مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نور محمدی عقیدہ: قرآن کی روشنی اور جھوٹی روایات

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 211
مضمون کے اہم نکات

سوال

کیا یہ درست ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے نور سے حضرت محمد ﷺ کو پیدا فرمایا اور پھر آپ ﷺ کے نور اور پسینے سے تمام مخلوقات مثلاً آسمان، زمین، عرش، کرسی، لوح، قلم، جنت، جہنم اور فرشتے پیدا کیے گئے؟ براہِ کرم اس بارے میں صحیح دلائل کے ساتھ وضاحت فرمائیں۔

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ عقیدہ دراصل ان لوگوں کی اختراع ہے جو مشرکانہ خیالات رکھتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عام انسان نہیں بلکہ نور ہیں۔ ان کے نزدیک "نور” کا مطلب یہ ہے کہ (العیاذ بالله) اللہ تعالیٰ نے اپنی ذاتِ بابرکت سے نور الگ کر کے اس سے نبی ﷺ کو بنایا۔ گویا ان کے ہاں اللہ تعالیٰ ایک مادی چیز ہیں، جن میں سے کوئی حصہ نکال کر دوسری چیز وجود میں آجاتی ہے، جیسے مٹی کے ڈھیر سے کوئی چیز نکال لی جائے۔

ایسا عقیدہ سراسر کفر ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:

اگر اللہ کی ذات میں سے کوئی حصہ نکالا گیا تو وہاں خلا رہ گیا۔

دوسرا یہ کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ ہی کا جزو ماننا پڑے گا۔

اسی وجہ سے ایسے گمراہ لوگ درج ذیل قسم کے کفریہ اشعار کہنے سے بھی نہیں ڈرتے:

جو تھا مستوی عرش پر خدا ہو کر
اتر پڑا مدینہ میں مصطفیٰ ہو کر

یہی وہ بات ہے جو نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہی:

﴿إِنَّ اللّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ﴾ (المائدة: 17)
"یقیناً اللہ تو مسیح ابن مریم ہی ہے۔”

افسوس کہ کچھ نام نہاد مسلمان بھی اسی نظریے کو اختیار کر کے رسول اللہ ﷺ کو اللہ قرار دینے لگے، حالانکہ قرآن کریم نے نبی ﷺ کے بشر ہونے کی صراحت کئی مقامات پر فرمائی ہے اور کہیں بھی یہ ذکر نہیں کہ آپ ﷺ نور ہیں۔

قرآن سے دلائل

1- ﴿قُلْ سُبْحَانَ رَبِّى هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا﴾ (بني اسرائيل: 93)
"آپ کہہ دیجئے: میرا رب پاک ہے، میں تو صرف ایک بشر اور رسول ہوں۔”
➝ مطلب یہ کہ نبی ﷺ بشر اور رسول کے سوا کچھ نہیں۔

2- ﴿قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ﴾ (الكهف: 110)
"آپ فرما دیجئے: میں بھی تمہاری طرح ایک بشر ہوں، البتہ میری طرف وحی کی جاتی ہے۔”

3- ﴿قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ﴾ (حم السجدة: 6)
"آپ کہہ دیجئے: میں بھی تمہاری طرح ایک بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔”

➝ ان آیات میں بار بار نبی ﷺ کے بشر ہونے کی وضاحت کی گئی، لیکن نور ہونے کی کوئی تصریح نہیں۔

قرآن میں ’’نور‘‘ کا اطلاق کس پر ہے؟

قرآن مجید میں جہاں بھی ’’نور‘‘ کا ذکر ہوا ہے وہاں اس سے مراد قرآن کریم ہے، نبی ﷺ کی ذات نہیں۔

1- ﴿فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ (الأعراف: 157)
"جو لوگ نبی پر ایمان لائے، ان کی تعظیم کی، ان کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو ان کے ساتھ نازل کیا گیا، وہی کامیاب ہیں۔”

➝ یہاں "نور” سے مراد وہ وحی ہے جو نبی ﷺ کے ساتھ نازل ہوئی، یعنی قرآن کریم۔

2- ﴿فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلنُّورِ ٱلَّذِىٓ أَنزَلْنَا ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ‌ۭ﴾ (التغابن: 8)
"اللہ پر، اس کے رسول پر اور اس نور پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کیا ہے، اور اللہ تمہارے اعمال سے بخوبی واقف ہے۔”

➝ اس آیت میں بھی "نور” سے مراد صرف قرآن ہے۔

قرآن کو ’’نور‘‘ کیوں کہا گیا؟

جیسے روشنی میں سب کچھ صاف دکھائی دیتا ہے، ویسے ہی قرآن کریم انسان کو کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان و ہدایت کی روشنی میں لے آتا ہے۔

قرآن کے ذریعے واضح ہوجاتا ہے کہ ایمان کیا ہے اور کفر کیا ہے، ہدایت کیا ہے اور گمراہی کیا ہے۔

سورۃ المائدہ کی آیت کا شبہ

کچھ لوگ دلیل لاتے ہیں:

﴿قَدْ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٌۭ وَكِتَـٰبٌۭ مُّبِينٌۭ﴾ (المائدة: 15)
"یقیناً تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور ایک واضح کتاب آچکی ہے۔”

ان کا کہنا ہے کہ "نور” سے مراد نبی ﷺ اور "کتاب مبین” سے مراد قرآن ہے۔

اس شبہے کا جواب

قرآن کریم میں کئی مقامات پر ایک ہی چیز کے لیے مختلف اوصاف عطف کے ساتھ ذکر کیے گئے ہیں۔

’’نور‘‘ اور ’’کتاب مبین‘‘ دونوں کا اطلاق قرآن ہی پر ہے۔

یہ اسلوب قرآن میں بار بار آتا ہے۔

مثلاً:

﴿الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْكِتَـٰبِ وَقُرْءَانٍ مُّبِينٍ﴾ (الحجر: 1)
"الر، یہ آیات ہیں کتاب کی اور واضح قرآن کی۔”

﴿طسٓ ۚ تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْقُرْءَانِ وَكِتَـٰبٍۢ مُّبِينٍۭ﴾ (النمل: 1)
"طس، یہ آیات ہیں قرآن کی اور روشن کتاب کی۔”

➝ ان دونوں مقامات پر "کتاب” اور "قرآن” دونوں کا اطلاق ایک ہی چیز یعنی قرآن پر ہے، الگ الگ ہستیوں پر نہیں۔

سورۃ الاحزاب میں اسلوب کی مثال

اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی مختلف صفات بیان کیں:

﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ إِنَّآ أَرْ‌سَلْنَـٰكَ شَـٰهِدًۭا وَمُبَشِّرًۭا وَنَذِيرًۭا • وَدَاعِيًا إِلَى ٱللَّهِ بِإِذْنِهِۦ وَسِرَاجًۭا مُّنِيرًۭا﴾ (الأحزاب: 45-46)
"اے نبی! ہم نے آپ کو بھیجا گواہ بنا کر، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا، اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر۔”

➝ یہاں "شاہد”، "مبشر”، "نذیر”، "داعی”، "سراجاً منیراً” سب آپ ﷺ کی صفات ہیں۔ یہ الگ الگ ہستیاں نہیں۔

خلاصہ

لہٰذا سورۃ المائدہ کی آیت میں "نور” سے مراد بھی قرآن ہی ہے۔ قرآن نے کبھی بھی نبی ﷺ کو نور نہیں کہا بلکہ بار بار آپ ﷺ کے بشر ہونے کی تصریح کی ہے۔

آیت: ﴿إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ﴾ میں ’’ما‘‘ کا مفہوم

گمراہ فرقے بعض مجالس میں عوام کو یہ شبہ دیتے ہیں کہ اس آیت:

﴿قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ﴾ (الكهف: 110، حم السجدة: 6)

کا مطلب یہ ہے کہ "ما” یہاں نفی کے لیے ہے۔ یعنی (ان کے مطابق):
"میں تمہاری طرح بشر نہیں ہوں۔”

صحیح مفہوم

یہ معنی سراسر باطل ہے۔

"إِنَّمَا” دراصل کلمہ حصر ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے:
"میں تو بس تمہاری ہی طرح ایک بشر ہوں، البتہ میری طرف وحی کی جاتی ہے۔”

اہل نحو کی وضاحت

علامہ ابن ہشام انصاری رحمہ اللہ (مغنی اللبیب، جلد 2، صفحہ 9) فرماتے ہیں:

((وليس ما للنفى بل هى بمنزلتها فى أخواتها لتوكد إن وأخواتها))

یعنی: یہاں "ما” نفی کے لیے نہیں بلکہ "انما” کو کلمہ حصر بنانے کے لیے آتی ہے۔

➝ مطلب یہ کہ "إِنَّمَا” ہمیشہ حصر کے لیے ہوتا ہے، نفی کے لیے نہیں۔

اگر ’’ما‘‘ کو نفی مانا جائے؟

اگر بالفرض "ما” کو نفی مانا جائے تو آیات کے معانی عجیب و غریب اور کفریہ بن جاتے ہیں:

﴿إِنَّمَا ٱلْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ﴾ (التوبة: 28)
صحیح مطلب: "یقیناً مشرک ناپاک ہیں۔”
ان کے اصول کے مطابق: "مشرک ناپاک نہیں ہیں۔”

﴿إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ (الحجرات: 10)
صحیح مطلب: "یقیناً مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔”
ان کے اصول کے مطابق: "مومن بھائی نہیں ہیں۔”

﴿قُلْ إِنَّمَا ٱلْعِلْمُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٌ مُّبِينٌ﴾ (الملك: 26)
صحیح مطلب: "آپ فرما دیجئے: علم صرف اللہ کے پاس ہے اور میں تو کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔”
ان کے اصول کے مطابق: "اللہ کے پاس علم نہیں اور نہ ہی میں ڈرانے والا ہوں۔”

