نماز کے بعد مسنون اذکار و وظائف قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل نماز کے احکام ومسائل:جلد 01: صفحہ 134
مضمون کے اہم نکات

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
نماز کے بعد کے اذکار اور وظائف

الجواب بعون الوہاب بشرطِ صحتِ سوال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ذکرِ الٰہی کی اہمیت

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اذكُرُوا اللَّهَ ذِكرًا كَثيرًا ﴿٤١﴾ وَسَبِّحوهُ بُكرَةً وَأَصيلًا ﴿٤٢﴾﴾ [الاحزاب 33:41-42]

ترجمہ

اے ایمان والو! اللہ کا بکثرت ذکر کرو، اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرو۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں عبادات کی ادائیگی کے بعد ذکر کرنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:

﴿فَإِذا قَضَيتُمُ الصَّلو‌ٰةَ فَاذكُرُوا اللَّهَ قِيـٰمًا وَقُعودًا وَعَلىٰ جُنوبِكُم ﴿١٠٣﴾﴾ [النساء 4:103]

ترجمہ

پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے رہو۔

اور فرمایا:

﴿فَإِذا قُضِيَتِ الصَّلو‌ٰةُ فَانتَشِروا فِى الأَرضِ وَابتَغوا مِن فَضلِ اللَّهِ وَاذكُرُوا اللَّهَ كَثيرًا لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿١٠﴾﴾ [الجمعۃ 62:10]

ترجمہ

پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ، اللہ کا فضل تلاش کرو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔

اسی طرح رمضان کے روزے مکمل ہونے کے بعد ذکر کا حکم فرمایا:

﴿وَلِتُكمِلُوا العِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلىٰ ما هَدىٰكُم وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ ﴿١٨٥﴾﴾ [البقرۃ 2:185]

ترجمہ

تاکہ تم گنتی پوری کرو، اللہ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائی بیان کرو اور شکر گزار بنو۔

اسی طرح مناسکِ حج کے بعد فرمایا:

﴿فَإِذا قَضَيتُم مَنـٰسِكَكُم فَاذكُرُوا اللَّهَ كَذِكرِكُم ءاباءَكُم أَو أَشَدَّ ذِكرًا ﴿٢٠٠﴾﴾ [البقرۃ 2:200]

ترجمہ

جب تم حج کے اعمال پورے کر لو تو اللہ کا ذکر کرو، جیسے تم اپنے باپ دادا کا ذکر کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

عبادات کے بعد ذکر کی حکمت

عبادات کے بعد ذکر کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ:
◈ اگر عبادت میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو ذکر اس کی تلافی کا ذریعہ بن جائے۔
◈ شیطانی وسوسوں کا ازالہ ہو جائے۔
◈ بندہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم رکھے۔
◈ بندے کو یہ احساس رہے کہ عبادت کے بعد بھی اللہ کا حق باقی ہے۔

فرض نماز کے بعد مسنون اذکار

فرض نماز کے بعد اذکار وہی مسنون ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، اور ان بدعات سے اجتناب ضروری ہے جو بعض لوگوں نے ایجاد کر لی ہیں۔

① استغفار اور دعا

سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر تین مرتبہ استغفار کرتے، پھر یہ دعا پڑھتے:

"اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ، وَمِنْكَ السَّلامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ” [صحیح مسلم 591-592؛ سنن النسائی 1338؛ صحیح البخاری 842]

ترجمہ

اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے، اور سلامتی تجھ ہی سے ہے، اے جلال و اکرام والے! تو بابرکت ہے۔

② کلمۂ توحید اور دعا

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے:

"لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ” [صحیح البخاری 844؛ صحیح مسلم 593]

ترجمہ

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جو تو روک دے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اور کسی صاحبِ مرتبہ کو اس کا مرتبہ تیری پکڑ سے نہیں بچا سکتا۔

③ جامع ذکر

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد یہ پڑھتے:

"لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ” [صحیح مسلم 594]

ترجمہ

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت اور تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ نیکی کی توفیق اور گناہ سے بچاؤ صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں، اسی کی نعمت اور فضل ہے، اور اسی کے لیے بہترین تعریف ہے، ہم خالص اسی کے لیے دین اختیار کرتے ہیں، اگرچہ کافر ناپسند کریں۔

④ تسبیحات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ قَالَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ اللَّهُ أَكْبَرُ، وَخَتَمَهَا بِلاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ” [صحیح مسلم 595-597]

ترجمہ

جو شخص ہر فرض نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللہ، 33 مرتبہ اللہ اکبر کہے، اور آخر میں یہ کلمات پڑھے، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔

⑤ آیت الکرسی اور معوذات

ہر نماز کے بعد آیت الکرسی، سورۃ اخلاص، سورۃ فلق اور سورۃ ناس پڑھنا مسنون ہے۔
[سنن ابی داؤد 1523؛ موارد الظمآن 2347]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا الْمَوْتُ” [السنن الکبری للنسائی 9928؛ المعجم الکبیر للطبرانی 7532]

ترجمہ

جو شخص ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے، اس کے جنت میں داخل ہونے سے موت کے سوا کوئی چیز مانع نہیں۔