مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
نماز کے ارکان، واجبات اور سنن کے احکام کیا ہیں؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
نماز ایک عظیم عبادت ہے جو مخصوص اقوال اور افعال پر مشتمل ہوتی ہے۔ اہلِ علم نے نماز کی تعریف اس طرح بیان کی ہے:
"نماز کچھ مخصوص اور مقرر اقوال و افعال کا نام ہے، جس کا آغاز تکبیرِ تحریمہ سے ہوتا ہے اور اختتام سلام پھیرنے پر ہوتا ہے۔”
نماز میں شامل اقوال و افعال تین اقسام پر مشتمل ہیں:
① ارکان
② واجبات
③ سنن
ہر ایک کی تفصیل درج ذیل ہے:
نماز کے ارکان
رکن کی حیثیت یہ ہے کہ اگر اسے جان بوجھ کر یا بھول کر چھوڑ دیا جائے تو پوری نماز باطل ہو جاتی ہے، یا وہ رکعت باطل ہو جاتی ہے جس میں رکن ترک ہوا ہو، اور بعد والی رکعت اس کے قائم مقام بن جاتی ہے۔
① فرض نماز میں قیام کرنا
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ”
ترجمہ: اللہ کے لیے خشوع و خضوع کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔ [البقرۃ: 2/238]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "صَلِّ قَائِمًا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ”
ترجمہ: کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل۔ [صحیح البخاری 1117، سنن ابی داود 952، جامع الترمذی 372]
اس سے معلوم ہوا کہ قدرت ہونے کی صورت میں فرض نماز میں قیام فرض ہے، البتہ بیماری، خوف، ننگا ہونے، چھت کے نیچے کھڑا نہ ہو سکنے، یا امام کی طویل قراءت سننے کی طاقت نہ ہونے کی صورت میں بیٹھ کر نماز ادا کی جا سکتی ہے۔
اگر امام بیٹھ کر نماز شروع کرے تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز ادا کریں گے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔ [صحیح البخاری 688، 689، صحیح مسلم 411، 414]
نفلی نماز کھڑے یا بیٹھے دونوں طرح درست ہے، اگرچہ کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے۔
② تکبیرِ تحریمہ
تکبیرِ تحریمہ یعنی "اللّٰهُ أَكْبَر” کہنا نماز کا رکن ہے۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے: "ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ”
ترجمہ: پھر قبلہ رخ ہو اور تکبیر کہو۔ [صحیح البخاری 6251، صحیح مسلم 397]
ایک اور روایت میں ہے: "وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ”
ترجمہ: نماز کی تحریم تکبیر سے ہوتی ہے۔ [سنن ابی داود 61، جامع الترمذی 3]
تنبیہ: رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں کہ آپ ﷺ نے "اللّٰهُ أَكْبَر” کے علاوہ کسی اور لفظ سے نماز شروع کی ہو۔
③ سورۃ فاتحہ کی قراءت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ”
ترجمہ: جو شخص سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔ [صحیح البخاری 756، صحیح مسلم 394]
یہ ہر رکعت میں رکن ہے۔ حدیثِ مسیء الصلاۃ میں بھی نبی ﷺ نے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا۔ [سنن ابی داود 859]
مقتدی کے بارے میں محتاط قول یہ ہے کہ وہ سری نماز میں بھی اور جہری نماز میں امام کے سکتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھے۔ [وضاحت فقہی، ع۔د]
④ ہر رکعت میں رکوع
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا﴾
ترجمہ: اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کیا کرو۔ [الحج: 22/77]
کتاب و سنت اور اجماع سے رکوع کی فرضیت ثابت ہے۔ [صحیح البخاری 828، صحیح مسلم 498]
⑤ رکوع سے اٹھ کر سیدھا کھڑا ہونا
یہ بھی نماز کا رکن ہے، کیونکہ نبی ﷺ ہمیشہ اس پر عمل فرماتے تھے اور فرمایا: "صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي” [صحیح البخاری 631]
⑥ سجدہ کرنا
سجدہ ہر رکعت میں دو مرتبہ اور سات اعضاء پر فرض ہے:
پیشانی (ناک سمیت)، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پاؤں۔ [صحیح البخاری 812، صحیح مسلم 490]
سجدہ بندے کو اللہ کے سب سے زیادہ قریب کرتا ہے۔
⑦ سجدے سے اٹھ کر دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا”
ترجمہ: نبی ﷺ دوسرے سجدے سے پہلے اطمینان سے بیٹھتے تھے۔ [صحیح مسلم 498]
⑧ ارکان میں اعتدال و سکون
ہر رکن میں اطمینان اور سکون فرض ہے۔ جو شخص سکون کے بغیر نماز پڑھے اس کی نماز درست نہیں۔ [صحیح البخاری 757، صحیح مسلم 397]
⑨ آخری تشہد اور اس کے لیے بیٹھنا
تشہد کے الفاظ یہ ہیں: "التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ …” [صحیح البخاری 831، صحیح مسلم 402]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "كُنَّا نَقُولُ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْنَا التَّشَهُّدُ” [سنن النسائی 1278]
⑩ آخری تشہد میں درود شریف
کم از کم "اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ” کہنا فرض ہے۔ [صحیح مسلم 588]
⑪ ارکان کی ترتیب
نماز میں تمام ارکان ترتیب کے ساتھ ادا کرنا فرض ہے۔ [صحیح البخاری 631]
⑫ سلام پھیرنا
نبی ﷺ کا فرمان ہے: "وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ”
ترجمہ: نماز کا اختتام سلام سے ہوتا ہے۔ [سنن ابی داود 61، جامع الترمذی 3]
نماز کے واجبات
◈ تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ تمام تکبیریں
◈ امام اور منفرد کے لیے "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ” [صحیح البخاری 796، صحیح مسلم 409]
◈ "رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ” کہنا [صحیح البخاری 796، صحیح مسلم 409]
◈ رکوع میں "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ” ایک بار [سنن ابی داود 870]
◈ سجدے میں "سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى” [سنن ابی داود 871]
◈ دو سجدوں کے درمیان "رَبِّ اغْفِرْ لِي” [سنن ابن ماجہ 897]
◈ پہلا تشہد اور اس کے لیے بیٹھنا [صحیح البخاری 831، صحیح مسلم 402]
نماز کی سنتیں
① اقوالِ مسنونہ
دعائے استفتاح، تعوذ، تسمیہ، آمین، اضافی قراءت، رکوع و سجدہ میں زائد تسبیحات، اور آخری تشہد کی دعائیں۔
[صحیح مسلم 471، صحیح بخاری 832، صحیح مسلم 588]
② افعالِ مسنونہ
رفع الیدین، دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھنا، نظر سجدہ کی جگہ رکھنا، رکوع میں کمر سیدھی رکھنا، سجدے میں اعضاء کو اچھی طرح زمین پر رکھنا۔
[تفصیل کتبِ فقہ]
یہ تمام سنن فرض یا واجب نہیں، مگر ان پر عمل کرنے سے نماز کامل اور مسنون ہو جاتی ہے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ھذا ما عندی، واللہ اعلم بالصواب۔