مضمون کے اہم نکات
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی، معاشرتی اور خاندانی زندگی کے تمام پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے۔ نکاح مرد و عورت کے درمیان ایک مقدس اور عظیم رشتہ ہے جس کے ذریعے پاکیزہ، پُرسکون اور باوقار زندگی ممکن ہوتی ہے۔ یہ مضمون نکاح کی مشروعیت، اس کی شرعی حیثیت، اس کے فوائد، اس کی اہمیت، اور اس سے متعلق قرآنی آیات و احادیثِ نبویہ کی روشنی میں جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ نکاح نہ صرف فطری تقاضا ہے بلکہ انبیاء علیہم السلام کی سنت، دین کا اہم حصہ اور معاشرتی پاکیزگی کا مضبوط ذریعہ ہے۔
نکاح کی مشروعیت اور اہمیت
برادرانِ اسلام!
اسلام میں مرد اور عورت کے لیے نکاح کو مشروع قرار دیا گیا ہے۔ نکاح ایسا عظیم اور مضبوط رشتہ ہے جس کے ذریعے خاوند اور بیوی ایک پاکیزہ اور باوقار زندگی بسر کرتے ہیں۔ اس زندگی میں محبت، ہمدردی، الفت، باہمی تعاون اور دکھ سکھ کی شراکت پائی جاتی ہے۔ اگر میاں بیوی اپنی ازدواجی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزاریں تو دنیا میں سکون و اطمینان اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو سکتی ہے۔
قرآن مجید سے نکاح کی دلیل
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا﴾
(النساء 4:3)
ترجمہ:
“اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کر لو۔ لیکن اگر تمہیں ڈر ہو کہ تم انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی کافی ہے یا وہ (لونڈیاں) جو تمہاری ملکیت میں ہوں۔ یہ بے انصافی سے بچنے کے زیادہ قریب ہے۔”
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ نکاح اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، البتہ ایک سے زائد شادی کو عدل و انصاف کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے، اور اگر عدل کا اندیشہ ہو تو ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
نکاح کا عمومی حکم
اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
﴿وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾
(النور 24:32)
ترجمہ:
“اور تم میں سے جو غیر شادی شدہ مرد و عورت ہوں ان کا نکاح کر دو، اور اپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا، اور اللہ بڑی وسعت والا، خوب جاننے والا ہے۔”
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کا حکم عام ہے۔ بعض علماء کے نزدیک نکاح واجب ہے اور بعض کے نزدیک مستحب، لیکن اگر نکاح نہ کرنے کی وجہ سے گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو نکاح واجب ہو جاتا ہے۔
سرپرست کی اجازت کی شرط
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت اپنے سرپرست (ولی) کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
(( أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ))
(مسند احمد، سنن ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ – صحیح الجامع: 2709)
ترجمہ:
“جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔”
فقر و فاقہ نکاح میں رکاوٹ نہیں
اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اگر نکاح کرنے والے غریب ہوں گے تو وہ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا۔ اسی مضمون کی تائید رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث سے ہوتی ہے:
(( ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُمْ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْمُكَاتِبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ ))
(مسند احمد، ترمذی، نسائی – صحیح الجامع: 3050)
ترجمہ:
“تین آدمی ایسے ہیں جن کی مدد اللہ پر لازم ہے: ایک اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا، دوسرا وہ غلام جو مکاتبت کر کے ادا کرنا چاہتا ہو، اور تیسرا وہ نکاح کرنے والا جو پاکدامنی کا ارادہ رکھتا ہو۔”
