مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
نماز کے ممنوعہ اوقات
الجواب بعون الوہاب بشرطِ صحتِ سوال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
❀ پچھلے صفحات میں نفل نماز کا تذکرہ ہو چکا۔ اب یہ بات واضح کی جاتی ہے کہ کچھ اوقات ایسے ہیں جن میں نفل نماز ادا کرنا منع ہے، سوائے ان نمازوں کے جنہیں شریعت نے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
✔ ممنوعہ اوقات پانچ ہیں:
① پہلا وقت
صبح صادق سے لے کر طلوعِ آفتاب تک۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"إذا طلعَ الفجرُ، فلا صلاة إلا ركعتي الفجر” [مسند احمد 4/385۔6/49۔]
ترجمہ
جب صبحِ صادق طلوع ہو جائے تو (فجر کی) دو رکعتوں کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔
✔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صبح صادق طلوع ہونے کے بعد نماز فجر کی دو سنتوں کے علاوہ کوئی اور نفلی نماز ادا نہ کی جائے۔
② دوسرا وقت
سورج طلوع ہونے سے لے کر ایک نیزے کے برابر بلند ہونے تک۔
◈ جب آفتاب طلوع ہو رہا ہو اور اس کا کچھ حصہ اندر اور کچھ حصہ باہر ہو، تو اس وقت بھی کوئی نماز نہ پڑھی جائے، یہاں تک کہ سورج ایک نیزے کے برابر بلند ہو جائے۔
③ تیسرا وقت
جب سورج سیدھا سر پر ہو، یعنی زوال کے وقت۔
◈ جب سورج سر پر ہو اور زوال ہو رہا ہو تو اس وقت نماز ادا کرنا منع ہے، یہاں تک کہ زوال مکمل ہو جائے۔
◈ اس وقت کا علم اس طرح ہوتا ہے کہ ہر چیز کا سایہ ٹھہر جائے اور اس میں کمی بیشی نہ ہو۔
◈ جب سورج مغرب کی جانب جھک جائے تب نماز ادا کرنا درست ہے۔
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
"ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ، أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: (حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ)” [صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب الاوقات التی نھی عن الصلاۃ فیھا حدیث 831۔]
ترجمہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین اوقات میں نماز ادا کرنے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع کیا:
(1) جب سورج طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہو جائے۔
(2) جب سورج سر پر ہو یہاں تک کہ ڈھل جائے۔
(3) جب سورج غروب کے لیے جھکنے لگے یہاں تک کہ مکمل غروب ہو جائے۔
④ چوتھا وقت
نمازِ عصر سے لے کر غروبِ آفتاب تک۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"لاَصَلاَةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ ، وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَ العَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ” [صحیح البخاری مواقیت الصلاۃ باب لا تتحری الصلاۃ قبل غروب الشمس حدیث 586؛ صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب الاوقات النھی عن الصلاۃ فیھا حدیث 827۔]
ترجمہ
نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ آفتاب بلند ہو جائے، اور نماز عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو جائے۔
⑤ پانچواں وقت
جب سورج غروب ہونا شروع ہو جائے یہاں تک کہ مکمل غروب ہو جائے۔
ممنوعہ اوقات میں فوت شدہ فرض کی قضا
✔ جان لیجیے: ان اوقات میں فوت شدہ فرض نماز ادا ہو سکتی ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں عموم ہے:
"مَنْ نَسِىَ صَلاَةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا” [صحیح البخاری مواقیت الصلاۃ باب من نسی صلاۃ فلیصل اذا ذکر ولایعید الا تلک الصلاۃ حدیث 597؛ صحیح مسلم المساجد باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ واستحباب تعجیل قضائھا حدیث 684 واللفظ لہ۔]
ترجمہ
جو شخص نماز بھول گیا یا سو گیا تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آئے تب پڑھ لے۔
طواف کی دو رکعتیں
✔ طواف کی دو رکعتیں بھی مذکورہ ممنوعہ اوقات میں ادا کرنا جائز ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا البَيْتِ، وَصَلَّى أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ” [جامع الترمذی الحج باب ماجاء فی الصلاۃ بعدالعصر وبعد الصبح لمن یطوف حدیث 868۔]
ترجمہ
جو شخص کسی بھی وقت بیت اللہ کا طواف کرنا چاہے اور نماز ادا کرنا چاہے، اسے مت روکو۔
✔ جس طرح طواف ہر وقت جائز ہے اسی طرح طواف کی دو رکعتیں بھی ہر وقت جائز ہیں۔
اسباب والی نمازیں
① علمائے کرام کے صحیح تر قول کے مطابق اسباب والی نمازوں کو بھی ممنوعہ اوقات میں ادا کرنا جائز ہے، مثلاً: نمازِ جنازہ، تحیۃ المسجد اور نمازِ کسوف۔
◈ بہت سے دلائل اس پر دلالت کرتے ہیں۔
◈ نیز اوقاتِ ممنوعہ میں نماز کی نہی میں جو عموم ہے، یہ دلائل اس کے لیے مخصص ہیں۔
◈ لہٰذا نہی کا اطلاق ان نفلی نمازوں پر ہو گا جن کا کوئی سبب نہیں۔
✔ الغرض جس نماز کا کوئی سبب نہیں، اسے ان مکروہ اوقات میں شروع نہ کیا جائے۔
سنتوں کی قضا کا حکم
✔ فجر کی سنتوں کی قضا نمازِ فجر کے بعد جائز ہے۔
✔ اسی طرح ظہر کی سنتوں کی قضا نمازِ عصر کے بعد جائز ہے، خصوصاً جب ظہر اور عصر کو جمع کر لیا گیا ہو۔
✔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی سنتوں کی قضا عصر کے بعد دی تھی۔
[صحیح البخاری مواقیت الصلاۃ باب ما یصلی بعد العصر من الفوائت ونحوھا حدیث 590، 593؛ صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب معرفۃ الرکعتین۔۔۔ حدیث 834۔]
نماز باجماعت کی فرضیت اور فضیلت
باجماعت نماز کی اہمیت
❀ اسلام میں مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کی بہت بڑی اہمیت ہے۔
✔ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مساجد میں باجماعت پانچوں نمازیں ادا کرنا اللہ تعالیٰ کی عبادات و قربات میں سب سے زیادہ عظیم اور مؤکد امر ہے، بلکہ شعائرِ اسلام میں اس کی سب سے بڑی اور نمایاں حیثیت ہے۔
اسلامی اجتماعات اور ان کی حکمتیں
❀ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے ایک جگہ جمع ہونے کے لیے مختلف اوقات اور ایام مقرر فرمائے ہیں:
◈ روزانہ کے اجتماعات: مسلمان مساجد میں نمازوں کی ادائیگی کے لیے دن رات میں پانچ دفعہ سب کے حضور جمع ہوتے ہیں۔
◈ ہفتہ وار اجتماع: جمعہ کا اجتماع، جو پانچ نمازوں کے اجتماع سے زیادہ بڑا ہوتا ہے۔
◈ سالانہ اجتماعات: عیدین کے اجتماعات، جو جمعہ کے اجتماع سے کہیں زیادہ بڑے ہوتے ہیں، اور یہ اجتماعات ہر شہر میں ایک مقام پر منعقد ہوتے ہیں۔
◈ سال میں ایک مرتبہ کا عظیم اجتماع: وقوفِ عرفہ کا اجتماع، جو تعداد میں عیدین کے اجتماع سے بہت بڑا ہوتا ہے، اور حقیقت میں مسلمانوں کا عظیم اسلامی اور عالمی اجتماع ہے۔
✔ ان عظیم اسلامی اجتماعات کے انعقاد میں مسلمانوں کی بہت سی مصلحتیں پوشیدہ ہیں:
◈ مسلمانوں کے درمیان احسان، محبت اور باہمی ہمدردی کے ساتھ رابطہ قائم رہتا ہے۔
◈ دلوں میں پیار اور یگانگت پیدا ہوتی ہے۔
◈ ایک دوسرے کے حالات کی خبر رہتی ہے۔
◈ مریض کی بیمار پرسی ممکن ہوتی ہے۔
◈ فوت شدہ کی خبر ملتی ہے۔
◈ مصیبت زدہ کی فریاد رسی ہوتی ہے۔
◈ مسلمانوں کی اجتماعی قوت کا اظہار ہوتا ہے۔
◈ باہمی تعارف اور گہرا تعلق قائم ہوتا ہے۔
❀ علاوہ ازیں ان عظیم اجتماعات سے کفار اور منافقین دشمنوں پر مسلمانوں کا رعب طاری ہوتا ہے۔
❀ جنوں اور انسانوں میں سے شیطان لوگ مسلمانوں کے لیے عداوت و دشمنی اور کینہ و بغض کا جو جال بنتے ہیں، اجتماعی قوت سے اس کا ازالہ ہو سکتا ہے۔
❀ نیکی و تقویٰ کی بنیاد پر اتفاق و اتحاد پیدا ہوتا ہے۔
اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ” [صحیح مسلم الصلاۃ باب تسویہ الصفوف واقامتہا حدیث 432؛ سنن ابی داؤد الصلاۃ باب تسویہ الصفوف حدیث 664۔]
ترجمہ
نماز میں ایک دوسرے سے ہٹ کر (یا آگے پیچھے ہو کر) کھڑے نہ ہوا کرو، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔
باجماعت نماز کے فوائد
✔ باجماعت نماز کے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ ناواقف کو تعلیم ملتی ہے اور اجر بڑھتا ہے۔
✔ جب مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کو مسجد میں اعمالِ صالح کرتے دیکھتا ہے تو اس میں مسابقت کا جذبہ بیدار ہوتا ہے، عملِ صالح میں تیز ہوتا ہے، یا ان کی پیروی کر کے اپنی کمی دور کر لیتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"صلاة الجماعة أفضل من صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة ” وفي رواية… بخمس وعشرين درجة” [صحیح البخاری الاذان باب فضل صلاۃ الجماعۃ حدیث 645؛ صحیح مسلم المساجد باب فضل صلاۃ الجماعۃ وبیان التشدید فی التخلف عنہا حدیث 650۔] [صحیح البخاری الاذان باب فضل صلاۃ الجماعۃ حدیث 646؛ صحیح مسلم المساجد باب فضل صلاۃ الجماعۃ وبیان التشدید فی التخلف عنہا حدیث 649۔]
ترجمہ
باجماعت نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے، اور ایک روایت میں پچیس درجے آیا ہے۔
سفر و حضر میں جماعت کا حکم
✔ سفر ہو یا حضر، حالتِ امن ہو یا خوف، مردوں پر باجماعت نماز ادا کرنا واجب ہے۔
✔ کتاب و سنت میں اس کے دلائل موجود ہیں، اور نسل در نسل مسلمانوں کا اس پر عمل چلا آ رہا ہے۔
✔ اسی وجہ سے مساجد کی تعمیر ہوتی ہے، مؤذن اور امام مقرر کیے جاتے ہیں، اور اذان میں بلند آواز سے:
◈ "حي علي الصلاة” (نماز کی طرف آؤ)
◈ "حي علي الفلاح” (کامیابی کی طرف آؤ)
کہا جاتا ہے۔
حالتِ خوف میں جماعت کی تاکید
حالتِ خوف میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے:
﴿وَإِذا كُنتَ فيهِم فَأَقَمتَ لَهُمُ الصَّلوٰةَ فَلتَقُم طائِفَةٌ مِنهُم مَعَكَ وَليَأخُذوا أَسلِحَتَهُم فَإِذا سَجَدوا فَليَكونوا مِن وَرائِكُم وَلتَأتِ طائِفَةٌ أُخرىٰ لَم يُصَلّوا فَليُصَلّوا مَعَكَ وَليَأخُذوا حِذرَهُم وَأَسلِحَتَهُم وَدَّ الَّذينَ كَفَروا لَو تَغفُلونَ عَن أَسلِحَتِكُم وَأَمتِعَتِكُم فَيَميلونَ عَلَيكُم مَيلَةً وٰحِدَةً وَلا جُناحَ عَلَيكُم إِن كانَ بِكُم أَذًى مِن مَطَرٍ أَو كُنتُم مَرضىٰ أَن تَضَعوا أَسلِحَتَكُم وَخُذوا حِذرَكُم إِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلكـٰفِرينَ عَذابًا مُهينًا ﴿١٠٢﴾﴾ [النساء:4/102۔]
ترجمہ
جب تم ان میں ہو اور ان کے لیے نماز کھڑی کرو تو چاہیے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ اپنے ہتھیار لیے کھڑی ہو، پھر جب یہ سجدہ کر چکیں تو یہ ہٹ کر تمہارے پیچھے آ جائیں اور وہ دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی وہ آ جائے اور تیرے ساتھ نماز ادا کرے اور اپنا بچاؤ اور اپنے ہتھیار لیے رہے، کافر چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے بے خبر ہو جاؤ تو وہ تم پر اچانک دھاوا بول دیں، ہاں اپنے ہتھیار اتار رکھنے میں اس وقت تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تمہیں تکلیف ہو یا بوجہ بارش کے یا بسبب بیمار ہو جانے کے، اور اپنے بچاؤ کی چیزیں ساتھ لیے رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ نے منکروں کے لیے ذلت کی مار تیار کر رکھی ہے۔
✔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ باجماعت نماز کی نہایت تاکید ہے، یہاں تک کہ حالتِ خوف میں بھی ترکِ جماعت کی رخصت نہیں۔
✔ اگر باجماعت نماز واجب نہ ہوتی تو خوف کے عذر کے وقت بطریقِ اولیٰ ساقط ہو جاتی، حالانکہ نمازِ خوف میں بہت سے واجبات ترک کر دیے جاتے ہیں، اور نماز باجماعت کی خاطر ہی بہت سے احکام معاف کیے گئے ہیں۔
منافقین پر فجر و عشاء کی نمازوں کی سختی
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَال قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَثْقَلَ صَلَاةٍ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا – زحفًا – وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ " [صحیح البخاری الاذان باب فضل صلاۃ العشاء فی الجماعۃ حدیث 657؛ صحیح مسلم المساجد باب فضل صلاۃ الجماعۃ وبیان التشدید فی التخلف عنہا حدیث 651 واللفظ۔]
ترجمہ
یقیناً منافقین پر عشاء اور فجر کی نمازیں بہت بھاری ہیں، اگر انہیں ان کا اجر معلوم ہو جائے تو اگر انہیں چوتڑوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے تب بھی ضرور آ جائیں۔ میں نے ارادہ کیا کہ نماز کی اقامت کا حکم دوں، پھر ایک شخص کو کہوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں ایسے آدمیوں کو لے کر جاؤں جن کے پاس ایندھن کے گٹھے ہوں اور جو جماعت میں شریک نہ ہوں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔
✔ اس حدیث سے نماز باجماعت کا وجوب دو طرح سے ثابت کیا گیا:
① باجماعت نماز سے پیچھے رہنے والوں کو منافقین میں شمار کیا گیا ہے؛ سنت سے پیچھے رہنے والا منافق شمار نہیں ہوتا، لہٰذا معلوم ہوا کہ جماعت چھوڑنے والا واجب چھوڑنے والا ہے۔
② رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت سے پیچھے رہنے والوں کو سزا دینے کا ارادہ فرمایا؛ سزا ترکِ واجب پر ہوتی ہے۔
✔ تاہم یہ سزا اس لیے نافذ نہ کی گئی کہ گھروں میں عورتیں اور بچے ہوتے ہیں جن پر جماعت میں شریک ہونا واجب نہیں۔
نابینا شخص اور اذان پر لبیک
صحیح مسلم میں ہے:
"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْمَى فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَرَخَّصَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ ( هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ؟ ) قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : ( فَأَجِبْ ) " [صحیح مسلم المساجدباب یحیب بیان المسجد علی من سمع النداء حدیث: 653۔]
ترجمہ
ایک نابینا شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے مسجد کی طرف لانے والا کوئی نہیں، لہٰذا گھر میں نماز ادا کرنے کی رخصت عنایت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رخصت دے دی۔ جب وہ واپس پلٹا تو آپ نے اسے دوبارہ بلوایا اور فرمایا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر لبیک کہو (مسجد آؤ)۔
✔ اس روایت میں نابینا شخص کو بھی اذان پر لبیک کہنے اور جماعت میں شریک ہونے کا حکم دیا گیا، حالانکہ اس کے لیے اس میں مشقت تھی، پس یہ بھی وجوبِ جماعت پر دلیل ہے۔
صحابہ کے دور میں جماعت کا معیار
✔ نماز باجماعت کا وجوب اہل ایمان کے ہاں دورِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے آج تک چلا آ رہا ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے:
“ہم نے دیکھا جماعت سے وہی پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق واضح اور نمایاں تھا، جبکہ مومن شخص کو دو آدمیوں کا سہارا دے کر مسجد میں لایا جاتا اور صف میں کھڑا کر دیا جاتا۔” [سنن داؤد الصلاۃ باب التشدید فی ترک الجماعۃ حدیث :550۔]
✔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز باجماعت کا وجوب صحابہ کرام کے دل و دماغ میں راسخ تھا اور یہ بات انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے معلوم ہوئی تھی۔
✔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ جس عمل کے بارے میں کہا جائے کہ “اس سے صرف منافق ہی پیچھے رہتا ہے” وہ عمل ہر شخص پر واجب ہوتا ہے۔
اذان سن کر جواب نہ دینے کی سخت وعید
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے مرفوعاً روایت کیا ہے:
"الْجَفَاءُ كُلُّ الْجَفَاءِ ، وَالْكُفْرُ وَالنِّفَاقُ : مَنْ سَمِعَ مُنَادِيَ اللَّهِ يُنَادِي بِالصَّلاةِ وَيَدْعُو إِلَى الْفَلاحِ فَلا يُجِيبُهُ " [وسنن ابن ماجہ المساجد واجماعات باب المشی الی الصلاۃ حدیث 777۔]
ترجمہ
یہ حد درجہ کا ظلم، کفر اور نفاق ہے کہ کوئی شخص مؤذن کی اذان سنے جو نماز اور کامیابی کی طرف بلاتا ہے اور وہ اس پر لبیک نہ کہے۔
جماعت کے ساتھ رہنے کی تاکید
ایک روایت میں ہے:
"وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ وَمَنْ شَذَّ شَذَّ إِلَى النَّارِ” [جامع الترمذی الفتن باب ماجاء فی لزوم الجماعۃ حدیث 2167۔وقال الالبانی رحمۃ اللہ علیہ صحیح دون ومن شدً۔]
ترجمہ
اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے، اور جو الگ ہوا وہ جہنم کی طرف الگ ہوا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو رات کو قیام کرتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے، لیکن نماز کے لیے جماعت کے ساتھ شریک نہیں ہوتا، تو انہوں نے فرمایا: “وہ جہنمی ہے۔” [(ضعیف)جامع الترمذی الصلاۃ باب ماجاء فی من سمع النداء فلا یحیب حدیث:218۔]
✔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت، معرفتِ حق کی توفیق اور حق کی پیروی کی دعا کرتے ہیں۔ بے شک وہی سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔
عصر کے بعد نماز ادا کرنے کا اختلاف
نمازِ عصر کے بعد کوئی نماز ادا کرنا سلف صالحین کے ہاں مختلف فیہ امر رہا ہے۔ عصر کے بعد نماز پڑھنے کی صورتیں درج ذیل ہیں:
① فوت شدہ فرائض کی قضا ادا کرنا۔
② سنن مؤکدہ کی قضا ادا کرنا، مستقل دو رکعت نماز، نماز جنازہ اور سببی نماز ادا کرنا۔
③ مطلق نوافل ادا کرنا۔
✔ پہلی صورت میں نماز ادا کرنا بالاتفاق جائز ہے۔
✔ دوسری صورت میں تین چیزیں ہیں:
① فی نفسہ سنن مؤکدہ کی قضا ادا کرنا مختلف فیہ ہے، اس لیے کہ ان کی فضیلت ان کے اوقات ہی میں ادا کرنے پر موقوف ہے، مثلاً: ظہر سے پہلے چار رکعتوں کی فضیلت وغیرہ۔ یہ فضیلت اسی صورت میں حاصل ہو سکتی ہے جب انہیں ان کے وقت پر ادا کیا جائے۔ اگر کوئی شخص ان پر مواظبت و مداومت کرتا ہے اور کبھی کسی وجہ سے اس کی یہ سنتیں رہ جاتی ہیں تو بعد میں ادا کرنا جائز ہے۔
② عصر کے بعد دو رکعتیں مستقل ادا کرنا اور ان پر مواظبت کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا خاصہ ہے۔ [عون المعبود 4/107]
③ نماز جنازہ اور سببی نمازوں کے بارے میں اختلاف ہے، لیکن زیادہ قابل ترجیح بات یہی ہے کہ یہ نمازیں ادا کرنا جائز ہیں۔
✔ تیسری صورت مطلق نوافل کی ہے، اور یہی صورت بالعموم مختلف فیہ ہے۔ ذیل میں ان احادیث کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس کے جواز یا عدم جواز پر دلالت کرتی ہیں۔
نہی کی روایات
نہی کی روایات جن میں عصر کے بعد نماز پڑھنا مطلقاً ممنوع ہے، چاہے وہ نفلی، فرض یا سببی نماز ہو، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لا صَلَاةَ بَعْدَ صَلاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " [صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب الاوقات التی نھی عن الصلاۃ فیھا حدیث 827؛ نیز یہی روایت باقی کتبِ حدیث میں بھی موجود ہے]
ترجمہ
عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں۔
❀ اگر اس موضوع پر صرف یہی روایت ہوتی تو فیصلہ کن ہوتی، لیکن جب اس حدیث کے باقی طرق یا اس موضوع کی دوسری روایات دیکھی جائیں تو مسئلے کی نوعیت بدل جاتی ہے۔
❀ یہ حدیث عام ہے اور بہت سی صورتوں میں اس کی تخصیص کی گئی ہے، مثلاً: فوت شدہ فرائض کی قضا ادا کرنا، جنازہ اور سببی نمازیں ادا کرنا وغیرہ۔
❀ ان کے دلائل طویل ہیں اور بخوفِ طوالت قلم انداز کیے جاتے ہیں۔
❀ اسی طرح عصر کے بعد نوافل کے لیے بھی یہ نہی مطلق نہیں بلکہ بعض دلائل اسے مقید کرتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ عصر کے بعد سورج غروب ہونے کے قریب نماز پڑھنا ممنوع ہے، مطلقاً منع نہیں۔
نہی کی تقیید پر دلائل
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"ان النبي صلي الله عليه وسلم نهى عن الصلاة بعد العصر إلا و الشمس مرتفعة " [سنن ابی داود التطوع باب من رخص فیھما اذا کانت الشمس مرتفعۃ حدیث 1274]
ترجمہ
بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد نماز سے روکتے تھے، مگر یہ کہ سورج ابھی بلند ہو۔
✔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ممانعت کا تعلق غروبِ آفتاب کے قریب نماز پڑھنے سے ہے، اس سے قبل جائز ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَا يَتَحَرَّى أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا” [صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب الاوقات التی نھی۔۔۔ حدیث 828]
ترجمہ
کوئی شخص طلوعِ شمس اور اس کے غروب کے وقت نماز پڑھنے کی کوشش نہ کرے۔
✔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ منع کا حکم غروبِ آفتاب کے قریب نماز پڑھنے کے ساتھ مقید ہے۔
اسی طرح ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے روایت کے الفاظ یہ ہیں:
"وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلاةَ حَتَّى تَغِيبَ” [صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب الاوقات التی نھی عن الصلاۃ فیھا حدیث 829۔]
ترجمہ
جب سورج کا کنارہ غائب ہو جائے تو نماز کو غروبِ آفتاب تک مؤخر کر دو۔
اور عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے:
"وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ” [صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب الاوقات التی نھی عن الصلاۃ فیھا حدیث 831۔]
ترجمہ
اور جب سورج غروب کے لیے جھک جائے تو غروب ہونے تک (نماز نہ پڑھو)۔
اور سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے، جسے شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے سلسلہ احادیث صحیحہ رقم 200 میں ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اس کی سند کو صحیح کہا ہے، وہ فرماتے ہیں:
"لم ينه عن الصلاة إلا عند غروب الشمس” [سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی رقم 200؛ بحوالہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ]
ترجمہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غروبِ آفتاب کے قریب ہی نماز پڑھنے سے روکا تھا۔
❀ اسی طرح کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی عصر کے بعد نوافل پڑھنا ثابت ہیں، جس کی تفصیل ذیل میں دیے گئے مراجع سے دیکھی جا سکتی ہے۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: [شرح مسلم للنووی 6/160؛ عون المعبود 4/106۔109؛ سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ 1/387 حدیث 220؛ المحلی لابن حزم 3/23۔31۔]
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب