صحابہ کرام سب سے پہلے کرتے اور ہمیں بتا کر جاتے۔
[اغاثة اللهفان، الفصل الأول في النية في الطهارة والصلاة: 156، النسخة الأخرى: 1/138]
لہذا ثابت ہوا کہ نیت دل سے کرنی چاہیے، زبان سے الفاظ کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں ہیں اور یہ عمل بے اصل اور بدعت ہے اور اس سے پرہیز لازمی ہے۔
❀ نیت نماز شروع کرنے سے پہلے کرنی چاہیے۔
❀ نیت کے دو حصے ہیں، پہلا یہ کہ کام کس کے لیے کرنا ہے اور دوسرا حصہ یہ کہ کون سا کام کرنا ہے۔ پہلے کا جواب یہ ہے کہ نماز خالص اللہ کے لیے ہے، اسی کو اخلاص کہتے ہیں۔ دوسرے کا جواب یہ ہے کہ فلاں نماز پڑھنے لگا ہوں، مثلاً فجر یا ظہر، یا کوئی دوسری، فرض یا نفل، اتنی رکعات ہیں، ادا ہے یا قضاء یہ پوری تفصیل ذہن میں ہونی چاہیے۔
[الکافی لابن قدامہ رحمہ اللہ: 275/1، 276]

خشوع و خضوع کا بیان:

❀ خشوع و خضوع نماز کی جان ہے، نماز کی قبولیت اور اس کے ثواب میں کمی بیشی کا انحصار اسی پر ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے: نماز بغیر خشوع کے ایسے ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ
[المؤمنون: 1-2]
ایماندار لوگ کامیاب ہو گئے، وہ جو اپنی نماز میں عاجزی کرتے ہیں۔
❀ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: علم میں سے سب سے پہلی چیز جو لوگوں سے اٹھا لی جائے گی، وہ خشوع ہو گا، ممکن ہے کہ تو کسی جامع مسجد میں داخل ہو اور تجھے پوری جماعت میں سے ایک شخص بھی خشوع والا نہ ملے۔
[ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء في ذهاب العلم: 2653 – صحیح]
❀ نماز کے تمام ارکان نہایت اہم ہیں، لیکن جو مقام خشوع کو حاصل ہے وہ کسی دوسرے رکن کو حاصل نہیں، خشوع و خضوع سے نماز کا لطف بھی آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول بھی ہوتی ہے۔ (ان شاء اللہ)
شریعت اسلامیہ نے بہت سارے ایسے اعمال بتائے ہیں، جن کا خیال رکھنے سے نماز میں خشوع و خضوع پیدا ہو جاتا ہے اور وہ حسب ذیل ہیں:
➊ جب پیشاب، پاخانہ یا پیٹ میں گیس کا شدید دباؤ ہو تو نماز ادا نہ کریں، پہلے اس سے فارغ ہو جائیں۔
➋ اسی طرح جب بھوک لگی ہو اور کھانا بھی موجود ہو، تو نماز نہ پڑھیں، پہلے کھانا کھا لیں۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب كراهية الصلاة بحضرة الطعام الخ: 560]
➌ شدید نیند آرہی ہو تب بھی نماز نہ پڑھیں، بلکہ پہلے نیند پوری کر لیں۔
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب أمر من نعس في صلاته الخ: 786]
➍ جمائی شیطان کی طرف سے آتی ہے، اس لیے اسے روکنے کی کوشش کریں (کیونکہ اس سے سستی پیدا ہوتی ہے)۔
[مسلم، کتاب الزهد، باب تشميت العاطس وكراهة التثاؤب: 2994]
➎ ایسا لباس پہن کر یا ایسی جگہ اور مصلیٰ پر نماز نہ پڑھیں کہ جس کی طرف دھیان جانے کا خطرہ ہو۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب إذا صلى فى ثوب الخ: 373، 374]
➏ باتیں کرنے والے لوگوں کے قریب نماز نہ پڑھیں۔
[أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب الصلاة إلى المتحدثين والقيام: 694 – حسن]
➐ نماز ادا کرتے وقت اپنے سامنے سترہ رکھ لیں اور اس کے قریب کھڑے ہوں، کسی کو آگے سے گزرنے نہ دیں۔
(اس کی تفصیل سترہ کے بیان میں آ رہی ہے)
➑ جماعت میں ہوں تو ساتھ والے سے اس طرح مل کر کھڑے ہوں کہ بیچ میں جگہ خالی نہ ہو۔
(اس کی تفصیل جماعت کے باب میں ملاحظہ کریں)
➒ نماز پڑھتے ہوئے دل میں یہ خیال پیدا کریں کہ میں اللہ کے سامنے کھڑا اسے دیکھ رہا ہوں، اگر یہ خیال پیدا نہ ہو تو کم از کم یہ خیال ضرور پیدا کریں کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔
[بخاری، کتاب الإيمان، باب سؤال جبريل النبي صلى الله عليه وسلم عن الإيمان الخ: 50]
➓ ہر نماز کو آخری نماز سمجھ کر پڑھیں۔
[ابن ماجه، کتاب الزهد، باب الحكمة: 4171 – حسن]
⓫ نماز کا ترجمہ یاد کریں، تاکہ ہمیں علم ہو کہ ہم اپنے رب سے کیا کہہ رہے ہیں۔ ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُون
[النساء: 43]
اے ایمان والو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ جو کچھ تم کہتے ہو اسے سمجھنے لگو۔
اس سے ثابت ہوا کہ جو کچھ نماز میں پڑھا جاتا ہے وہ معلوم ہونا چاہیے اور جب تک دعاؤں کا ترجمہ نہیں آئے گا تو کیسے معلوم ہوگا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں؟
⓬ نماز میں ادھر ادھر ہرگز نہ جھانکیں، اس سے شیطان نمازی کا خیال دوسری طرف لگا دیتا ہے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب الالتفات في الصلاة: 751]
⓭ نماز میں بلا وجہ خلاف نماز حرکت نہیں کرنی چاہیے۔
⓮ نماز کے دوران میں وسوسے اور خیالات آئیں تو أعوذ بالله پڑھ کر بائیں طرف تھوک دیں۔ سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں بھولنے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ذاك شيطان يقال له خنزب، فإذا أحسسته فتعوذ بالله منه واتفل على يسارك ثلاثا
یہ شیطان (ایسا کرتا ہے)، اس کو خنزب کہا جاتا ہے، جب تو اسے محسوس کرے تو أعوذ بالله پڑھ اور بائیں طرف تین بار تھوک دے۔
[مسلم، کتاب السلام، باب التعوذ من شيطان الوسوسة في الصلاة: 2203]
❀ بعض لوگ نماز میں خشوع پیدا کرنے کے لیے آنکھیں بند کر لیتے ہیں، یہ خلاف سنت ہے۔
(تفصیل «نماز میں نظر کا مسئلہ» میں ملاحظہ فرمائیں)