نکاح انبیاء و رسل علیہم السلام کی سنت
اسلام میں نکاح محض ایک معاشرتی معاہدہ نہیں بلکہ یہ تمام انبیاء و رسل علیہم السلام کی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان فرمایا کہ اس نے اپنے پیغمبروں کو مجرد نہیں رکھا بلکہ انہیں ازدواجی زندگی عطا فرمائی۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً﴾
(الرعد 13:38)
ترجمہ:
“اور یقیناً ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان سب کو بیویاں اور اولاد عطا فرمائی۔”
تفسیرِ قرطبی کی وضاحت
امام قرطبی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
❀ اس آیت میں دو مسئلے بیان ہوئے ہیں:
➊ یہود نبی کریم ﷺ پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے جو شادیاں کرتا ہے؟ اگر یہ واقعی نبی ہوتا تو عبادت میں مشغول رہتا۔
➋ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے واضح فرمایا کہ تمام انبیاء و رسل علیہم السلام بیوی بچوں والے تھے، لہٰذا نکاح کرنا نبوت کے منافی نہیں بلکہ سنتِ انبیاء ہے۔
➌ اس آیت میں نکاح کی ترغیب بھی پائی جاتی ہے۔
(تفسیر القرطبی: 9/327)
نکاح رسول اللہ ﷺ کی سنت
رسول اکرم ﷺ نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا اور اس سے اعراض کرنے والوں کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ کی عبادت کے بارے میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے سوال کیا۔ جب انہیں بتایا گیا تو انہوں نے (اپنے خیال میں) اسے کم سمجھا اور کہا:
❀ ایک نے کہا: میں ہمیشہ رات بھر قیام کروں گا۔
❀ دوسرے نے کہا: میں ہمیشہ روزے رکھوں گا۔
❀ تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا۔
جب یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
(( أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا؟ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ))
(صحیح البخاری: 5063، صحیح مسلم: 1401)
ترجمہ:
“کیا تم وہی لوگ ہو جنہوں نے یہ باتیں کہیں؟ اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں، لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جو میری سنت سے منہ موڑے، وہ مجھ سے نہیں۔”
نکاح نصف دین ہے
رسول اللہ ﷺ نے نکاح کو دین کا نصف قرار دیا ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفَ الدِّينِ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ فِي النِّصْفِ الْبَاقِي ))
(صحیح الترغیب والترہیب للألبانی: 1916)
ترجمہ:
“جب بندہ نکاح کر لیتا ہے تو وہ اپنا آدھا دین مکمل کر لیتا ہے، اب اسے باقی آدھے دین میں اللہ سے ڈرنا چاہیے۔”
دوسری روایت میں ہے:
(( مَنْ رَزَقَهُ اللَّهُ امْرَأَةً صَالِحَةً فَقَدْ أَعَانَهُ عَلَى شَطْرِ دِينِهِ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ فِي الشَّطْرِ الْبَاقِي ))
ترجمہ:
“جس شخص کو اللہ تعالیٰ نیک بیوی عطا فرما دے تو گویا اس نے اس کے دین کے آدھے حصے میں اس کی مدد کر دی، پس وہ باقی آدھے میں اللہ سے ڈرتا رہے۔”
نیک بیوی سعادتمندی کی علامت
رسول اللہ ﷺ نے نیک بیوی کو دنیا کی بڑی نعمتوں میں شمار فرمایا۔
(( أَرْبَعٌ مِنَ السَّعَادَةِ: الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ، وَالْمَسْكَنُ الْوَاسِعُ، وَالْجَارُ الصَّالِحُ، وَالْمَرْكَبُ الْهَنِيءُ ))
(صحیح الترغیب والترہیب للألبانی: 914)
ترجمہ:
“چار چیزیں سعادت میں سے ہیں: نیک بیوی، کشادہ گھر، نیک پڑوسی، اور آرام دہ سواری۔”
نکاح کے فوائد
اسلام میں نکاح کو متعدد عظیم مقاصد اور فوائد کے پیشِ نظر مشروع کیا گیا ہے۔ یہ فوائد فرد، خاندان اور پورے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ذیل میں نکاح کے اہم فوائد قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیے جاتے ہیں:
➊ نکاح میں سکون اور اطمینان
اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کو ایک دوسرے کے لیے باعثِ سکون بنایا ہے۔ ازدواجی زندگی کا سب سے بڑا فائدہ قلبی سکون اور ذہنی اطمینان ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا﴾
(الأعراف 7:189)
ترجمہ:
“وہی اللہ ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے۔”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( حُبِّبَ إِلَيَّ مِنْ دُنْيَاكُمْ ثَلَاثٌ: الطِّيبُ، وَالنِّسَاءُ، وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ ))
(مسند احمد، سنن نسائی – صحیح الجامع للألبانی: 3124)
ترجمہ:
“تمہاری دنیا میں سے تین چیزیں مجھے محبوب کی گئیں: خوشبو، عورتیں، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔”
یہ فطری حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت میں ایک دوسرے کی طرف کشش رکھی ہے، اور یہ فطری تقاضا نکاح کے ذریعے ہی حلال اور پاکیزہ انداز میں پورا ہو سکتا ہے۔
➋ نکاح میں نسلِ انسانی کی بقا
نسلِ انسانی کی بقا اور امتِ محمدیہ ﷺ کی کثرت نکاح کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے زیادہ بچے جننے والی عورت سے نکاح کی ترغیب دی۔
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ مجھے ایک خوبصورت اور معزز خاندان کی عورت ملی ہے لیکن وہ بانجھ ہے، کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ ﷺ نے منع فرمایا۔ تیسری مرتبہ آنے پر آپ ﷺ نے فرمایا:
(( تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ ))
(سنن ابوداؤد: 2050، سنن نسائی، ابن حبان: 4056، صحیح سنن ابوداؤد للألبانی: 1805)
ترجمہ:
“محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے نکاح کرو، کیونکہ میں تمہارے ذریعے دوسری امتوں پر اپنی امت کی کثرت ظاہر کروں گا۔”
اولاد اگر نیک ہو تو والدین کے لیے صدقۂ جاریہ بن جاتی ہے، اور اگر والدین کی زندگی میں فوت ہو جائے تو بھی ان کے لیے اجر و ثواب کا سبب بنتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( مَا مِنَ النَّاسِ مِنْ مُسْلِمٍ يُتَوَفَّى لَهُ ثَلَاثٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ ))
(صحیح البخاری: 1248، 1381)
ترجمہ:
“جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل فرما دیتا ہے۔”
دوسری روایت میں ہے:
(( أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَ لَهَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ ))
قَالَتِ امْرَأَةٌ: وَاثْنَانِ؟ قَالَ: (( وَاثْنَانِ ))
(صحیح البخاری: 1249، صحیح مسلم: 2633)
ترجمہ:
“جس عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں وہ اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جاتے ہیں۔”
ایک عورت نے پوچھا: اور دو؟
آپ ﷺ نے فرمایا: “اور دو بھی۔”
➌ نکاح سے نظر اور شرمگاہ کی حفاظت
نکاح بدکاری سے بچاؤ اور پاکدامنی کا مضبوط ذریعہ ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ))
(صحیح البخاری: 6066)
ترجمہ:
“اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرے، کیونکہ یہ نظر کو جھکانے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے، اور جو طاقت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھے، کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے۔”
➍ نکاح اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی اطاعت ہے
اسلام میں نکاح کرنا محض دنیاوی ضرورت نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت پر بندوں کے لیے پاکیزہ زندگی اور اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ مزید یہ کہ خاوند اور بیوی کے درمیان قائم ہونے والے ازدواجی تعلقات بھی عبادت کا درجہ رکھتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
(( وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ ))
“اور تم میں سے ہر ایک کے لیے اس کی شرمگاہ (یعنی بیوی کے ساتھ جائز تعلق) میں بھی صدقہ ہے۔”
صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو کیا اسے اجر بھی ملتا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
(( أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ وِزْرٌ؟ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ ))
(صحیح مسلم: 1006)
ترجمہ:
“تم میں سے ہر ایک کے جماع کرنے میں بھی صدقہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو کیا اسے اجر ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ اسے حرام میں پورا کرے تو کیا اس پر گناہ نہ ہوگا؟ پس اسی طرح جب وہ اسے حلال میں پورا کرے تو اسے اجر ملتا ہے۔”
شادی میں تاخیر کی قباحت
نکاح کے ان عظیم فوائد کے پیشِ نظر شادی میں بلاوجہ تاخیر کرنا درست نہیں۔ خاص طور پر سرپرستوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی جوان اولاد کی شادی میں غیر ضروری تاخیر نہ کریں۔ بدقسمتی سے آج بہت سے والدین دنیاوی معیار—مال، جائیداد، زیادہ حقِ مہر یا جہیز—کو بنیاد بنا لیتے ہیں، جو شریعت کی روح کے خلاف ہے۔
اسلام نے معیارِ نکاح کو دین اور کردار قرار دیا ہے، نہ کہ دولت و دنیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَهُ وَدِينَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ ))
(صحیح الجامع للألبانی: 270، السلسلۃ الصحیحۃ: 1022)
ترجمہ:
“جب تمہارے پاس وہ شخص (نکاح کا پیغام لے کر) آئے جس کا دین اور کردار تمہیں پسند ہو تو اس سے اپنی لڑکی کا نکاح کر دو۔ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو جائے گا۔”
یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ دنیاوی معیار کو فوقیت دینا معاشرتی فساد کا سبب بنتا ہے، جس کا مشاہدہ آج ہر طرف ہو رہا ہے۔
صحابیات کی عملی مثال
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت اُمِّ سُلیم رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا۔ انہوں نے فرمایا:
“اللہ کی قسم! آپ جیسے شخص کو رد نہیں کیا جا سکتا، لیکن آپ کافر ہیں اور میں مسلمان ہوں، میرے لیے آپ سے شادی جائز نہیں۔ اگر آپ اسلام قبول کر لیں تو یہی میرا حقِ مہر ہوگا۔”
چنانچہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلام ہی حضرت اُمِّ سُلیم رضی اللہ عنہا کا حقِ مہر قرار پایا۔
(فتح الباری: 9/18، سنن نسائی بسند صحیح)
یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اسلام میں اصل معیار دین ہے، نہ کہ مال و دولت۔
عورت کے انتخاب کا شرعی معیار
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ))
(متفق علیہ)
ترجمہ:
“عورت سے چار باتوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے: اس کے مال کی وجہ سے، حسب و نسب کی وجہ سے، خوبصورتی کی وجہ سے، اور دین کی وجہ سے۔ پس تم دین والی عورت کو ترجیح دو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔”
اسی طرح نیک بیوی کو بہترین خزانہ قرار دیا گیا ہے:
(( أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ مَا يُكْنَزُ؟ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ، إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ، وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ، وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ ))
(سنن ابوداؤد: 1664)
ترجمہ:
“کیا میں تمہیں بہترین خزانے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ نیک بیوی ہے: جب شوہر اسے دیکھے تو خوش ہو، جب شوہر غائب ہو تو اس کی حفاظت کرے، اور جب وہ حکم دے تو اطاعت کرے۔”
کامیاب ازدواجی زندگی کے اصول (تمہید)
اب ہم ان اصولوں کی طرف آتے ہیں جن پر عمل کر کے خاوند اور بیوی اپنی ازدواجی زندگی کو خوشگوار اور کامیاب بنا سکتے ہیں۔ یہ اصول قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں اور عملی زندگی میں آزمودہ ہیں۔
کامیاب ازدواجی زندگی کے بنیادی اصول
اسلام میں ازدواجی زندگی کو خوشگوار اور کامیاب بنانے کے لیے چند بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ اگر خاوند اور بیوی ان اصولوں کی پابندی کریں تو ان کی زندگی سکون، محبت اور باہمی احترام سے بھرپور ہو سکتی ہے۔
➊ معاہدے کی پابندی
نکاح دراصل خاوند اور بیوی کے درمیان ایک مضبوط اور پختہ معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کی پابندی کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا﴾
(النساء 4:21)
ترجمہ:
“اور تم اسے (حقِ مہر) کیسے واپس لے سکتے ہو، حالانکہ تم ایک دوسرے سے خوب لطف اندوز ہو چکے ہو اور وہ تم سے مضبوط عہد و پیمان لے چکی ہیں۔”
میثاقِ غلیظ کی وضاحت
امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “میثاقِ غلیظ” سے مراد وہ عہد ہے جو نکاح کے وقت مرد سے لیا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو یا تو اچھے طریقے سے رکھے گا یا احسان کے ساتھ رخصت کرے گا۔
(جامع البیان: 4/316)
عورتوں کے حقوق کے بارے میں نبی ﷺ کی وصیت
خطبۂ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ ))
(صحیح مسلم: 1218)
ترجمہ:
“عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعے ان کی شرمگاہوں کو اپنے لیے حلال کیا ہے۔”
اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾
(البقرۃ 2:229)
ترجمہ:
“یا تو اچھے طریقے سے روک رکھو یا احسان کے ساتھ چھوڑ دو۔”
➋ خاوند بیوی کے درمیان محبت اور رحمت
اللہ تعالیٰ نے ازدواجی زندگی کی بنیاد محبت اور رحمت پر رکھی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾
(الروم 30:21)
ترجمہ:
“اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( لَمْ يُرَ لِلْمُتَحَابَّيْنِ مِثْلُ النِّكَاحِ ))
(صحیح الجامع للألبانی: 5200، السلسلۃ الصحیحۃ: 624)
ترجمہ:
“محبت کرنے والوں کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی۔”
رسول اللہ ﷺ کا اسوۂ محبت
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
“میں حالتِ حیض میں پانی پیتی، پھر وہی پیالہ رسول اللہ ﷺ کو دیتی، آپ ﷺ اسی جگہ منہ رکھ کر پانی پیتے جہاں سے میں نے پیا ہوتا۔ اور جب میں ہڈی سے گوشت کاٹتی تو آپ ﷺ بھی اسی جگہ سے کاٹتے۔”
(صحیح مسلم: 300)
ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا، ایک مرتبہ وہ جیت گئیں اور دوسری مرتبہ نبی ﷺ جیت گئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
(( هَذِهِ بِتِلْكَ ))
(مسند احمد 6/39، ابوداؤد: 2578، ابن ماجہ: 1979، صحیح ابوداؤد للألبانی: 2248)
ترجمہ:
“یہ جیت اُس جیت کے بدلے میں ہے۔”
یہ احادیث بتاتی ہیں کہ محبت، خوش طبعی اور باہمی احترام ازدواجی زندگی کی روح ہیں۔
➌ خاوند بیوی ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی
ازدواجی زندگی کا حسن یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھیں۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی مثال
جب پہلی وحی نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ گھبراہٹ کے عالم میں گھر تشریف لائے اور فرمایا:
(( زَمِّلُونِي، زَمِّلُونِي ))
“مجھے اوڑھا دو، مجھے اوڑھا دو۔”
(صحیح البخاری: 3، صحیح مسلم: 16)
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
(( كَلَّا، وَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا… ))
ترجمہ:
“ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاجوں کو دیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبتوں میں مدد کرتے ہیں۔”
یہ بہترین نمونہ ہے کہ بیوی کس طرح شوہر کی ڈھارس بن سکتی ہے۔
➍ خاوند بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں
کامیاب اور خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ خاوند اور بیوی ایک دوسرے کے حقوق کو پہچانیں اور انہیں ادا کریں۔ نہ خاوند بیوی کے حقوق میں کوتاہی کرے اور نہ بیوی خاوند کے حقوق کو نظر انداز کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ﴾
(البقرۃ 2:228)
ترجمہ:
“اور عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے کے مطابق وہی حقوق ہیں جو ان پر ہیں، اور مردوں کو ان پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے۔”
خطبۂ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( أَلَا إِنَّ لَكُمْ عَلَىٰ نِسَائِكُمْ حَقًّا، وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا ))
(صحیح الترغیب والترہیب للألبانی: 1930)
ترجمہ:
“خبردار! تمہارے لیے تمہاری بیویوں پر بھی حق ہے اور تم پر تمہاری بیویوں کا بھی حق ہے۔”
خاوند بیوی کے حقوق کی اقسام
خاوند بیوی کے حقوق کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
➊ مشترکہ حقوق
➋ خاوند کے حقوق
➌ بیوی کے حقوق
اس مضمون میں مشترکہ حقوق بیان کیے جا رہے ہیں:
➊ نکاح کے وقت طے شدہ شرائط کی پابندی
نکاح کے وقت جو جائز شرائط طے پائیں، ان کا پورا کرنا خاوند بیوی دونوں پر لازم ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( أَحَقُّ مَا أَوْفَيْتُمْ مِنَ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ ))
(صحیح البخاری: 5151، صحیح مسلم: 1418)
ترجمہ:
“جن شرائط کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا، ان کو پورا کرنا سب سے زیادہ حق رکھتا ہے۔”
البتہ اگر کوئی شرط شریعت کے خلاف ہو تو وہ باطل ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ ))
(مسند احمد 6/213، سنن ابن ماجہ: 2521، صحیح البخاری: 5152، صحیح مسلم: 1408)
ترجمہ:
“ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں نہ ہو، وہ باطل ہے۔”
➋ ایک دوسرے سے لطف اندوز ہونا
ازدواجی تعلقات میں ایک دوسرے کی فطری خواہشات کو پورا کرنا خاوند بیوی کا مشترکہ حق ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَىٰ فِرَاشِهِ فَأَبَتْ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّىٰ تُصْبِحَ ))
(سنن ترمذی، نسائی – صحیح الترغیب والترہیب للألبانی: 1946)
ترجمہ:
“جب خاوند اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے، پھر وہ اس پر ناراض ہو کر رات گزارے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔”
➌ ازدواجی راز داری
میاں بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنے ازدواجی تعلقات کو راز میں رکھیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ﴾
(البقرۃ 2:187)
ترجمہ:
“وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلُ يُفْضِي إِلَىٰ امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ، ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا ))
(صحیح مسلم: 1437)
ترجمہ:
“قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین مرتبہ اس شخص کا ہوگا جو اپنی بیوی سے تعلق قائم کرے پھر اس کے راز ظاہر کرے۔”
➍ حقِ وراثت
خاوند بیوی کے درمیان ایک اہم مشترکہ حق وراثت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ…﴾
(النساء 4:12)
ترجمہ:
“اگر تمہاری بیویوں کی اولاد نہ ہو تو ان کے ترکے میں تمہارا نصف ہے، اور اگر اولاد ہو تو چوتھائی… اور بیویوں کے لیے بھی اسی طرح مقررہ حصے ہیں، وصیت اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔”
نتیجہ
نکاح اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور رسول اللہ ﷺ کی مؤکد سنت ہے۔ اس میں دنیا و آخرت کی بھلائیاں پوشیدہ ہیں۔ شادی میں تاخیر، ناجائز شرائط اور دنیاوی معیار کو فوقیت دینا فتنہ و فساد کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا والدین، سرپرستوں اور نوجوانوں سب کو چاہیے کہ نکاح کے معاملے میں قرآن و سنت کی رہنمائی کو سامنے رکھیں اور ایک پاکیزہ اسلامی معاشرہ قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