مضمون کے اہم نکات
صفیں درست کرنا فرض ہے:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سووا صفوفكم فإن تسوية الصفوف من إقامة الصلاة وفي رواية: من تمام الصلاة
اپنی صفیں سیدھی کرو، بلاشبہ صفیں درست کرنا نماز کا حصہ ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے: یہ نماز کی تکمیل ہے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب إقامة الصف من تمام الصلاة: 723۔ مسلم: 433]
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بأيدي إخوانكم ولا تذروا فرجات للشيطان
صفیں سیدھی کرو، ایک دوسرے کے ساتھ کندھے برابر کرو، خلا کو پر کرو، (صفیں درست کروانے والو!) اپنے بھائیوں کے لیے نرم ہو جاؤ اور شیطان کے لیے (پیچ میں) خالی جگہ مت چھوڑو۔
[ابو داود، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 666۔ صحیح]
❀ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پہلے صفوں کے درمیان ایک طرف سے دوسری طرف تک چلتے اور ہمارے (نمازیوں کے) سینے اور کندھوں کو ہاتھ سے برابر کرتے تھے۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 664۔ نسائی: 812۔ صحیح]
❀ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے صفیں درست کرنے کے لیے آدمی مقرر کیے ہوئے تھے اور جب تک صفیں درست کرنے کی اطلاع نہ دی جاتی، آپ نماز شروع نہیں کرتے تھے۔
[ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في إقامة الصفوف، تعلیقاً بعد الحدیث: 227]
صفیں درست کرنے کی فضیلت:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أقيموا الصف فى الصلاة فإن إقامة الصف من حسن الصلاة
نماز میں صفیں درست کرو، بلاشبہ صفیں سیدھی کرنا نماز کا حسن ہے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب إقامة الصف من تمام الصلاة: 722۔ مسلم: 435]
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے صفیں ملانے والوں پر درود بھیجتے ہیں اور جو شخص صف کے خلا کو پر کرتا ہے اللہ اس کے ذریعے اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے۔
[ابن ماجه، کتاب إقامة الصلوات، باب إقامة الصفوف: 995۔ صحیح]
❀ اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
من وصل صفا وصله الله ومن قطع صفا قطعه الله
صف میں ملانے (یعنی خلا کو پر کرنے والوں کو) اللہ (اپنے ساتھ) ملا لیتا ہے اور صفیں کاٹنے والوں کو اللہ (اپنے سے) کاٹ دیتا ہے۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 666۔ نسائی: 820۔ صحیح]
صفیں درست نہ کرنے کی سزا:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لتسووا صفوفكم أو ليخالفن الله بين وجوهكم
تم ضرور اپنی صفیں درست کر لو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اختلافات پیدا کر دے گا۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب تسوية الصفوف عند الإقامة وبعدها: 717۔ مسلم: 436]
❀ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اپنی صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہوا کرو، انھیں قریب قریب بناؤ اور گردنوں کو بھی برابر رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بلاشبہ میں شیطان کو دیکھتا ہوں کہ وہ بکری کے بچے کی طرح صفوں کی خالی جگہوں میں گھس جاتا ہے (اور نماز خراب کرتا ہے)۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 667۔ نسائی: 816۔ صحیح]
صفیں درست کرنے کا طریقہ:
❀ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
سب سے پہلے پہلی صف مکمل کرو، پھر اس سے پیچھے والی (آخر تک) اور اگر کوئی کمی ہے تو وہ صرف آخری صف میں ہونی چاہیے۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 671۔ صحیح]
❀ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں اس طرح سیدھی اور برابر کرتے جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 663۔ نسائی: 811۔ ترمذی: 227۔ صحیح]
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صفیں درست کرنے کا حکم دیتے تو ہم اس طرح کھڑے ہوتے تھے کہ ہر نمازی اپنا پاؤں اور کندھا ساتھ والے کے پاؤں اور کندھے کے ساتھ چپکا دیتا تھا۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب الزاق المنكب بالمنكب: 725]
❀ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
پاؤں کو سیدھا کرنا اور ہاتھ کو ہاتھ پر رکھنا سنت میں سے ہے۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب وضع اليمنى على اليسرى في الصلاة: 754۔ حسن]
سب نمازیوں کو امام کی طرف ملنا چاہیے، نہ کہ امام کی مخالف سمت اور صف درمیان سے بنانی شروع کرنی چاہیے۔
❀ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ آدمی کے دونوں پاؤں کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے؟ اس مسئلہ کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ جب احادیث کے مطابق کندھے اور پاؤں ساتھ والے سے ملائیں گے تو پاؤں ایک خاص حد تک کھلیں گے، اس سے نہ زیادہ کھلیں گے اور نہ کم، یعنی نمازی کی جسامت کے مطابق۔
پہلی صف کی فضیلت:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر درود بھیجتے ہیں۔
[نسائی، کتاب الأذان، باب رفع الصوت بالأذان: 647۔ ابن ماجه: 997۔ صحیح]
❀ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اگر لوگوں کو اذان اور پہلی صف کی فضیلت کا علم ہو جائے اور (اسے حاصل کرنے کے لیے) قرعہ اندازی کے علاوہ کوئی حل نہ پائیں تو ضرور وہ قرعہ اندازی ہی کریں۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب الاستهام في الأذان: 615۔ مسلم: 437]
❀ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی صف والوں کے لیے تین مرتبہ دعائے مغفرت فرمائی اور دوسری صف والوں کے لیے ایک مرتبہ۔
[ابن ماجه، کتاب إقامة الصلوات، باب فضل الصف المقدم: 996۔ صحیح]
بلا وجہ پہلی صف سے پیچھے ہٹنے کی سزا:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تقدموا فاتموا بي، وليأتم بكم من بعدكم، لا يزال قوم يتأخرون حتى يؤخرهم الله وفي رواية: في النار
میرے قریب آؤ اور پہلی صف پوری کرو، پھر دوسری صف والے تمھاری پیروی کریں اور جو لوگ پیچھے رہیں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں (آگ سے نکالنے میں بھی) پیچھے کر دیتا ہے۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 438۔ ابو داود: 679]
دو افراد کی جماعت:
❀ دو آدمی ہوں تو مقتدی کو امام کے دائیں جانب برابر کھڑا ہونا چاہیے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
فقمت عن يساره فجعلني عن يمينه
❀ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب يقوم عن يمين الإمام: 697۔ مسلم: 763/184]
❀ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں مقتدی کو امام سے ذرا پیچھے ہٹ کر کھڑا ہونا چاہیے، تو یہ بات درست نہیں، بلکہ مندرجہ بالا حدیث کے خلاف ہے۔
❀ دو آدمیوں کی جماعت میں اگر تیسرا آدمی آ جائے تو وہ مقتدی کو پیچھے کھینچ کر اپنے ساتھ کھڑا کر لے۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور گھما کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا، پھر جبار بن صخر رضی اللہ عنہ آئے، اس نے وضو کیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کے اکٹھے ہاتھ پکڑے اور ہمیں دھکیل کر اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔
[مسلم، کتاب الزهد، باب حديث جابر الطويل وقصة أبي اليسر: 3010]
❀ اسی طرح اگر امام کے پیچھے دو افراد ہوں اور ایک کسی عذر سے نماز چھوڑ کر چلا جائے تو دوسرا شخص آگے بڑھ کر امام کی دائیں جانب کھڑا ہو جائے۔
❀ اگر دو آدمی جماعت کروا رہے ہوں اور تیسرا آدمی شامل ہونا چاہتا ہے اور پیچھے جگہ نہیں ہے تو امام بھی آگے جا سکتا ہے۔
[ابن خزیمہ: 1536، 1674۔ إسناده صحیح]
