مضمون کے اہم نکات
اسلام میں نماز کی حیثیت
کلمہ شہادت کے بعد اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے جو مسلمان اور کافر میں فرق کرنے والی ہے۔ نماز اسلام کا ستون ہے۔ روز قیامت سب سے پہلے اسی رکن کے بارے میں محاسبہ ہو گا۔اگر نماز درست اور مقبول قرارپائی تو اس بندے کے دیگر اعمال بھی درست قرارپائیں گے۔ اور اگر یہ مردود ہوئی تو دوسرے اعمال بھی مردود ہوں گے۔
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مختلف انداز میں نماز کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی جگہ پر نماز کی اقامت کا حکم دیا ہے اور کسی مقام پر اس کی اہمیت و حیثیت کواجاگر کیا ہے کبھی اس کا اجرو ثواب بیان فرمایا ہے اور کہیں نماز کو صبر کے ساتھ ملا کر دونوں کے ذریعے سے مشکلات ومصائب میں استعانت کا حکم دیا ہے۔
نماز: انبیاء کا زیور اور مومنین کا شعار
ان وجوہات کی بنا پر نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کی ٹھنڈک انبیاء کا زیور اور نیک بندوں کا شعار ہے۔ علاوہ ازیں نماز بندے اور اس کے رب کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔ نماز انسان کو بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔نماز کی صحت کا دارومدار اس امر پر ہے کہ نماز حکمی اور حقیقی نجاست سے حسب طاقت پاک و صاف ہواور طہارت کا اہتمام کرے جس کا ذریعہ پانی نہ ہو تو اس کی قائم مقام مٹی ہے۔
فقہائے کرام کا طہارت کو مقدم بیان کرنا
فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہ کا ہمیشہ سے یہ انداز رہا ہے کہ دینی مسائل میں سب سے پہلے طہارت کے مسائل بیان کرتے ہیں کیونکہ جب کلمہ شہادت کے بعد نماز دیگر ارکان اسلام میں مقدم قرارپائی تو مناسب سمجھا گیا کہ نماز کے مقدمات کا پہلے ذکر ہو۔ ان مقدمات میں طہارت بھی شامل ہے جو نماز کی چابی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
"مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ”
"نماز کی چابی طہارت ہے۔”
سنن ابی داود الطہارۃ باب فرض الوضو ء حدیث :61وجامع الترمذی الطہارۃ باب ماجاء مفتاح الصلاۃ الطہور۔حدیث:3۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ حدث و نجاست نماز سے مانع ہے۔ حدث و نجاست ایک تالا ہے جو نا پاک شخص کو لگ جاتا ہے۔جب وہ وضو کرتا ہے تو کھل جاتا ہے۔ طہارت نماز کی اہم ترین شرط ہے اور شرط مشروط سے لازماً مقدم ہوتی ہے۔
طہارت کا مفہوم
طہارت کا لغوی معنی ہر قسم کی گندگی سے پاک و صاف ہونا ہے جب کہ شریعت میں اس کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ انسان حکمی اور حقیقی نجاست کو زائل کرے۔
واضح رہے کہ حکمی نجاست تب ختم ہوتی ہے جب کوئی انسان پانی کے استعمال کے ساتھ نیت کو بھی شامل کر لے۔اگر حدث اکبر یعنی غسل واجب ہے تو پورے بدن پر پانی استعمال کرے اور اگر حدث اصغر ہے تو چار اعضاء (چہرہ ہاتھ ،سر اور پاؤں )پر پانی استعمال کرے۔ اگر پانی نہ ہو یا پانی ہو لیکن اس کے استعمال سے عاجز ہو تو پاک مٹی سے تیمم کرے۔جس کی تفصیل آگے بیان ہو گی۔”ان شاء اللہ تعالیٰ۔
پانی کی اقسام اور طہارت کے احکام
اس مقام پر ہمارا مقصد پانی اور اس کی صفات بیان کرنا ہے اور بتانا ہے کہ کس قسم کے پانی سے طہارت حاصل ہو سکتی ہے اور کس سے طہارت حاصل نہیں ہو سکتی ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ وَأَنزَلنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهورًا ﴿٤٨﴾… سورة الفرقان
"اور ہم نے آسمان سے پاکیزہ پانی اتارا۔”
الفرقان:25۔48۔
مزید فرمایا:
﴿وَيُنَزِّلُ عَلَيكُم مِنَ السَّماءِ ماءً لِيُطَهِّرَكُم بِهِ …﴿١١﴾… سورة الانفال
"اور آسمان سے تم پر بارش برسا رہاتھا تاکہ تمھیں اس کے ذریعے سے پاک کردے۔”
الانفال:8/11۔
طہور پانی کی تعریف
طہور وہ پانی ہے جو خود پاک ہو اور دوسری چیز کو بھی پاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وہ اپنی قدرتی صفات کا حامل ہو… چاہے:
◈بارش
◈برف
◈اولے
◈دریا
◈چشمہ
◈کنواں
◈سمندر
◈شبنم
◈ ہو۔
یہ تمام پانی حدث و نجاست کو زائل کر دیتے ہیں۔
اگر ایسے پانی میں نجاست شامل ہونے سے اس کی صفات بدل جائیں تو بالاجماع ناپاک ہو جاتا ہے۔
پاک چیز ملنے سے پانی میں تبدیلی کا حکم
اگر پاک چیز شامل ہوجائے لیکن اس چیز کا پانی پر غلبہ نہ ہو تو علماء کے دو اقوال ہیں۔ صحیح قول یہی ہے کہ ایسا پانی پاک ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
"اگر قلیل یا کثیر مقدار میں کسی پاک چیز کی ملاوٹ سے پانی میں تغیر واقع ہو جائے … تو ایسے پانی سے متعلق علماء کے دو قول ہیں۔”
اشنان اور خطمی دونوں پودے ہیں جن کے پتے پانی میں ابال لیے جاتے ہیں۔پھر اس پانی کو اچھی طرح صفائی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا تا ہے۔
پھر شیخ رحمۃ اللہ علیہ دونوں دلائل ذکر کرکے راجح قول یہی قرار دیتے ہیں کہ ایسا پانی پاک ہے۔ دلیل:
﴿وَإِن كُنتُم مَرضىٰ أَو عَلىٰ سَفَرٍ أَو جاءَ أَحَدٌ مِنكُم مِنَ الغائِطِ أَو لـٰمَستُمُ النِّساءَ فَلَم تَجِدوا ماءً فَتَيَمَّموا صَعيدًا طَيِّبًا فَامسَحوا بِوُجوهِكُم وَأَيديكُم …﴿٤٣﴾… سورة النساء
"اور اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی ضروری حاجت سے (فارغ ہو کر)آیا ہویا تم نے عورتوں سے ہم بستری کی ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو۔ پھر اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو۔”
المائدہ:5/6۔
مجموع الفتاوی لشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ 21/24۔25۔
تیمم: پانی نہ ملنے کی صورت میں آسانی
جب پانی موجود نہ ہو یا استعمال نہ کر سکیں تو اللہ تعالیٰ نے مٹی کو قائم مقام قرار دیا:
﴿فَلَم تَجِدوا ماءً فَتَيَمَّموا صَعيدًا طَيِّبًا…﴿٦﴾… سورة المائدة
"پھر تمھیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔”
المائدہ:5/6۔
نیز:
﴿وَيُنَزِّلُ عَلَيكُم مِنَ السَّماءِ ماءً لِيُطَهِّرَكُم بِهِ …﴿١١﴾… سورة الانفال
’’اور آسمان سے تم پر بارش برسا رہا تھا تاکہ تمھیں اس کے ذریعے سے پاک کردے۔‘‘
الانفال:8/11۔
ابن ہبیرہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ پانی موجود ہو تو وضو واجب ہے، نہ ہو تو تیمم۔
پاک و ناپاک پانی کے احکام کا خلاصہ
1۔ پاک پانی:
وہ پانی جو فطری حالت میں ہو یا پاک چیز کی ملاوٹ سے تھوڑا بدلا ہو لیکن پانی ہی کہلائے۔
اس سے وضو و غسل جائز ہے۔
2۔ ناپاک پانی:
وہ پانی جس میں نجاست پڑنے سے بو، ذائقہ یا رنگت بدل جائے۔
اس سے طہارت جائز نہیں۔
واللہ اعلم۔
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب