مضمون کے اہم نکات
اہلِ حدیث کے معروف عالم نواب صدیق حسن خان بھوپالیؒ کی کتاب التاج المكلل سے ایک واقعہ نقل کر کے بعض لوگوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ نواب صاحبؒ بھی اُن غیر ثابت اور غلو آمیز کرامات کے قائل تھے جن پر وہ خود دوسروں کا رد کرتے ہیں۔ اس مضمون کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ نواب صاحبؒ نے ایک تاریخی واقعہ بطورِ ناقل ذکر کیا ہے، نہ اسے عقیدہ بنایا ہے، نہ اس سے کوئی شرکیہ یا باطل نظریہ ثابت ہوتا ہے، اور نہ ہی اس سے ان کے اپنے واضح، صریح اور مضبوط توحیدی عقائد پر کوئی زد پڑتی ہے۔ مزید یہ کہ جس واقعہ سے استدلال کیا گیا ہے وہ بے سند نوعیت کا واقعہ ہے، اور محدثین کے ہاں محض کسی واقعہ کو نقل کر دینا، خصوصاً بغیر احتجاج کے، ناقل کے عقیدہ کی دلیل نہیں بنتا۔ اسی لیے اس پورے اعتراض کا علمی تجزیہ ضروری ہے تاکہ نقل، اعتقاد اور احتجاج کے درمیان فرق اچھی طرح واضح ہو جائے۔
اصل اشکال اور اس کا محل
❶ دیوبندی معترض کا استدلال کیا ہے؟
اعتراض کا خلاصہ یہ ہے کہ نواب صدیق حسن خانؒ نے ایک شیخ، محمد بن الحسين بن جعفر الراذاني، کے بارے میں ایک واقعہ نقل کیا جس میں ایک شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے اپنے شیخ کو عرفات میں دیکھا، حالانکہ وہ بظاہر اس سال حج پر گئے ہوئے نہ تھے۔ اس کے بعد شیخ کا ایک جواب نقل کیا گیا، اور اسی سے یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش کی گئی کہ اہلِ حدیث کے اس مجدد کے نزدیک اولیاء اللہ کے لیے لمحوں میں دور دراز سفر کرنا ثابت ہے، لہٰذا پھر دوسروں کے ہاں ایسے واقعات پر نکیر کیوں کی جاتی ہے؟
مختصر وضاحت:
یہ اعتراض بظاہر ایک واقعہ پر قائم ہے، مگر حقیقت میں اس کی بنیاد تین مفروضوں پر ہے:
اوّل: نواب صاحبؒ کا محض نقل کرنا ان کا اپنا عقیدہ ہے۔
دوم: واقعہ بذاتِ خود ثابت اور حجت ہے۔
سوم: اس واقعہ میں وہی بات ثابت ہو رہی ہے جو معترض ثابت کرنا چاہتا ہے۔
یہ تینوں مقدمے محلِّ نظر ہیں، اور یہی پوری بحث کا مرکزی نقطہ ہے۔
❷ واقعہ کی اصل حیثیت: نقل ہے، عقیدہ نہیں
اس مقام پر سب سے پہلی بات یہ سمجھنی چاہیے کہ نواب صدیق حسن خانؒ نے محمد بن الحسين بن جعفر الراذاني کے متعلق جو واقعہ ذکر کیا، وہ خود ان کی اختراع نہ تھا بلکہ پہلے اہلِ تاریخ و طبقات نے بھی اسے نقل کیا تھا۔ متن میں یہ وضاحت موجود ہے کہ ابن مفلح نے المقصد الأرشد في ذكر أصحاب الإمام أحمد میں اور ابن رجب نے ذيل طبقات الحنابلة میں بھی اس واقعہ کو ذکر کیا، مگر اس کے لیے کوئی مضبوط متصل سند پیش نہیں کی گئی۔
مختصر وضاحت:
یہ نکتہ بنیادی ہے۔ جب کوئی واقعہ بطورِ تاریخ یا طبقات نقل ہو اور اس پر نہ ناقل کی تصحیح ہو، نہ اس سے استدلال ہو، نہ اسے اصولِ اعتقاد میں شامل کیا جائے، تو صرف نقلِ واقعہ سے ناقل کا عقیدہ لازم نہیں آتا۔
واقعہ کا صحیح مفہوم کیا ہے؟
❸ شیخ محمد بن الحسين الراذاني نے کیا کہا؟
متن کے مطابق جب یہ بات شیخ تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا:
فلا ينكر لعبد من عبيد الله أن يمضي في طاعة الله بإذن الله في ليلة إلى مكة ويعود
اردو ترجمہ:
پس یہ بات ناممکن اور ناقابلِ انکار نہیں کہ اللہ کا کوئی بندہ، اللہ کے اذن سے، ایک رات میں مکہ تک جا کر واپس آ جائے۔
حوالہ: واقعہ منقولہ عن محمد بن الحسين بن جعفر الراذاني كما في كتب الطبقات والتراجم
مختصر وضاحت:
یہاں دو چیزیں بہت اہم ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ کلام بطورِ احتمال ہے، بطورِ قطعی دعویٰ نہیں۔ دوسری یہ کہ شیخ نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ “عرفات میں موجود شخص میں ہی تھا” یا “میں بیک وقت دو جگہوں پر موجود تھا”۔ انہوں نے صرف ایک ممکنہ جواب دے کر شاگرد کے حلف اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے طلاق کے مسئلے کو رفع کرنے کی کوشش کی۔ اس کلام سے نہ وحدتِ مکان باطل ہوتی ہے، نہ دو جگہ موجود ہونے کا دعویٰ ثابت ہوتا ہے، نہ شرک، نہ تصرف فی الکون۔
❹ اس واقعہ میں اصل مقصد کیا تھا؟
واقعہ کے سیاق سے واضح ہے کہ ایک شخص نے جلد بازی اور بے احتیاطی سے طلاق کی قسم کھا لی تھی۔ جب معاملہ شیخ کے سامنے آیا تو انہوں نے پہلے توقف کیا، پھر ایک ایسا جواب دیا جس میں حتمی دعویٰ کے بجائے احتمال اور مخرج موجود تھا، تاکہ ایک بے بنیاد قسم کی وجہ سے گھر برباد نہ ہو جائے۔
مختصر وضاحت:
یہاں اصل مسئلہ “کرامت ثابت کرنا” نہ تھا بلکہ “قسم اور طلاق کے مسئلے کو رفع کرنا” تھا۔ معترض نے واقعہ کے فقہی و قضائی سیاق کو نظر انداز کر کے اسے عقیدہ اور کرامت کے باب میں قطعی دلیل بنا دیا، حالانکہ واقعہ خود اس وزن کو برداشت نہیں کرتا۔
❺ کیا شیخ نے اپنے بارے میں فوق العادت دعویٰ کیا؟
نہیں۔ واقعہ میں کہیں یہ نہیں کہ شیخ نے صاف الفاظ میں کہا ہو کہ “عرفات میں میں ہی تھا”، یا “میں ایک ہی وقت میں دو جگہ موجود تھا”۔ اس کے برعکس ان کا جواب ایک تمثیلی و احتمالی انداز رکھتا ہے۔ انہوں نے ابلیس کی تیز رفتاری کی مثال دے کر یہ کہا کہ اللہ کے بندے کے لیے بھی، اللہ کے حکم سے، کسی فوق العادت امر کا امکان بعید نہیں۔
مختصر وضاحت:
امکان اور وقوع میں فرق ہے۔ اور وقوعِ معین کا اقرار تو تب ثابت ہوتا جب شیخ اپنی ذات کے بارے میں صراحت کرتے۔ جب یہ صراحت موجود نہیں، تو معترض کا پورا استدلال گمان پر قائم رہ جاتا ہے۔
نواب صدیق حسن خانؒ کا اپنا عقیدہ کیا تھا؟
❻ مجذوبوں کی خوارق کو کرامت ماننے والوں پر نواب صاحبؒ کا رد
نواب صدیق حسن خانؒ نے اپنے رسالہ ملاك السعادة في إفراد الله تعالى بالعبادة میں مجذوبوں سے صادر ہونے والے بعض خوارق کے بارے میں واضح کیا کہ:
اپنے بدن پر تلوار مارنا، چہرہ آگ سے جلانا، سانپ اور بچھو ساتھ رکھنا، آگ کھا لینا — یہ سب حقیقی کرامات نہیں بلکہ شیطانی احوال و افعال ہیں، اور جو انہیں کرامت سمجھے وہ دھوکے میں ہے۔
مختصر وضاحت:
یہ عبارت نواب صاحبؒ کے منہج کو بالکل کھول کر رکھ دیتی ہے۔ وہ ہر خرقِ عادت کو کرامت نہیں مانتے، بلکہ کرامت اور شیطانی احوال میں واضح فرق کرتے ہیں۔ اس لیے ان پر یہ الزام لگانا کہ وہ ہر عجیب واقعہ کو ولی کی کرامت سمجھتے تھے، ان کے اپنے مصرح عقیدہ کے خلاف ہے۔
❼ تصرفِ کونی کو شرک قرار دینے میں نواب صاحبؒ کی صراحت
نواب صدیق حسن خانؒ نے الانفكاك عن مراسم الإشراك میں لکھا کہ کائنات میں مستقل تصرف، موت و حیات پر اختیار، مرادیں پوری کرنا، حاجت روائی، بلائیں ٹالنا، مشکل میں دستگیری، اور برے وقت میں مدد کو پہنچنا — یہ سب اللہ تعالیٰ کی خاص شان ہے، کسی نبی، ولی، پیر، شہید یا کسی اور کے لیے یہ صفات ثابت کرنا شرک ہے۔
مختصر وضاحت:
یہ اقتباس فیصلہ کن ہے۔ کیونکہ اگر نواب صاحبؒ کا اپنا مذہب یہ ہے کہ اللہ کی خاص صفات اور مستقل تصرفات کو مخلوق کے لیے ماننا شرک ہے، تو پھر ایک بے سند تاریخی واقعہ کے مجرد نقل سے ان پر شرکیہ عقیدہ چسپاں کرنا نہایت ناانصافی ہے۔
❽ اولیاء اللہ اور کرامت کے باب میں نواب صاحبؒ کا متوازن اصول
نواب صاحبؒ نے سائق العباد إلى صحة الاعتقاد میں اولیاء اللہ کی صفات بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ ولی وہی ہے جو اللہ کی معرفت رکھتا ہو، ایمان و اخلاص سے متصف ہو، کتاب و سنت کا عالم ہو، ظاہر و باطن میں شریعت کا پابند ہو، لفظی و معنوی تحریف سے بچتا ہو، بدعات کا معتقد نہ ہو اور منکرات پر عمل نہ کرتا ہو۔ ایسے لوگوں سے خرقِ عادت صادر ہو تو اسے کرامت کہا جائے گا۔
مختصر وضاحت:
اس عبارت سے واضح ہے کہ نواب صاحبؒ کرامتِ اولیاء کے منکر نہیں، مگر اسے مضبوط شرعی قیود کے ساتھ مانتے ہیں۔ لہٰذا ان کے ہاں نہ ہر عجیب بات کرامت ہے، نہ ہر منقول واقعہ حجت ہے، بلکہ اصل معیار توحید، سنت اور شرع کی پابندی ہے۔
بے سند واقعات کو نقل کرنے کے بارے میں محدثین کا منہج
❾ امام ابو حاتم رازیؒ کا اصول
امام ابو حاتم رازیؒ نے فرمایا:
إِذَا كَتَبْتَ فَقَمِّشْ وَإِذَا حَدَّثْتَ فَفَتِّشْ
اردو ترجمہ:
جب تم لکھو تو مختلف جگہوں سے مواد جمع کر لو، اور جب روایت کرو تو خوب جانچ پرکھ کر لو۔
الكتاب: الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع
المؤلف: الخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ)
مختصر وضاحت:
یہ اصول نہایت اہم ہے۔ جمعِ مواد اور مقامِ احتجاج دو الگ چیزیں ہیں۔ کوئی عالم کسی کتاب میں تاریخی، رجالی یا حکایتی مواد نقل کر دے، اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ ہر منقولہ بات کا معتقد بھی ہے یا اسے بلا تحقیق حجت بھی سمجھتا ہے۔
❿ امام ابو حاتم اور ابو زرعہؒ کا اصولِ احتجاج
ابن ابی حاتمؒ نے اپنے والد اور ابو زرعہؒ سے نقل کیا:
لَا يُحْتَجُّ بِالْمَرَاسِيلِ وَلَا تَقُومُ الْحُجَّةُ إِلَّا بِالْأَسَانِيدِ الصِّحَاحِ الْمُتَّصِلَةِ
اردو ترجمہ:
مرسل روایات سے احتجاج نہیں کیا جاتا، اور حجت صرف صحیح متصل اسانید ہی سے قائم ہوتی ہے۔
الكتاب: المراسيل
المؤلف: ابن أبي حاتم الرازي (المتوفى: 327هـ)
مختصر وضاحت:
جب صحیح متصل سند کے بغیر حجت قائم نہیں ہوتی، تو پھر محمد بن الحسين الراذاني کے متعلق یہ واقعہ، جو بے سند نوعیت کا ہے، خودبخود احتجاج کے درجے سے نیچے آ جاتا ہے۔ لہٰذا اس سے عقیدہ کشید کرنا یا نواب صاحبؒ پر الزام قائم کرنا اصولِ محدثین کے خلاف ہے۔
⓫ حافظ ابن حجرؒ کی تنبیہ
حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا:
بل أكثر المحدثين في الإعصار الماضية من سنة مائتين وهلم جرا إذا ساقوا الحديث بإسناده اعتقدوا أنهم برؤا من عهدته والله أعلم
اردو ترجمہ:
بلکہ دو سو ہجری کے بعد کے ادوار میں اکثر محدثین کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ حدیث کو اس کی سند کے ساتھ نقل کر دیتے تو سمجھتے کہ وہ اس کی ذمہ داری سے بری ہو گئے۔
الكتاب: لسان الميزان
المؤلف: أبو الفضل أحمد بن علي بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ)
مختصر وضاحت:
اس سے معلوم ہوا کہ ناقل کا کام کبھی صرف نقلِ امانت بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا محض کسی حکایت کے ذکر سے ناقل کے ذاتی اعتقاد کو لازم پکڑنا درست نہیں، خصوصاً جب اس کے اپنے مستقل عقائد اس کے خلاف ہوں۔
⓬ کذابوں سے بھی محض کتابت و جمعِ مواد کی مثال
امام یحییٰ بن معینؒ سے منقول ہے:
وأي صاحب حديث لا يكتب عن كذاب ألف حديث؟
اردو ترجمہ:
کون سا صاحبِ حدیث ایسا ہے جو کسی کذاب سے ہزار حدیثیں نہ لکھتا ہو؟
اور دوسری جگہ فرمایا:
كتبنا عن الكذابين، وسجرنا به التنور
اردو ترجمہ:
ہم نے کذابوں سے بھی روایات لکھیں، پھر ان سے تنور جلایا۔
المراجع: الكامل في ضعفاء الرجال، تاريخ بغداد
مختصر وضاحت:
ان اقوال کا مقصد یہ ہے کہ “لکھ لینا” اور “اسے حجت بنانا” دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ محدثین نے جمعِ مواد کے لیے بہت کچھ لکھا، مگر احتجاج صرف چھان پھٹک کے بعد کیا۔ یہی اصول یہاں بھی لاگو ہوتا ہے۔
⓭ امام اعمشؒ کا ایک موضوع روایت بطورِ استہزاء نقل کرنا
سفیان ثوریؒ نے اعمشؒ سے ایک منکر و باطل روایت کے بارے میں پوچھا تو اعمشؒ نے فرمایا:
إنما رويته على الاستهزاء
اردو ترجمہ:
میں نے اسے صرف بطورِ استہزاء روایت کیا تھا۔
الكتاب: الكامل في ضعفاء الرجال
المؤلف: ابن عدي (المتوفى: 365هـ)
مختصر وضاحت:
یہ مثال مزید واضح کرتی ہے کہ ہر منقول چیز ناقل کا مذہب نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اہلِ علم کسی باطل بات کو محض نقل، تنبیہ یا رد کے لیے بھی ذکر کر دیتے ہیں۔ اس لیے نقل اور اعتقاد کو خلط ملط کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
اصل علمی نتیجہ
⓮ اس استدلال کی بنیادی خامیاں
اس پورے اعتراض میں چند بنیادی خامیاں ہیں:
اوّل: ایک بے سند واقعہ کو عقیدہ کی دلیل بنا لیا گیا۔
دوم: ناقل اور قائل میں فرق نہیں کیا گیا۔
سوم: نواب صدیق حسن خانؒ کے صریح توحیدی عقائد کو نظر انداز کر کے ایک حکایت سے ان پر حکم لگانے کی کوشش کی گئی۔
چہارم: واقعہ کے احتمالی، قضائی اور سیاقی پہلو کو چھوڑ کر اس سے وہی نتیجہ نکالا گیا جسے پہلے سے ثابت کرنا مقصود تھا۔
مختصر وضاحت:
علمی انصاف یہ تھا کہ پہلے نواب صاحبؒ کا اپنا مستقل عقیدہ دیکھا جاتا، پھر منقول واقعہ کی سند اور دلالت دیکھی جاتی، اور آخر میں فیصلہ کیا جاتا۔ یہاں معاملہ الٹا کر دیا گیا: پہلے الزام قائم کیا گیا، پھر ایک بے سند حکایت سے اسے سہارا دینے کی کوشش کی گئی۔
خلاصۂ بحث
مندرجہ بالا تفصیل سے چند باتیں پوری طرح واضح ہو جاتی ہیں:
❶ نواب صدیق حسن خانؒ نے محمد بن الحسين الراذاني کا ایک واقعہ بطورِ نقل ذکر کیا، نہ اسے اپنے عقیدہ کا جزء بنایا، نہ اس سے کوئی مستقل شرعی یا اعتقادی اصل قائم کی۔
❷ اس واقعہ میں خود بھی کوئی صریح دعویٰ نہیں کہ شیخ ایک ہی وقت میں دو جگہ موجود تھے، بلکہ زیادہ سے زیادہ ایک احتمالی اور مخرجی جواب ہے۔
❸ نواب صدیق حسن خانؒ کی اپنی تصانیف سے صاف ثابت ہے کہ وہ تصرفِ کونی، حاجت روائی، مستقل دستگیری اور غیر اللہ کے لیے الوہی خصائص ثابت کرنے کو شرک کہتے تھے۔
❹ محدثین کے اصول کے مطابق محض کسی بے سند واقعہ کو نقل کر دینا، ناقل کے اعتقاد کی دلیل نہیں بنتا، اور نہ ہی ایسی روایت سے حجت قائم ہوتی ہے۔
❺ لہٰذا اس واقعہ کی بنا پر نواب صدیق حسن خانؒ پر اعتراض کرنا، یا اس سے بدعتی اور غالیانہ عقائد کو سہارا دینا، علمی و منہجی اعتبار سے درست نہیں۔
نتیجہ
حاصلِ کلام یہ ہے کہ نواب صدیق حسن خان بھوپالیؒ پر کیا گیا یہ اعتراض محض ایک منقول، بے سند اور غیر محتج بہ واقعہ پر قائم ہے، جبکہ نواب صاحبؒ کے اپنے مستقل، واضح اور صریح عقائد اس اعتراض کی جڑ کاٹ دیتے ہیں۔ انہوں نے خود اپنی تصانیف میں شیطانی خوارق اور شرکیہ تصرفات کا رد کیا، اور اولیاء اللہ کی کرامت کو بھی شریعت، توحید اور اتباعِ سنت کے مضبوط دائرے میں قبول کیا۔ ایسے شخص پر ایک حکایت کی بنا پر یہ الزام دھرنا کہ وہ غلو آمیز کرامتوں کا قائل تھا، سراسر بے انصافی ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ نواب صاحبؒ یہاں محض ناقل ہیں، قائل نہیں؛ اور محض نقل سے عقیدہ لازم نہیں آتا۔ پھر جب واقعہ خود بے سند ہو اور محدثین کے اصول کے مطابق اس سے احتجاج بھی درست نہ ہو، تو اس کی بنیاد پر نواب صاحبؒ کے عقیدہ پر حملہ کرنا علمی دیانت کے خلاف اور منہجِ محدثین سے ہٹا ہوا رویہ ہے۔ اس لیے یہ اعتراض نہ تو نواب صدیق حسن خانؒ کے عقیدہ کے خلاف کوئی معتبر دلیل بنتا ہے، اور نہ ہی اس سے کسی بدعتی یا غالیانہ تصور کی توثیق حاصل ہوتی ہے۔
اہم حوالاجات کے سکین








