نکاح سے پہلے دی گئی طلاق کا شرعی حکم حدیث کی روشنی میں

یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

اگر کوئی شخص نکاح سے پہلے ہی کہہ دے کہ میری ہونے والی اہلیہ کو طلاق، تو کیا اس طلاق کو نافذ کیا جائے گا؟

جواب:

ایسی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس چیز کا ابن آدم مالک نہیں اس میں نذر نہیں اور جس چیز کا وہ مالک نہیں اس میں آزادی نہیں اور نہ ایسی چیز میں طلاق ہے جس کا وہ مالک نہیں۔“
ترمذي، كتاب الطلاق واللعان، باب ما جاء لا طلاق قبل النكاح (1181)
ابن ماجه (2038) میں مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہے اور نہ ملکیت سے پہلے غلام کی آزادی ہے۔“
مصنف عبد الرزاق اور سنن كبرى للبيهقي (320/7، 321، ح: 13887) میں ہے کہ مسور بن مخرمہ کہتے ہیں:
”عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بات پہنچی کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ہے: ”اگر غیر متزوجہ کو طلاق کہہ دی جائے تو جائز ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”انہوں نے غلطی کی ہے، اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: ”اے ایمان والو! جب تم ایمان دار عورتوں سے نکاح کر لو، پھر انہیں طلاق دے ڈالو، چھونے سے قبل تو تمہارے لیے ان پر کوئی عدت نہیں جسے تم شمار کرو۔“
(الاحزاب : 49)
یہ نہیں فرمایا کہ جب تم مومنہ عورتوں کو طلاق دے دو، پھر نکاح کر لو۔“
یعنی اللہ تعالیٰ نے نکاح کے بعد طلاق کا ذکر کیا ہے، یہ نہیں ہے کہ طلاق پہلے ہو، پھر بعد میں نکاح۔ بہرحال نکاح سے پہلے طلاق دی گئی واقع نہیں ہوتی۔ علی رضی اللہ عنہ، عائشہ رضی اللہ عنہا، امام شافعی رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ، امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ، داؤد ظاہری رحمہ اللہ اور جمہور اہل الحدیث کا یہی قول ہے، جیسا کہ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد (217/5) میں ذکر کیا ہے اور یہی بات قوی اور درست ہے۔ (واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم!)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے