مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز کے دوران خیالات آنے کی شرعی حیثیت

فونٹ سائز:

نماز میں خیال آنا

دوران نماز خیال آنے سے نماز باطل نہیں ہوتی

نماز کے دوران اگر کوئی دنیاوی خیال ذہن میں آ جائے تو اس سے نماز ٹوٹتی نہیں ہے۔ اس بات کی وضاحت ایک صحیح حدیث سے ہوتی ہے جو حضرت سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عصر ادا کی۔ نماز کے فوراً بعد آپ کھڑے ہو گئے اور ازواجِ مطہرات کے ہاں تشریف لے گئے، پھر واپس تشریف لائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے چہروں پر تعجب کے آثار دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’مجھے نماز کے دوران یاد آیا کہ ہمارے گھر میں سونا رکھا ہوا ہے، اور مجھے ایک دن یا ایک رات کے لیے بھی اپنے گھر میں سونا رکھنا پسند نہیں۔ لہٰذا میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دیا۔‘‘
(بخاری، الاذان، باب من صلی بالناس فذکر حاجۃ فتخطاھم، ۱۵۸.)

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اگر نماز کے دوران کسی دنیاوی چیز کا خیال آ جائے، حتیٰ کہ کسی اہم چیز کی یاد بھی آ جائے، تو اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا، بشرطیکہ نماز کی ظاہری شرائط اور ارکان میں خلل نہ آئے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