نواقضِ وضو کی مکمل تفصیل: وضو توڑنے والی چیزیں قرآن و حدیث سے ثابت

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل جلد 01: صفحہ 55
مضمون کے اہم نکات

سوال:

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
نواقص وضو

الجواب بعون الوهاب بشرطِ صحتِ سوال:

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

گزشتہ صفحات میں آپ احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں وضو کی شرائط، فرائض، سنن اور اس کا مفصل طریقہ پڑھ چکے ہیں۔ اب اس امر کی ضرورت ہے کہ آپ کو وہ چیزیں اور حالتیں بھی معلوم ہوں جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وضو ٹوٹ جانے کے باوجود لاعلمی میں آپ وضو کو قائم سمجھ کر عبادت میں مشغول رہیں، جو صحیح اور مقبول نہ ہو۔

میرے مسلمان بھائی! بعض چیزیں اور حالتیں ایسی ہیں جو وضو کے ٹوٹنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی پیش آ جائے تو وضو قائم نہیں رہتا بلکہ جس عبادت کے لیے وضو کیا گیا تھا، اس کی ادائیگی کے لیے نیا وضو کرنا لازم ہوتا ہے۔ ان اسباب کو “نواقضِ وضو” یا “وضو توڑنے والی چیزیں” کہا جاتا ہے۔

شارع علیہ السلام نے ان نواقض کو واضح طور پر بیان فرما دیا ہے۔
◈ بعض ایسی ہیں جو یقینی طور پر وضو توڑ دیتی ہیں، جیسے: پیشاب، پاخانہ، یا مرد و عورت کی دُبر یا قبل سے کسی چیز کا خارج ہونا۔
◈ اور بعض صورتیں ایسی ہیں جن میں وضو کے ٹوٹنے کا غالب گمان ہوتا ہے، جیسے: زوالِ عقل، نیند کا غلبہ، بے ہوشی، دیوانگی وغیرہ۔ عقل کے زائل ہو جانے سے انسان کو اپنے حال کا شعور نہیں رہتا، اس لیے ان حالتوں کو بھی نقضِ وضو کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

اب تفصیل ملاحظہ فرمائیے:

① دُبر یا قبل سے کسی چیز کا نکلنا

مرد یا عورت کی دُبر یا قبل سے جو چیزیں خارج ہوتی ہیں، ان سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، مثلاً:
✔ پیشاب
✔ پاخانہ
✔ منی
✔ مذی
✔ حیض
✔ استحاضہ
✔ ہوا کا نکلنا

پیشاب اور پاخانہ کے بارے میں دلائلِ شرعیہ اور اجماعِ امت کے مطابق وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موجباتِ وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

"أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ”
“یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو (تو وضو کرے)” [المائدہ: 5/6]

اگر منی یا مذی نکلے تو احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ امام ابن منذر رحمہ اللہ وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
اسی طرح استحاضہ کا خون آنے سے بھی وضو قائم نہیں رہتا۔ واضح رہے کہ استحاضہ عورت کو بیماری کی وجہ سے آتا ہے اور یہ حیض کے خون کے علاوہ ہوتا ہے۔ اس بارے میں حدیث ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت ابی حیش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو استحاضہ کا خون آتا تھا، انہوں نے مسئلہ پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ”
“تم وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرو، کیونکہ یہ بیماری کا خون ہے۔” [سنن ابی داؤد، الطہارۃ، باب اذا اقبلت الحیضۃ تدع الصلاۃ، حدیث 286؛ سنن الدارقطنی 1/206]

ہوا کے خارج ہونے سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے، جس پر احادیثِ صحیحہ اور اجماع دلیل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

"لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ”
“اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی نماز قبول نہیں فرماتا جب وہ بے وضو ہو، یہاں تک کہ وہ وضو کر لے۔” [صحیح البخاری، الحیل، باب فی الصلاۃ، حدیث 6954؛ صحیح مسلم، الطہارۃ، باب وجوب الطہارۃ للصلاۃ، حدیث 225]

اگر کسی شخص کو شک ہو جائے کہ اس کی ہوا نکلی ہے یا نہیں، تو اس بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا”
“جب تک وہ آواز نہ سن لے یا بو محسوس نہ کرے، واپس نہ جائے۔” [صحیح البخاری، الوضوء، باب لا يتوضأ من الشك حتى يستيقن، حدیث 137؛ صحیح مسلم، الحیض، باب الدلیل علی ان من تیقن الطہارۃ ثم شک فی الحدث، حدیث 361]

پیشاب اور پاخانہ کے راستوں کے علاوہ اگر کسی اور راستے سے کوئی چیز خارج ہو، مثلاً: خون، قے، یا نکسیر وغیرہ، تو اس بارے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے کہ ان سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں۔ راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ ان صورتوں میں وضو نہیں ٹوٹتا۔

② زوالِ عقل

زوالِ عقل یا عقل پر پردہ پڑ جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
◈ زوالِ عقل سے مراد: دیوانگی وغیرہ
◈ عقل پر پردہ پڑنے سے مراد: نیند کا غلبہ یا بے ہوشی

یہ تمام حالتیں نواقضِ وضو میں سے ہیں، کیونکہ ان میں غیر محسوس طور پر وضو ٹوٹ جانے کا امکان ہوتا ہے۔
البتہ اگر بیٹھے بیٹھے ہلکی سی نیند آ جائے تو وہ ناقضِ وضو نہیں، کیونکہ روایات میں ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نماز باجماعت کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے سو جایا کرتے تھے۔ [سنن ابی داؤد، الطہارۃ، باب فی الوضوء من النوم، حدیث 200؛ جامع الترمذی، الطہارۃ، باب ما جاء فی الوضوء من النوم، حدیث 78؛ صحیح مسلم، الحیض، باب الدلیل علی ان نوم الجالس لا ینقض الوضوء، حدیث 376]

دلائل کے درمیان تطبیق یہی ہے کہ قصداً اور گہری نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

③ اونٹ کا گوشت کھانا

اونٹ کا گوشت، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ، کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ کے مطابق اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کی دو صحیح اور صریح روایات موجود ہیں۔ [صحیح مسلم، الحیض، باب الوضوء من لحوم الإبل، حدیث 360؛ سنن ابی داؤد، الطہارۃ، باب الوضوء من لحوم الإبل، حدیث 184]

اونٹ کے علاوہ کسی اور حلال جانور کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

④ وہ امور جن میں اختلاف ہے

اس باب میں چند امور ایسے ہیں جن کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے کہ ان سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں، مثلاً:
① شرم گاہ کو چھونا
② شہوت کے ساتھ عورت کو چھونا
③ میت کو غسل دینا
④ مرتد ہو جانا

اہلِ علم کی ایک جماعت کے نزدیک ان میں سے کوئی ایک صورت پیش آ جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ بعض اہلِ علم ان میں سے کسی کو بھی ناقضِ وضو نہیں سمجھتے۔ یہ مسئلہ اجتہادی ہے۔ اختلاف سے بچنے کے لیے اگر وضو کر لیا جائے تو یہمستحسن ہے۔

⑤ شک اور یقین کا مسئلہ

اگر کسی شخص نے یقینی طور پر طہارت حاصل کر لی ہو، پھر اسے شک ہو جائے کہ وضو باقی ہے یا نہیں، تو اس بارے میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي بَطْنِهِ شَيْئًا فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ أَخَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لَا، فَلَا يَخْرُجَنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا”
“جب تم میں سے کوئی اپنے پیٹ میں کچھ محسوس کرے اور شک میں پڑ جائے کہ کچھ خارج ہوا ہے یا نہیں، تو وہ آواز سنے یا بو محسوس کرے بغیر مسجد سے باہر نہ نکلے۔” [صحیح مسلم، الحیض، باب الدلیل علی ان من تیقن الطہارۃ، حدیث 362]

ان روایات سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ:
✔ اگر طہارت پر یقین ہو اور حدث میں شک ہو تو طہارت باقی رہے گی۔
✔ کیونکہ یقین شک سے زائل نہیں ہوتا۔
✔ ہر چیز اپنی اصل حالت پر باقی رہتی ہے، جب تک اس کے خلاف یقین نہ ہو۔

اس کے برعکس اگر کسی کو حدث (بے وضو ہونے) کا یقین ہو اور طہارت میں شک ہو تو وضو کرنا لازم ہے، کیونکہ یہاں حدث یقینی ہے۔

⑥ نصیحت اور تنبیہ

میرے مسلمان بھائی!
◈ نماز کے لیے طہارت کا خاص اہتمام کیجیے، کیونکہ اس کے بغیر نماز درست نہیں۔
◈ شیطانی وسوسوں سے بچنے کی کوشش کیجیے، کیونکہ شیطان بار بار طہارت کے ٹوٹنے کا وسوسہ ڈالتا ہے۔
◈ اللہ تعالیٰ سے اس کے شر سے پناہ مانگیے اور وسوسوں کی طرف توجہ نہ دیجیے۔
◈ اہلِ علم سے طہارت کے مسائل سیکھتے رہیے تاکہ بصیرت حاصل ہو۔
◈ اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھیے تاکہ نماز اور عبادت صحیح ہو۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴾
“بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔” [البقرۃ: 2/222]

اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع اور عملِ صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب