مضمون کے اہم نکات
سرور العینین پر ایک نظر
الحمد لله رب العالمين والصلوٰة والسلام على رسوله الأمين، أما بعد:
حال ہی میں حافظ حبیب اللہ ڈیروی دیوبندی نے استاذ محترم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کی کتاب ”نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین“ کا جواب دینے کی سعی لا حاصل کی ہے کیونکہ ڈیروی صاحب نے جن باتوں کو بنیاد بنایا ہے وہ مرجوع (رجوع شدہ) یا کتابت کی غلطیاں ہیں۔ اس سے قبل کہ ہم ڈیروی دیوبندی کی تحریر کا جائزہ لیں چند باتیں ملحوظ رکھنا ضروری ہیں:
➊ فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ نے باقاعدہ اعلان کر رکھا ہے کہ ”میری صرف وہی کتاب معتبر ہے، جس کے ہر ایڈیشن کے آخر میں میرے دستخط مع تاریخ موجود ہوں، اس شرط کے بغیر کسی شائع شدہ کتاب کا میں ذمہ دار نہیں ہوں۔“ (القول المتین فی الجہر بالتامین ص 12 طبع اول جنوری 2004ء، طبع دوم ص 19، جون 2007ء، ماہنامہ الحدیث شماره 27 ص 60، نصر الباري فی تحقیق جزء القراءۃ للبخاري صام طبع اول اپریل 2005ء والثانی ستمبر 2006ء)
➋ استاذ محترم حفظہ اللہ نے نور العینین طبع جدید ص 14 پر لکھا ہے: ”اس کا یہی جدید ایڈیشن معتبر ہے نیز راقم الحروف نے بھی مقدمہ کتاب میں لکھا کہ اس ایڈیشن میں سابقہ تسامح وغیرہ کی تصحیح اور بعض کی وضاحت بھی کر دی گئی ہے .. اب یہی ایڈیشن معتبر ہے۔“ (دیکھیے نور العینین طبع جدید ص 12 نیز دیکھیے ماہنامہ الحدیث: 23 ص 58)
➌ تقریبا جولائی 2006ء کو ڈیروی صاحب اپنے بیٹے اور ساتھیوں کے ہمراہ مکتبۃ الحدیث حضرہ ضلع اٹک آئے اور استاذ محترم حفظہ اللہ سے ملاقات کی، دوران گفتگو میں فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ نے ڈیروی صاحب سے پوچھا: سنا ہے کہ آپ نور العینین کا جواب لکھ رہے ہیں؟ ڈیروی صاحب نے کہا: جی ہاں! تو استاذ محترم نے فرمایا: جواب لکھتے وقت اس کتاب کے جدید ایڈیشن کو پیش نظر رکھیں کیونکہ اب یہی ایڈیشن معتبر ہے۔ لیکن اس کے باوجود ڈیروی صاحب نے ان تمام باتوں کو بھی بنیاد بنایا جن سے با قاعدہ اعلان کے ذریعے سے رجوع کیا جا چکا ہے۔
اس عمل کے ارتکاب سے بیچارے ڈیروی اپنی ہی تحریر کی رو سے خائن و ملبس ٹھہرے۔ ڈیروی نے خود لکھا ہے کہ کتنی زبردست جسارت ہے اور خیانت و تلبیس ہے کہ جو رسالہ منسوخ ہے اس کا مصنف اس عمل سے رجوع کر چکا ہے اس کی تشہیر کی جا رہی ہے۔
؎ سنی حکایت ہستی تو درمیان سے سنی
نہ ابتداء کی خبر ہے نہ انتہاء معلوم
(نور الصباح حصہ دوم ص 24)
معلوم ہوا کہ رجوع شدہ بات کی تشہیر ڈیروی کے نزدیک خیانت و تلبیس ہے۔
؎ لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
اب دیکھیے کہ ڈیروی صاحب کتنے بڑے خائن اور تلبیس سے کام لینے والے ہیں۔
ڈیروی صاحب لکھتے ہیں: فالہذا زبیر علی زئی کا جھوٹ ظاہر ہو گیا کہ حافظ صلاح الدین نے سفیان ثوری کو طبقہ ثالثہ میں شمار کیا ہے۔ (نور الصباح حصہ دوم ص 240)
تجزیہ: حالانکہ استاذ محترم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ نے نور العینین طبع سوم، مارچ 2004ء ص 123 پر دوٹوک الفاظ میں وضاحت فرمائی کہ حافظ العلائی کا یہاں ذکر میرا وہم تھا۔ صحیح یہ ہے کہ امام حاکم کا قول ہے۔ الحمد لله
لیکن ڈیروی صاحب مصر ہیں کہ یہ حافظ زبیر علی زئی کا جھوٹ ہے۔ ڈیروی صاحب آپ اپنی تحریر کی رو سے خائن و ملبس ثابت ہو چکے ہیں۔
تنبیہ: حافظ العلائی کے قول سے امام حاکم کا قول بدرجہا بہتر ہے لہذا دلیل اور زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ سرفراز خان صفدر دیوبندی نے امام حاکم کو بحوالہ حافظ ذہبی ”الامام الحافظ اور الحجب“ لکھا ہے۔ دیکھیے احسن الکلام (ج 1 ص 232) لہذا امام حاکم پر ڈیروی کی نیش زنی مردود ہے۔ اب ڈیروی صاحب کی ایک دوسری تحریر کی طرف توجہ مبذول کراتا ہوں، شاید کہ اپنے کئے پر نادم ہو کر توبہ کر لیں!!
ڈیروی نے لکھا ہے: ”غلط بیانی اور تمہیں گناہ ہے، اس کو آپ گناہ سمجھیں گے تو یہ مرض زائل ہو سکتی ہے ورنہ زیادہ مصیبت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ (نور الصباح حصہ دوم ص 44)
ڈیروی صاحب نے مزید لکھا کہ ”مولانا زبیر علی زئی فرماتے ہیں سفیان ثوری رحمہ اللہ احد الاعلام علماً وزہذا (الکاشف ج 1ص 300) صحیح بخاری و صحیح مسلم کا راوی ہے (تقریب) طبقہ ثانیہ کا مدلس ہے جس کی تدلیس مضر نہیں الا اذا اشبت واللہ اعلم (طبقات المدلسین کا مطالعہ کریں) جرابوں پر مسح ص 40 جمع و ترتیب عبد الرشید انصاری طبع اول) (نور الصباح حصہ دوم ص 241)
تجزیہ: یہاں بھی ڈیروی نے اپنی سابقہ روش برقرار رکھی کیونکہ استاذ محترم حفظہ اللہ اس عبارت سے براءت کا اعلان فرما چکے ہیں جو کہ چھپ کر لوگوں کے ہاں عام ہو چکا ہے۔ فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ لکھتے ہیں: ”سفیان ثوری کے بارے میں راجح یہی ہے کہ وہ مدلس ہیں اور ضعفاء وغیر ہم سے تدلیس کرتے تھے، لہذا ان کی غیر صحیحین میں معنعن روایت، عدم متابعت و عدم تصریح سماع کی صورت میں ضعیف و مردود ہوتی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا انھیں طبقہ ثانیہ میں شمار کرنا صحیح نہیں بلکہ وہ طبقہ ثالثہ کے فرد ہیں۔ نیز شیخ صاحب لکھتے ہیں یاد رہے کہ عبد الرشید انصاری صاحب کے نام میرے ایک خط (1408/8/19ھ) میں سفیان ثوری کے بارے میں یہ لکھا گیا تھا کہ: طبقہ ثانیہ کا مدلس ہے جس کی تدلیس مضر نہیں ہے۔ (جرابوں پر مسح ص 40) میری یہ بات غلط ہے، میں اس سے رجوع کرتا ہوں، لہذا اسے منسوخ و کالعدم سمجھا جائے گا۔ (ماہنامہ شہادت اسلام آباد، اپریل 2003ء، صفر 1424 ہ ص 39)
ڈیروی جی! آپ کو تو اپنی بات کا بھی پاس نہیں” منسوخ و کالعدم“ کی تشہیر کو خیانت و تلبیس سمجھتے ہیں اور اسے خود کر بھی گزرتے ہیں۔ تلبیس کو گناہ جانتے ہیں لیکن خود اس گناہ کو بار بار کرتے ہیں۔ یہاں ڈیروی کا ہی انتخاب چسپاں کرنے کو من چاہ رہا ہے۔
”بے حیاء باش و ہر آنچہ خواہی کن“
؎ جس میں پر ہن کا گھر ڈوبا
اس ساون کو آگ لگا دو
ڈیروی نے تعارض نمبر 1: کے تحت لکھا ہے: مولانا زبیر علی زئی صاحب تحریر کرتے ہیں مولانا سرفراز دیوبندی وغیر ہم نے بھی محمد بن اسحاق کی توثیق کی ہے۔ نیز لکھا ہے: ”اس بات کی تردید بہتر ہے کہ مولانا زبیر علی زئی صاحب کے قلم سے ملاحظہ فرمائی جائے۔ مولانا علی زئی صاحب لکھتے ہیں غرض جمہور علماء محمد بن اسحاق کو ثقہ کہتے ہیں مگر سرفراز اینڈ پارٹی برابر کذاب کذاب کی رٹ لگا رہے ہیں۔(نور الصباح حصہ دوم ص 247)
