نکاح کے احکام، فضائل، شرائط اور حقوقِ زوجین قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل
مضمون کے اہم نکات

نکاح کے احکام

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نکاح کا باب نہایت اہم اور بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ فقہائے کرام نے اپنی کتابوں میں نکاح کے مسائل کو تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے، اس کے مقاصد اور اثرات کو اچھی طرح واضح کیا ہے، کیونکہ کتاب، سنت اور اجماع میں اس کی مشروعیت پوری طرح نمایاں ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ فَانكِحوا ما طابَ لَكُم مِنَ النِّساءِ مَثنىٰ وَثُلـٰثَ وَرُبـٰعَ …﴿٣﴾… سورةالنساء
"عورتوں میں سے جو بھی تمھیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو دو،دو، تین تین اور چار چار سے۔”[لنساء:4/3۔]

اور جب اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کا ذکر فرمایا جن سے نکاح کرنا حرام ہے تو آخر میں ارشاد فرمایا:

﴿ وَأُحِلَّ لَكُم ما وَراءَ ذ‌ٰلِكُم أَن تَبتَغوا بِأَمو‌ٰلِكُم مُحصِنينَ غَيرَ مُسـٰفِحينَ …﴿٢٤﴾… سورة النساء
"اور عورتوں کے سوااور عورتیں تمھارے لیے حلال کی گئیں کہ اپنے مال کے مہر سے تم ان سے نکاح کرنا چاہو۔ برے کام سے بچنے کے لیے نہ کہ شہوت رانی کرنے کے لیے۔”[النساء:4/24]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کی طرف توجہ دلائی اور اس کی رغبت دیتے ہوئے فرمایا:

"يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ البَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ”
"اے نوجوانوں کی جماعت !جو شخص تم میں سے قوت پاتا ہو وہ نکاح کرے کیونکہ اس سے نگاہ نیچی اور شرمگاہ محفوظ ہو جاتی ہے۔”[صحیح البخاری النکاح ،باب من لم یستطع الباءۃ فلیصم، حدیث 5066۔وصحیح مسلم، النکاح ،باب استحباب النکاح لمن تاقت نفسہ الیہ ،حدیث 1400واللفظ لہ۔]

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الأُمَمَ يوم القيامة”
"تم بہت بچے جننے والیوں اور بہت محبت کرنے والیوں سے نکاح کرو۔ بے شک میں تمھاری کثرت ہی کی وجہ سے روز قیامت دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔”[سنن ابی داؤد۔النکاح باب النھی عن تزویج من لم یلد من النساء حدیث 2050وسنن النسائی والنکاح باب کراھیۃ تزویج العقیم حدیث 3229۔ والتلخیص الحبیر 3/145وکنز العمال 16/302۔حدیث 44597۔واللفظ لہما ۔]

نکاح کے اہم مقاصد اور فوائد

نکاح میں بہت سے عظیم اور اہم مقاصد پوشیدہ ہیں۔ ان میں سے چند کا ذکر اختصار کے ساتھ درج ذیل ہے:

① نکاح کے ذریعے نسل انسانی باقی رہتی ہے، مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں اور دین کی حفاظت کرنے والوں کی کثرت کا ذریعہ بنتا ہے، جس سے کفار پر رعب قائم رہتا ہے۔

② نکاح کا ایک مقصد عزت و عصمت کی حفاظت اور انسان کو بدکاری سے بچانا ہے، کیونکہ بدکاری انسانی معاشرے میں فساد اور بگاڑ پیدا کرتی ہے۔

③ نکاح کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مرد بطور خاوند اپنی بیوی کا نان و نفقہ ادا کرے اور اس کے دیگر حقوق کا لحاظ رکھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿الرِّجالُ قَوّ‌ٰمونَ عَلَى النِّساءِ بِما فَضَّلَ اللَّهُ بَعضَهُم عَلىٰ بَعضٍ وَبِما أَنفَقوا مِن أَمو‌ٰلِهِم …﴿٣٤﴾… سورة النساء
"مرد عوتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔”[ ۔النساء:4/34۔]

④ نکاح خاوند اور بیوی کے درمیان محبت، سکون، دل کی راحت اور نفسانی تسکین پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَمِن ءايـٰتِهِ أَن خَلَقَ لَكُم مِن أَنفُسِكُم أَزو‌ٰجًا لِتَسكُنوا إِلَيها …﴿٢١﴾… سورةالروم
"اور نشانیوں میں سے ہے کہ تمھاری جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ۔”[۔الروم:30/21۔]

نیز ارشاد فرمایا:

﴿هُوَ الَّذى خَلَقَكُم مِن نَفسٍ و‌ٰحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنها زَوجَها لِيَسكُنَ إِلَيها…﴿١٨٩﴾… سورة الاعراف
"وہ اللہ ایسا ہے جس نے تم کو جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس جوڑے سے انس حاصل کرے۔”[الاعراف:7/189]

⑤ نکاح انسانی معاشرے کو ان برائیوں سے محفوظ رکھتا ہے جو اخلاق کو تباہ کرتی ہیں اور انسان کو اس کے اعلیٰ مقام سے گرا دیتی ہیں۔

⑥ نکاح نسب کی حفاظت، رشتے داری کی بنیاد، اقرباء کو باہم جوڑنے اور ایک شریف خاندان کے قیام کا سبب ہے، جس کی اساس محبت، شفقت، صلہ رحمی، باہمی مدد اور خیر خواہی پر قائم ہوتی ہے۔

⑦ نکاح کے ذریعے انسان حیوانی زندگی سے بلند ہو کر اعلیٰ انسانی زندگی کی سطح پر پہنچتا ہے۔

یہ تمام فوائد اور نتائج اسی نکاح پر مرتب ہوتے ہیں جو کتاب و سنت کے مطابق منعقد ہو اور جس کے شرعی تقاضے مکمل کیے گئے ہوں۔

نکاح کی حقیقت اور اس کی شرعی حیثیت

نکاح ایک شرعی عقد ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ خاوند اور بیوی ایک دوسرے سے متمتع ہوں، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"اتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّهُنَّ عَوَانٍ عِنْدَكُمْ وَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ”
"میں تمھیں عورتوں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں کہ ان سے اچھا سلوک کرنا وہ تمھارے ماتحت اور احکام کی پابند ہیں۔”[۔سنن ابن ماجہ النکاح باب حق المراۃ علی الزوج حدیث:1851۔] "اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق تم نے ان کی عصمت کو حلال سمجھا ہے۔”[۔صحیح مسلم الحج باب حجۃ النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم حدیث:1218۔]

عقدِ نکاح زوجین کے درمیان ایک مضبوط معاہدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَأَخَذنَ مِنكُم ميثـٰقًا غَليظًا ﴿٢١﴾… سورة النساء
"اور ان عورتوں نے تم سے مضبوط عہدو پیمان لے رکھا ہے۔”[۔النساء:4/21۔]

اس عقد کے تمام تقاضے پورے کرنا میاں بیوی دونوں پر لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَوفوا بِالعُقودِ…﴿١﴾… سورة المائدة
"اے ایمان والو! عہدو پیمان پورے کرو۔”[۔المائدۃ:5/1۔]

ایک سے زیادہ نکاح کا حکم اور اس کی حکمتیں

جس شخص میں قدرت اور استطاعت ہو، اور اسے بیویوں کے درمیان ناانصافی کا اندیشہ نہ ہو، وہ ایک سے زیادہ یعنی چار عورتوں تک نکاح کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فَانكِحوا ما طابَ لَكُم مِنَ النِّساءِ مَثنىٰ وَثُلـٰثَ وَرُبـٰعَ فَإِن خِفتُم أَلّا تَعدِلوا فَو‌ٰحِدَةً…﴿٣﴾… سورة النساء
"عورتوں میں سے جو بھی تمھیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو دو،دو، تین تین اور چار چار سے،لیکن اگر تمھیں برابری (عدل ) نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کے ساتھ نکاح کرو۔”[۔النساء:4/3۔]

اس آیت میں عدل سے مراد یہ ہے کہ خاوند اپنی تمام بیویوں کے درمیان نفقہ، لباس، رہائش، شب باشی اور اس جیسے امور میں انصاف اور مساوات قائم رکھے۔

متعدد ازواج کی اجازت شریعتِ اسلامیہ کی خوبیوں میں سے ایک اہم خوبی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ شریعت ہر دور اور ہر جگہ کے لیے قابلِ عمل ہے۔ اس میں مردوں، عورتوں اور پورے معاشرے کے لیے بڑی حکمتیں اور فوائد موجود ہیں۔

◈ یہ بات واضح ہے کہ عورتوں کی تعداد بہت سے حالات میں مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔
◈ مزید یہ کہ مرد جنگ، سفر اور دیگر خطرناک مواقع سے زیادہ دوچار ہوتے ہیں، جس سے ان کی تعداد کم ہوسکتی ہے، جبکہ عورتیں عموماً ایسے حالات سے محفوظ رہتی ہیں، اس لیے ان کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔
◈ اگر مرد کو صرف ایک ہی بیوی تک محدود کردیا جائے تو بہت سی عورتیں نکاح سے محروم رہ جائیں گی۔
◈ اسی طرح عورت کو حیض اور نفاس جیسے عوارض لاحق ہوتے ہیں۔ اگر مرد کو دوسری شادی سے روک دیا جائے تو ایسے بہت سے اوقات آئیں گے جب وہ وظیفۂ زوجیت سے فائدہ نہ اٹھا سکے گا۔
◈ نیز عورت میں کامل اور نتیجہ خیز استمتاع عام طور پر پچاس برس کے بعد ختم ہوجاتا ہے، جبکہ مرد میں تولید اور استمتاع کی صلاحیت بڑھاپے تک باقی رہ سکتی ہے۔ اگر مرد کو ایک ہی نکاح کا پابند کردیا جائے تو وہ خیرِ کثیر سے محروم ہوگا اور نسل بڑھانے کا مقصد بھی متاثر ہوگا۔
◈ تعدد ازواج کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ جب عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہو تو بہت سی عورتیں بے سہارا نہ رہیں، ورنہ اس کا نتیجہ اخلاقی بگاڑ، فطری نقصان اور زندگی کی جائز زینت سے محرومی کی صورت میں ظاہر ہوگا۔

خلاصہ یہ ہے کہ تعدد ازواج کے انسانی معاشرے پر بہت سے مفید اور اہم اثرات مرتب ہوتے ہیں، اور شریعت کے ان احکام میں بڑی قیمتی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو تباہ کرے جو اس راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور انسانی معاشرے کی فطری مصلحتوں اور منفعتوں کو روکنا چاہتے ہیں۔

نکاح کے شرعی احکام: واجب، مستحب، حرام، مکروہ

شرعی اعتبار سے نکاح کی چار قسمیں ہیں: کبھی واجب، کبھی مستحب، کبھی حرام اور کبھی مکروہ۔

✔ نکاح واجب اس وقت ہوتا ہے جب کسی شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ اگر وہ نکاح نہ کرے گا تو بدکاری میں مبتلا ہوجائے گا، کیونکہ نکاح کا ایک بڑا مقصد انسان کو حرام سے بچانا ہے۔

اسی صورت حال کے متعلق شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"اگر کسی انسان کو نکاح کی ایسی احتیاج ہو کہ اس کے ترک سے بدکاری میں ملوث ہو جانے کا خطرہ ہو تو وہ نکاح فرض حج سے مقدم ہے۔”[۔الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ:5/451۔]

بعض اہلِ علم کا کہنا ہے کہ ایسے شخص کے لیے نکاح نفلی روزے سے افضل ہے۔ اہل علم کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس حالت میں نکاح فرض ہے، خواہ وہ اخراجات ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔

شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر فقہاء کے کلام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نکاح کے لیے مالدار ہونا شرط نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نکاح کے سبب غنا کا وعدہ فرمایا ہے:

﴿إِن يَكونوا فُقَراءَ يُغنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ…﴿٣٢﴾… سورة النور
"اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ انھیں اپنے فضل سے امیر بنادے گا۔”[۔النور:24/32۔]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی کیفیت یہ تھی کہ کبھی صبح اس حال میں ہوتی کہ کھانے کے لیے کچھ نہ ہوتا اور کبھی شام اس حال میں آتی کہ پاس کچھ نہ ہوتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کا نکاح بھی کیا جس کے پاس لوہے کی انگوٹھی تک نہ تھی۔

✔ اگر شہوت اور قوت موجود ہو، مگر زنا میں پڑنے کا خطرہ نہ ہو، تو نکاح مستحب ہے، کیونکہ اس میں مرد و عورت دونوں کے لیے بے شمار مصلحتیں ہیں۔

✔ اگر جماع کی خواہش نہ ہو، مثلاً بڑھاپا ہو یا قوتِ باہ کمزور ہو، تو نکاح مباح ہے۔

✔ بعض حالات میں ایسا نکاح مکروہ ہوجاتا ہے، کیونکہ اس سے عورت کے لیے نکاح کا مقصد یعنی عصمت کا تحفظ فوت ہوسکتا ہے اور اس کے فطری جذبات کو صدمہ پہنچتا ہے۔

✔ مسلمان کے لیے نکاح اس وقت حرام ہے جب وہ کفار کے ایسے ملک میں ہو جو دارالحرب ہو، کیونکہ اس صورت میں اولاد کے اخلاقی خطرات، کافروں کے غلبے اور بیوی کے غیر مامون ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

کن عورتوں سے نکاح کرنا بہتر ہے؟

ایسی عورت سے نکاح کرنا مسنون ہے جو دیندار، باعفت اور نیک خاندان سے ہو، کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ : لِمَالِهَا ، وَلِحَسَبِهَا ، وَلِجَمَالِهَا ، وَلِدِينِهَا ، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ”
"عورت سے چار چیزوں کے پیش نظر نکاح کیا جاتا ہے۔(1)اس کے مال (2)خاندان (3)جمال(4)اور دین کی وجہ سے لیکن تم اس کے دین کو دیکھ کر نکاح کرو۔ تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں۔”[۔صحیح البخاری، النکاح باب الاکفاء فی الدین حدیث 5090۔وصحیح مسلم الرضاع باب استحباب النکاح ذات الدین حدیث 1466۔]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کے علاوہ کسی اور چیز کو اصل معیار بنانے سے منع فرمایا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

"لَا تَنْكِحُوا النِّسَاءَ لِحُسْنِهِنَّ فَلَعَلَّهُ يُرْدِيهِنَّ ، وَلَا لِمَالِهِنَّ فَلَعَلَّهُ يُطْغِيهِنَّ ، وَانْكِحُوهُنَّ لِلدِّينِ”
"عورتوں سے حسن کی بناپر شادی نہ کرو۔ہوسکتا ہے ان کا حسن انھیں تباہ کر دے۔ اور نہ ان کے مال کو دیکھ کر شادی کرو کیونکہ ممکن ہے مال انھیں سرکش بنادے تم ان کے دین کی وجہ سے شادی کرو۔”[۔(ضعیف) سنن ابن ماجہ النکاح باب تزویج ذات الدین ،حدیث 1859۔والسنن الکبری للبیہقی 7/80۔ والتلخیص الحبیر 3/146۔ واللفظ لہ۔]

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوان اور کنواری عورت سے شادی کی ترغیب دی۔ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:

"هلا تزوجت بكرا تلاعبها وتلاعبك”
"تم نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس سے اور وہ تم سے کھیل وشغل کرتی۔”[۔صحیح البخاری الجہاد باب استئذان الرجل الامام حدیث 2967 وصحیح مسلم، الرضاع ،باب استحباب نکاح البکر حدیث (55)715بعد حدیث 1466۔]

اس کی حکمت یہ ہے کہ اس نے پہلے کسی شوہر کو نہیں دیکھا ہوتا، اس لیے اس کی محبت زیادہ کامل ہوتی ہے، ورنہ یہ احتمال رہتا ہے کہ اس کا دل پہلے خاوند سے معلق رہے اور دوسرے شوہر کی طرف پوری طرح مائل نہ ہو۔

مسنون یہ بھی ہے کہ ایسی عورت سے نکاح کیا جائے جس سے کثرتِ اولاد کی امید ہو۔ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الأُمَمَ يوم القيامة”
"تم ان عورتوں سے شادی کرو جو بہت محبت کرنے والیاں اور بچے جننے والیاں ہوں کیونکہ روز قیامت تمھاری کثرت ہی کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔”[۔سنن ابو داؤد۔النکاح باب النھی عن تزویج من لم یلد من الناء حدیث 2050وسنن النسائی والنکاح باب کراھیہ تزویج العقیم حدیث 3229۔ والتلخیص الحبیر 3/145وکنز العمال 16/302۔حدیث 44597۔واللفظ لہما]

اس مفہوم کی اور بھی روایات منقول ہیں۔

نوجوانوں کو جلد نکاح کی ترغیب

نکاح کا حکم انسان کی جسمانی قوت، مالی حالت اور ذمہ داری نبھانے کی صلاحیت کے مختلف ہونے کے باعث مختلف ہوجاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے نوجوانوں کو جلد نکاح کی ترغیب دی، کیونکہ دوسروں کی نسبت انہیں اس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَصُمْ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ”
"اے نوجوانوں کی جماعت !جو تم میں سے قوت رکھے وہ شادی کرے کیونکہ اس سے نگاہ نیچی اور شرمگاہ محفوظ ہو جاتی ہے۔اور جو شخص طاقت نہ رکھے وہ روزے رکھے اس کی وجہ سے اس کے جذبات کی شدت ختم ہو جائے گی۔”[صحیح البخاری النکاح باب من لم یستطع الباءۃ فلیصم حدیث 5066۔وصحیح مسلم النکاح باب الستحباب النکاح لمن تاقت نفسہ الیہ حدیث 1400واللفظ لہ]

جب نکاح کی قدرت نہ ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جذبات کی شدت کم کرنے کے لیے روزہ رکھنے کا حکم دیا، کیونکہ روزہ جنسی خواہشات پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ خشیتِ الٰہی اور تقویٰ بھی پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كُتِبَ عَلَيكُمُ الصِّيامُ كَما كُتِبَ عَلَى الَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ﴿١٨٣﴾… سورةالبقرة
"اے ایمان والو! تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر صوم(روزہ) فرض کیا گیا تھا تاکہ تقوی اختیار کرو۔”[۔البقرۃ:2/183۔ ]

نیز فرمایا:

﴿ وَأَن تَصوموا خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ ﴿١٨٤﴾… سورةالبقرة
"لیکن تمھارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم با علم ہو۔”[۔البقرۃ:2/184۔]

خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو امور، یعنی نکاح اور روزے، کے ذریعے انسان کو شہوت کے خطرات سے بچنے کی تعلیم دی ہے۔ اس لیے انسان کے لیے جائز نہیں کہ وہ خود کو خطرات کے بھنور میں ڈال دے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَليَستَعفِفِ الَّذينَ لا يَجِدونَ نِكاحًا حَتّىٰ يُغنِيَهُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ وَالَّذينَ يَبتَغونَ الكِتـٰبَ مِمّا مَلَكَت أَيمـٰنُكُم فَكاتِبوهُم إِن عَلِمتُم فيهِم خَيرًا وَءاتوهُم مِن مالِ اللَّهِ الَّذى ءاتىٰكُم وَلا تُكرِهوا فَتَيـٰتِكُم عَلَى البِغاءِ إِن أَرَدنَ تَحَصُّنًا لِتَبتَغوا عَرَضَ الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا وَمَن يُكرِههُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِن بَعدِ إِكر‌ٰهِهِنَّ غَفورٌ رَحيمٌ ﴿٣٣﴾… سورة النور
"اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیئے جو اپنا نکاح کرنے کا مقدور نہیں رکھتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے مالدار بنا دے، تمہارے غلاموں میں جو کوئی کچھ تمہیں دے کر آزادی کی تحریر کرانی چاہے تو تم ایسی تحریر انہیں کردیا کرو اگر تم کو ان میں کوئی بھلائی نظر آتی ہو۔ اور اللہ نے جو مال تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے انہیں بھی دو، تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو اور جو انہیں مجبور کردے تو اللہ تعالیٰ ان پر جبر کے بعد بخشش دینے والا اور مہربانی کرنے والا ہے "[۔النور24/32۔33۔]

نکاح کا پیغام دینے کے احکام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمْ الْمَرْأَةَ فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ "
"جب کوئی کسی کو نکاح کرنے کا پیغام دے تو اگر وہ اس (خوبی) کو دیکھ سکتا ہو جس کی بنا پر وہ اس عورت کی طرف راغب ہوتا ہو تو وہ کام کر لے۔”[۔مسند احمد :3/360۔وسنن ابی داود النکاح باب فی الرجل ينظر الی المراۃ حدیث 2082۔واللفظ لہ۔]

ایک دوسری حدیث میں ہے:

"انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا”
"تم اسے (اپنی متوقع بیوی کو) دیکھ لو۔ یہ زیادہ لائق ہے کہ اس وجہ سے تمھارے درمیان زیادہ محبت پیدا ہو جائے۔”[۔جامع الترمذی النکاح باب ماجاء فی النظر الی المخطوبۃ، حدیث 1087۔]

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد اپنی مخطوبہ کو دیکھ سکتا ہے، لیکن اس کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ عورت کو اس کی خبر نہ ہو اور نہ اس سے خلوت میں ملاقات کرے۔

فقہائے اسلام نے لکھا ہے کہ جو شخص کسی عورت کو پیغامِ نکاح دینا چاہتا ہو، اور غالب گمان یہ ہو کہ عورت اس کے پیغام کو قبول کرلے گی، تو اس کے لیے اس کے وہ اعضاء دیکھنا جائز ہے جو عادتاً کھلے رہتے ہیں، بشرطیکہ خلوت نہ ہو اور فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔

سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:
"(ہدایات نبوی کے مطابق) میں اسے دیکھنے کے لیے چھپ کے بیٹھا کرتا تھا یہاں تک کہ میں نے اپنی مخطوبہ کے وہ اوصاف دیکھ لیے جن کی بنا پر مجھے اس سے نکاح کی رغبت پیدا ہو گئی تو میں نے اس سے شادی کر لی۔”[ ۔سنن ابی داود النکاح باب فی الرجل ينظر الی المراۃ وھو یرید تزویجہا حدیث2082 ومسند احمد3/334۔]

اس روایت سے معلوم ہوا کہ مخطوبہ عورت سے خلوت کرنا جائز نہیں، اور دیکھنا بھی اس انداز میں ہو کہ عورت کو خبر نہ ہو۔ نیز وہی حصہ دیکھا جائے جو عام طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ یہ اجازت بھی اسی وقت ہے جب غالب گمان ہو کہ وہ عورت اس کے پیغام کو قبول کرے گی۔

اگر عورت کو خود دیکھنا ممکن یا آسان نہ ہو تو کسی بااعتماد عورت کو بھیجا جاسکتا ہے جو اس کے سامنے صحیح صورت حال بیان کردے۔ اسی طرح مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُم سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ایک عورت دیکھنے کے لیے بھیجا۔

اگر نکاح سے پہلے کسی مرد یا عورت کے بارے میں تحقیق کی جائے، یا کسی شخص سے اس کے متعلق رائے یا مشورہ لیا جائے، تو اس شخص پر لازم ہے کہ وہ خوبی اور خامی دونوں بیان کردے، اور یہ غیبت میں شمار نہ ہوگا۔

جو عورت عدت گزار رہی ہو، اسے واضح الفاظ میں پیغامِ نکاح دینا حرام ہے، مثلاً کوئی کہے: "میں تجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔” اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَلا جُناحَ عَلَيكُم فيما عَرَّضتُم بِهِ مِن خِطبَةِ النِّساءِ…﴿٢٣٥﴾… سورة البقرة
"تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اشارتاً ان عورتوں سے نکاح کی بابت کہو۔”[۔البقرۃ 2/235۔]

اس آیت میں عدت والی عورت کے ساتھ تعریض، یعنی اشارہ و کنایہ، کی اجازت دی گئی ہے۔ مثلاً کوئی کہے: "میں تجھ جیسی عورت سے نکاح کی رغبت رکھتا ہوں۔” یا "جب تم اپنی مستقبل کی زندگی کا فیصلہ کرو تو ہمیں یاد رکھنا۔”
صراحتاً پیغام دینے میں یہ خطرہ ہے کہ عورت عدت پوری ہونے سے پہلے ہی نکاح کی رغبت میں عدت ختم ہونے کا اعلان کردے اور نکاح کرلے۔ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کی یہی رائے ہے۔

شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"عدت گزارنے والی عورت کو دوران عدت میں طلاق دینے والا صراحتاً یا اشارتاً پیغام نکاح دے سکتا ہےبشرطیکہ طلاق اس قسم کی ہو جس کے بعد عدت کے اندر بھی دوبارہ نکاح جائز ہو۔”[۔الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ 5/450۔]

کسی مسلمان بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام دینا حرام ہے، الا یہ کہ پہلا شخص خود اجازت دے دے یا اس کا ارادہ ختم ہوچکا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لا يَخْطُبْ الرَّجُل عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ”
"کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دے(بلکہ انتظار کرے حتی کہ وہ نکاح کر لے یا (ارادہ نکاح )چھوڑدے۔”[۔صحیح البخاری النکاح باب لا یخطب علی خطبۃ اخیہ حتی ینکح او یدع حدیث 5144وصحیح مسلم النکاح باب تحریم الخطبۃ علی خطبۃ اخیہ حتی یا ذن او یترک، حدیث 1414۔]

اس ممانعت کی حکمت یہ ہے کہ دوسرے شخص کے پیغام سے پہلے شخص کے معاملے میں فساد پیدا ہوسکتا ہے، جو باہمی عداوت اور حق تلفی کا سبب بنتا ہے۔ البتہ اگر پہلا شخص اپنا ارادہ ختم کردے یا دوسرے کو اجازت دے دے تو دوسرا شخص اس عورت کو پیغام دے سکتا ہے۔ اس میں مسلمان کے احترام اور ظلم سے بچاؤ دونوں پہلو موجود ہیں۔

بعض لوگ اس حکم میں لاپروائی کرتے ہیں اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ فلاں شخص فلاں عورت کو پیغام دے چکا ہے، خود بھی پیغام بھیج دیتے ہیں، جس سے مسلمان بھائی پر ظلم اور زیادتی ہوتی ہے۔ ایسا شخص حرام کام کا مرتکب اور اللہ تعالیٰ کے ہاں گناہگار ہے، بلکہ دنیا میں بھی سخت سزا کا مستحق ہے۔

ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ ایسے حالات میں ہوشیار رہے، اپنے مسلمان بھائیوں کے حقوق کا احترام کرے، کیونکہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر بہت بڑا حق ہے۔ پس نہ اس کے پیغام پر پیغام بھیجے، نہ اس کی بیع پر بیع کرے، اور نہ کسی بھی طرح اسے اذیت پہنچائے۔

نکاح کے ارکان اور شرائط کا بیان

مستحب یہ ہے کہ عقد نکاح سے پہلے خطبۂ مسنونہ پڑھا جائے، جو "خطبہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ” کے نام سے معروف ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

"ان الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سئيات اعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلاهادي له واشهدان لا الهٰ الا الله وحده لاشريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله”

اس کے بعد قرآن مجید کی یہ آیات پڑھی جائیں:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ وَلا تَموتُنَّ إِلّا وَأَنتُم مُسلِمونَ ﴿١٠٢﴾… سورة آل عمران

﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ اتَّقوا رَبَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم مِن نَفسٍ و‌ٰحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنها زَوجَها وَبَثَّ مِنهُما رِجالًا كَثيرًا وَنِساءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذى تَساءَلونَ بِهِ وَالأَرحامَ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلَيكُم رَقيبًا ﴿١﴾… سورةالنساء

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقولوا قَولًا سَديدًا ﴿٧٠﴾ يُصلِح لَكُم أَعمـٰلَكُم وَيَغفِر لَكُم ذُنوبَكُم وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسولَهُ فَقَد فازَ فَوزًا عَظيمًا ﴿٧١﴾… سورة الاحزاب

عقد نکاح کے تین ارکان ہیں:

① خاوند اور بیوی بننے والے دونوں ایسے ہوں کہ ان کے نکاح میں کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو، مثلاً عورت نسب، رضاعت یا عدت کی بنا پر حرام نہ ہو، یا مرد کافر اور عورت مسلمان نہ ہو، یا کوئی اور شرعی مانع نہ پایا جاتا ہو۔

② دوسرا رکن ایجاب ہے، یعنی عورت کا ولی یا اس کا قائم مقام، ہونے والے شوہر سے کہے: "میں نے فلاں عورت کا نکاح تیرے ساتھ کیا۔” یا "میں نے اسے تیری بیوی بنایا۔”

③ تیسرا رکن قبول ہے، یعنی شوہر یا اس کا وکیل کہے: "میں نے قبول کیا۔” یا "میں نے اسے بیوی بنا لیا۔”

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے شاگرد ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کی رائے یہ ہے کہ نکاح ہر اس لفظ سے منعقد ہوجاتا ہے جو نکاح پر دلالت کرے۔[۔مجموع الفتاوی لشیخ الاسلام ابن تیمیہ 20/533۔534 واعلام الموقعین 1/273۔]
البتہ جو لوگ اسے صرف "نکاح” یا "تزویج” کے الفاظ کے ساتھ مخصوص کرتے ہیں، وہ اس لیے کہ یہ دونوں الفاظ قرآن میں وارد ہوئے ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ فَلَمّا قَضىٰ زَيدٌ مِنها وَطَرًا زَوَّجنـٰكَها…﴿٣٧﴾… سورة الاحزاب
"پھر جب زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کر لی تو ہم نے اس کی تزویج تیرے ساتھ کر دی۔”[۔الاحزاب 33/37۔]

اور دوسرے مقام پر فرمایا:

﴿وَلا تَنكِحوا ما نَكَحَ ءاباؤُكُم مِنَ النِّساءِ …﴿٢٢﴾… سورة النساء
"اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمھارے باپوں نے نکاح کیا ہے۔”[۔النساء4/22۔]

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نکاح کا انعقاد انہی الفاظ میں منحصر ہو، بلکہ ان کے علاوہ دیگر الفاظ سے بھی نکاح منعقد ہوجاتا ہے۔

گونگے شخص کا قبولِ نکاح تحریر یا کسی قابلِ فہم اشارے سے ہوگا۔

ایجاب و قبول ہوجانے کے بعد نکاح منعقد ہوجاتا ہے، اگرچہ یہ الفاظ مذاق ہی میں کہے گئے ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ : النِّكَاحُ ، وَالطَّلَاقُ ، وَالرَّجْعَةُ "
"تین چیز یں پکی کرنے سے بھی ہیں اور ازراہ مذاق بھی پکی ہیں یعنی نکاح ،طلاق اور رجوع کرنا۔”[۔سنن ابی داؤد،الطلاق، باب فی الطلاق علی الھزل ،حدیث 2194 وجامع الترمذی، الطلاق، باب ماجاء فی الجدوالھزل فی الطلاق، حدیث 1184وسنن ابن ماجہ الطلاق باب من طلق اونکح او راجع لا عبا ،حدیث 2039۔]

نکاح کی درستی کے لیے چار شرطیں ہیں:

① عقد کے وقت مرد اور عورت دونوں متعین ہوں۔ یہ کافی نہیں کہ کوئی کہے: "میں نے اپنی بیٹی تیرے نکاح میں دے دی” جبکہ اس کی کئی بیٹیاں ہوں، یا کہے: "میں نے اس کی شادی تیرے بیٹے سے کردی” جبکہ کئی بیٹے ہوں۔
پس جس کا نکاح ہورہا ہو، اس کی تعیین ضروری ہے، خواہ اشارے سے، نام سے یا امتیازی وصف کے ذریعے۔

② میاں بیوی دونوں اس نکاح پر راضی ہوں۔ ان میں سے کسی ایک کو مجبور کرنا درست نہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لا تُنكحُ الأيِّمُ حتى تُستأمرَ، ولا تُنكحُ البِكرُ حتى تُستأذنَ”
"شوہر دیدہ کا نکاح اس کی رائے معلوم کیے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری سے اجازت لیے بغیر نکاح نہ کیا جائے۔”[۔صحیح البخاری النکاح باب لا ینکح الاب وغیرہ البکر والثیب الا برضا ھما حدیث 5136۔وصحیح مسلم النکاح باب استیذان الثیب فی النکاح ۔۔۔۔،حدیث 1419۔]

البتہ اگر بچہ نابالغ ہو یا کم عقل ہو تو اس کا سرپرست اس کی اجازت کے بغیر بھی اس کا نکاح کرسکتا ہے۔

③ عورت کا نکاح اس کا ولی کرے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لاَ نِكاحَ إِلاّ بِوَلِي”
"سر پرست (ولی) کے بغیر اس کا نکاح نہیں ہوتا۔”[ ۔سنن ابی داؤد، النکاح، باب فی الولی حدیث 2085 وجامع الترمذی النکاح باب ماجاء لا نکاح الا بولی حدیث 1101 وسنن ابن ماجہ النکاح باب لا نکاح الا بولی، حدیث 1880۔ومسند احمد:1/250۔]

اگر عورت نے ولی کے بغیر نکاح کرلیا تو اس کا نکاح باطل ہے، کیونکہ یہ زنا کا ذریعہ بن سکتا ہے اور عورت اپنی نسبت بہتر شوہر کی تلاش میں عموماً قاصر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اولیاء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

﴿وَأَنكِحُوا الأَيـٰمىٰ مِنكُم … ﴿٣٢﴾… سورةالنور
"تم میں سے جو مرد عورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کردو۔”[۔النور:24/32۔]

اور فرمایا:

﴿فَلا تَعضُلوهُنَّ أَن يَنكِحنَ أَزو‌ٰجَهُنَّ…﴿٢٣٢﴾… سورة البقرة
"چنانچہ انھیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔”[۔البقرۃ:2/232۔]

عورت کے اولیاء کی ترتیب یہ ہے: باپ، باپ کا مقرر کردہ شخص، دادا، پردادا اوپر تک، بیٹا، پوتا، سگا بھائی، علاتی بھائی یا ان کی اولاد، سگا چچا اور ان کے بیٹے، علاتی چچا اور ان کے بیٹے، پھر عصبہ نسبی میں میراث کی ترتیب سے قریبی رشتہ دار، پھر معتق، پھر حاکم یا قاضی۔

④ عقدِ نکاح پر گواہوں کا موجود ہونا ضروری ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ”
"ولی اوردو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہو تا۔”[۔سنن الدارقطنی 3/158۔حدیث 3492۔وموارد الظمان 4/170۔حدیث 1247۔]

امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یہی تھا۔ اسی طرح ان کے بعد کے تابعین عظام کا نقطہ نظر بھی یہی تھا کہ گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا اس کے بارے میں سلف صالحین کے مابین کوئی اختلاف نہ تھا البتہ بعض متاخرین اہل علم نے اس مسئلے میں اختلاف کیا ہے۔”[۔جامع الترمذی النکاح باب ماجاء لا نکاح الا ببینۃ ،تحت حدیث1104۔]

نکاح میں میاں بیوی کا کفو ہونا

"کفو” کے معنی ہیں "برابر اور ایک جیسا ہونا” اور یہاں مراد یہ ہے کہ خاوند اور بیوی کے درمیان بعض اوصاف میں برابری ہو۔ فقہاء نے پانچ اوصاف ذکر کیے ہیں:

دین: فاجر و فاسق مرد، پاک دامن اور صالح عورت کا کفو نہیں ہوسکتا، کیونکہ ایسے شخص کی گواہی اور روایت مردود ہوتی ہے، اور یہ شرفِ انسانیت میں نقص ہے۔

نسب: عجمی اور عربی میں مساوات نہیں، لہٰذا عجمی شخص عربی عورت کا کفو نہیں۔[۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:”لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ”کسی عربی کو عجمی پرکوئی فضیلت نہیں۔” مسند احمد :5/411،اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:””إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ””لہذا مؤلف کا دعویٰ درست نہیں۔(صارم)]

صنعت: معمولی یا کم درجے کا پیشہ اختیار کرنے والا، مثلاً سینگی لگانے والا یا جولاہا، اس عورت کے برابر نہیں ہوسکتا جو کسی عزت والے پیشے، جیسے تاجر کے خاندان سے ہو۔[ ۔کفاءت کااعتبار دو چیزوں میں ہے:دین اور اخلاق ،باقی چیزیں بلادلیل ہیں۔اسلام میں اونچ نیچ کے لیے اس قسم کی بنیاد کا کوئی تصورنہیں اور نہ کوئی دلیل ہے۔(صارم)]

مال میں فراخی: چونکہ مہر اور نان و نفقہ شوہر کے ذمے ہوتے ہیں، اس لیے فقیر و تنگدست مرد مالدار عورت کا کفو نہیں، کیونکہ اس کی تنگ دستی عورت کے لیے تکلیف اور نقصان کا باعث ہوسکتی ہے۔

اگر زوجین میں ان پانچ چیزوں میں فرق ہو تو برابری نہ رہے گی۔ لیکن واضح رہے کہ ان چیزوں میں عدمِ مساوات سے نکاح کی صحت متاثر نہیں ہوتی، کیونکہ کفاءت صحتِ نکاح کی شرط نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مشورہ دیا:

"انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَكَرِهْتُهُ "
"تم اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شادی کرلو۔انھوں نے(اولاً یہ مشورہ) پسند نہ کیا۔”

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا:

"انْكِحِي أُسَامَةَ فَنَكَحْتُهُ "
"اسامہ سے شادی کرلوتو انھوں نے ان سے شادی کرلی۔”[۔صحیح البخاری الطلاق باب قصۃ فاطمۃ بنت قیس۔۔۔حدیث 5321،وصحیح مسلم الطلاق باب المطلقۃ البائن لا نفقۃ لھا حدیث 1480 واللفظ لہ۔]

سیدنا اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک آزاد کردہ غلام کے بیٹے تھے، جبکہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا قریش کے خاندان سے تھیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان اوصاف میں برابری نکاح کی صحت کے لیے شرط نہیں، البتہ ازدواجی زندگی میں پختگی، آسانی اور دوام کے لیے یہ چیز مفید ہے۔

اگر کسی عورت کی شادی ایسے شخص سے کردی جائے جو اس کا کفو نہ ہو، تو اس عورت یا اس کے ولی کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہوسکتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیٹی کا نکاح اپنے بھتیجے سے محض اس لیے کردیا کہ اس کا مقام بلند ہوجائے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو نکاح باقی رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار دیا۔

بعض علماء کے نزدیک کفاءت صحتِ نکاح کے لیے شرط ہے، اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک روایت اسی مفہوم کی ہے۔

شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کا مطلب یہ ہے کہ جب آدمی کو معلوم ہو کہ زوجین میں برابری نہیں تو دونوں کانکاح فسخ قرار دے کر انھیں علیحدہ کردیا جائے ،علاوہ ازیں ولی کے لائق نہیں کہ وہ عورت کا نکاح غیر کفو سے کرے،نہ مرد ایسا کرے نہ عورت،کفو(برابری) مالی معاملات،یعنی حق مہر وغیرہ کی طرح نہیں کہ اگر عورت اور اس کے ولی چاہیں تو اس کا مطالبہ کریں چاہیں تو چھوڑ بھی سکتے ہیں لیکن مناسب ہے کہ کفو کااعتبار کیا جائے۔”[۔الفتاویٰ الکبریٰ الاختیارات العلمیۃ :5/454،455۔]

محرم عورتوں کا بیان

نکاح میں جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے، وہ دو قسموں کی ہیں:

① وہ عورتیں جن سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے

یہ چودہ ہیں: سات نسب کی وجہ سے اور سات سبب یعنی رضاعت یا رشتے داری کی وجہ سے۔ ان سب کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے:

﴿وَلا تَنكِحوا ما نَكَحَ ءاباؤُكُم مِنَ النِّساءِ إِلّا ما قَد سَلَفَ إِنَّهُ كانَ فـٰحِشَةً وَمَقتًا وَساءَ سَبيلًا ﴿٢٢﴾ حُرِّمَت عَلَيكُم أُمَّهـٰتُكُم وَبَناتُكُم وَأَخَو‌ٰتُكُم وَعَمّـٰتُكُم وَخـٰلـٰتُكُم وَبَناتُ الأَخِ وَبَناتُ الأُختِ وَأُمَّهـٰتُكُمُ الّـٰتى أَرضَعنَكُم وَأَخَو‌ٰتُكُم مِنَ الرَّضـٰعَةِ وَأُمَّهـٰتُ نِسائِكُم وَرَبـٰئِبُكُمُ الّـٰتى فى حُجورِكُم مِن نِسائِكُمُ الّـٰتى دَخَلتُم بِهِنَّ فَإِن لَم تَكونوا دَخَلتُم بِهِنَّ فَلا جُناحَ عَلَيكُم وَحَلـٰئِلُ أَبنائِكُمُ الَّذينَ مِن أَصلـٰبِكُم وَأَن تَجمَعوا بَينَ الأُختَينِ إِلّا ما قَد سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كانَ غَفورًا رَحيمًا ﴿٢٣﴾… سورة النساء
"اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے مگر جو گزر چکا ہے، یہ بے حیائی کا کام اور بغض کا سبب ہے اور بڑی بری راه ہے (22) حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری لڑکیاں اور تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھائی کی لڑکیاں اور بہن کی لڑکیاں اور تمہاری وه مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری ساس اور تمہاری وه پرورش کرده لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں، تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول کر چکے ہو، ہاں اگر تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو تو تم پر کوئی گناه نہیں اور تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں اور تمہارا دو بہنوں کا جمع کرنا ہاں جو گزر چکا سو گزر چکا، یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے”[۔النساء:4/22۔23۔]

ان آیات کی روشنی میں نسب کی وجہ سے حرام عورتیں یہ ہیں:

◈ ماں، دادی، نانی
◈ بیٹی، پوتی، نواسی، پوتی کی بیٹی وغیرہ
◈ سگی بہن، علاتی بہن، اخیافی بہن
◈ پھوپھی اور خالہ
◈ بھتیجی، بھتیجی کی بیٹی، بھتیجے کی بیٹی
◈ بھانجی، بھانجے کی بیٹی، بھانجی کی بیٹی

② وہ عورتیں جو سبب کی وجہ سے حرام ہیں

ملاعنہ: لعان کے بعد عورت ہمیشہ کے لیے مرد پر حرام ہوجاتی ہے۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
"لعان کرنے والوں میں ہمیشہ سے یہ طریقہ رائج رہا ہے کہ ان میں جدائی ڈال دی جائےگی،پھر وہ کبھی اکھٹے نہ ہو سکیں گے۔”[۔سنن ابی داود،الطلاق باب فی اللعان ،حدیث 2250۔]
ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"اس مسئلے میں کسی کا اختلاف ہمارے علم میں نہیں آیا۔”[۔المغنی والشرح الکبیر :9/34۔]

رضاعت: رضاعت کے سبب وہ تمام عورتیں حرام ہوجاتی ہیں جو نسب کے سبب حرام ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَأُمَّهـٰتُكُمُ الّـٰتى أَرضَعنَكُم وَأَخَو‌ٰتُكُم مِنَ الرَّضـٰعَةِ…﴿٢٣﴾… سورة النساء
"اور تمہاری وه مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں(تم پر حرام کی گئی ہیں۔)”[۔النساء:4/23۔]

اور حدیث میں ہے:

” يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ "
"رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔”[۔صحیح البخاری الشھادات باب الشھادۃ علی الانساب۔۔۔حدیث 2645،وصحیح مسلم الرضاع باب تحریم ابنۃ الاخ من الرضاعۃ حدیث 1447۔]

باپ اور دادا کی منکوحہ:
﴿وَلا تَنكِحوا ما نَكَحَ ءاباؤُكُم مِنَ النِّساءِ …﴿٢٢﴾… سورةالنساء
"اوران عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیاہے۔”[۔النساء:4/22۔]

بیٹے، پوتے اور پرپوتے کی بیوی:
﴿وَحَلـٰئِلُ أَبنائِكُمُ الَّذينَ مِن أَصلـٰبِكُم﴾
"اور تمہارے صلبی(سگے) بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنابھی تم پر حرام ہے۔”[۔النساء:4/23۔]

بیوی کی ماں، دادی، نانی: نکاح ہوتے ہی حرام ہوجاتی ہیں۔
﴿وَأُمَّهـٰتُ نِسائِكُم﴾
"اور تمہاری بیویوں کی مائیں(بھی تم پر حرام ہیں۔)”[۔النساء:4/23۔]

بیوی کی بیٹی، پوتی، نواسی: بشرطیکہ بیوی سے دخول ہوچکا ہو۔
﴿وَرَبـٰئِبُكُمُ الّـٰتى فى حُجورِكُم مِن نِسائِكُمُ الّـٰتى دَخَلتُم بِهِنَّ فَإِن لَم تَكونوا دَخَلتُم بِهِنَّ فَلا جُناحَ عَلَيكُم …﴿٢٣﴾… سورةالنساء
"اور تمہاری وه پرورش کرده لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں، تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول کر چکے ہو، ہاں اگر تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو تو تم پر کوئی گناه نہیں”[۔النساء:4/23۔ وہ عورتیں جو کسی سبب(رضاعت یارشتے داری) کی وجہ سے حرام ہیں۔مؤلف نے ان میں پہلی قسم ملاعنہ کی بتائی ہے،حالانکہ آیت تحریم میں اس کا ذکر نہیں ہے اگرچہ یہ قسم محرمات سببیہ میں شامل ہے۔اکثر مفسرین نے آیت تحریم میں مذکورہ اقسام کے تحت ساتویں قسم”ایک ہی وقت میں دو بہنوں کو نکاح میں رکھنا”شمار کی ہے۔یاد رہے کہ احادیث میں ان سات اقسام کے علاوہ مزید آٹھویں قسم بھی مذکورہ ہے کہ”ایک ہی وقت میں پھوپھی اور بھتیجی یا خالہ اور بھانجی کو نکاح میں رکھنا حرام ہے۔”تفصیل کے لیے دیکھیے :تفسیر فتح القدیر :1/497 وتفسیر القرطبی :5/70،والروضۃ الندیۃ :2/183۔186۔]

وہ عورتیں جو وقتی طور پر حرام ہیں

ان کی دو قسمیں ہیں:

وہ عورتیں جو ایک شخص کے نکاح میں جمع ہونے کی وجہ سے حرام ہیں:

① دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں رکھنا حرام ہے:
﴿ وَأَن تَجمَعوا بَينَ الأُختَينِ…﴿٢٣﴾… سورة النساء
"اورتمہارا دو بہنوں کا جمع کرنا(بھی تم پرحرام ہے۔)”[۔النساء:4/23۔]

اسی طرح ایک وقت میں بیوی اور اس کی پھوپھی یا خالہ یا بھتیجی یا بھانجی کو جمع کرنا بھی حرام ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلاَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا”
"تم عورت(تمہاری بیوی) اور اس کی پھوپھی یا عورت اور اس کی خالہ کو بیک وقت نکاح میں نہ رکھو۔”[۔صحیح البخاری النکاح باب لاتنکح المراۃ علی عمتھا حدیث 5109،5110،وصحیح مسلم،النکاح باب تحریم الجمع بین المراۃ وعمتھا اوخالتھا فی النکاح،حدیث:1408،البتہ صحیح بخاری میں یہ الفاظ ہیں:(لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ….)و(نَهَى أَنْ تُنْكَحَ المَرْأَةُ …..)۔]

اور حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

"إنكم إذا فعلتم ذلك قطعتم أرحامهن”
"اگرتم ایسا کروگے تو قطع رحمی کے مرتکب ہوجاؤگے۔”[۔صحیح ابن حبان(الاحسان):6/166،حدیث:4104 والتلخیص الحبیر :3/168 واللفظ لہ، والکامل لابن عدی: 5/262 فی ترجمۃ عبداللّٰه بن الحسین ابی حریز۔ ]

اگر ایک کو طلاق دے دی جائے اور اس کی عدت گزر جائے، یا وہ فوت ہوجائے، تو پھر اس کی بہن، پھوپھی یا خالہ سے نکاح جائز ہوگا۔

② ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویاں رکھنا حرام ہے۔
﴿ فَانكِحوا ما طابَ لَكُم مِنَ النِّساءِ مَثنىٰ وَثُلـٰثَ وَرُبـٰعَ …﴿٣﴾… سورة النساء
"اور عورتوں میں سے جو بھی تمھیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کرلو،دو دو،تین تین،چار چار سے۔”[۔النساء:4/3۔]

ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص اسلام لایا جبکہ اس کے نکاح میں چار سے زیادہ عورتیں تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان میں سے چار رکھ لے اور باقی کو چھوڑ دے۔

وہ عورتیں جو کسی عارضی سبب کی وجہ سے وقتی طور پر حرام ہیں:

① عدت والی عورت سے عدت کے دوران نکاح حرام ہے:
﴿وَلا تَعزِموا عُقدَةَ النِّكاحِ حَتّىٰ يَبلُغَ الكِتـٰبُ أَجَلَهُ …﴿٢٣٥﴾… سورة البقرة
"اور عقد نکاح کا پختہ ارادہ مت کرو یہاں تک کہ عدت ختم ہوجائے۔”[۔البقرۃ2/235۔ ]

② زانیہ عورت سے نکاح اس وقت تک حرام ہے جب تک وہ توبہ نہ کرے اور عدت نہ گزار لے:
﴿وَالزّانِيَةُ لا يَنكِحُها إِلّا زانٍ أَو مُشرِكٌ وَحُرِّمَ ذ‌ٰلِكَ عَلَى المُؤمِنينَ ﴿٣﴾… سورةالنور
"اور زنا کار عورت سے بھی سوائے زانی یا مشرک مردکے اورکوئی نکاح نہیں کرتا اورایمان والوں پر یہ حرام کردیا گیا۔”[۔النور 24/3۔]

③ تین طلاقیں دینے کے بعد پہلی شوہر کے لیے عورت حلال نہیں، جب تک کسی دوسرے شخص سے شرعی نکاح نہ کرے اور وہ اس سے وطی نہ کرے، پھر وہ اسے طلاق دے:
﴿الطَّلـٰقُ مَرَّتانِ … ﴿٢٢٩﴾ … ﴿٢٣٠﴾… سورة البقرة
"یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں … پھر اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے تو اب اس کے لئے حلال نہیں جب تک وه عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرے…”[۔البقرۃ2/:229۔230۔]

④ حالتِ احرام میں مرد و عورت دونوں کے لیے نکاح کرنا حرام ہے:
"لَا يَنْكِحُ اَلْمُحْرِمُ, وَلَا يُنْكِحُ, وَلَا يَخْطُبُ "
"محرم نہ نکاح کرے اور نہ کروائے اور نہ پیغام نکاح دے۔”[۔صحیح مسلم،النکاح،باب تحریم نکاح المحرم وکراھۃ خطبتہ،حدیث 1409۔]

⑤ کوئی غیر مسلم مسلمان عورت سے نکاح نہیں کرسکتا:
﴿ وَلا تُنكِحُوا المُشرِكينَ حَتّىٰ يُؤمِنوا…﴿٢٢١﴾… سورة البقرة
"اور نہ شرک کرنے والے مردوں کے نکاح میں اپنی(مسلمان) عورتوں کو دو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔”[۔البقرۃ:2/221۔]

⑥ مسلمان مشرک عورت سے نکاح نہ کرے:
﴿وَلا تَنكِحُوا المُشرِكـٰتِ حَتّىٰ يُؤمِنَّ…﴿٢٢١﴾… سورة البقرة
"اور تم مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔”[۔البقرۃ 2/221۔]

اور فرمایا:

﴿وَلا تُمسِكوا بِعِصَمِ الكَوافِرِ …﴿١٠﴾… سورة الممتحنة
"اور کافر عورتوں کی ناموس اپنے قبضے میں نہ رکھو۔”[الممتحنہ 60/10۔]

البتہ آزاد کتابیہ عورت سے نکاح جائز ہے:
﴿وَالمُحصَنـٰتُ مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ مِن قَبلِكُم …﴿٥﴾… سورة المائدة
"اور جو لوگ تم سے پہلے کتاب دیے گئے ہیں ان کی پاک دامن عورتیں بھی حلال ہیں۔”[۔المائدۃ:5/5۔]

⑦ آزاد مسلمان شخص کے لیے مسلمان لونڈی سے نکاح حرام ہے، الا یہ کہ زنا میں پڑنے کا اندیشہ ہو، آزاد عورت کا مہر ادا نہ کرسکتا ہو، یا لونڈی کو آزاد کرنے کی قیمت نہ رکھتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَمَن لَم يَستَطِع مِنكُم طَولًا أَن يَنكِحَ المُحصَنـٰتِ المُؤمِنـٰتِ فَمِن ما مَلَكَت أَيمـٰنُكُم … ﴿٢٥﴾… سورة النساء
"اور تم میں سے جس کسی کو آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی پوری وسعت وطاقت نہ ہو تو وه مسلمان لونڈیوں سے جن کے تم مالک ہو…”[۔النساء:4/25۔]

⑧ غلام کے لیے اپنی مالکہ سے نکاح حرام ہے، اور اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔

⑨ مالک کے لیے اپنی مملوکہ کو بیوی بنانا بھی حرام ہے، کیونکہ عقدِ ملک، عقدِ نکاح سے قوی تر ہے۔

⑩ جس عورت سے نکاح کے ذریعے جماع حرام ہو، اس سے لونڈی ہونے کی صورت میں بھی جماع حرام ہوگا، مثلاً عدت والی، حالتِ احرام والی، زانیہ، یا وہ عورت جسے تین طلاقیں دی جاچکی ہوں۔

نکاح میں شرط عائد کرنا

شرائطِ نکاح سے مراد وہ شرطیں ہیں جو نکاح کے وقت زوجین میں سے کوئی ایک اپنی مصلحت کے لیے دوسرے پر عائد کرے، یا دونوں پہلے سے ان پر متفق ہوجائیں۔ یہ دو قسم کی ہیں: صحیح اور فاسد۔

صحیح شرائط

① اگر نئی بیوی یہ شرط رکھے کہ اس کی سوکن کو طلاق دی جائے، تو اکثر علماء کے نزدیک یہ شرط صحیح ہے، جبکہ بعض کے نزدیک فاسد ہے، اور یہی دوسرا قول زیادہ درست معلوم ہوتا ہے، کیونکہ حدیث میں ہے:

"ولا تسأل المرأة طلاق أختها لتكفأ ما في إنائها”
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی عورت اپنی(یادینی) بہن کو طلاق دینے کی شرط عائدکرے تاکہ اس کابرتن خالی کردے۔”[۔صحیح البخاری البیوع باب لا یبیع علی بیع اخیہ۔۔۔حدیث 2140۔]

② اگر عورت شرط لگائے کہ خاوند اس کے ہوتے ہوئے دوسرا نکاح نہیں کرے گا، نہ لونڈی رکھے گا، ورنہ اسے فسخِ نکاح کا اختیار ہوگا، تو یہ شرط صحیح ہے، کیونکہ حدیث میں ہے:

"أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ”
"وہ شرائط پوری کرنے کے زیادہ لائق ہیں جن کی بنیاد پر تم نے اپنے لیے شرم گاہوں کو حلال کرایا ہے۔”[۔صحیح البخاری الشروط،باب الشروط فی المھر عند عقدۃ النکاح،حدیث 2721۔]

③ اگر عورت شرط رکھے کہ خاوند اسے اس کے گھر یا شہر سے باہر نہیں لے جائے گا، تو یہ شرط صحیح ہے۔ البتہ اس کی رضامندی سے لے جانا جائز ہے۔

④ اگر عورت شرط عائد کرے کہ خاوند اس کے اور اس کی اولاد یا والدین کے درمیان جدائی پیدا نہیں کرے گا، تو یہ شرط بھی صحیح ہے۔ مخالفت کی صورت میں عورت کو فسخِ نکاح کا اختیار ہوگا۔

⑤ اگر عورت زیادہ مہر یا کسی خاص کرنسی میں مہر کی شرط لگائے تو یہ شرط صحیح ہے، اور شوہر پر اسے پورا کرنا لازم ہے۔ پورا نہ کرنے پر عورت کو فسخِ نکاح کا اختیار ہے۔

ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فیصلہ دیا کہ عورت نے نکاح کے وقت جو شرطیں رکھی ہوں، خاوند انہیں پورا کرے۔ جب ایک آدمی نے کہا: "پھر تو عورتیں ہمیں چھوڑ دیں گی”، تو فرمایا: "شرائط عائد ہونے سے حقوق ختم ہوجاتے ہیں۔”[۔ذکرہ البخاری تعلیقاً :5/396۔]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"المُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ”
"مسلمان باہمی شرائط کے پابند رہیں۔”[۔جامع الترمذی الاحکام باب ماذکر عن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فی الصلح بین الناس،حدیث :1352۔]

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” نکاح میں عائد کردہ صحیح اور جائز شرائط کو پورا کرنا واجب ہے۔یہ شریعت،عقل اور قیاس صحیح کا تقاضا ہے ،نیز عورت اپنی عصمت خاوند کے حوالے کرنے کے لیے جن شرائط کے بغیر راضی نہیں ہوتی انھیں پورا کیا جائے۔اگرانھیں پورا نہ کیا جائے گا تو عقد نکاح عورت کی مرضی کے مطابق نہ ہوا بلکہ اس پر وہ کچھ لازم کیا گیا جو اس نے نہ خود لازم کیا اور نہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر لازم کیا تھا۔”[۔اعلام الموقعین :3/295۔]

فاسد شرائط

فاسد شرائط کی دو قسمیں ہیں:

① وہ فاسد شرطیں جن سے نکاح باطل ہوجاتا ہے

نکاح شغار:
یعنی ایک شخص اپنی بہن یا بیٹی کا نکاح اس شرط پر کرے کہ دوسرا شخص بھی اپنی بہن یا بیٹی اس کے نکاح میں دے دے، اور دونوں کے درمیان مہر نہ ہو۔ اس نکاح کی حرمت پر اہل علم کا اتفاق ہے اور ایسا نکاح باطل ہے۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

"عن ابنِ عمرَ رَضِيَ اللَّهُ عنهُمَا، ((أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَن الشِّغَارِ))وَالشِّغَارُ: أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الآخَرُ ابْنَتَهُ، وَلَيْسَ بَيْنَهُما صَدَاقٌ”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع کیا ہے۔”(راوی کہتے ہیں کہ) نکاح شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیٹی کو کس کے نکاح میں اس شرط پر دے کہ وہ بھی اپنی بیٹی اسے نکاح میں دے گا اور دونوں عورتوں کا حق مہر بھی نہ ہو۔”[۔صحیح البخاری النکاح باب الشغار حدیث:5112،وصحیح مسلم النکاح باب تحریم نکاح۔۔۔،حدیث :1415۔]

شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی ممانعت کی حکمت تفصیل سے بیان کی ہے کہ ولی پر لازم ہے کہ عورت کے نکاح میں اس کی مصلحت کو مقدم رکھے، اپنی غرض کو نہیں۔ مہر عورت کا حق ہے، ولی کا نہیں۔ اگر ولی اپنی غرض کی خاطر فرج کا فرج سے تبادلہ کرے تو وہ عورت کے مفاد کو نظرانداز کرتا ہے، اس لیے اس کا حقِ ولایت ساقط ہونے کے قریب ہوجاتا ہے۔
البتہ اگر ہر عورت کا مہر الگ الگ مقرر ہو، کوئی حیلہ نہ ہو، اور دونوں عورتیں راضی ہوں، تو نکاح درست ہے۔

نکاح حلالہ:
کوئی شخص کسی عورت سے اس شرط پر نکاح کرے کہ صحبت کے بعد اسے پہلے شوہر کے لیے حلال کردے گا، یا شرط نہ ہو مگر یہی نیت ہو، تو یہ نکاح باطل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ ؟ قَالُوا : بَلَى ، يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : هُوَ الْمُحَلِّلُ ، لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ”
"کیا میں تمھیں مانگ کرلیے ہوئے سانڈ کی خبر نہ دوں؟صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی:ضرور بتائیے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ حلالہ کرنے والا مرد ہے۔اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جارہا ہے دونوں پر لعنت کی ہے۔”[ ۔سنن ابن ماجہ النکاح باب المحلل والمحلل لہ حدیث 1936،والمستدرک للحاکم :2/198،199،حدیث:2804۔]

مستقبل کی شرط کے ساتھ عقد:
مثلاً کوئی کہے: "میں اس عورت کا نکاح تم سے اس وقت کروں گا جب مہینہ شروع ہوگا” یا "جب اس کی ماں راضی ہوگی”۔ ایسا نکاح منعقد نہیں ہوتا، کیونکہ نکاح عقدِ معاوضہ ہے، اور اسے مستقبل کی شرط سے معلق کرنا درست نہیں۔

اسی طرح مدت مقرر کرکے نکاح کرنا بھی باطل ہے، مثلاً ایک رات، ایک مہینہ یا ایک سال کے لیے نکاح کرنا؛ یہی نکاح متعہ ہے۔

شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” مشہور اور متواتر روایات متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے متعہ کو حلال کرنے کے بعد مستقل طور پر حرام قراردے دیا ہے۔”[۔منھاج السنۃ النبویہ :2/156۔]

امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"تمام روایات اس امر پر متفق ہیں کہ متعے کی اباحت کادور لمبا دور نہ تھا،پھر اسے حرام قرار دے دیا گیا۔اس کی حرمت پر سلف وخلف علماء کااتفاق ہے ،ماسوا روافض کے جو کسی گنتی وشمار میں نہیں آتے۔”[۔فتح الباری:9/173۔]

② وہ فاسد شرطیں جن سے نکاح باطل نہیں ہوتا

① اگر نکاح میں عورت کے کسی حق کو ختم کرنے کی شرط لگائی جائے، مثلاً مہر نہ ہوگا، یا نان و نفقہ نہیں دیا جائے گا، یا اسے سوکن سے کم حقوق دیے جائیں گے، تو شرط فاسد ہوگی، مگر نکاح صحیح ہوگا۔

② اگر عورت کے مسلمان ہونے کی شرط رکھی گئی، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کتابیہ ہے، تو نکاح صحیح ہے، مگر شوہر کو فسخ کا اختیار ہوگا۔

③ اگر شوہر نے کنواری، خوبصورت یا اونچے خاندان کی عورت کی شرط لگائی اور بعد میں خلاف معلوم ہوا، تو اسے فسخ کا اختیار ہوگا۔

④ اگر مرد نے کسی عورت کو آزاد سمجھ کر نکاح کیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ لونڈی ہے، تو اگر اس کے لیے لونڈی سے نکاح جائز نہیں تو ان میں تفریق کردی جائے گی، ورنہ اسے فسخ کا اختیار ہوگا۔

⑤ اگر عورت نے مرد کو آزاد سمجھا اور بعد میں وہ غلام نکلا، تو عورت کو فسخ کا اختیار ہوگا۔

اگر غلام کی بیوی کو آزادی مل جائے تو اسے اختیار ہے کہ غلام خاوند کے نکاح میں رہے یا جدا ہوجائے، جیسا کہ بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے واقعے سے ثابت ہے۔

نکاح میں عیوب کا بیان

نکاح میں کچھ ایسے عیوب ہوتے ہیں جن کی وجہ سے فسخِ نکاح کا اختیار پیدا ہوجاتا ہے۔ ان میں سے بعض یہ ہیں:

① اگر خاوند نامرد ہو یا اس کا عضو کٹا ہوا ہو اور وہ وطی پر قادر نہ ہو، تو عورت کو فسخِ نکاح کا اختیار ہوگا۔ اگر شوہر خود اقرار کرلے تو علاج کے لیے ایک سال کی مہلت دی جائے گی، پھر بھی وطی پر قادر نہ ہو تو عورت کو اختیار ہوگا۔

② اگر عورت میں ایسا عیب ہو جو وطی میں مانع ہو، مثلاً شرمگاہ کا سوراخ بند ہو اور اس کا علاج بھی ممکن نہ ہو، تو مرد کو فسخ کا اختیار ہوگا۔

③ اگر زوجین میں سے کسی ایک میں ایسا عیب ہو جو دونوں میں ہوسکتا ہے، جیسے بواسیر، جنون، پھلبہری، کوڑھ، گنجاپن، یا منہ کی بدبو، تو ہر ایک کو فسخ کا اختیار ہوگا، کیونکہ یہ عیوب نفرت پیدا کرتے ہیں۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"ہر وہ عیب جو زوجین میں سے کسی ایک کے لیے نفرت کا باعث ہو،نیز اس سے مقصود نکاح حاصل نہ ہورہا ہوتو اس سے نکاح قائم رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار لازماً حاصل ہوجاتا ہے۔یہ اختیار بیع کو قائم رکھنے یانہ رکھنے کے اختیار سے زیادہ پختہ ہے۔”[۔سبل السلام :3/1353،تحت حدیث:948۔]

④ اگر نکاح کے بعد عیب پیدا ہو تو دوسرے کو فسخ کا اختیار ہوگا۔

یہ اختیار اسی وقت ہوگا جب دوسرا فریق اس عیب پر راضی نہ ہو۔ اگر عیب معلوم ہونے کے باوجود رضامندی ظاہر کردی تو پھر فسخ کا اختیار باقی نہیں رہے گا۔

◈ فسخِ نکاح کا فیصلہ قاضی کے ذریعے ہوگا، کیونکہ اس میں غور و فکر اور اجتہاد کی ضرورت ہوتی ہے۔
◈ اگر جماع سے پہلے نکاح فسخ ہوگیا تو عورت کو مہر میں سے کچھ نہیں ملے گا۔
◈ اگر جماع کے بعد فسخ ہوا تو عورت کو پورا مہر ملے گا۔
◈ نابالغ لڑکی، دیوانی عورت یا لونڈی کا نکاح ایسے شخص سے کرنا جائز نہیں جس میں ایسا عیب ہو جس کی وجہ سے نکاح فسخ ہوسکتا ہو۔
◈ اگر عمر رسیدہ عاقلہ عورت کسی نامرد سے شادی پر راضی ہو تو اس کا ولی اسے نہ روکے، کیونکہ وطی عورت کا حق ہے۔
◈ لیکن اگر عورت مجنون، کوڑھی یا پھلبہری والے سے شادی پر راضی ہو تو ولی اسے روک دے، کیونکہ اس سے اولاد اور خاندان دونوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

کفار کے نکاح کا بیان

کفار سے مراد اہل کتاب، مجوس، بت پرست اور دیگر غیر مسلم اقوام ہیں۔ یہاں اس نکاح کا بیان مقصود ہے جو ان کے مسلمان ہوجانے کی صورت میں برقرار مانا جائے گا، یا اگر وہ کفر کی حالت میں مسلمان قاضی کے پاس آئیں تو ان کے نکاح کا کیا حکم ہوگا۔

کفار کے نکاح کا حکم صحت، وقوعِ طلاق، ظہار، ایلاء، وجوبِ نفقہ اور باری کی تقسیم کے اعتبار سے مسلمانوں کے نکاح کی طرح ہے۔

جن عورتوں سے نکاح مسلمانوں کے لیے حرام ہے، انہی سے نکاح کفار کے لیے بھی حرام ہے۔ کافر شوہر اور بیوی کے نکاح کے درست ہونے کی دلیل قرآن سے ملتی ہے، جیسے:

﴿وَامرَأَتُهُ حَمّالَةَ الحَطَبِ ﴿٤﴾… سورة اللهب
"اور اس کی بیوی بھی(آگ میں جائے گی) جو لکڑیاں ڈھونے والی ہے۔”[۔اللھب:111/4۔]

اور:

"امْرَأَتُ فِرْعَوْنَ”
"فرعون کی بیوی”[۔التحریم 66/11۔]

ان آیات میں عورت کی نسبت اس کے کافر شوہر کی طرف کی گئی ہے، اور یہ نسبت زوجیت کے درست ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” درست بات یہی ہے کہ کفار کے وہ نکاح جو اسلام میں حرام ہیں وہ مطلقاً حرام ہیں۔ایسا کرنے والے لوگ اگر اسلام قبول نہیں کریں گے تو آخرت میں انھیں اس جرم کی بھی سزا ملے گی اور اگر وہ مسلمان ہوجائیں تو ان کا یہ گناہ معاف ہوجائے گا کیونکہ ان کا عقیدہ نہ تھا کہ ان عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے۔باقی رہا نکاح کا صحیح یافاسد ہونا تو درست بات یہی ہے کہ وہ ایک اعتبار سے صحیح ہے اور ایک اعتبار سے فاسد…”[۔الفتاویٰ الکبری الاختیارات العلمیۃ :5/466۔]

کفار کے نکاح کے متعلق چند اہم احکام یہ ہیں:

① اگر وہ اپنے دین کے مطابق اس نکاح کو جائز سمجھتے ہوں تو اس پر برقرار رہ سکتے ہیں، ورنہ نہیں۔

② اگر وہ ایسے فاسد نکاح کے مقدمات ہماری عدالت میں نہ لائیں تو ہم ان سے تعرض نہیں کریں گے، لیکن اگر لائیں گے تو ہم اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ کریں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَأَنِ احكُم بَينَهُم بِما أَنزَلَ اللَّهُ …﴿٤٩﴾… سورة المائدة
"آپ ان کے معاملات میں اللہ کی نازل کردہ وحی کے مطابق ہی فیصلہ کیاکیجئے۔”[۔المائدۃ:5/49۔]

③ اگر وہ نکاح سے پہلے ہمارے پاس آئیں تو ہم اسلام کے مطابق ان کا نکاح کریں گے، یعنی ایجاب و قبول، ولی اور دو مسلمان گواہوں کے ساتھ۔
﴿ وَإِن حَكَمتَ فَاحكُم بَينَهُم بِالقِسطِ …﴿٤٢﴾… سورة المائدة
"اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان میں عدل وانصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔”[۔المائدۃ:5/42۔]

④ اگر وہ نکاح کے بعد ہمارے پاس آئیں تو ہم کیفیتِ نکاح میں تعرض نہیں کریں گے۔

⑤ اگر خاوند اور بیوی دونوں حالتِ کفر کے نکاح کے بعد مسلمان ہوجائیں تو بھی ان کے نکاح کی کیفیت و شرائط میں ہم تعرض نہیں کریں گے، البتہ قبولِ اسلام یا مقدمہ لانے کے وقت یہ دیکھیں گے کہ کوئی شرعی مانع موجود تو نہیں۔

⑥ اگر اس وقت اس عورت سے نکاح جائز تھا تو نکاح برقرار رہے گا، ورنہ ان میں تفریق کردی جائے گی۔

⑦ اگر مہر میں کوئی ایسی چیز مقرر تھی جو شرعاً جائز ہے تو عورت اسے لے گی، اور اگر مہر حرام چیز، مثلاً شراب یا خنزیر تھا، تو اگر عورت وہ لے چکی ہے تو مزید کچھ نہیں ملے گا، اور اگر نہیں لیا تو اسے مہرِ مثل دیا جائے گا۔

⑧ اگر دونوں نے ایک ہی وقت میں اسلام قبول کیا تو ان کا سابقہ نکاح باقی رہے گا۔

⑨ اگر اہلِ کتاب میں سے مرد مسلمان ہوگیا لیکن بیوی اہلِ کتاب ہی رہی، تو بھی نکاح باقی رہے گا، کیونکہ مسلمان مرد کے لیے کتابیہ عورت سے نکاح جائز ہے۔

⑩ اگر دخول سے پہلے کافر عورت مسلمان ہوگئی تو نکاح باطل ہوجائے گا:
﴿فَلا تَرجِعوهُنَّ إِلَى الكُفّارِ لا هُنَّ حِلٌّ لَهُم وَلا هُم يَحِلّونَ لَهُنَّ…﴿١٠﴾… سورة الممتحنة
"تو اب تم انھیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو،یہ ان کے لیے حلال نہیں اور نہ وہ ان کے لیے حلال ہیں۔”[۔الممتحنہ 60/10۔]

⑪ اگر دخول سے پہلے شوہر مسلمان ہوگیا اور عورت غیر کتابیہ رہی تو نکاح باطل ہوجائے گا:
﴿وَلا تُمسِكوا بِعِصَمِ الكَوافِرِ …﴿١٠﴾… سورة الممتحنة
"اور کافر عورتوں کی ناموس اپنے قبضے میں نہ رکھو۔”[۔الممتحنہ 60/10۔]

⑫ اگر بعد از دخول صرف ایک فریق مسلمان ہوا تو عدت پوری ہونے تک معاملہ موقوف رہے گا۔ اگر دوسرے نے بھی اسلام قبول کرلیا تو نکاح برقرار، ورنہ فسخ شمار ہوگا۔

⑬ اگر کسی کے نکاح میں چار سے زیادہ عورتیں ہوں اور وہ اسلام قبول کرلے، جبکہ وہ سب بھی مسلمان ہوجائیں یا اہل کتاب ہوں، تو وہ چار کا انتخاب کرے اور باقی کو چھوڑ دے۔ قیس بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے متعلق روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا "
"ان میں سے چار بیویوں کا انتخاب کرلو”[۔سنن ابی داود،الطلاق باب فی من اسلم وعندہ نساء۔۔۔حدیث:2241۔]

مہر کا بیان

مہر اس معاوضے کو کہتے ہیں جو خاوند نکاح کے وقت یا بعد میں بیوی کو دیتا ہے۔ مہر واجب ہے، اور اس کی دلیل قرآن، سنت اور اجماع ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَءاتُوا النِّساءَ صَدُقـٰتِهِنَّ نِحلَةً فَإِن طِبنَ لَكُم عَن شَىءٍ مِنهُ نَفسًا فَكُلوهُ هَنيـًٔا مَريـًٔا ﴿٤﴾… سورة النساء
"اور عوتوں کو ان کے مہر راضی خوشی دے دو، ہاں اگر وه خود اپنی خوشی سے کچھ مہر چھوڑ دیں تو اسے شوق سے خوش ہو کر کھا لو”[۔النساء :4/4۔]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی نکاح میں مہر ترک نہیں کیا گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا:

"التمس ولو خاتما من حديد”
"مہر کے لیے کچھ تلاش کرواگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔”[۔صحیح البخاری النکاح باب عرض المراۃ نفسھا علی الرجل الصالح حدیث :5121۔]

اہل علم کا مہر کی مشروعیت پر اجماع ہے۔

① شریعت میں مہر کی کم از کم یا زیادہ سے زیادہ کوئی مقرر حد نہیں۔ جو چیز قیمت یا اجرت کے طور پر دی جاسکتی ہو، اسے مہر بنانا درست ہے، چاہے کم ہو یا زیادہ۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق مہر کا معتدل ہونا بہتر ہے، اور وہ تقریباً چار سو درہم کے قریب تھا۔[۔چار سو درہم کا وزن ایک سو پانچ تولے چاندی ہے۔مارکیٹ کے ریٹ کے حساب سے اس کی قیمت کا حساب لگا لیا جائے۔(صارم)]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” اگر کوئی شخص مہر کی رقم زیادہ مقدار میں دینے کی طاقت رکھتا ہو تو مہر زیادہ دینامکروہ نہیں الا یہ کہ کوئی شخص فخرومباہات کے سبب ایسا کرے۔اور اگر وہ عاجز اور تنگ دست ہے تو مہر کی رقم زیادہ مقرر کرنا نہ صرف مکروہ ہے بلکہ حرام ہے…”[۔الفتاوی الکبریٰ الاختیارات العلمیۃ، باب الصداق:5/468۔]

پس خلاصہ یہ ہے کہ مہر کا زیادہ ہونا مطلقاً مکروہ نہیں، لیکن اگر اس میں فخر، اسراف، یا شوہر پر ناقابلِ برداشت بوجھ ہو تو یہ ناپسندیدہ بلکہ بعض صورتوں میں حرام ہے۔

② آج کل لوگ شادی کرنے والے کی غربت اور تنگ دستی دیکھے بغیر بھاری مہر مقرر کردیتے ہیں، اور اس کے ساتھ مزید بوجھ، مثلاً قیمتی کپڑے، بھاری زیورات، مہنگے کھانے اور فضول اخراجات، اس پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ سب نکاح کی راہ میں رکاوٹیں ہیں اور غیروں کی بری تقلید ہیں۔ اس کا مقابلہ کرنا اور نکاح کو آسان بنانا ضروری ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” أَعْظَمُ النِّسَاءِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُنَّ مَئُونَةً "
” وہ عورتیں عظیم برکت کا باعث ہیں جن کے نکاح اور نان ونفقہ کاخرچ کم ہو۔”[۔مسند احمد :6/145 والسنن الکبریٰ للبیہقی 7/235 والمستدرک للحاکم 2/195 حدیث 2732۔]

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

"قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَلاَ لاَ تَغْلُوا صُدُقَ النِّسَاءِ …”
"خبردار! عورتوں کے مہر میں غلو نہ کرو…”[۔سنن ابی داود النکاح باب الصداق حدیث 2106 وجامع الترمذی النکاح باب ما جاء فی مھور النساء حدیث 1114۔وسنن النسائی، النکاح باب القسط فی الاصدقۃ حدیث 3351،واللفظ لہ۔]

اس روایت سے معلوم ہوا کہ مہر کے زیادہ ہونے سے کبھی خاوند کے دل میں بیوی کے لیے عداوت پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی لیے آسان مہر والی عورت زیادہ بابرکت قرار دی گئی ہے۔

③ مہر کی مشروعیت کی حکمت یہ ہے کہ یہ عورت سے استمتاع کا معاوضہ بھی ہے اور اس کی عزت و تکریم کا اظہار بھی۔

④ نکاح کے وقت مہر کا نام لینا اور اسے متعین کرنا مستحب ہے تاکہ بعد میں اختلاف نہ ہو۔

⑤ نکاح کے بعد بھی مہر مقرر کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿لا جُناحَ عَلَيكُم إِن طَلَّقتُمُ النِّساءَ ما لَم تَمَسّوهُنَّ أَو تَفرِضوا لَهُنَّ فَريضَةً…﴿٢٣٦﴾… سورة البقرة
"اگر تم عورتوں کو بغیر ہاتھ لگائے اور بغیر مہر مقرر کیے طلاق دے دوتو بھی تم پر کوئی گناہ نہیں۔”[ ۔البقرۃ:2/236۔]

⑥ جو چیز بیع میں قیمت اور اجارے میں اجرت بن سکتی ہو، وہ مہر بھی بن سکتی ہے، خواہ معین مال ہو، کوئی وعدہ شدہ چیز ہو، یا کوئی معین خدمت یا کام۔

مہر سے متعلق اہم مسائل

① مہر کی مالک خود عورت ہے، اس کا ولی نہیں، الا یہ کہ عورت خوشی سے کچھ یا سارا مہر کسی کو دے دے۔
﴿وَءاتُوا النِّساءَ صَدُقـٰتِهِنَّ نِحلَةً…﴿٤﴾… سورة النساء
"اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دو۔”[۔النساء 4/4۔]

البتہ باپ بعض شرائط کے ساتھ عورت کی اجازت کے بغیر بھی لے سکتا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"أنت ومالك لأبيك”
"اور تم اور تمہارا مال(سب کچھ) تمہارے باپ کا ہے۔”[۔سنن ابن ماجہ التجارات باب ما للرجل من مال ولدہ؟حدیث:2291۔]

② مہر عقدِ نکاح ہوتے ہی عورت کی ملکیت میں آنا شروع ہوجاتا ہے، البتہ وطی، خلوت یا موت کے بعد مکمل طور پر ثابت ہوجاتا ہے۔

③ اگر شوہر نے دخول اور خلوت سے پہلے طلاق دی اور مہر مقرر ہوچکا تھا تو نصف مہر دینا ہوگا:
﴿وَإِن طَلَّقتُموهُنَّ مِن قَبلِ أَن تَمَسّوهُنَّ وَقَد فَرَضتُم لَهُنَّ فَريضَةً فَنِصفُ ما فَرَضتُم …﴿٢٣٧﴾… سورة البقرة
"اور اگر تم عو رتوں کو اس سے پہلے طلاق دے دو کہ تم نے انھیں ہاتھ لگایا ہو اور تم نے ان کا مہر بھی مقرر کر دیا ہوتو مقررہ مہر کا آدھا مہر دے دو۔”[۔البقرۃ:2/237۔]

اور فرمایا:

﴿إِلّا أَن يَعفونَ أَو يَعفُوَا۟ الَّذى بِيَدِهِ عُقدَةُ النِّكاحِ…﴿٢٣٧﴾… سورة البقرة
"یہ اور بات ہے کہ وہ خود معاف کردیں یا وہ شخص معاف کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ(معاملہ) ہے۔”[البقرۃ:2/237۔]

نیز فرمایا:

﴿وَأَن تَعفوا أَقرَبُ لِلتَّقوىٰ وَلا تَنسَوُا الفَضلَ بَينَكُم… ﴿٢٣٧﴾… سورة البقرة
"تمہارا معاف کردینا تقوے کے بہت نزدیک ہے،اور تم آپس میں بھلائی اور احسان کرنا مت بھولو۔”[۔البقرۃ:2/237۔]

④ نکاح کی وجہ سے جو بھی وصول کیا جائے، مثلاً باپ یا بھائی کے لیے لباس وغیرہ، وہ بھی مہر میں شامل ہوگا۔

⑤ اگر مہر میں غصب شدہ مال یا حرام چیز دی گئی ہو تو نکاح صحیح ہوگا، مگر مرد پر لازم ہوگا کہ عورت کو مہرِ مثل ادا کرے۔

⑥ اگر نکاح کے وقت مہر مقرر نہ کیا گیا ہو تو نکاح صحیح ہے، اور اسے تفویض کہتے ہیں۔ اس صورت میں مہرِ مثل مقرر ہوگا۔
﴿لا جُناحَ عَلَيكُم إِن طَلَّقتُمُ النِّساءَ ما لَم تَمَسّوهُنَّ أَو تَفرِضوا لَهُنَّ فَريضَةً…﴿٢٣٦﴾… سورة البقرة
"اگر تم عورتوں کو بغیر ہاتھ لگائے ہوئے اور بغیر مہر مقرر کیے طلاق دے دو تو بھی تم پر کوئی گناہ نہیں۔”[۔البقرۃ:2/236۔]

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ ایسے نکاح میں، اگر شوہر وطی سے پہلے فوت ہوجائے، تو عورت کو مہرِ مثل، عدت اور میراث تینوں ملیں گے۔ یہ فیصلہ بروع بنت واشق رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے واقعے میں بھی آیا۔[۔سنن ابی داود النکاح باب فیمن تزوج ولم یسم لھا صداقا حتی مات،حدیث 2114،وجامع الترمذی النکاح باب ماجاء فی الرجل یتزوج المراۃ فیموت عنھا قبل ان یفرض لھا،حدیث:1145واللفظ لہ۔]

⑦ اگر شوہر نے بیوی کو قبل از دخول طلاق دی اور مہر بھی مقرر نہ تھا تو اسے چاہیے کہ اپنی استطاعت کے مطابق عورت کو کچھ متاع دے:
﴿لا جُناحَ عَلَيكُم إِن طَلَّقتُمُ النِّساءَ ما لَم تَمَسّوهُنَّ أَو تَفرِضوا لَهُنَّ فَريضَةً وَمَتِّعوهُنَّ …﴿٢٣٦﴾… سورة البقرة
"اگر تم عورتوں کو بغیر ہاتھ لگائے اور بغیر مہر مقرر کئے طلاق دے دو تو بھی تم پر کوئی گناه نہیں، ہاں انہیں کچھ نہ کچھ فائده دو…”[۔البقرۃ:2/236۔]

⑧ اگر خلوت یا دخول ہوگیا تو عورت کے لیے پورا مہرِ مثل لازم ہوگا۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے خلفائے راشدین کا فیصلہ یوں نقل کیا ہے:

"مَنْ أَغْلَقَ بَاباً وَأَرْخَى سِتْرَاً عَلَى الْمَرْأَة فَقَدْ وَجَبَ لَهَا الصَّدَاقُ "
"جس نے دروازہ بند کرلیا اور پردہ لٹکالیا اس پر مہر واجب ہوگیا۔”[۔سنن دارقطنی :3/121حدیث3778۔ 3779والمصنف لابن ابی شیبۃ:3/512والمغنی:8/63۔]

⑨ عورت کو حق ہے کہ وہ معجل مہر کی ادائیگی سے پہلے شوہر کو اپنے قریب نہ آنے دے۔ لیکن اگر سارامہر مؤجل ہو یا وہ ایک بار خلوت کی اجازت دے چکی ہو تو پھر یہ حق باقی نہیں رہتا۔

ولیمے کا بیان

ولیمے کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کا مکمل ہونا اور جمع ہونا۔ شادی کے موقع پر کھانا کھلانے کو ولیمہ اس لیے کہتے ہیں کہ اس سے مرد اور عورت کا اجتماع مکمل ہوتا ہے۔

فقہاء اور اہل لغت کی اصطلاح میں مرد کی طرف سے شادی کے موقع پر جو کھانا کھلایا جائے، اسی کو ولیمہ کہا جاتا ہے۔ دیگر کھانوں کے لیے مناسبت کے لحاظ سے دوسرے نام ہیں۔

اہل علم کا اتفاق ہے کہ ولیمہ سنت ہے، جبکہ بعض علماء کے نزدیک واجب ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا اور اس کی دعوت قبول کرنے کی تاکید فرمائی۔

سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اپنے نکاح کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"أولم ولو بشاة”
"ولیمہ کروچاہے ایک بکری کا ہو۔”[۔صحیح البخاری،البیوع باب ماجاء فی قول اللّٰه عزوجل(فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا…..)(الجمعۃ62/ 10،11)،حدیث:2049،وصحیح مسلم النکاح باب الصداق وجواز کونہ تعلیم قرآن۔۔۔،حدیث:1427۔]

اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امہات المؤمنین حضرت زینب، صفیہ اور میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے نکاح پر ولیمہ کیا۔

① ولیمے کے وقت میں وسعت ہے۔ اس کی ابتدا عقد نکاح سے اور اختتام شادی کے مکمل ہونے تک ہوسکتا ہے۔

② بعض فقہاء کے نزدیک ایک بکری سے کم ولیمہ نہ ہو، مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ حسبِ استطاعت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نکاح پر حیس کے ذریعے ولیمہ کیا تھا، جو آٹا، گھی اور پنیر وغیرہ سے تیار کیا جاتا تھا۔[۔صحیح البخاری الصلاۃ باب ما یذکر فی الفخذ؟حدیث:371۔] اس سے معلوم ہوا کہ گوشت کے بغیر بھی ولیمہ جائز ہے۔

③ ولیمے میں فضول خرچی حرام اور ناجائز ہے، جیسا کہ آج کل بہت سے مقامات پر ہوتا ہے کہ بکریاں، اونٹ ذبح کیے جاتے ہیں، بے شمار کھانے تیار ہوتے ہیں اور پھر ضائع کردیے جاتے ہیں۔ یہ شریعت کے خلاف، عقل کے خلاف، اور نعمت کی ناقدری ہے۔

ان تقریبات میں فخر و مباہات، دولت کی نمائش، منکرات، مرد و زن کا اختلاط، بے پردگی، گانے باجے، فوٹوگرافی، مووی سازی اور بے جا سرمایہ خرچ کرنا عام ہوچکا ہے۔ یہ سب فتنے، فساد اور دینی و معاشرتی خرابیوں کے اسباب ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَكَم أَهلَكنا مِن قَريَةٍ بَطِرَت مَعيشَتَها …﴿٥٨﴾… سورة القصص
"اور ہم نے بہت سی وہ بستیاں تباہ کردیں جو اپنی عیش وعشرت میں اترانے لگی تھیں۔”[۔القصص 28/58۔]

اور فرمایا:

﴿وَكُلوا وَاشرَبوا وَلا تُسرِفوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ المُسرِفينَ ﴿٣١﴾… سورة الاعراف
"اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سےمت نکلو۔بے شک اللہ حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”[۔ الاعراف 7/31۔]

اور فرمایا:

﴿كُلوا وَاشرَبوا مِن رِزقِ اللَّهِ وَلا تَعثَوا فِى الأَرضِ مُفسِدينَ ﴿٦٠﴾… سورة البقرة
"(اور ہم نے کہہ دیا کہ) اللہ کا رزق کھاؤ پیو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔”[۔البقرۃ:2/60۔]

④ جس شخص کو دعوتِ ولیمہ دی جائے، اسے قبول کرنا چاہیے، بشرطیکہ یہ شرطیں پائی جائیں:

◈ وہ پہلے دن کا ولیمہ ہو، کیونکہ حدیث میں ہے:

"الْوَلِيمَةُ أَوَّلَ يَوْمٍ حَقٌّ وَالثَّانِيَ مَعْرُوفٌ وَالْيَوْمَ الثَّالِثَ سُمْعَةٌ وَرِيَاءٌ”
"پہلے دن کاولیمہ ضروری ہے ،دوسرے دن کا نیکی ہے اور تیسرے دن کاشہرت اور ریاکاری ہے۔”[۔(ضعیف) سنن ابن ماجہ النکاح باب اجابۃ الداعی حدیث 1915،وسنن ابی داود الاطعمۃ باب فی کم تستحب الولیمۃ؟حدیث 3745 واللفظ لہ۔]

◈ دعوت دینے والا مسلمان ہو۔
◈ وہ ظاہری فسق و فجور اور ایسے کبائر کا مرتکب نہ ہو جن کی وجہ سے اس سے بائیکاٹ لازم ہو۔
◈ دعوت خاص ہو، عام اعلان نہ ہو۔
◈ تقریب میں کوئی خلافِ شرع کام نہ ہو، مثلاً شراب، فحش گانے، باجے وغیرہ۔

جب یہ شرائط موجود ہوں تو دعوت ولیمہ قبول کرنا واجب ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ, يُمْنَعُهَا مَنْ يَأْتِيهَا, وَيُدْعَى إِلَيْهَا مَنْ يَأْبَاهَا, وَمَنْ لَمْ يُجِبْ الدَّعْوَةَ, فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ”
"بدترین کھانا اس ولیمے کاکھانا ہے جس میں آنے والے کو روکا جائے اور جوانکاری ہیں ان کو بلایا جائے۔جس نے دعوت ولیمہ قبول نہ کی اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔”[۔صحیح مسلم النکاح باب الامر باجابۃ الداعی الی دعوۃ حدیث (110) ۔1432۔]

⑤ نکاح کا اعلان کرنا مسنون ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"أَعْلِنُوا النِّكَاحَ "
"اس نکاح کا اعلان کرو۔”[۔(ضعیف) سنن ابن ماجہ،النکاح باب اعلان النکاح،حدیث:1895۔]

⑥ نکاح کی تقریب میں عورتوں کے لیے دف بجانا جائز ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَرَامِ والْحَلاَلِ الدّفّ والصّوْتُ”
"حلال اورحرام نکاح میں امتیاز دف بجانے اور آواز سے ہوتا ہے۔”[۔جامع الترمذی النکاح باب ما جاء فی اعلان النکاح حدیث 1088،وسنن النسائی النکاح باب اعلان النکاح بالصوت وضرب الدف،حدیث:3371 واللفظ لہ، ومسند احمد 3/418 یعنی خفیہ حرام نکاح میں گانے اور دف کی آوازیں شامل نہیں ہوتیں۔]

عورتوں سے برتاؤ کا بیان

عورتوں سے برتاؤ سے مراد وہ محبت، الفت، میل جول اور حسنِ معاشرت کے تعلقات ہیں جو زوجین کے درمیان نہایت ضروری ہیں۔ میاں بیوی دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق خوش دلی سے ادا کریں، ایک دوسرے کو تکلیف نہ دیں، اور احسان نہ جتلائیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ وَعاشِروهُنَّ بِالمَعروفِ …﴿١٩﴾… سورة النساء
"ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو۔”[۔النساء:4/19۔]

اور فرمایا:

﴿وَلَهُنَّ مِثلُ الَّذى عَلَيهِنَّ بِالمَعروفِ …﴿٢٢٨﴾… سورة البقرة
"اور ان عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں۔”[۔البقرۃ:2/228۔]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ”
"تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل واعیال کے حق میں بہتر ہو۔”[سنن ابن ماجہ ،النکاح باب حسن معاشرۃ النساء ،حدیث :1977]

اور فرمایا:

"لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِغَيْرِ اللَّهِ ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا "
"اگر میں نے کسی کو حکم دینا ہوتا کہ وہ کسی انسان کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔”[۔سنن ابی داود، النکاح، باب فی حق الزوج علی المراۃ ،حدیث 2140 وجامع الترمذی، الرضاع، باب ماجاء فی حق الزوج علی المراۃ، حدیث 1159۔] "کیونکہ اس کا عورت پر بہت بڑا حق ہے۔”[۔السنن الکبریٰ للنسائی ،عشرۃ النساء ، باب حق الرجل علی المراۃ ،حدیث:9147۔]

ایک اور روایت میں آیا ہے:

"إذا باتت المرأة هاجرة فراش زوجها لعنتها الملائكة حتى تصبح”
"اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے بستر سے دور رہ کر(حالت ناراضی میں) رات بسر کرتی ہے تو فرشتے اس پر صبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں۔”[صحیح البخاری النکاح باب اذا باتت المراۃ مھاجرۃ فراش زوجھا حدیث5194۔وصحیح مسلم النکاح باب تحریم امتناعھا من فراش زوجھا حدیث 1436 واللفظ لہ]

زوجین کے باہمی حقوق اور حسنِ معاشرت کے آداب

① میاں بیوی دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک، نرمی اور برداشت سے پیش آئیں۔ اگر ایک طرف سے تکلیف پہنچے تو دوسرا صبر کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ وَبِالو‌ٰلِدَينِ إِحسـٰنًا وَبِذِى القُربىٰ وَاليَتـٰمىٰ وَالمَسـٰكينِ وَالجارِ ذِى القُربىٰ وَالجارِ الجُنُبِ وَالصّاحِبِ بِالجَنبِ …﴿٣٦﴾… سورة النساء
"اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو اوررشتے داروں،یتیموں،قرابت دارہمسائے،اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی سے(بھی نیکی کرو۔)”[۔النساء:4/36۔]

کہا گیا ہے کہ یہاں (وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ) سے مراد زوجین میں سے ہر ایک ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّهُنَّ عِنْدَكُمْ عَوَانٍ”
"میں تمھیں عورتوں سے حسن سلوک کی نصیحت کرتا ہوں کیونکہ وہ تمہارے ماتحت ہیں۔”[۔جامع الترمذی الرضاع باب ماجاء فی حق المراۃ علی زوجھا حدیث 1163 وسنن ابن ماجہ النکاح باب حق المراۃ علی الزوج حدیث 1851 واللفظ لہ۔]

② شوہر کو چاہیے کہ اگر بیوی میں کوئی ناپسندیدہ بات ہو تب بھی اسے اپنے ساتھ بسانے اور نباہ کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ وَعاشِروهُنَّ بِالمَعروفِ فَإِن كَرِهتُموهُنَّ فَعَسىٰ أَن تَكرَهوا شَيـًٔا وَيَجعَلَ اللَّهُ فيهِ خَيرًا كَثيرًا ﴿١٩﴾… سورة النساء
"اور تم ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو،گوتم انھیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو براجانو اور اللہ اس میں بہت ہی بھلائی کردے۔”[۔النساء:4/19۔]

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ شاید اللہ تعالیٰ اس عورت کے ذریعے ایسی اولاد دے جو خیرِ کثیر اور سکون کا باعث ہو۔[۔تفسیر ابن کثیر 1/639،النساء 4/19۔]

اور صحیح حدیث میں ہے:

"لا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ أَوْ قَالَ غَيْرَهُ "
"مومن شوہر مومنہ بیوی سے نفرت نہ کرے،اگر کسی ایک خصلت کے سبب وہ ناراض ہے تو ممکن ہے کسی دوسری خصلت کے باعث اس سے راضی ہوجائے۔”[۔صحیح مسلم الرضاع باب الوصیۃ بالنساء حدیث :1467،ومسند احمد:2/329۔]

③ زوجین میں سے کسی کے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ دوسرے کے حقوق ادا کرنے میں ٹال مٹول کرے یا کراہت ظاہر کرے۔

④ جب عقد ہوچکا ہو اور شوہر بیوی کو اپنے گھر بلائے تو اسے اس کے سپرد کرنا لازم ہے، بشرطیکہ وہ اس عمر کو پہنچ چکی ہو کہ وطی ہوسکتی ہو، الا یہ کہ اس نے نکاح کے وقت اپنے گھر یا اپنے شوہر میں رہنے کی شرط رکھی ہو۔

⑤ شوہر کے لیے جائز ہے کہ بیوی کو سفر میں ساتھ لے جائے، بشرطیکہ اس میں معصیت نہ ہو اور اس کے دین کو خطرہ نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اپنی بیویوں کو سفر میں ساتھ لے جاتے تھے۔

لیکن آج کے دور میں غیر اسلامی ممالک یا اباحت و فساد کے مراکز کی طرف سیر و تفریح یا کھیل تماشے کے لیے بیوی کو لے جانا درست نہیں، کیونکہ وہاں اخلاقی قباحتیں اور دینی خطرات بہت زیادہ ہیں۔ اس لیے عورت کو ایسے سفر سے انکار کرنا چاہیے، اور اس کے ولی کو بھی اسے روکنا چاہیے۔

⑥ آج کے دور میں شادی کے بعد "ہنی مون” منانے کے لیے کافر ممالک کا رخ کرنا بھی حرام ہے، کیونکہ وہاں پردے کا خاتمہ، کفار کے لباس و اطوار کی پسندیدگی، ان کی تقلید، لہو و لعب کے مقامات کی زیارت اور بہت سی اخلاقی خرابیوں کا اندیشہ ہے، خصوصاً عورتیں ان برے مظاہر سے زیادہ متاثر ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا اپنی عورتوں کو اس سے بچانا واجب ہے۔ اگر بے غیرت مرد اصرار کرے تو عورت کے اولیاء کو چاہیے کہ اپنی بہن یا بیٹی کو روک لیں، چاہے طلاق تک معاملہ پہنچ جائے۔

⑦ شوہر کے لیے حیض کی حالت میں بیوی سے وطی حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَيَسـَٔلونَكَ عَنِ المَحيضِ قُل هُوَ أَذًى فَاعتَزِلُوا النِّساءَ فِى المَحيضِ وَلا تَقرَبوهُنَّ حَتّىٰ يَطهُرنَ فَإِذا تَطَهَّرنَ فَأتوهُنَّ مِن حَيثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوّ‌ٰبينَ وَيُحِبُّ المُتَطَهِّرينَ ﴿٢٢٢﴾… سورة البقرة
"آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیئے کہ وه گندگی ہے، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وه پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ، ہاں جب وه پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے، اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے”[۔البقرۃ:2/222۔]

⑧ اگر عورت نظافت کا خیال نہ رکھتی ہو تو خاوند اسے پابند کرسکتا ہے کہ اپنے جسم کی صفائی کرے، میل کچیل دور کرے، ازالۂ مواضع کرے، ناخن تراشے اور بدبودار چیزیں نہ کھائے، کیونکہ یہ چیزیں نفرت پیدا کرتی ہیں۔

⑨ شوہر اپنی بیوی کو نجاست دھونے، فرض نماز ادا کرنے، اور دیگر واجبات کے اہتمام پر مجبور کرے گا۔ اگر وہ کوتاہی کرے تو مناسب سرزنش کرے، اور اگر نہ مانے تو اسے اپنے پاس رکھنا حرام ہوگا۔ اسی طرح وہ اسے حرام کاری سے سختی کے ساتھ روکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿الرِّجالُ قَوّ‌ٰمونَ عَلَى النِّساءِ بِما فَضَّلَ اللَّهُ بَعضَهُم عَلىٰ بَعضٍ…﴿٣٤﴾… سورة النساء
"مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے۔”[۔النساء:4/34۔]

اور فرمایا:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا قوا أَنفُسَكُم وَأَهليكُم نارًا وَقودُهَا النّاسُ وَالحِجارَةُ عَلَيها مَلـٰئِكَةٌ غِلاظٌ شِدادٌ لا يَعصونَ اللَّهَ ما أَمَرَهُم وَيَفعَلونَ ما يُؤمَرونَ ﴿٦﴾… سورة التحريم
"اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں”[۔التحریم:66/6۔]

اور فرمایا:

﴿وَأمُر أَهلَكَ بِالصَّلو‌ٰةِ وَاصطَبِر عَلَيها … ﴿١٣٢﴾… سورة طه
"اپنے گھرانے کے لوگوں کو نمازکا حکم دیجئے اور(خود بھی) اس پر قائم رہیے۔”[طہٰ:20/132۔]

اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:

﴿وَاذكُر فِى الكِتـٰبِ إِسمـٰعيلَ إِنَّهُ كانَ صادِقَ الوَعدِ وَكانَ رَسولًا نَبِيًّا ﴿٥٤﴾ وَكانَ يَأمُرُ أَهلَهُ بِالصَّلو‌ٰةِ وَالزَّكو‌ٰةِ وَكانَ عِندَ رَبِّهِ مَرضِيًّا ﴿٥٥﴾… سورة مريم
"اس کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام) کا واقعہ بھی بیان کر، وه بڑا ہی وعدے کا سچا تھا اور تھا بھی رسول اور نبی (54) وه اپنے گھر والوں کو برابر نماز اور زکوٰة کاحکم دیتا تھا، اور تھا بھی اپنے پروردگار کی بارگاه میں پسنديده اور مقبول "[۔مریم:19/54،55۔]

⑩ شوہر اپنی بیوی کے بارے میں مسئول ہے۔ وہ اس پر نگران اور حاکم ہے، اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ چونکہ عورت نے اولاد کی تربیت بھی کرنی ہوتی ہے اور شوہر کے بعد گھر کی ذمہ دار بھی وہی ہوتی ہے، اس لیے اس کا دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت یافتہ ہونا نہایت ضروری ہے، ورنہ مرد کی اولاد اور خاندان میں فساد آسکتا ہے۔

تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں، ان کے روز مرہ احوال پر نظر رکھیں اور ان کے حقوق و تصرفات کا خیال کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّهُنَّ عِنْدَكُمْ عَوَانٍ”
"میں تمھیں عورتوں سے حسن سلوک کی نصیحت کرتا ہوں کیونکہ وہ تمہارے ماتحت ہیں۔”[۔صحيح مسلم الرضاع باب الوصیۃ بالنساء قبل حدیث (61) ۔1467۔]

⑪ شوہر کو چاہیے کہ اگر بیوی آزاد ہے تو چار راتوں میں سے ایک رات ضرور اس کے پاس گزارے، بشرطیکہ بیوی اس کا مطالبہ کرے۔ بعض فقہاء نے یہ فیصلہ سیدنا کعب بن سوار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیصلے سے لیا ہے، جو امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے پیش ہوا۔ البتہ شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس استدلال میں نظر ہے۔[۔الفتاویٰ الکبریٰ الاختیارات العلمیۃ باب عشرۃ النساء:5/481۔]

⑫ شوہر پر لازم ہے کہ قدرت ہونے کی صورت میں چار ماہ میں کم از کم ایک مرتبہ بیوی سے مجامعت کرے، بشرطیکہ بیوی اس کی خواہش رکھتی ہو۔ اس مدت کی بنیاد ایلاء کے مسئلے میں مقرر چار ماہ ہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” خاوند پر اس قدر عمل زوجیت کی ادائیگی واجب ہے جس سے عورت کی خواہش جائز حد تک پوری ہوتی رہے،یعنی خاوند کو نقصان نہ پہنچے یا روزی کمانے کا عمل متاثر نہ ہو۔اس سلسلے میں کسی خاص مدت کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔”

⑬ اگر شوہر نصف سال سے زیادہ مدت کے لیے سفر میں رہے، پھر بیوی اسے واپس آنے کو کہے، تو اسے واپس آنا لازم ہے، الا یہ کہ سفر حج یا فرض جہاد کا ہو یا واپسی پر قدرت نہ ہو۔ اگر بلاعذر واپس آنے سے انکار کرے اور بیوی خلع کا مطالبہ کرے، تو حاکم مراسلت کے بعد ان میں تفریق کرسکتا ہے۔

شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"ترک وطی سے بیوی کانقصان اس امر کا متقاضی ہے کہ نکاح کو ہرحال میں فسخ قراردیا جائے۔اس میں خاوند کا قصد وارادہ شامل ہو یا نہ ہو خاوند کو مجامعت پر قدرت ہویا نہ ہو جیسا کہ بیوی کے نان ونفقہ کے بارے میں حکم ہے۔”[۔الفتاویٰ الکبریٰ الاختیارات العلمیۃ باب عشرۃ النساء 5/481،482]

⑭ میاں بیوی دونوں پر حرام ہے کہ اپنی خلوت اور مجامعت کے حالات دوسروں کے سامنے بیان کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا "
"روز قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بُرا مرتبہ اس شخص کاہوگا جو اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے اور بیوی اس سے لطف واندوز ہوتی ہے،پھر مرد اپنی بیوی کے راز(دوسروں کے آگے) کھولتا ہے۔”[۔صحیح مسلم النکاح باب تحریم افشاء سرالمراۃ حدیث:1437۔]

⑮ شوہر کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی بیوی کو بلا ضرورت گھر سے نکلنے سے روکے۔ عورت پر بھی لازم ہے کہ وہ شوہر کی اجازت کے بغیر بلا ضرورت باہر نہ جائے۔ البتہ اگر کوئی ضروری اور جائز کام ہو، جیسے محرم رشتہ دار کی تیمارداری، تو شوہر کو اجازت دینی چاہیے۔

⑯ شوہر کے لیے جائز نہیں کہ وہ بیوی کے والدین کو اس سے ملنے سے روکے، مگر اگر اس سے کوئی ضرر یا خرابی کا اندیشہ ہو تو روک سکتا ہے۔

⑰ شوہر کو یہ حق ہے کہ بیوی کو محنت مزدوری یا ملازمت سے روک دے، کیونکہ نان و نفقہ اس کے ذمہ ہے، اور ایسے ماحول میں شوہر کے حقوق، اولاد کی تربیت، اور عورت کے دین و اخلاق کے لیے خطرات موجود ہوتے ہیں، خصوصاً اس دور میں جہاں مرد و عورت کا اختلاط، خلوت اور بے حیائی عام ہوچکی ہے۔

⑱ شوہر اپنی بیوی کو پہلے خاوند کے بچے کو دودھ پلانے سے روک سکتا ہے، الا یہ کہ کوئی سخت ضرورت پیش آجائے۔

⑲ اگر عورت کے والدین اسے شوہر سے علیحدہ ہونے پر مجبور کریں تو عورت ان کی اطاعت نہ کرے۔ اسی طرح اگر وہ اپنی زیارت کے لیے بلائیں اور شوہر راضی نہ ہو تو بھی شوہر کا حق مقدم ہوگا، کیونکہ شوہر کی اطاعت کا حق والدین کی اطاعت سے بڑھ کر ہے۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ سیدنا حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پھوپھی کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

( أذات زوج أنت؟ ) قالت: نعم، قال ( كيف أنت له ؟ ) قالت : ما آلوه إلا ما عجزت عنه، قال: ( فانظري أين أنت منه، فإنما هو جنتك ونارك )
"کیا تم شوہر والی ہو؟” اس نے کہا:جی ہاں! آپ نے پوچھا:” کیا تو اس کی خدمت کرتی ہے؟”وہ کہنے لگی: میں مقدور بھر اس کی خدمت بجالاتی ہوں،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” تم غور کرنا اس(شوہر) کامقام ومرتبہ تیرے مقابلے میں کس قدر بلند ہے کہ وہ تیری جنت ہے یا جہنم ہے۔”[۔مسند احمد:4/341۔]

⑳ اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو خاوند پر فرض ہے کہ ان کے درمیان وقت، حقوق کی ادائیگی اور رات گزارنے میں مساوات قائم رکھے، ورنہ یہ ظلم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَعاشِروهُنَّ بِالمَعروفِ …﴿١٩﴾…سورة النساء

ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو۔ [۔النساء:4/19۔]

اور ارشاد ہے:

۔…..فَلا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ…..

پھر تم بالکل ایک ہی طرف مائل ہوکر دوسری کو بیچ میں لٹکتی ہوئی نہ چھوڑو۔[۔النساء:4/129۔]

واضح رہے باری کی ادائیگی رات گزارنے سے سمجھی جائے گی کیونکہ انسان رات کو گھر آتا ہے اور بیوی سے راحت حاصل کرتا ہے،البتہ جس آدمی کو ڈیوٹی یاکاروبار رات کو ہو جیسے چوکیدار وغیرہ تو وہ اپنی بیویوں کے درمیان دن کو باری تقسیم کرے کیونکہ اس کے لیے دن ایسے ہے جیسے دوسروں کے لیے رات۔

21۔اگر کوئی بیوی حیض یا نفاس کے ایام میں ہو یا بیمار ہوتوبھی اس کے ہاں رات بسرکرے کیونکہ مقصود محبت وپیاراور سکون ہے جو بیوی کو شوہر کے پاس رات گزارنے سے حاصل ہوتا ہے،خواہ صحبت ومجامعت نہ بھی ہو۔ایام کی تقسیم میں ایک کو دوسری پر ترجیح نہ دے بلکہ ان میں قرعہ اندازی کا طریقہ اپنائے یا ان کی رضا مندی سے ابتدا کرے۔رضا مندی کے بغیر کسی سے تقسیم ایام کی ابتدا کرنا اسے دوسری بیویوں پر ترجیح اور فضیلت دینے کے مترادف ہے جو ناجائز ہے۔ان میں مساوات رکھنا فرض ہے۔اسی طرح اگر سفرمیں کسی بیوی کو لے جانا چاہتا ہے تو قرعہ اندازی سے یا ان کی باہمی رضا مندی سے ایسا کرے کیونکہ حدیث میں ہے:

…كان رسول اللٰه صلى اللٰه عليه وسلم إذا أراد سفرا أقرع بين نسائه ، فأيتهن خرج سهمها خرج بها معه ….

رسول اللہﷺجب سفر میں جانے کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے جس کے نام کا قرعہ نکلتا،اسے ساتھ لے جاتے تھے۔[صحیح البخاری الھبۃ باب ھبۃ المراۃ لغیر زوجھا۔۔۔،حدیث:2593۔]

بیوی کا نفقہ اور باری کب ساقط ہوتی ہے؟

جو عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر سفر پر روانہ ہو جائے یا اس کے شوہر کی اجازت تو ہو لیکن وہ اپنی کسی ذاتی ضرورت کے لیے سفر پر جائے تو اس کی باری اور نفقے کا حق ساقط ہو جاتا ہے کیونکہ اگر اس کا سفر خاوند کی اجازت کے بغیر ہے تو وہ نافرمان واقع ہوگی اور اگر اسے خاوند کی اجازت حاصل ہے تو عورت کی جانب سے اور اس کے ذاتی کام کی وجہ سے اس میں تعطل پیدا ہوا ہے۔اگر مرد نے اپنی بیوی کو سفر میں اپنے ساتھ لے جانا چاہا لیکن اس نے انکار کر دیا تب بھی وہ نفقے کی حق دار نہ ہو گی کیونکہ اس نے شوہر کی حکم عدولی کی ہے۔اگر کسی عورت نے اپنے شوہر کے ساتھ شب بسری کرنے سے انکار کر دیا تو بھی وہ نفقے اور اپنی باری سے محروم ہو گی کیونکہ وہ اس انکار کے سبب نافرمان شخص کی طرح ہے۔اگر کوئی اپنی بیوی کے پاس ایسی رات یا دن کو جائے جس میں اس کی باری نہ تھی تو ایسا کرنا ناجائز ہے الایہ کہ اسے کوئی انتہائی ضروری کام پڑ جائے ۔اگر کسی عورت نے شوہر کی اجازت سے اپنی باری اپنی کسی سوکن کو ہبہ کر دی یا اس نے اپنے شوہر کو ہبہ کر دی کہ جس بیوی کو چاہے اس کی باری دے دے تو ایسا کرنا جائز ہے کیونکہ ایسا کرنے کا حق دونوں کو حاصل ہے، نیز دونوں راضی ہو چکی ہیں۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دی تھی ۔ اسی لیے آپ ﷺسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں دودن گزارا کرتے تھے۔ [صحیح البخاری، النکاح، باب المراۃ تهب یومھا حدیث:5212]

اگر عورت اپنی باری کسی کو ہبہ کر دے، پھر اس سے رجوع کر لے اور اپنی باری کی بحالی کا مطالبہ کردے تو شوہر کو چاہیے کہ مستقبل کے ایام میں اس کا مطالبہ پورا کرے۔عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی باری اور نفقے کے حق سے اس لیے دست بردار ہو جائے کہ خاوند اسے طلاق نہ دے اور وہ اس کے نکاح میں رہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۚ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ۔

اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بددماغی اور بے پروائی کا خوف ہو تو دونوں آپس میں جو صلح کر لیں اس میں کسی پر کوئی گناہ نہیں اور صلح بہت بہتر چیز ہے۔[۔النساء 4/128۔]

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس (مذکورہ) آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایک عورت آدمی کے نکاح میں ہوتی ہے۔لیکن اس کا شوہر عورت کی کسی کمزوری کے سبب اس سے زیادہ استمتاع نہیں کر پاتا جس کے سبب اسے طلاق دینا چاہتا ہے۔وہ کہتی ہے: تم مجھے طلاق نہ دو۔اپنے ہاں رکھو ،میرے نفقے اور باری کے حقوق میں تمھیں اپنی مرضی کرنے کا اختیار ہے۔ جب سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا عمررسیدہ ہو گئیں تو انھیں خدشہ محسوس ہوا کہ رسول اللہﷺ انھیں طلاق دے کر جدا کردیں گے۔ تو انھوں نے کہا : میں اپنا دن (رات گزارنے کی باری)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتی ہوں۔جو شخص دیگر بیویوں کی موجودگی میں کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو اس کے پاس مسلسل سات راتیں گزارے، پھر اس کے لیے باری مقرر کر دے۔ان سات دنوں کو باری میں شمار نہ کرے۔ اسی طرح اگر کسی بیوہ یا مطلقہ سے شادی کرے تو اس کے پاس مسلسل تین راتیں رہے۔ پھر اس کے لیے باری مقرر کردے اور یہ تین راتیں باری میں شمار نہ کرے ۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

من السنة إذا تزوج الرجل البكر على الثيب أقام عندها سبعا، وقسم، وإذا تزوج الثيب على البكر أقام عندها ثلاثا، ثم قسم۔۔

سنت یہ ہے کہ جب آدمی (دیگر بیویوں کے ہوتے ہوئے) کسی کنواری سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات راتیں گزارے۔ اس کے بعد(تمام) بیویوں کے درمیان باری قائم کرے۔ جب کسی ثیبہ مطلقہ یا بیوہ سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین راتیں گزارے، پھر باری تقسیم کرے۔”اس روایت کے راوی ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت "مرفوع حدیث”کے حکم میں ہے۔

[۔صحیح البخاری النکاح باب اذا تزوج الثیب علی البکر حدیث 5214۔وصحیح مسلم الرضاع باب قدر ما تستحقہ البکر والثیب من اقامۃ الزوج عندھا عقب الزفاف ،حدیث 1461۔]

اگر ثیبہ عورت پسند کرے کہ اس کا شوہر اس کے ہاں سات روز رہے تو اسے ایسا کر لینا چاہیے لیکن دوسری سوکنوں کو بھی اتنے ہی دن دے، پھر ہر ایک کے ہاں ایک ایک رات گزارنے کی تقسیم کرے۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ نے مجھ سے شادی کی تو آپ تین دن تک میرے ہاں رہے اور فرمایا: إنه ليس بك على أهلك هوان إن شئت سبعت لك وإن سبعت لك سبعت لنسائي۔۔

تو اپنے خاوند (رسول اللہﷺ) کی نظر میں بے قدر نہیں ،اگر تو چاہے تو میں تیرے ہاں سات دن گزاروں ۔ اگر تیرے ہاں سات دن گزاروں گا تو باقی بیویوں کے ہاں بھی سات دن ہی بسر کروں گا۔[صحیح مسلم الرضاع باب قدر تستحقہ البکروالثیب حدیث: 1460]

عورت پر حرام ہے کہ وہ اپنے شوہر کی جائز امور میں نافرمانی کرے۔ اگر شوہر نے اپنی بیوی میں نافرمانی اور معصیت کی علامات محسوس کیں ،مثلاً:وظیفہ زوجیت کے لیے اس کا قریب نہ آنا یا بوقت طلب اس کا بے رخی کا مظاہرہ کرنا تو ان حالات میں اولاً اسے پندونصائح کرے، خشیت الٰہی پیدا کرنے کی تلقین کرے، اس کی ذمے داریوں سے اسے آگاہ کرے۔شوہر کی مخالفت کرنے سے اللہ تعالیٰ کے ہاں جو گناہ و سزا ہے اسے یاد دلائے۔ اگر پھر بھی باز نہ آئے تو تین دن تک اس کو بستر سے الگ کردے اور بول چال بند رکھے اگر پھر بھی اپنا رویہ نہ بدلے تو اسے تادیباً مار سکتا ہے لیکن چہرے پر نہ مارے اور باقی رہنے والی چوٹ یا زخم نہ لگائے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَاللاَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ۔۔

اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمھیں خوف ہو تو انھیں نصیحت کرو اور انھیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انھیں ہلکی سزا دو۔[۔النساء:4/34]

جب زوجین میں سے ہر ایک کا یہ دعوی ہو کہ فریق ثانی اس پر ظلم کر رہا ہے اور باہم صلح و اصلاح مشکل دکھائی دے تو حاکم وقت کو چاہیے کہ دونوں کے خاندانوں میں سے ایک ایک فیصلہ کرنے والا عادل شخص مقرر کرےکیونکہ اقارب کو باطنی حالات کا زیادہ علم ہوتا ہے اور وہ امانت داری اور میاں بیوی کی اصلاح میں زیادہ مناسب ہوتے ہیں۔ اور ان دونوں پر واجب ہے کہ وہ صلح کروانے کی نیت سے بھر پور جدو جہد کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلاَحًا يُوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا۔۔

اگر تمھیں میاں بیوی کے درمیان آپس کی ان بن کا خوف ہو تو ایک منصف مردوالوں میں سے اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے مقرر کرو۔ اگر یہ دونوں صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ دونوں میں ملاپ کرادے گا۔ یقیناً اللہ بہت علم والا ،خوب خبردار ہے۔[النساء:4/35]

اس آیت کی روشنی میں دونوں نمائندے پوری کوشش کریں کہ زوجین کے حق میں کوئی بہتر صورت نکل آئے، وہ مل کر رہنے کی صورت ہو یا تفریق کی صورت ۔ یہ فیصلہ کسی معاوضے کے ساتھ ہو یا بغیر معاوضے کے، بہر حال جو بہتر صورت نظر آئے اس پر عمل کیا جائے تاکہ یہ مشکل حل ہو جائے۔