نماز کے لیئے امام کی شرائط صحیح احادیث کی روشنی میں

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔
مضمون کے اہم نکات

امامت کا حق دار کون؟

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله، فإن كانوا فى القراءة سواء فأعلمهم بالسنة، فإن كانوا فى السنة سواء فأقدمهم هجرة، فإن كانوا فى الهجرة سواء فأقدمهم سنا
لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو قرآن مجید زیادہ جانتا ہے، اگر قراءت قرآن میں سب برابر ہوں تو وہ شخص امامت کا مستحق ہے جو حدیث کا علم زیادہ رکھتا ہو۔ اگر علم حدیث میں سب برابر ہوں تو امام وہ ہوگا جس نے ہجرت پہلے کی، اگر اس میں بھی وہ سب یکساں ہوں تو پھر جو اسلام پہلے لایا۔
راوی نے اسلام کی جگہ سن (عمر) ذکر کیا ہے۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب من أحق بالإمامة: 673]
❀ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خوبصورت شخص کو امام بنانا چاہیے۔ ایسی تمام روایات موضوع اور خود ساختہ ہیں۔
[موضوع اور منکر روایات: 47، 48]

نابالغ کی امامت:

مندرجہ بالا شرائط چھوٹے سمجھ دار بچے میں پوری ہوں تو اسے ہی امام بنانا چاہیے۔
❀ سیدنا عمر بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میرا باپ اپنی قوم میں سے سب سے پہلے مسلمان ہوا، جب میرا باپ مسلمان ہو کر آیا تو اس نے اپنی قوم سے کہا: اللہ کی قسم! میں بچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کر کے تمھارے پاس آ رہا ہوں، انھوں نے فرمایا ہے کہ فلاں وقت میں فلاں نماز اس طرح پڑھو اور فلاں وقت میں فلاں نماز اس طرح پڑھو اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک آدمی اذان کہے اور جس کو قرآن زیادہ یاد ہو، وہ جماعت کرائے۔ لوگوں نے اندازہ لگایا کہ کسے قرآن زیادہ یاد ہے تو انھوں نے مجھ سے زیادہ کسی کو قرآن پڑھنے والا نہ پایا، کیونکہ میں آنے جانے والے سواروں سے قرآن سن کر یاد کر لیا کرتا تھا، لہذا سب نے مجھے امام منتخب کر لیا، حالانکہ میں اس وقت چھ یا سات برس کا تھا۔
[بخاری، کتاب المغازی، باب: 4302]

معذور کی امامت:

❀ کسی معذور (اندھے، کانے، لنگڑے وغیرہ) شخص میں مندرجہ بالا شرائط موجود ہیں تو اسے امام بنانا چاہیے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (رجب سفر پر جاتے تو) اپنا خلیفہ عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مقرر کرتے، جو لوگوں کو جماعت کرواتے، حالانکہ وہ اندھے تھے۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب إمامة الأعمى: 595۔ صحیح]

غلام کی امامت:

غلام کو امام مقرر کیا جا سکتا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب مہاجرین کی ایک جماعت قبا میں اکٹھی ہو گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تشریف نہیں لائے تھے، تو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کا غلام سالم رضی اللہ عنہ ان کی امامت کراتا تھا۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب إمامة العبد والمولى: 692]
❀ اور امام بخاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوان رضی اللہ عنہ قرآن سے دیکھ کر نماز پڑھاتا تھا۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب إمامة العبد والمولى، قبل الحدیث: 692]

بڑے عالم کی چھوٹے عالم کے پیچھے نماز:

❀ بڑا عالم اپنے سے چھوٹے عالم کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے پہلے قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے، میں بھی پانی کا برتن اٹھائے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز پڑھ رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز میں شامل ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پالی اور وہ رکعت لوگوں (یعنی جماعت) کے ساتھ ادا کی، پھر جب عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت کھڑے ہو کر ادا کی۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب تقديم الجماعة من يصلي بهم إذا تأخر الإمام: 421]

مقرر امام کی جگہ جماعت کروانا:

❀ کسی مقرر امام کی جگہ اس کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر دوسرے کو جماعت کروانے کی اجازت نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يؤمن الرجل الرجل فى سلطانه إلا بإذنه
کوئی شخص کسی کی حکومت میں (یعنی مقرر کردہ جگہ) اس کی اجازت کے بغیر ہرگز امامت نہ کرائے۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب من أحق بالإمامة: 673]

جس امام سے مقتدی ناراض ہوں:

❀ جس امام سے لوگ کسی دینی یا اخلاقی وجہ سے ناراض ہوں، اسے نماز نہیں پڑھانی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاثة لا ترتفع صلاتهم فوق رؤوسهم شبرا: رجل أم قوما وهم له كارهون
تین آدمیوں کی نماز ان کے سروں سے ایک بالشت بھی بلند نہیں ہوتی، ایک وہ آدمی جو لوگوں کا امام بن جائے، حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں۔
[ابن ماجه، کتاب إقامة الصلوات، باب من أم قوما وهم له كارهون: 971۔ ترمذی: 360۔ صحیح]

بدعتی اور مشرک کی امامت:

مشرک امام کی اقتدا جائز نہیں، کیونکہ اس کا کوئی بھی عمل قبول نہیں۔ ارشاد ربانی ہے:
وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(الأنعام: 88)
اگر یہ لوگ بھی شرک کرتے تو ان کے تمام اعمال برباد ہو جاتے۔
اسی طرح اس بدعتی کی اقتدا میں بھی نماز نہیں پڑھنی چاہیے جس کی بدعت اسے کفر و شرک تک پہنچانے اور اسلام سے نکال دینے والی ہو۔
❀ فاسق و فاجر اور گناہ گار شخص کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائز ہے۔ عبید اللہ بن عدی بن خیار کہتے ہیں کہ جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ محصور تھے تو میں نے ان سے عرض کی کہ آپ لوگوں کے امام ہیں، لیکن مصیبت میں گرفتار ہیں اور فتنہ پرور لوگوں کا امام ہمیں نماز پڑھا رہا ہے اور ہم اسے برا محسوس کرتے ہیں اب ہم کیا کریں؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: نماز لوگوں کے اعمال میں سب سے اچھا عمل ہے، جب لوگ اچھا کام کریں تو تم بھی ان کے ساتھ اچھا کام کرو اور جب وہ برا کام کریں تو تم ان کی برائی میں شامل نہ ہو (یعنی ان کی اقتدا میں نماز پڑھو لیکن ان کے غلط کاموں کی حمایت نہ کرو)۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب إمامة المفتون والمبتدع: 695]
❀ لہذا امام کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہو کر اس کی اقتدا چھوڑنا جائز نہیں۔

امام کی کوتاہی کا مقتدی پر کوئی اثر نہیں:

اگر کسی وجہ سے امام کی نماز نہیں ہوئی، یا اس کی نماز میں کوئی کمی رہ گئی ہے تو مقتدیوں کی نماز درست ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يصلون لكم فإن أصابوا فلكم ولهم، وإن أخطئوا فلكم وعليهم
جو لوگ تمھیں نماز پڑھاتے ہیں، اگر وہ ٹھیک پڑھائیں گے تو تمھیں اور انھیں ثواب ملے گا اور اگر وہ غلطی کریں گے تو تمھارے لیے تو ثواب ہے اور ان کے لیے گناہ ہے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب إذا لم يتم الإمام وأتم من خلفه: 694]

امام کے فرائض و ذمہ داریاں:

❀ امام نماز سے پہلے صفیں درست کروائے اور مقتدیوں کو تربیت دے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پہلے کیا کرتے تھے۔
❀ لوگوں کو ثنا پڑھنے کا وقت دینا چاہیے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر اور قراءت شروع کرنے کے درمیان تھوڑی دیر خاموش رہتے تھے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب ما يقول بعد التكبير: 744۔ مسلم: 598، 599]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ فاتحہ سے پہلے بسم الله الرحمن الرحيم بھی پڑھتے تھے۔
[ابو داؤد، کتاب الحروف والقراءات، باب: 4001۔ صحیح]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ فاتحہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتے تھے۔
[مسند أحمد: 288/6، حدیث: 26526۔ ابو داؤد، کتاب الحروف والقراءات: 4001۔ کتاب القراءة للبيهقي: 255]
❀ بعض امام الفاظ کو اتنا لمبا کھینچتے ہیں کہ لفظ کی نوعیت بگڑ جاتی ہے اور معنی تبدیل ہو جاتا ہے، یہ ٹھیک نہیں۔
❀ جہری نماز میں اتنی آواز میں قراءت کرنی چاہیے کہ مقتدی سن سکیں، کیونکہ بلند قراءت کا مطلب ہی یہ ہے۔
❀ جہری نماز میں سورۃ فاتحہ کے آخر پر امام اتنی بلند آواز سے آمین کہے کہ مقتدی سن سکیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أمن الإمام فأمنوا
جب امام آمین کہے تب تم بھی آمین کہو۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب جهر الإمام بالتأمين: 780۔ مسلم: 410]
❀ مقتدی تبھی آمین کہیں گے جب وہ امام کی آمین سنیں گے، لہذا امام کو بلند آواز سے آمین کہنی چاہیے۔
کمزوروں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فمن أم الناس فليتحفظ، فإن خلفه الضعيف والكبير وذا الحاجة
❀ جو شخص لوگوں کی جماعت کرائے تو اسے مختصر جماعت کرانی چاہیے، کیونکہ اس کے پیچھے کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب من شكا إمامه إذا طول: 704۔ مسلم: 446]
❀ لیکن نماز کو اس قدر بھی مختصر نہیں کرنا چاہیے کہ مقتدی ٹھیک طرح متابعت نہ کر سکیں اور دعائیں نہ پڑھ سکیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارکان میں اطمینان نہ کرنے والے شخص سے کہا تھا:
ارجع فصل فإنك لم تصل
تیری نماز نہیں ہوئی۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب أمر النبي الذي لا يتم ركوعه بالإعادة: 793۔ مسلم: 397]
❀ اور ایسے امام کے پیچھے نماز ہرگز نہیں پڑھنی چاہیے جو اس قدر تیز نماز پڑھاتا ہو کہ صحیح اطمینان سے ارکان ادا نہ کیے جا سکیں۔
❀ کوئی مسئلہ پیش آ جائے تو نماز مختصر کر دینی چاہیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچے کے رونے کی وجہ سے بھی نماز مختصر کر دیتے تھے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب من أخف الصلاة عند بكاء الصبي: 708۔ مسلم: 470/192]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھتے تھے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب يستقبل الإمام الناس إذا سلم: 845۔ مسلم: 2275]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے