نومولود کی خوشخبری اور مبارک باد دینے کے احکام و مسائل
بچے کی پیدائش کے بارے میں اگر والد کو کسی وجہ سے اطلاع نہ مل سکے تو اعزہ واقربا میں سے جسے معلوم ہو وہ اسے نومولود کی خوشخبری دیں اور مبارک باد پیش کریں۔ اس موقع پر نومولود کی عمر صحت اور سعادت کی دعا بھی کریں۔
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کو جلد از جلد مسرت و خوشی کا موقع مہیا کرے چنانچہ اگر اس کے گھر اللہ رب العزت نے بچے جیسی نعمت عطا فرمائی ہو تو جتنی جلدی ہو سکے اسے اطلاع دے کر اس کی خوشی کو دوبالا کرے کیونکہ اس سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں، مثلاً :
◈ صلہ رحمی اور تعلق استوار کرنے کے جذبات ابھرتے ہیں۔
◈تعلقات و روابط قوی اور مضبوط ہو جاتے ہیں۔
◈آپس میں میل جول اور ایک دوسرے سے لگاؤ بڑھتا ہے۔
◈مسلم معاشرے میں الفت و محبت اور عقیدت کے جذبات جنم لیتے ہیں اور اسلامی ماحول پیار و محبت کی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے۔
اگر خوشخبری دینے کا موقع نہ ملے تو بعد میں مبارک باد دینا بھی مستحب اور قابل ستائش عمل ہے۔ مبارک باد دیتے ہوئے اپنے بھائی اور نومولود کے حق میں دعا کرنی چاہیے۔
✿ قرآن کریم سے خوشخبری دینے کا ثبوت:
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کی رشد و ہدایت اور تعلیم وتربیت کے لیے ولادت کے موقع پر خوشخبری دینے کا متعدد بار ذکر کیا ہے کیوں کہ اس بشارت اور اطلاع مسرت کے نتیجہ میں بیش بہا فوائد حاصل ہوتے ہیں جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس سے اجتماعی روابط اور تعلقات کی نشو ونما ہوتی ہے اور وہ مضبوط ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے میں فرمایا ہے:
﴿وَلَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ ۖ فَمَا لَبِثَ أَن جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ. فَلَمَّا رَأَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ۚ قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ . وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ.﴾
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری کا پیغام لائے تو انھوں نے سلام کہا ابراہیم نے سلام کا جواب دیا اور جلدی سے ایک بچھڑے کا گوشت بھون کر لے آئے۔ (لیکن فرشتوں نے توجہ نہ کی) ابراہیم نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں اٹھ رہے تو پریشان ہو گئے اور ان سے ڈر محسوس کرنے لگے تو فرشتوں نے کہا کہ گھبرانے اور ڈرنے کی ضرورت نہیں ہم تو لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ ابراہیم کی زوجہ محترمہ قریب کھڑی تھیں وہ مسکرائیں تو ہم نے انھیں اسحاق (بیٹے) کی خوشخبری سنائی اور اسحاق کی پشت سے یعقوب کے آنے کی بھی خوشخبری دی۔
(11-هود:69 تا 71)
اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
﴿فَنَادَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَىٰ﴾
(حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ سے اولاد کی دعا مانگی تھی) تو فرشتوں نے زکریا کو آواز دی اور وہ اپنی عبادت گاہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ اللہ نے آپ کی طرف یحییٰ نامی لڑکے کی خوشخبری کا پیغام بھیجا ہے۔
(3-آل عمران:39)
اسی طرح ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَىٰ لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيًّا﴾
”اے زکریا! ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری سنا رہے ہیں جس کا نام یحییٰ ہو گا۔ اس سے پہلے ہم نے آج تک کسی کو اس کا ہم نام نہیں بنایا۔“
(19-مريم:7)
✿ تاریخی ثبوت:
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی تو ثویبہ نے، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابولہب کی لونڈی تھی، ابولہب کو آپ کی ولادت کی خوشخبری سنائی اور کہنے لگی کہ آج رات تمہارے بھائی عبداللہ کے گھر اللہ نے بیٹا عطا فرمایا ہے تو اس نے خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے اس کو آزاد کر دیا۔“
صحيح البخاري، النكاح، باب لو أمهاتكم ، حدیث : 5101 معلقاً
✿ مبارک باد دینے کا ثبوت:
امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب تحفۃ المودود میں ابوبکر بن منذر سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں: ہمیں حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے بارے میں ایک واقعے کا علم ہوا کہ ان کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا جس کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا تھا۔ ایک دوسرا آدمی حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے ملاقات کے لیے آیا اس نے پہلے سے موجود آدمی کو دیکھ کر مبارک باد دی اور کہنے لگا کہ ایک شہسوار مبارک ہو۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ یہ فرمانے لگے: تجھے کیا معلوم کہ یہ بچہ بڑا ہو کر گھوڑے کی طرح مفید ثابت ہوگا یا گدھے کا کردار ادا کرے گا۔ (گھوڑ سوار بنے گا یا گدھا سوار) وہ آدمی پوچھنے لگا تو پھر آپ ہی رہنمائی فرمائیں کہ کس طرح مبارک باد دینی چاہیے۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ یہ فرمانے لگے یوں کہا کرو: ”اللہ نے تمہیں جس تحفہ سے نوازا ہے وہ اسے بابرکت بنائے اسے عمر دراز عطا فرمائے اور تیرے ساتھ بہترین سلوک کرنے کی اسے توفیق دے۔ اور تجھ پر بھی لازم ہے کہ تو اس ہستی کا شکر ادا کرے جس نے تجھے اس نعمت سے نوازا ہے۔“
تحفة المودود، ص: 52
تنبیہ: خوشخبری دینے یا مبارک باد دینے میں مذکر و مونث کا فرق نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہر بچے کی پیدائش باعث برکت ہوتی ہے۔
تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ سنت نبوی کو اپنے معاشرے میں عملی جامہ پہنائیں تا کہ ان کے باہمی روابط و تعلقات مضبوط ہو سکیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات اور اسلامی رشتے مزید مضبوط ہوتے چلے جائیں۔ گھرانوں اور خاندانوں میں انس و محبت کی لہر دوڑ جائے۔ تمام مسلمانوں کے لیے انتہائی ضروری اور توجہ طلب بات یہ ہونی چاہیے کہ وہ باہمی الفت و محبت کی شاہراہ پر گامزن ہوں تا کہ ملّی وحدت اور اجتماعی زندگی کا حصول ممکن ہو سکے حتی کہ وہ ہمیشہ اللہ سے ڈرنے والے بندوں کی طرح بھائی بھائی بن کر زندگی گزارتے رہیں اور اس مضبوط دیوار کی طرح یکجا اور متحد ہو جائیں جس کے تمام حصے اور اجزا ایک دوسرے کے لیے مضبوطی اور تقویت کا باعث ہوتے ہیں۔