مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
نماز کے مستحبات اور مباحات
الجواب بعون الوهاب بشرطِ صحتِ سوال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
① نماز کے دوران آگے سے گزرنے والے کو روکنا
نماز ادا کرتے وقت نمازی کے سامنے سے قریب گزرنے والے شخص کو روک دینا مسنون ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ”
"جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو وہ کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے، حتیٰ کہ پوری کوشش کرے اسے روکے، اور اگر وہ باز نہ آئے تو اس سے لڑائی کرے، کیونکہ وہ شیطان ہے۔” [صحیح مسلم، الصلاۃ، باب منع الماربین یدی المصلی، حدیث 506]
اگر نمازی کے سامنے سترہ موجود ہو تو سترے کے پیچھے سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اسی طرح اگر نمازی کے آگے جگہ تنگ ہو اور گزرنے والے کو شدید ضرورت ہو تو نماز پڑھنے والا اسے روک نہے، کیونکہ ایسی صورت میں گزرنے والا مجبور شمار ہوگا۔
اگر کوئی شخص حرم میں نماز پڑھ رہا ہو تو وہ آگے سے گزرنے والے کو نہ روکے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں نماز ادا فرمایا کرتے تھے اور لوگ آپ کے سامنے سے گزرتے تھے، حالانکہ آپ کے سامنے کوئی سترہ نہ ہوتا تھا۔ [(ضعیف) سنن ابی داود، المناسک، باب فی مکۃ، حدیث 2016؛ سنن النسائی، القبلۃ، باب الرخصۃ فی ذلک، حدیث 759؛ سنن ابن ماجہ، المناسک، باب الرکعتین بعد الطواف، حدیث 2958؛ مسند احمد 6/399]
② سترہ کا حکم اور اس کی مشروعیت
جب نماز ادا کرنے والا اکیلا ہو یا امام ہو تو اس کے لیے سترہ رکھنا مسنون ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ وَلْيَدْنُ مِنْهَا”
"جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو سترے کی طرف نماز پڑھے اور اس کے قریب رہے۔” [سنن ابی داود، الصلاۃ، باب ما یؤمر المصلی ان یدرا، حدیث 698]
واضح رہے کہ مقتدی کے لیے اس کے امام کا سترہ ہی کافی ہوتا ہے۔
سترہ رکھنا واجب نہیں، کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في فضاء وليس بين يديه شيء”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھلے میدان میں نماز ادا فرمائی اور آپ کے سامنے کوئی چیز نہ تھی۔” [مسند احمد 1/224، 327]
سترہ باریک ہو یا موٹا، چوڑا ہو یا پتلا، اسے کھڑا کر کے رکھنا چاہیے۔ اس کی مقدار کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر یعنی تقریباً ڈیڑھ فٹ ہو۔
سترہ رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ وہ نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو روکے، اور نمازی کے سامنے موجود چیزیں اس کی توجہ اور خشوع میں خلل نہ ڈالیں۔
اگر کوئی شخص صحراء میں نماز ادا کرے تو کسی نمایاں چیز کو سترہ بنا لے، مثلاً:
◈ درخت
◈ پتھر
◈ لاٹھی
اگر زمین میں لاٹھی گاڑنا ممکن نہ ہو تو اسے چوڑائی کے رخ سامنے رکھ لے۔
③ امام کی قراءت میں غلطی کی اصلاح
اگر امام قراءت کے دوران کسی لفظ یا آیت میں کمی بیشی کر دے تو مقتدی کے لیے ٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖلقمہ دے کر اس کی اصلاح کرنا جائز ہے۔
④ نماز کے دوران مباح اعمال
نماز کے دوران درج ذیل کام مباح ہیں:
✔ کپڑا اوڑھنا یا اتارنا
✔ کسی چیز کو اٹھانا یا رکھنا
✔ دروازہ کھولنا
اسی طرح نماز میں سانپ اور بچھو کو مارنا بھی درست ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ … الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران دو سیاہ جانوروں یعنی سانپ اور بچھو کو مارنے کا حکم دیا۔” [سنن ابی داود، الصلاۃ، باب العمل فی الصلاۃ، حدیث 921؛ جامع الترمذی، الصلاۃ، باب ما جاء فی قتل الاسود فی الصلاۃ، حدیث 390]
البتہ بلا ضرورت کسی مباح عمل کو کثرت سے اور مسلسل کرنا درست نہیں، کیونکہ اس سے نماز باطل ہو جاتی ہے، کیوں کہ یہ نماز کے منافی اور خشوع کو زائل کرنے والا عمل ہے۔
⑤ نماز کے دوران متنبہ کرنے کا طریقہ
