مضمون کے اہم نکات
دعا کا بیان
دعا کی قبولیت کے وقت کے متعلق پوچھا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جوف الليل ودبر الصلوات المكتوبات
”رات کے آخری حصہ میں اور فرض نماز کے بعد۔“
(ترمذی، كتاب الدعوات، باب حديث ينزل ربنا كل ليلة إلى السماء الدنيا: 3499 – حسن)
❀ چونکہ فرض نماز کے بعد کا وقت دعا کی قبولیت کے اوقات میں سے ہے۔ لہذا میں نے یہ مناسب سمجھا کہ نماز کے بعد دعا کا ذکر کیا جائے۔
❀ دعا مسنون اذکار پڑھنے کے بعد کرنی چاہیے، تاکہ مسنون اذکار جو کثیر احادیث سے ثابت ہیں، کہیں چھوٹ نہ جائیں۔
دعا کی اہمیت و فضیلت:
❀ ارشاد ربانی ہے:
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
(المؤمن: 60)
”تمھارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو، میں تمھاری دعا کو قبول کرتا ہوں، بے شک جو لوگ میری عبادت (دعا) سے تکبر کریں گے، وہ عنقریب جہنم میں داخل ہوں گے۔“
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الدعاء هي العبادة
”دعا ہی اصل عبادت ہے۔“
(أبو داود، كتاب الوتر، باب الدعاء: 1479 – ترمذی: 3247، 2969 – صحیح)
دعا کی قبولیت:
❀ ارشاد رب العالمین ہے:
أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ
(البقرة: 186)
”جب بھی دعا کرنے والا مجھے پکارتا ہے، تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔“
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”کوئی بھی شخص جب اللہ سے دعا کرتا ہے تو وہ (تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں) ضرور قبول کی جاتی ہے، دنیا ہی میں جلد اسے اس کا مقصود عطا کر دیا جائے، یا اسے آخرت کے لیے ذخیرہ کر دیا جائے، یا اس دعا کے برابر اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں، بشرطیکہ وہ گناہ اور قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور جلدی بھی نہ کرے کہ وہ یہ کہنے لگے کہ میری دعا اللہ قبول ہی نہیں کرتا۔“
(ترمذی، كتاب الدعوات، باب ما من رجل يدعو الله بدعاء إلا استجيب له: 3/3604)
قبولیت دعا کی شرائط:
❀ کھانا پینا اور لباس حلال ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يديه إلى السماء يا رب يا رب ومطعمه حرام ومشربه حرام وملبسه حرام وغذي بالحرام فأنى يستجاب لذلك
”آدمی لمبا سفر کرتا ہے کہ غبار سے اٹا ہوتا ہے اور وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے: ’اے میرے رب! اے میرے رب!‘ جبکہ اس کا کھانا، اس کا پینا اور اس کا پہننا حرام ہے اور وہ پلا بڑھا بھی حرام میں ہے تو اللہ فرماتا ہے: اب اس آدمی کی دعا کیسے قبول کی جائے۔“
(مسلم، كتاب الزكاة، باب قبول الصدقة من كسب الطيب وتربيتها: 1015)
❀ حضور قلب سے دعا کی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ادعوا الله وأنتم موقنون بالإجابة واعلموا أن الله لا يستجيب دعاء من قلب غافل لاه
”اللہ سے اس حالت میں دعا کرو کہ تمھیں قبولیت کا پورا یقین ہو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی دعا قبول نہیں کرتا جس کا دل اس سے غافل اور اس کے خیالات دوسری طرف ہوں۔“
(ترمذی، کتاب الدعوات، باب: 3479)
❀ اللہ کی نافرمانیوں سے پرہیز کریں، کیونکہ نافرمانیاں اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکاتی ہیں۔
دعا کے آداب:
❀ باوضو ہو کر دعا کریں، کیونکہ اللہ پاک صاف رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔(البقرة: 222)
❀ صرف اللہ سے دعا کریں کسی دوسرے سے دعا ہر گز نہ کریں۔(المؤمن: 14)
❀ اپنے یا کسی دوسرے مسلمان کے خلاف بددعا نہ کریں۔(مسلم، کتاب الزهد، باب حديث جابر الطويل، وقصة أبي اليسر: 3009)
❀ دوسرے مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا کریں، کیونکہ فرشتہ اس کی اس دعا پر آمین کہتا ہے اور کہتا ہے کہ تجھے بھی یہ ملے۔
(مسلم، كتاب الذكر والدعاء، باب فضل الدعاء للمسلمين بظهر الغيب: 2733)
❀ دعا بالجزم کرنی چاہیے اور اس کی قبولیت کا مکمل یقین ہو۔
(مسلم، کتاب الذكر والدعاء، باب العزم بالدعاء ولا يقل إن شئت: 2678)
❀ پورے خشوع و خضوع، رغبت، ڈر اور آہ و زاری سے دعا کرنی چاہیے (رونا نہ آئے تو رونے والا چہرہ ہی بنا لیں)۔
(مسلم، کتاب الإيمان، باب دعاء النبي لأمته وبكائه شفقة عليهم: 202)
❀ آہستہ آواز میں دعا کرنی چاہیے۔ (مریم: 55)
❀ دعا بار بار کریں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی دعا کرتے تھے تو تین بار کرتے۔
(مسلم، كتاب الجهاد، باب ما لقى النبي صلى الله عليه وسلم من أذى المشركين والمنافقين: 1794)
❀صرف تنگی ہی میں نہیں، بلکہ تنگی اور خوشی دونوں حالتوں میں دعا کرنی چاہیے۔(ترمذی، كتاب الدعوات، باب أن دعوة المسلم مستجابة: 3382 – حسن)
❀اللہ تعالیٰ سے کثرت سے دعا کرنی چاہیے۔(ابن حبان: 889 – السلسلة الصحيحة: 16/3، 1325 – صحیح)
❀کسی زندہ نیک آدمی سے دعا کروائی جا سکتی ہے۔(البقرة: 68 – النساء: 64 – يوسف: 97)
کسی مردہ شخص سے دعا کے لیے التجا کرنا جائز نہیں، مثلاً کوئی شخص کسی قبر والے سے دعا کرنے کی درخواست کرے۔
❀ارشاد باری تعالی ہے:
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ
(الأحقاف: 5)
”آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے، بلکہ وہ اس سے بھی بے خبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں تو آپ سے دعا کرایا کرتے تھے، لیکن وفات کے بعد کبھی کسی صحابی نے قبر پر جا کر دعا کرنے کی درخواست نہیں کی۔
(بخاری، کتاب الاستسقاء، باب سؤال الناس الإمام إذا قحطوا: 1010)
❀ دعا کرتے ہوئے کسی غائب، زندہ یا مردہ شخص کا واسطہ نہیں دینا چاہیے۔ ارشاد ربانی ہے:
وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّهِ
(يونس: 18)
”وہ (کافر) اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو انھیں نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ نفع دے سکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔“
❀ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کریں۔(ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما من رجل يدعو الله بدعاء إلا استجيب له: 3604)
❀ دعا کی قبولیت میں جلدی نہیں کرنی چاہیے، یعنی چند دن دعا کی، پھر ناامید ہو کر چھوڑ دی۔(بخاری، كتاب الدعوات، باب يستجاب للعبد ما لم يعجل: 6340 – مسلم: 2735)
دعا کا طریقہ:
❀ دعا کی دو اقسام ہیں:
مخصوص اذکار یعنی وہ دعائیں جو صبح و شام، اذان کے بعد اور نماز کے بعد کی جاتی ہیں اور دیگر مواقع کی دعائیں۔ ان دعاؤں کا احادیث میں جو موقع ذکر ہوا ہے اس موقع پر بغیر کوئی خاص ہیئت اپنائے وہ دعا کرنی چاہیے۔
دوسری وہ دعائیں جو کسی خاص موقع کی نہیں، بلکہ عام حالات میں بندہ کسی بھی زبان میں اپنی حاجات اللہ کے سامنے رکھتا ہے۔ دوسری قسم کی دعاؤں میں ہاتھ اٹھانا جائز ہے اور اذکار میں ہاتھ اٹھانا خلاف سنت ہے۔ جبکہ بہت سارے لوگ جہالت کی وجہ سے، یا کچھ جان بوجھ کر ہر موقع اور ہر قسم کی دعا میں ہاتھ اٹھا لیتے ہیں۔ یہ خلاف سنت ہے اور انھی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
”آخری وقت میں ایسے لوگ آئیں گے جو دعا کرنے میں مبالغہ کریں گے۔“
(أبو داود، كتاب الطهارة، باب الإسراف في الوضوء: 96 – صحیح)
❀ دعا کرتے ہوئے مندرجہ ذیل طریقہ اختیار کریں، تو دعا ضرور قبول ہو گی (ان شاء اللہ):
➊ پہلے اللہ کی حمد و ثنا کریں، پھر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھیں۔
(ترمذی، کتاب الدعوات، باب في إيجاب الدعاء بتقديم الحمد : 3476 – نسائی: 1285 – صحیح)
➋ پھر اللہ کی نعمتوں کا اقرار اور اپنے گناہوں کا اعتراف کریں، پھر دعا کریں۔
(بخاری، كتاب التوحيد، باب قول الله تعالى يريدون أن يبدلوا كلام الله: 7507)
➌ اپنے اعمال صالحہ کا واسطہ دے کر مانگیں۔
(بخاري، كتاب أحاديث الأنبياء، باب حديث الغار: 3465 – مسلم: 6949)
➍ جامع دعائیں کرنی چاہییں۔
(أبو داود، کتاب الوتر، باب الدعاء: 1482 – صحیح)
➎ اللہ کے اسمائے حسنیٰ کا واسطہ دے کر دعا مانگیں۔
(الأعراف: 180)
➏ اللہ کے اسم اعظم کا واسطہ دے کر سوال کیا جائے۔
(أبو داود، كتاب الوتر، باب الدعاء: 1495 – ترمذی: 3475 – صحیح)
اسم اعظم:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل دعاؤں کے بارے میں فرمایا کہ ان میں اسم اعظم ہے:
➊ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ
(أبو داود، كتاب الوتر، باب الدعاء: 1495 – ترمذی: 3544 – صحیح)
➋ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ
(أبو داود، كتاب الوتر، باب الدعاء: 1493 – ترمذی: 3475 – ابن ماجه: 3857 – صحیح)
➌ وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ
(البقرة: 163)
(أبو داود، كتاب الوتر، باب الدعاء: 1496 – ترمذی: 3478 – حسن)
➍ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
(آل عمران: 1-2)
(أبو داود، كتاب الوتر، باب الدعاء: 1496 – ترمذی: 3478 – حسن)
❀ مندرجہ ذیل کلمات پڑھنے کے بعد دعا کریں گے تو (ان شاء اللہ) قبول ہوگی:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
(بخاری، كتاب التهجد، باب فضل من تعار من الليل فصلى: 1154)
مسنون دعاؤں میں تحریف:
اپنے پاس سے دعا کرنے کی شریعت نے اجازت دی ہے، بشرطیکہ الفاظ کفریہ و شرکیہ نہ ہوں، لیکن مسنون دعاؤں میں سے دعا کرنا سب سے بہتر ہے۔ مگر بعض لوگوں نے مسنون دعاؤں میں من بھاتی تبدیلیاں کر لی ہیں، مثلاً اذان کے بعد والی دعا میں آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ کے بعد ”وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيعَةَ“ اور وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ کے بعد ”وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ کا اضافہ کر دیا، اور نماز کے بعد والی دعا میں اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ کے بعد ”وَإِلَيْكَ يَرْجِعُ السَّلَامُ حَيِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِ وَأَدْخِلْنَا دَارَ السَّلَامِ“ کا اضافہ کر دیا۔ یہ سراسر ظلم اور زیادتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کو دعا سکھا رہے تھے اور اس نے نبيك کی جگہ رسولك کہہ دیا، اگرچہ اس سے معنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کیا اور وہی لفظ پڑھنے کا حکم دیا جو خود اسے پڑھایا تھا۔
(بخاری، کتاب الوضوء، باب فضل من بات على الوضوء: 239)
اس سے ثابت ہوا کہ مسنون دعاؤں میں تبدیلی جائز نہیں اور دعا میں تبدیلی محض دعا میں تبدیلی نہیں، یہ حدیث میں تحریف ہے اور وہ حرام ہے۔
نماز کے بعد اجتماعی دعا کا مسئلہ:
ہمارے یہاں فرض نمازوں کے بعد امام اور مقتدی مل کر جو اجتماعی دعا کا اہتمام کرتے ہیں اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک مرتبہ بھی یہ کام کیا ہوتا تو دوسرے مسائل کی طرح اس کا ثبوت بھی ہم تک پہنچتا۔ لیکن کسی ایک صحیح حدیث میں بھی اس کا ثبوت نہیں ہے۔ اسی وجہ سے علمائے کرام کی ایک بڑی جماعت حتی کہ علمائے احناف نے اسے بدعت شنیعہ شمار کیا ہے۔ مثلاً امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مختصر الفتاوی المصریہ (40-41) اور مجموع الفتاوی (519/22) میں، امام ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد (257/1) میں، مفتی محمد ابراہیم رحمہ اللہ نے دعا بعد الفرائض کا مسنون طریقہ (22) میں، علامہ انور شاہ کشمیری حنفی رحمہ اللہ نے العرف الشذی (86) میں، مولوی فیض اللہ بنگلہ دیشی رحمہ اللہ نے احکام الدعوات المروجہ (21) میں، مولوی رفیق دلاوری شاگرد رشید مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ نے عماد الدین (397) میں اور مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ نے احسن الفتاوی میں جماعت کے بعد اجتماعی دعا کرنے کو بدعت قرار دیا ہے۔