نکاح کی ترغیب سے متعلق قرآنی آیات اور صحیح احادیث

فونٹ سائز:
تحریر: حافظ عمران ایوب لاہوری
مضمون کے اہم نکات

نکاح کی ترغیب کا بیان

نکاح کو اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات میں شمار کیا

ارشاد باری تعالی ہے کہ:

وَ اللهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً…

اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تم میں سے ہی تمہاری بیویاں پیدا کیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے۔

[النحل :72]

 (شیخ عبد الرحمن سعدی)( اس آیت میں) اللہ اپنے بندوں پر اپنے عظیم احسان کے متعلق خبر دے رہے ہیں۔ کہ اس نے ان کے لیے بیویاں بنائیں تاکہ وہ ان سے اطمینان و سکون حاصل کریں۔ اور ان کے لیے ان کی بیویوں سے اولاد پیدا کی جس کے ذریعے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں اور وہ ( بچے ) ان (والدین ) کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ 

]تيسير الكريم الرحمن(1/597)[

پسندیدہ عورتوں سے نکاح کا حکم

ارشاد باری تعالٰی ہے کہ:

(فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ) 

جو عور تیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو۔

[النساء :3]

نکاح کے ذریعہ فقر و فاقے کا خاتمہ

ارشاد باری تعالی ہے کہ:

)وَ أَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ إِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ )

تم میں سے جو مرد عورت بے نکاح ہوں ان کا نکاح کر دو ,اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی اگر وہ فقیر و مفلس ہوں گے, تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنادے گا,اللہ تعالی کشادگی والا اورعلم والا ہے۔

 ( شیخ عبد الرحمن سعدی) (اس آیت میں( اللہ تعالیٰ اولیاء اور (غلاموں کے (مالکوں کو حکم دے رہے ہیں،کہ جو ان کی زیر سر پرستی غیر شادی شدہ افراد ہیں ان کا نکاح کرائیں۔ اور وہ ایسے افراد ہیں جو جوڑا نہ ہوں خواہ وہ مرد ہوں، شوہر دیدہ عور تیں ہوں یا کنواری عورتیں۔ لہذا قریبی شخص اور یتیم کے ولی پر واجب ہے کہ اپنے زیر کفالت افراد میں سے نکاح کے محتاج لوگوں کا نکاح کرائیں۔

نیز اس آیت میں نکاح کی ترغیب دلائی گئی ہے اور یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ شادی کرنے والے کے لیے فقر کے بعد غنا ہے۔ 

]تيسير الكريم الرحمن[(2/774)

(ابن عربی) اس آیت ”اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا کے متعلق دو قول ہیں، ایک یہ کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے نکاح کے ساتھ غنی کر دے گا ( یعنی غنا سے مراد نکاح ہی ہے ) جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے کہ: (وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِهِمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ) [النساء :130] اور اگر وہ علیحدگی اختیار کر لیں تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا ، یعنی کسی اور سے نکاح کرادے گا۔

دوسرا قول یہ ہے کہ اللہ انہیں مال کے ساتھ غنی کر دے گا (یعنی نکاح کے ذریعے اللہ ان کا فقر دورکر دے گا)۔ سلف کی ایک جماعت نے اسی موقف کو اختیار کیا ہے۔ سیدنا  ابن عمررضی اللہ عنہما کے متعلق مروی ہے، کہ انہوں نے فرمایا :ایسے شخص پر مجھے تعجب ہے جو نکاح کی رغبت نہیں رکھتا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ 

]تفسير أحكام القرآن لابن العربي (ص /279)[

نکاح باعث راحت و اطمینان

(1) ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:

)وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ( 

اس (اللہ ) کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ، اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی۔ یقینا غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ 

[الروم :22]

(2) سیدنا  انس رضی  اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

حبب إلي الطيب والنساء وجعلت قرة عيني في الصلاة

د نیاوی اشیاء میں سے میرے دل میں عورتوں اور خوشبو کی محبت پیدا کی گئی ہے اور نماز کو میری آنکھوں کی ٹھنڈک بنایا گیا ہے۔ 

]صحيح : صحيح الجامع الصغير (3124) نسائی(3391) كتاب عشرة النساء : باب حب النساء ، بيهقي في السنن الكبرى (124/ (7كتاب النكاح : باب الرغبة في النكاح[

◈ نکاح گزشتہ انبیاءکرام کی سنت

ارشاد باری تعالی ہے کہ:

)وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً…) 

ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا۔

[الرعد :38]

نکاح  سیدنا محمد رسول اللہ کی سنت

① ام المؤمنین سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

النكاح سنتي فمن لم يعمل بسنتي فليس مني…

نکاح میری سنت ہے، پس جس نے میری سنت پر عمل نہ کیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ 

]صحيح : صحيح الجامع الصغير (6807)[

② حضرت سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ:

قال لي ابن عباس هل تزوجت قلت لا قال فتزوج ، فإن خير هذه الأمة أكثرها نساء 

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا کہ تم نے شادی کر لی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شادی کر لو کیونکہ اس امت کے بہترین شخص ( یعنی سیدنا محمد رسول اللہﷺ) کی بہت سی بیویاں تھیں۔ 

[بخاری (5069) كتاب النكاح : باب كثرة النساء]

نکاح نہ کرنے والے سے نبی کریم کا قطع تعلقی کا اظہار

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

جاء ثلاثة رهط إلى بيوت أزواج النبي صلى الله عليه وسلم يسألون عن عبادة النبي صلى الله عليه وسلم ، فلما أخبروا كأنهم تقالوها ، فقالوا : وأين نحن من النبي صلى الله عليه وسلم قد غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر ؟ قال أحدهم : أما أنا ، فإني أصلي الليل أبدا ، وقال آخر : أنا أصوم الدهر ولا أفطر ، وقال آخر : أنا أعتزل النساء فلا أتزوج أبدا ، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم إليهم ، فقال: أنتم الذين قلتم كذا وكذا ، أما والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له لكني أصوم وأفطر ، وأصلي وأرقد ، وأتزوج النساء ، فمن رغب عن سنتي فليس مني .

تین آدمی  نبی کریم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے ، جب انہیں نبی کریم کا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم سے کیا مقابلہ ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں ۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا ۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا ۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا ۔ پھر نبی کریم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں ؟ سن لو ! اللہ تعالیٰ کی قسم ! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں ۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں ۔ نماز پڑھتا ہوں ( رات میں ) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں ۔ (فمن رغب عن سنتي فليس مني) میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے ۔

 [بخاری ( (5063 كتاب النكاح : باب الترغيب في النكاح ، مسلم (1401) كتاب النكاح : باب استحباب النكاح لمن تاقت نفسه اليه ، نسائی (3217) کتاب النکاح : باب النهي عن التبتل ، احمد(21/437)المنتخب من مسند عبد بن حميد ت صبحي السامرائي   (عبد بن حميد) (ص /392)

نکاح نصف دین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

إذا تزوج العبد فقد استكمل نصف الدين، فليتق الله في النصف الباقي 

جب بندہ نکاح کرتا ہے تو اس کا آدھا دین مکمل ہو جاتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ باقی آدھے دین میں اللہ سے ڈرے۔ 

] حسن : هداية الرواة (3032/248/3) بيهقى فى شعب الايمان (5486) حاكم (2/161) امام حاکم رحمہ اللہ نے اسکی سند کوصحیح کہا ہے ۔شیخ البانی رحمہ اللہ نے تعدد طرق کی وجہ سے حسن کا درجہ دیا ہے

(سید سابق) نکاح ایک عبادت ہے جس کے ذریعے انسان کا نصف دین مکمل ہوتا ہے اور جس کے ذریعے انسان اپنے رب سے بہترین پاکیزہ حالت میں ملاقات کرے گا۔

[فقه السنة 2/12]

◈ پاکدامنی کی نیت سے نکاح کرنے والے کے لیے مدد الہی کی نوید

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

ثلاثة حق على الله عونهم : المكاتب الذي يريد الأداء ” والناكح الذي يريد العفاف ” و المجاهد في سبيل الله 

تین آدمی ایسے ہیں کہ ان کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ پر حق ہے۔ ایک وہ مکاتب غلام جو (مکاتبت کی مقررہ) کر تم ادا کرنا چاہتا ہے، دوسرا ایسا نکاح کرنے والا جو پاکدامنی چاہتا ہے اور تیسرا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا۔ 

حسن : صحيح الترغيب (1917) كتاب النكاح : باب الترغيب في النكاح ، هداية الرواة (3025) ترمذی (1655) کتاب فضائل الجهاد : باب ما جاء في المجاهد والناكح والمكاتب وعون الله ، ابن ماجه (2518) كتاب الأحكام : باب المكاتب ، نسائی (3218) ابن حبان (4030) حاکم (2678)

 اس روایت کو امام حاکم اور امام ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔]

نکاح محبت و الفت کا بہترین ذریعہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

لم ير ‌للمتحابين مثل التزوج

 ہم نے دو محبت کرنے والوں کے لیے نکاح جیسی ( بہترین اور ) کوئی چیز نہیں دیکھی ۔ 

(صحيح : السلسلة الصحيحة (624) هداية الرواة ((3029 (3/247), صحيح الجامع الصغير (5200) ابن ماجه (1847) كتاب النكاح : باب ما جاء في فضل النكاح ، مستدرك حاكم (2/174)كتاب النكاح : باب لم ير للمتحابين مثل التزويج ، بيهقي في السنن الكبرى (7/124) كتاب النكاح : باب الرغبة في النکاح ، حافظ بوصیری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [الزوائد (2/65)]

صالح بیوی دنیا کا بہترین سامان

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: 

الدنيا كلها متاع و خير متاع الدنيا المرأة الصالحة )

دنیا ساری کی ساری فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور دنیا کا بہترین سامان صالح بیوی ہے۔

 [مسلم (1467) كتاب الرضاع : باب خير متاع الدنيا المرأة الصالحة ، ابن ماجه (1855) كتاب النكاحباب أفضل النكاح ، نسائی (3232) کتاب النکاح : باب المرأة الصالحة ، أبو نعيم في الحلية (3/310) شرح السنة للبغوى (5/9)]

صالح بیوی آدمی کی خوش بختی

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

من سعادة ابن آدم ثلاثة ، ومن شفاوة ابن آدم ثلاثة من سعادة ابن آدم : المرأة الصالحة ، والمسكن الصالح والمركب الصالح ، ومن شقاوة ابن آدم: المرأة السوء و المسكن السوء و المركب السوء

تین چیزیں اولاد آدم کی خوش بختی سے ہیں اور تین بد بختی سے، اولاد آدم کی خوش بختی کی چیزیں یہ ہیں: صالح بیوی ، صالح رہائش اور صالح سواری اور اولاد آدم کی بد بختی کی چیزیں یہ ہیں: بری بیوی، بری رہائش اور بری سواری۔ 

 ] صحیح لغيره : صحيح الترغيب (1914) كتاب النكاح : باب الترغيب في النكاح ، احمد (1/168)  بزار (1412)]

روز قیامت نبی میں اسلام کا کثرت امت کے باعث فخر کرنا

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

تزوجوا فإني مكاثر بكم الأمم يوم القيامة 

نکاح کرو ،بلا شبہ میں روز قیامت تمہاری کثرت کے باعث اُمتوں پر فخر کروں گا۔ 

[صحيح : صحيح الجامع الصغير (6807)]