اگر نماز کے دوران کوئی اہم معاملہ پیش آ جائے، مثلاً:
◈ کوئی شخص داخل ہونے کی اجازت طلب کرے
◈ امام بھول جائے
◈ کسی انسان کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہو
تو نمازی متنبہ کر سکتا ہے۔
اس کا طریقہ یہ ہے:
✔ مردسبحان اللہ کہے
✔ عورت ایک ہاتھ کی پشت کو دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر مار کر تالی بجائے
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"يا أيها الناس ما لكم حين نابكم شىء في الصلاة أخذتم بالتصفيح إنما التصفيح للنساء، من نابه شىء في صلاته فليقل سبحان الله” [صحیح البخاری، العمل فی الصلاۃ، باب رفع الایدی فی الصلاۃ لامر ینزل بہ، حدیث 1218؛ صحیح مسلم، الصلاۃ، باب تسبیح الرجل وتصفیق المراۃ، حدیث 422]
⑥ سلام کا جواب نماز میں
اگر کوئی شخص نماز کے دوران سلام کہہ دے تو نمازی اشارے سے سلام کا جواب دے، زبان سے "وعلیکم السلام” نہ کہے، کیونکہ زبان سے جواب دینے سے نماز باطل ہو جائے گی۔
سلام پھیرنے کے بعد زبان سے جواب دینا چاہیے۔
⑦ ایک رکعت میں متعدد سورتوں کی قراءت
نمازی قیام کی حالت میں ایک رکعت میں متعدد سورتیں پڑھ سکتا ہے، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے:
"أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ البقرة والنساء وآل عمران في ركعة”
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں سورہ بقرہ، سورہ آل عمران اور سورہ نساء کی تلاوت فرمائی۔” [صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب استحباب تطویل القراءۃ فی صلاۃ اللیل، حدیث 772؛ سنن النسائی، الافتتاح، باب مسالۃ القاری اذا مر بآیۃ رحمۃ، حدیث 1010]
اسی طرح:
◈ ایک ہی سورت کو دو رکعتوں میں دہرانا
◈ ایک سورت کو تقسیم کر کے دو رکعتوں میں پڑھنا
◈ سورت کے آخر یا درمیان سے قراءت کرنا
سب جائز ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی فجر کی سنتوں کی پہلی رکعت میں یہ آیت پڑھتے:
﴿قولوا ءامَنّا بِاللَّهِ وَما أُنزِلَ إِلَينا وَما أُنزِلَ إِلىٰ إِبرٰهـۧمَ وَإِسمـٰعيلَ وَإِسحـٰقَ وَيَعقوبَ وَالأَسباطِ وَما أوتِىَ موسىٰ وَعيسىٰ وَما أوتِىَ النَّبِيّونَ مِن رَبِّهِم لا نُفَرِّقُ بَينَ أَحَدٍ مِنهُم وَنَحنُ لَهُ مُسلِمونَ ﴿١٣٦﴾﴾ [البقرہ: 136]
اور دوسری رکعت میں یہ آیت پڑھتے:
﴿قُل يـٰأَهلَ الكِتـٰبِ تَعالَوا إِلىٰ كَلِمَةٍ سَواءٍ بَينَنا وَبَينَكُم أَلّا نَعبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلا نُشرِكَ بِهِ شَيـًٔا وَلا يَتَّخِذَ بَعضُنا بَعضًا أَربابًا مِن دونِ اللَّهِ فَإِن تَوَلَّوا فَقولُوا اشهَدوا بِأَنّا مُسلِمونَ ﴿٦٤﴾﴾ [آل عمران: 64؛ صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب استحباب رکعتی سنۃ الفجر، حدیث 727]
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ”
"پس قرآن میں سے جو آسان ہو وہ پڑھو۔” [المزمل 73:20]
یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز میں قرآن مجید کے کسی بھی مقام سے قراءت کی جا سکتی ہے۔
⑧ قراءت کے دوران دعا اور درود
اگر قراءت کے دوران:
◈ عذاب کا ذکر آئے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے
◈ رحمت کا ذکر آئے تو اللہ سے اس کا سوال کرے
◈ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آئے تو درود شریف پڑھے
کیونکہ اس کی بہت تاکید وارد ہوئی ہے۔
یہ وہ چند امور ہیں جو نماز کی حالت میں مستحب اور مباح ہیں۔ ان کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ ضرورت کے وقت آپ ان سے فائدہ اٹھا سکیں اور ان مسائل میں بصیرت حاصل کر سکیں۔
نماز ایک عظیم عبادت ہے، اس میں صرف وہی اعمال درست ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، لہٰذا ان شرعی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے، تاکہ نماز مکمل اور صحیح طریقے سے ادا ہو سکے۔
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب