نوحہ کا کیا حکم ہے؟ صحیح احادیث کی روشنی میں وضاحت

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

نوحہ کا کیا حکم ہے؟

جواب:

امت کا اجماع ہے کہ میت پر بین کرنا، زمانہ جاہلیت کے کلمات کہنا اور ہلاکت کی دعائیں کرنا حرام ہیں۔
① سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
ليس منا من لطم الخدود، وشق الجيوب، ودعا بدعوى الجاهلية.
”رخسار پیٹنے والا، گریباں چاک کرنے والا اور جاہلیت کی پکار پکارنے والا، ہم میں سے نہیں۔“
(صحيح البخاري: 1294)
② سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم برئ من الصالقة والحالقة والشاقة.
”رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صالقہ، حالقہ اور شاقہ عورت سے اعلانِ برات کیا ہے۔“
(صحيح البخاري: 1296)
صالقہ: وہ عورت جو نوحہ خوانی اور بین کرے۔
حالقہ: مصیبت کے وقت سر مونڈ لینے والی۔
شاقہ: مصیبت کے وقت اپنا کپڑا یا گریبان چاک کر لینے والی۔
اس کے علاوہ بال بکھیرنا، چہرے پر مارنا، رخسار نوچ کر زخمی کر لینا، واویلا کرنا اور ہلاکت وغیرہ کی دعائیں کرنا سب کام بالا اتفاق حرام ہیں۔
③ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
أخذ علينا النبى صلى الله عليه وسلم عند البيعة أن لا ننوح.
”نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ہم سے بیعت لی کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی۔“
(صحيح البخاري: 1306 ؛ صحیح مسلم: 936)
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
اثنتان فى الناس هما بهم كفر ؛ الطعن فى النسب والنياحة على الميت.
”لوگوں میں دو کفر یہ چیزیں پائی جاتی ہیں، کسی کے نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔“
(صحیح مسلم: 67)
نوحہ یہ ہے کہ محاسن چیخ چیخ کر بیان کئے جائیں۔ حادثہ کے وقت ضرورت سے زیادہ چیخ و پکار امور ممنوعہ میں سے ہے، البتہ محاسن گنوائے بغیر میت پر رولیا جائے، تو درست ہے۔
⑤ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
”سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کسی مرض میں مبتلا ہوئے، نبی کریم صلى الله عليه وسلم سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے ہمراہ ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس تشریف لائے، جب آپ اندر گئے، تو انہیں تیمارداروں کے ہجوم میں پایا، آپ صلى الله عليه وسلم نے دریافت کیا: کیا وفات ہوگئی ہے؟ لوگوں نے بتایا: اللہ کے رسول! نہیں، نبی کریم صلى الله عليه وسلم (ان کے مرض کی شدت دیکھ کر) رو پڑے، لوگوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو آنسو بہاتے دیکھا، تو وہ بھی رونے لگے، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: سنیں! اللہ تعالیٰ آنسو اور دل کے غم پر عذاب نہیں دے گا، البتہ! عذاب اس وجہ سے ہوتا ہے، آپ صلى الله عليه وسلم نے زبان کی طرف اشارہ کیا (یعنی اگر زبان سے اچھی بات نکلے تو )یہ اس کی رحمت کا باعث بنتی ہے، میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ و ماتم کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میت پر ماتم کرنے پر ڈنڈے مارتے، پتھر پھینکتے اور رونے والوں کے منہ میں مٹی جھونک دیتے تھے۔“
(صحيح البخاري: 1304 ؛ صحیح مسلم: 924)
اس کے علاوہ کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے میت پر نوحہ کی ممانعت میں احادیث مروی ہیں، ملاحظہ فرمائیں؛
❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ۔
(صحيح البخاري: 1292 ، صحیح مسلم: 927)
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ۔
(صحيح البخاري: 1286 ، صحیح مسلم: 927)
❀ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ۔
(صحيح البخاري: 1291 ، صحیح مسلم: 933)
❀سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ ۔
(صحیح مسلم: 934)
❀سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ ۔
(صحیح مسلم: 922)
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ۔
(سنن ابن ماجه: 1585 ، وسنده حسن)
❀ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا ۔
(مسند البزار: 7513 ، وسنده حسن)
❀ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (804ھ) فرماتے ہیں:
النوح حرام بالإجماع، لأنه جاهلي.
”نوحہ بالا جماع حرام ہے، کیونکہ یہ زمانہ جاہلیت کا عمل ہے۔“
(التوضيح: 533/9)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