تجزیہ: اس عبارت سے ڈیروی صاحب یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کا تعارض ہے حالانکہ اس سے تو صاف سرفراز خان صفدر کا تعارض معلوم ہوتا ہے کہ ایک جگہ محمد بن اسحاق کی روایت سے استدلال کرتے ہیں۔ (دیکھیے تسکین الصدور ص 340 وغیرہ) اور دوسرے مقام پر اسی محمد بن اسحاق کو کذاب و دجال قرار دیتے ہیں۔ (دیکھیے خزائن السنن حصہ اول ص 61 واحسن الکلام ج 2 ص 84)
اب بتائیے تعارض کس کا ہے؟؎ دیدہ کورکو کیا آئے نظر کیا دیکھے
ڈیروی نے لکھا ہے: ”مولانا زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں۔ إنما يفتري الكذب الذين لا يؤمنون بآيات الله وأولئك هم الكاذبون (سورۃ النمل: 105) جھوٹ تو وہ لوگ بناتے ہیں جن کو یقین نہیں اللہ کی باتوں پر اور وہی لوگ جھوٹے ہیں۔ (تعداد رکعات قیام رمضان ص 36) اب مولانا حافظ زبیر نے یہ آیت سورۃ نمل 105 سے پیش کی ہے جو بالکل جھوٹ ہے سورۃ نمل کی کل آیات 93 ہیں تو اس سورۃ کی یہ آیت 105 کیسے ہو سکتی ہے۔“
(نور الصباح حصہ دوم ص 248)
تجزیہ: کمپوزنگ کی اس غلطی کو ڈیروی نے جھوٹ تصور کیا ہے۔ حالانکہ یہ صریحاً کمپوزنگ کی غلطی ہے جو النحل کے بجائے النمل لکھا گیا ہے، ہمارے پاس اس کی قلمی اصل موجود ہے، اس میں بھی النحل لکھا ہوا ہے۔ (ص 1) دوسرے یہ کہ تعداد رکعات قیام رمضان کے اسی ایڈیشن میں صفحہ 46 پر یہی آیت بحوالہ سورۃ النحل موجود ہے۔ تیسرے یہ کہ ترجمہ بحوالہ تفسیر عثمانی نقل کیا گیا ہے اور اس کا صفحہ بھی درج ہے جو کہ دلالت کرتا ہے کہ یہ سورۃ النحل ہی ہے، جو کمپوزر کی غلطی سے سورۃ النمل لکھا گیا، چوتھے یہ کہ ڈیروی خود معترف ہے کہ لکھنے میں یا پڑھنے میں بھولے سے غلطی واقع ہو سکتی ہے۔ ایسی غلطی تو بڑے بڑے حضرات سے بھی ہو جاتی ہے۔ (نور الصباح حصہ دوم ص 43) پانچویں یہ کہ اگر کمپوزنگ کی غلطی کو جھوٹ تصور کیا جائے تو شاید روئے زمین پر ڈیروی سے بڑا کذاب اور کوئی نہ ہو، اپنی اسی تازہ کتاب نور الصباح حصہ دوم کو ہی دیکھ لیں صفحہ پر لکھا ہوا ہے:رفع الیدین بن السجدتین“ صفحہ 4 پر جابر بن سمرہ کے بجائے ”ثمرہ“ لکھا ہوا ہے۔ حالانکہ یہ کمپوزنگ ڈیروی نے (کمپوزر) کے ساتھ بیٹھ کر کرائی ہے۔ (دیکھیے نور الصباح حصہ دوم ص 10) خود پاس بیٹھنے کے باوجود غلطیوں کا یہ عالم ہے اور دوسروں کو کمپوزنگ کی غلطی کی وجہ سے جھوٹا قرار دے رہے ہیں!!
؎ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
ڈیروی کی جہالتیں
ڈیروی نے اپنی کتاب (نور الصباح حصہ دوم ص 50، 49) میں تقریباً چار مرتبہ ابو العرب کو” ابو الغرب “لکھا ہے اور اپنی جہالت کی مزید وضاحت ”امام مغربی رحمہ اللہ (ابوالغرب)“ لکھ کر کی ہے۔ یہ ابوالغرب کیا ہے؟ یہ ایسا پردہ ہے جو علم کے ذریعے سے ہٹے گا اور ڈیروی کے ہاں علم کا فقدان ہے۔
یہی ڈیروی صاحب اپنی جہالت کا ثبوت دوسرے مقام پر اس انداز سے دیتے ہیں:
علامہ ذہبی رحمہ اللہ ترجمہ ہشام بن سعد میں فرماتے ہیں: فالجمهور على انه لا يحتج بهما
(میزان ص 296 ج 4) (توضیح الکلام پر ایک نظر ص 291)
حالانکہ صحیح ہشام بن حسان ہے جسے ڈیروی نے ہشام بن سعد بنا دیا ہے۔ یہاں بھی مجھے ڈیروی کا انتخاب یاد آ رہا ہے۔
؎گل گئے گلشن گئے جنگل دھتورے رہ گئے
اڑ گئے دانا جہاں سے بے شعور رہ گئے
اسے ڈیروی صاحب کی جہالت کہیں یا ڈیروی قاعدے کے مطابق جھوٹ دونوں صورتوں میں ڈیروی صاحب کی شخصیت پہچاننے میں مشکل نہ ہو گی۔
محرف کون؟
ڈیروی نے لکھا ہے:
حافظ زبیر علی زئی صاحب تحریر کرتے ہیں عقبة بن عامر الجهني يقول انه يكتب فى كل اشارة يشيرها الرجل بيده فى الصلوة بكل حسنة أو درجة (نور العینین ص 145) یعنی حضرت عقبہ بن عامر نے فرمایا نماز میں جو شخص اشارہ کرتا ہے اسے ہر (مسنون) اشارہ کے بدلے ہر ایک انگلی پر ایک نیکی یا ایک درجہ ملتا ہے۔ یہ اثر طبرانی کبیر ج 17 ص 297 میں ہے۔ اس میں ایک لفظ علی زئی صاحب کھا گئے ہیں وہ تھا ”بکل کے بعد اصبعین “ ۔ (نور الصباح حصہ دوم ص 250، 251)
تجزیہ: ڈیروی صاحب کی مذکورہ عبارت کا تجزیہ درج ذیل ہے:
➊ نور العینین کے پہلے تین ایڈیشنوں میں لفظ ”اصبع “ کمپوزنگ کی غلطی سے رہ گیا تھا۔ ہمارے پاس نور العینین کی قلمی اصل موجود ہے۔ اس میں اصبع کا لفظ موجود ہے۔ والحمد لله
نیز ترجمہ میں اصبع کا ترجمہ انگلی کیا گیا ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کمپوزنگ کی غلطی ہے۔ جو شخص کمپوزنگ کی غلطی کو تحریف یا جھوٹ قرار دے وہ احمق ترین ہے۔ اس سلسلے میں سابقہ صفحات پر کافی کچھ لکھا جا چکا ہے۔
➋ علاوہ ازیں نور العینین کے جدید ایڈیشن (ص 182) میں اس کا ازالہ بھی کر دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ڈیروی کا اسے تحریف ظاہر کرنا، اس کے اپنے قول کے مطابق خیانت و تلبیس ہے۔ ڈیروی صاحب نے اس کمپوزنگ کی غلطی کو تحریف بنا دیا ہے۔ لیکن اپنے دیوبندیوں کی تحریفات سے صرف نظر کر جاتے ہیں! جنھوں نے نہ قرآن مجید کا لحاظ رکھا اور نہ احادیث ہی کا، ڈیروی صاحب! سورہ نساء کی آیت 59، مصنف ابن ابی شیبہ اور سنن ابی داود میں تحریف کرنے والے کون ہیں؟
؎ ہمیں یاد ہے سب ذرا ذرا تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
ڈیروی کی تحریف
ڈیروی نے لکھا ہے: ”اس میں ایک لفظ علی زئی صاحب کھا گئے ہیں وہ تھا بکل کے بعد اصبعین یعنی ہر دو انگلیوں کے اشارے پر ایک نیکی یا درجہ ملتا ہے۔ اب دو انگلیوں کا اشارہ کیسے ہو گا۔“ (نور الصباح حصہ دوم ص 251)
تجزیہ: حدیث میں ”اصبع “کا لفظ ہے۔ دیکھیے معجم الکبیر (297/17) وغیرہ لیکن ڈیروی نے اپنے مفاد کی خاطر لفظ اصبع کو ”اصبعین“ بنا دیا جو سراسر تحریف ہے اور پھر بڑی ڈھٹائی سے اس کا ترجمہ بھی” یعنی ہر دو انگلیوں کے اشارے“ کیا ہے۔
؎ ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
جب دلائل ساتھ نہ دے رہے ہوں تو پھر ڈیروی جیسے شخص اسی طرح کی حرکات سے اپنے عوام کو طفل تسلیاں دیتے ہیں! بلکہ پوری ملت دیوبند یہ اسی طریقہ پر کاربند ہے۔
ڈیروی صاحب اور ابن لہیعہ
ڈیروی صاحب لکھتے ہیں: ”اس کی سند میں عبد اللہ بن لہیعہ ایک راوی ہے جو سخت ضعیف و مدلس و مختلط الحدیث ہے۔“ (نور الصباح حصہ دوم ص 252)
ڈیروی صاحب نے ابن لہیعہ کو سخت ضعیف لکھا ہے، جس بنا پر بیچارے اپنوں کے ہی عتاب کی زد میں آ گئے چنانچہ سید مہدی حسن شاہجہانپوری دیوبندی ابن لہیعہ کی ایک روایت کے بارے میں لکھتے ہیں: ”پس طریق مذکور کو ضعیف کہنا ضعیفوں کا کام ہے۔“ (مجموعہ رسائل جلد اول ص 323، نیز دیکھیے اعلاء السنن تصنیف ظفر احمد تھانوی دیوبندی 1/445، 448)
یہ ہے ڈیروی دیوبندی پر شاہجہانپوری دیوبندی کا فتویٰ! یعنی شاہجہانپوری کے نزدیک ڈیروی صاحب ضعیف ہیں۔
؎ گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
خلط مبحث اور ہٹ دھرمی
استاذ محترم حفظہ اللہ نے حدیث عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے مفہوم کے تحت امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہما اللہ کے اقوال نقل کئے تاکہ عوام پر واضح ہو جائے کہ ان ائمہ کرام کے نزدیک بھی اس حدیث سے مراد رکوع کو جاتے اور اٹھتے وقت رفع الیدین ہے لیکن ڈیروی نے خلط مبحث سے کام لیتے ہوئے لکھا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کی بے سند قول سے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے اثر کو رفع الیدین عند الرکوع پر فٹ کرنا صحیح نہیں۔ کیونکہ ان دو اماموں و حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے درمیان سینکڑوں سالوں کا فاصلہ ہے۔ (نور الصباح حصہ دوم ص 254)
تجزیہ: حالانکہ یہ قول حدیث کی درایت (شرح) میں پیش کئے گئے ہیں نہ کہ روایت میں اور ان دونوں قولوں کی سندیں صحیح ہیں لیکن ڈیروی صاحب اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لئے اپنی عادت سے مجبور اور ہٹ دھرمی کا شکار ہیں۔
مذکورہ عبارت کا فیصلہ ڈیروی کی ہی تحریر سے با آسانی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ڈیروی نے لکھا ہے: ”حافظ ابن حجر رحمہ اللہ حضرت عقبہ رحمہ اللہ کے اثر کو تکبیر احرام کے وقت مانتے ہیں جبکہ یہ حضرات رفع الیدین عند الرکوع پر فٹ کر رہے ہیں۔“ (نور الصباح حصہ دوم ص 251)
جی ڈیروی صاحب! کیا حافظ ابن حجر کی ملاقات سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے؟ کیا آپ یہ قول متصل سند کے ساتھ بیان کر رہے ہیں؟ کیا آپ کو اب ابن حجر اور سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کے درمیان سینکڑوں سالوں کا فاصلہ نظر نہیں آیا؟ ؎ بے حیاء باش و هر آنچہ خواہی کن
یاد رہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا حدیث عقبہ رضی اللہ عنہ کو مذکورہ باب کے تحت بیان کرنے سے فضیلت رفع الیدین مقصود ہے نہ کہ تکبیر احرام کے ساتھ تخصیص! کیونکہ خود حافظ ابن حجر نے اس روایت کو اتلخیص الحبیر (220/1) میں رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ کی بحث میں نقل کیا ہے۔
ڈیروی کی خیانت
ڈیروی نے لکھا ہے: علامہ ذہبی رحمہ اللہ کا رجوع: سیر اعلام النبلاء ج 10 ص 267 میں ایک روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔ یعنی ان عارما قال هذا و قد زال عقله کہ عارم نے یہ بات اس وقت کہی جب اس کا عقل زائل ہو گیا تھا۔ (نور الصباح حصہ دوم ص 360)
تجزیہ: مذکورہ عبارت میں ڈیروی نے بہت بڑی خیانت کا ارتکاب کیا ہے کیونکہ یہ عبارت علامہ ذہبی رحمہ اللہ کی ہے ہی نہیں لیکن ڈیروی نے اسے علامہ ذہبی کے ساتھ جوڑ دیا جو کہ بہت بڑی خیانت ہے۔
ڈیروی صاحب جس عبارت کو علامہ ذہبی کی عبارت قرار دے رہے ہیں وہ ابو عبید الآجری کی یا ابو داود سے منسوب ہے۔ دیکھیے تہذیب الکمال (155/17) اور سوالات ابی عبید الآجری (قلمی 4 /الورقۃ 11) نیز دیکھیے الجامع فی الجرح والتعدیل (67/3)
قارئین کرام: جو شخص خائن ملبس اور محرف ہو اس کا دین میں کیا مقام ہو گا؟ اور اس کی تحریر کی کیا حیثیت ہو گی؟ اس کا فیصلہ اب آپ بہترین طریقے سے کر سکتے ہیں۔
ڈیروی جیسے حضرات جو اتنے صفحات سیاہ کر ڈالتے ہیں صرف اس لئے کہ عوام میں اپنی” ڈانواڈول“ ساکھ کو بحال رکھ سکیں یا پھر؎ بدنام نہ ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا
کے اصول پر عمل پیرا ہیں۔ (اللهم اهدهم)
ڈیروی کا صحیح بخاری پر حملہ
ڈیروی نے لکھا ہے: ”ابو النعمان محمد بن فضل السدوی کی منکر روایات خود بخاری شریف میں موجود ہیں۔ (نور الصباح حصہ دوم ص 256)
ڈیروی صاحب قیل و قال کے ذریعے سے صحیح بخاری کی صحت کو مشکوک بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن ڈیروی کے اس عمل نے ڈیروی کو ہی مشکوک بنا دیا ہے۔
؎ دونوں عالم سے دل مضطر نے تجھ کو کھو دیا
ہو گئی اس کی بدولت آبرو پانی تیری
آل دیوبند کے تسلیم شدہ بزرگ شاہ ولی اللہ دہلوی فرماتے ہیں: ”صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بارے میں تمام محدثین متفق ہیں کہ ان میں تمام متصل اور مرفوع احادیث یقیناً صحیح ہیں۔ یہ دونوں کتابیں اپنے مصنفین تک بالتواتر پہنچتی ہیں۔ جو ان کی عظمت نہ کرے وہ بدعتی ہے جو مسلمانوں کی راہ کے خلاف چلتا ہے۔ (حجة اللہ البالغہ عربی 134/1، اردو242/1 ترجمہ: عبد الحق حقانی)
معلوم ہوا کہ ڈیروی شاہ ولی اللہ کے نزدیک بدعتی ہے اور مسلمانوں کی راہ کے خلاف چلتا ہے۔ اور تو اور ڈیروی نے تو اپنے استاد کا سر بھی شرم سے جھکا دیا ہے کیونکہ ان کے استاد سرفراز خان صفدر دیوبندی لکھتے ہیں: ”اور امت کا اس پر اجماع و اتفاق ہے۔ کہ بخاری و مسلم دونوں کی تمام روایتیں صحیح ہیں۔“ (حاشیہ احسن الکلام ار 1/187، دوسرا نسخہ 234/1)
ادھر ڈیروی صاحب ہیں جو کہ اپنے استاذ سے بغاوت کرتے ہوئے صحیح بخاری کی احادیث کو منکر ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں مزید کچھ لکھنے کے بجائے صرف یہی کہوں گا کہ
آپ ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی
حافظ حبیب اللہ ڈیروی صاحب نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ والی روایت کو بھی بطور دلیل پیش کیا ہے بلکہ کتاب کے ٹائٹل پر بھی اسے نقل کیا ہے۔ علمی بحث سے قطع نظر ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس روایت کو بطور دلیل پیش کر کے ڈیروی صاحب نے اپنے آپ کو رسوا اور اپنے اکابر کی نظر میں مزید گرا دیا ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی اور شاہجہانپوری کے فتوے کی زد میں تو پہلے ہی آ چکے ہیں۔ اب مزید فتوے ملاحظہ کیجئے:
➊ محمود حسن دیوبندی فرماتے ہیں: ”باقی اذ ناب خیل کی روایت سے جواب دینا بروئے انصاف درست نہیں کیونکہ وہ سلام کے بارہ میں ہے۔(الورد الشذی علی جامع الترمذی ص 63)
➋ محمد تقی عثمانی دیوبندی فرماتے ہیں: ”لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ اس حدیث سے حنفیہ کا استدلال مشتبہ اور کمزور ہے۔ (درس ترمذی 36/2)
ان تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ محمود حسن دیوبندی اور تقی عثمانی کے نزدیک ڈیروی صاحب انصاف کے قریب بھی نہیں پھٹکے بلکہ پرلے درجے کے بے انصاف شخص ہیں۔
لطیفہ: ڈیروی نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ والی روایت کے سلسلے میں تقی عثمانی سے خط کتابت کی اور بہتیرے ڈورے ڈالنے کی کوشش کی کہ اپنے موقف سے رجوع کر لیں لیکن تقی عثمانی نے جاہل ڈیروی کی تحریر کو قابل التفات ہی نہیں جانا، اور اپنے سابقہ موقف پر ڈٹے رہے۔ جس کا ڈیروی صاحب ان الفاظ میں اظہار کرتے ہیں: ”مگر مولانا محمد تقی عثمانی نے حسب وعدہ نہ رجوع فرمایا اور نہ اس خط کا جواب عنایت کیا۔“ (نور الصباح حصہ دوم ص 328)
بیچارہ ڈیروی اس کے سوا کیا کہہ سکتا ہے کہ
؎ آنکھ پر نم ہے اور اس پہ جگر جلتا ہے
کیا تماشا ہے کہ برسات میں گھر جلتا ہے
اکابر دیوبند کے بعد دیگر علمائے کرام کے فتوے بھی ملاحظہ کریں:
➌ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ولا يحتج بهذا من له حظ من العلم جس کے پاس علم میں سے تھوڑا سا حصہ بھی ہے تو وہ اس روایت سے (ترک رفع یدین پر) حجت نہیں پکڑتا۔ (جزء رفع الیدین: 37)
➍ علامہ نووی شارح صحیح مسلم نے فرمایا: اس حدیث سے رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کے نہ کرنے پر استدلال کرنے والا جہالت قبیحہ کا مرتکب ہے اور بات یہ ہے کہ عند الرکوع رفع الیدین کرنا صحیح ثابت ہے جس کا رد نہیں ہو سکتا۔
(المجموع شرح المهذب 403/3)
➎ حافظ ابن الملقن نے فرمایا: اس حدیث سے (ترک رفع الیدین پر) استدلال انتہائی بری جہالت ہے۔ (البدر المنیر 485/3)
معلوم ہوا کہ امام بخاری، علامہ نووی اور حافظ ابن الملقن تینوں کے نزدیک ڈیروی صاحب بے علم اور پرلے درجے کے جاہل ہیں۔
تنبیہ: ماہنامہ الحدیث: 27 ص 20 تا 31 میں حبیب اللہ ڈیروی صاحب کے دس (10) جھوٹ باحوالہ نقل کر کے قارئین کی عدالت میں پیش کئے جا چکے ہیں جن کا جواب ابھی تک ڈیروی پر قرض ہے۔ آخر میں عرض ہے کہ راقم الحروف نے ڈیروی صاحب کی اس تحریر پر سرسری نظر ڈالی ہے جس سے عوام کافی حد تک ڈیروی کو پہچان گئے ہوں گے۔ (إن شاء الله)
[ماہنامہ الحدیث حضرو: 41 ص 48 تا 58]