صفوں کی ترتیب:
❀ امام کے پیچھے مرد کھڑے ہوں۔
❀ امام کے قریب وہ لوگ کھڑے ہوں جو دینی اعتبار سے سب سے زیادہ عقل مند ہیں، تاکہ وہ بھولنے پر یاد کرا سکیں اور کوئی مشکل پیش آنے پر امام بن سکیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وليلني منكم أولو الأحلام والنهى، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم
میرے قریب وہ لوگ کھڑے ہوں جو (دینی اعتبار سے) سب سے زیادہ سمجھ دار اور عقل مند ہیں، پھر وہ کھڑے ہوں جو ان کے قریب ہیں، پھر وہ جو ان کے قریب ہیں۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 432]
بچوں کی صف:
❀ بچوں کی صف مردوں کی صف کے بعد ہے۔ سیدنا ابو مالک الأشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ نہ بتاؤں؟ چنانچہ انھوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقامت کہی، پھر مردوں کی صف بنائی اور پھر بچوں کی صف ان کے پیچھے بنائی اور انھیں نماز پڑھائی۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب مقام الصبيان من الصف: 677۔ حسن (زبیر علی زئی)]
❀ لیکن اگر بچے مردوں کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں تو یہ بھی جائز ہے، جیسا کہ صحیح بخاری (697) میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تنہا ہونے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اور ایک یتیم بچے نے ہمارے گھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور میری والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب المرأة وحدها تكون صفا: 727۔ مسلم: 658]
خواتین کی صف:
❀ اگر عورتوں کے لیے علیحدہ انتظام نہ ہو تو مردوں اور بچوں کے بعد عورتوں کی صف بنائی جائے گی۔
[مسلم، کتاب الفتن، باب قصة الجساسة: 2942]
❀ عورت ایک ہو، تب بھی وہ پیچھے تنہا کھڑی ہو گی، کسی بھی مرد کے ساتھ کھڑی نہیں ہو گی۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب جواز الجماعة: 660/269]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(مرد و زن اکٹھے ہونے کی صورت میں) مردوں کی اچھی صف پہلی اور سب سے بری آخری ہے اور عورتوں کی پہلی صف بری اور آخری صف افضل ہے۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 440]
امام سے آگے کھڑا ہونا:
❀ مقتدیوں کو امام کے پیچھے کھڑے ہونا چاہیے، آگے کھڑا ہونا جائز نہیں، ہاں اگر مقتدی ایک ہے تو وہ امام کے ساتھ اس کی دائیں جانب کھڑا ہو گا۔ صف بندی کرتے ہوئے اس کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔
ستونوں کے درمیان صف بندی:
❀ ستونوں کے درمیان، جہاں صف درمیان سے منقطع ہو جائے، صف بنانے سے بچنا چاہیے۔ عبد الحمید بن محمود کہتے ہیں: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی، ہمیں ستونوں کی طرف دھکیل دیا گیا، ہم آگے پیچھے ہونے لگے، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: عہد رسالت میں ہم اس سے بچا کرتے تھے۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الصفوف بين السواري: 673۔ ترمذی: 229۔ نسائی: 822۔ صحیح]
صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنا:
❀ اگلی صف میں جگہ خالی ہونے کے باوجود کوئی پیچھے تنہا نماز ادا کرے، تو اس کی نماز نہیں ہو گی۔ سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ صف سے پیچھے تنہا نماز پڑھ رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز دہرانے کا حکم دیا۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الرجل يصلي وحده خلف الصف: 682۔ ترمذی: 230۔ ابن ماجه: 1004۔ صحیح]
❀ ہمارے ہاں کچھ لوگ اس کی بالکل پروا نہیں کرتے، بلکہ جلدی میں پیچھے ہی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ آگے والی صف سے ایک آدمی کو کھینچ کر اپنے ساتھ کھڑا کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ امام کے ساتھ جا کر کھڑے ہو جانا چاہیے، یہ تمام طریقے غلط ہیں، ان کا کسی صحیح حدیث میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
❀ یاد رہے اگلی صف سے آدمی پیچھے کھینچنے والی روایات سخت ضعیف ہیں۔
[التلخیص الحبیر: 37/2، حدیث: 583۔ السلسلة الضعیفة: 921]
❀ لہذا جس آدمی نے آگے والی صف میں جگہ ہونے کے باوجود پیچھے تنہا نماز پڑھی، اس کی نماز قطعاً نہیں ہوئی، اسے نماز دہرانی چاہیے، یا جس قدر اس نے تنہا نماز پڑھی ہے اسے دہرا لے۔
❀ یہ اس صورت میں ہے جب اگلی صف میں جگہ موجود ہو اور یہ پیچھے تنہا کھڑا ہو، لیکن اگر کسی نے اگلی صف میں جگہ نہ ملنے کی صورت میں پیچھے تنہا نماز پڑھی تو چونکہ وہ معذور ہے، لہذا اسے نماز دہرانے کی ضرورت نہیں، ان شاء اللہ اس کی نماز ہو جائے گی۔
[احكام و مسائل از مبشر احمد رباني : 207، 208 ۔ نماز ميں صف بندي: 85]
❀ اگر عورت اکیلی ہے تو اس کی تنہا صف ہو جاتی ہے، لہذا اس کی نماز تنہا ہو جائے گی، جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے تنہا نماز پڑھی تھی۔
امام اور مقتدیوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہونا:
❀ امام اور مقتدیوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہو، تو کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچتی ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنے (چٹائی کے) حجرے میں نماز پڑھتے تھے اور اس کی دیوار چھوٹی تھی، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا، تو وہ بھی کھڑے ہو گئے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب إذا كان بين الإمام وبين القوم حائط وسترة: 729-730]
❀ لہذا امام ایک کمرے میں ہو اور مقتدی دوسرے کمرے میں، تو ان کی نماز درست ہے۔
بعض لوگوں نے یہ مسئلہ گھڑ لیا ہے کہ امام کو مقتدیوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، ورنہ اس کی اقتدا درست نہیں، حتی کہ اگر امام مسجد کے محراب (جو مسجد کے ہال سے ذرا آگے ہوتا ہے) میں ہے اور مقتدی ہال میں ہیں تو بھی اقتدا درست نہیں، لہذا امام کو محراب سے ذرا پیچھے ہال میں کھڑا ہونا چاہیے۔ ہاں اگر امام کے ساتھ چند مقتدی موجود ہیں تو پھر دوسری جگہ والے مقتدیوں کی نماز جائز ہو گی۔ یہ تمام باتیں خود ساختہ ہیں، حدیث سے ان کا کوئی تعلق نہیں، بلکہ مندرجہ بالا حدیث کے خلاف ہیں۔
❀ اگر ضرورت و حاجت ہو تو امام بلند جگہ کھڑا ہو کر نماز پڑھا سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں ہے، ابو حازم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: منبر کس چیز کا تھا؟ تو انھوں نے فرمایا: اس کے متعلق بیان کرنے والا مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی باقی نہیں ہے، یہ فلاں عورت کے فلاں غلام نے غابہ جگہ کے جھاؤ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا، جب منبر تیار کر کے (مسجد میں) رکھ دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے اور قبلہ رخ ہو کر نماز شروع کی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب الصلاة في السطوح والمنبر والخشب: 377۔ مسلم: 544]
❀ بخاری کی مذکورہ بالا حدیث ہی میں ہے کہ علی بن عبد اللہ مدینی نے کہا کہ مجھ سے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس حدیث سے متعلق سوال کیا تو میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونچی جگہ کھڑے تھے، اس لیے میں اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتا کہ امام مقتدیوں سے اونچی جگہ کھڑا ہو۔ اور ابو داؤد (597) کی جس روایت میں اونچی جگہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، اسے اگرچہ علامہ الألبانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے لیکن زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اس میں اعمش مدلس راوی ہے۔