نکاح نہ کرنے کی قسم کا شرعی حکم حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

ایک عورت نے قسم کھائی کہ عمر بھر نکاح نہیں کروں گی، اب کیا کرے؟

جواب:

نکاح کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، بلا عذر شرعی اسے ترک کرنا جائز نہیں، لہذا جس عورت نے نکاح نہ کرنے کی قسم کھائی، اسے چاہیے کہ اپنی قسم کو توڑ دے اور نکاح کرے، نیز کفارہ بھی ادا کر دے۔
❀ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا حلفت على يمين ورأيت غيرها خيرا منها فأت الذى هو خير وكفر عن يمينك.
”جب آپ کوئی کام کرنے کی قسم کھائیں، پھر (کوئی) دوسرا کام اس سے بہتر دیکھیں تو بہتر کام کر لیں اور قسم کا کفارہ دے دیں۔“
(صحيح البخاري: 6722، صحیح مسلم: 1652)
جب ایک جائز کام کی قسم اٹھائی ہو اور بعد میں معلوم ہو کہ بہتر کام دوسرا ہے تو قسم توڑ کر دوسرا کام کرنا چاہیے، تو جو قسم اٹھائی ہی ناجائز کام پر گئی ہو اسے بدلنا نہ صرف درست ہے بلکہ واجب بھی ہے۔