نتیجہ

’’ما‘‘ کو نفی ماننا قرآن کی بے حرمتی ہے۔

اس سے قرآن کے الفاظ کے غلط اور کفریہ معانی لازم آتے ہیں۔

درست یہ ہے کہ "إِنَّمَا” حصر کے لیے آتا ہے، اور آیات کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک بشر ہیں جن پر وحی نازل ہوتی ہے۔

جعلی روایت: ’’نورِ محمدی‘‘

کچھ حضرات اپنے عقیدے کے ثبوت میں ایک روایت پیش کرتے ہیں جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں:

((قال قلت: يارسول الله بأبى انت وامى، اخبرنى عن اول شىء خلقه الله قبل الأشياء؟ قال: ياجابر، إن الله تعالى خلق قبل الأشياء نور نبيك من نوره… الخ))

ترجمہ:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بتائیے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کون سی چیز پیدا کی؟
آپ ﷺ نے فرمایا: اے جابر! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا کیا۔۔۔

حقیقتِ روایت

اس روایت کی کوئی صحیح سند موجود نہیں۔

یہ روایت بے اصل اور موضوع ہے۔

اسے مصنف عبدالرزاق کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، مگر مصنف عبدالرزاق میں اس کا سرے سے وجود ہی نہیں۔

نبی ﷺ پر جھوٹ باندھنے کی وعید

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار))
ابوداود، كتاب العلم، باب التشديد في الكذب على رسول الله ﷺ، رقم: 3651

ترجمہ:
"جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔”

➝ اس وعید سے معلوم ہوا کہ ایسی روایت گھڑنا یا اسے پھیلانا نہایت سنگین جرم ہے۔

ایک اور موضوع روایت

اسی طرح بعض حضرات یہ روایت بھی نقل کرتے ہیں:

((خلقني الله من نوره، وخلق أبا بكر من نوري، وخلق عمر من نور أبي بكر، وخلق أمتي من نور عمر…))

ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے نور سے پیدا کیا، پھر ابوبکر کو میرے نور سے، عمر کو ابوبکر کے نور سے، اور میری امت کو عمر کے نور سے پیدا کیا۔

محدثین کی جرح

امام ذہبی رحمہ اللہ (میزان الاعتدال، جلد 1، صفحہ 166) فرماتے ہیں:

یہ روایت باطل ہے اور قرآن کے خلاف ہے۔

اس کے راوی جھوٹے اور متروک ہیں:

ابو معشر: کذاب (جھوٹا)

ابو شعیب سوسی: متروک

ہیثم: ضعیف

احمد بن یوسف منجبی: غیر معروف و مجہول

➝ اس لیے یہ روایت سر تا سر جھوٹ ہے، جس سے عقیدہ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

خلاصہ

’’نور محمدی‘‘ والی تمام روایات بے بنیاد اور موضوع ہیں۔

محدثین نے ان کو سختی سے رد کیا ہے۔

ان روایات کی بنیاد پر عقیدہ بنانا قرآن و حدیث کے خلاف ہے۔

خلاصہ اور فیصلہ

قرآن کریم نے بار بار رسول اللہ ﷺ کے بشر ہونے کی وضاحت کی ہے:
﴿قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ﴾ (الكهف: 110)
"آپ کہہ دیجئے: میں بھی تمہاری طرح ایک بشر ہوں، البتہ میری طرف وحی کی جاتی ہے۔”

قرآن میں ’’نور‘‘ کا اطلاق صرف اور صرف قرآن پر کیا گیا ہے، نبی ﷺ کی ذات پر نہیں۔

’’نور محمدی‘‘ کے نام سے بیان کی جانے والی تمام روایات موضوع (جھوٹی) یا بے سند ہیں۔ محدثین نے ان پر سخت جرح کی ہے اور ان کو ناقابلِ اعتبار قرار دیا ہے۔

ایسا عقیدہ رکھنا دراصل مشرکانہ افکار سے ماخوذ ہے اور نصاریٰ کے عقیدے کی مشابہت رکھتا ہے، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ مان بیٹھے تھے۔

گمراہی کا اصل سبب

یہ لوگ قرآن کے واضح عربی قواعد کو بگاڑتے ہیں۔

جعلی روایات گھڑ کر عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ قرآن اور صحیح احادیث میں اس عقیدے کی کوئی بنیاد نہیں۔

نتیجہ کلام

رسول اللہ ﷺ اللہ کے برگزیدہ بشر اور اس کے آخری رسول ہیں، نور نہیں۔

’’نور‘‘ صرف قرآن کے لیے بولا گیا ہے کیونکہ وہ ہدایت اور روشنی عطا کرتا ہے۔

"نور محمدی” والا عقیدہ باطل اور بے بنیاد ہے۔

ھذا ما عندی، واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