مضمون کے اہم نکات
نماز میں قیام کے دوران (رکوع سے پہلے) دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا یا باندھنا تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت رہی ہے۔ ہمارے نبی ﷺ اور آپ کی امت کو بھی اسی کا حکم دیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ حکم اپنی اصل میں وجوب کا معنی رکھتا ہے، مگر صحیح احادیث کی روشنی میں اسے سنت مؤکدہ کہنا زیادہ درست ہے۔ یہی سنت ہے جس پر صحابہ، تابعین اور ائمہ امت کا عمل رہا ہے۔
اس مضمون میں ہم 33 دلائل قرآن، احادیث اور آثارِ صحابہ و تابعین سے نقل کریں گے تاکہ واضح ہو جائے کہ:
-
نبی ﷺ اور انبیاء کرام نماز میں ہاتھ باندھتے تھے۔
-
یہ عمل قیام کی حالت میں سنت مؤکدہ ہے۔
-
صحابہ کرام اور ائمہ نے ہمیشہ اسی پر عمل کیا۔
-
ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے پر کوئی معتبر دلیل نہیں ہے۔
-
صحیح اور ثابت سنت یہی ہے کہ ہاتھ سینے پر یا سینے کے قریب رکھے جائیں۔
① ابنِ حبان: انبیاء کو حکم—نماز میں دایاں ہاتھ بائیں پر
1۔ امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں بسند معتبر نقل کیا ہے کہ: «عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إنا معشرا لأنبياء أمرنا أن نؤخر سحورنا ونعجل فطرنا وأن نمسك بايماننا على شمالنا فى صلو تنا»
یعنی ہمارے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہم تمام انبیاء علیہم کرام الصلاۃ والسلام کے گروہ کو حکم دیا گیا ہے کہ روزہ کے لئے سحری کھانے میں تاخیر سے کام لیں اور روزہ افطار کرنے میں تعجیل (بالکل اول وقت ) سے کام لیں اور بحالت نماز رکوع سے پہلے والے قیام میں اپنے بائیں ہاتھوں کو داہنے ہاتھ سے پکڑیں۔ (صحیح ابن حبان (صحیح ابن حبان تحقیقی شعیب الارنا ووط ، اس کی سند صحیح ہے، وصححہ الضیاء المقدسی بروایۃ فی المختاره (209/11 ح 201، 200) نیز دیکھئے ص9) مطبوع دار الکتب بیروت 1997ء و1407ھ، رقم الحدیث 1767 ج 3 ص 131، 130)
② وائل بن حجرؓ: ہتھیلی/رسغ/ساعد پر رکھنا (ابو داؤد وغیرہ)
سیدنا وائل بن حجر سے مروی ہے:
«ثم وضع يده اليمنى على ظهر كفه اليسرى والرسغ والساعد»
یعنی میں نماز نبوی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے خدمت نبوی میں پہنچا تو دیکھا کہ تکبیر تحریمہ کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے بائیں ہاتھ کے ساعد و رسغ اور ہتھیلی کی پشت پر داہنا ہاتھ رکھا
(سنن ابی داؤد مع عون المعبود وتلخیص ابن القیم ج 2 ص 294 ح: 723 صحیح ابن خزیمہ وصحیح ابن حبان و پنجم کبیر للطبرانی اس حدیث کو ائمہ فرقہ دیوبندیہ کی باہم معاونت سے لکھی گئی کتاب اعلاء السن مطبوع 1997 ء بیروت لبنان ج 2 ص 179 ح: 672 کے تحت نقل کر کے صحیح کہا گیا ہے .)
اس حدیث کا دوسرا طرق 33 نمبر پر موجود ہے، اس کا حاصل معنی یہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم اپنے داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی کلائی ، پہونچے اور ہتھیلی پر چپکا کر رکھتے تھے اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کا التزامی معنی ہے کہ سینے پر ہاتھ رکھے جائیں۔
③ تفسیرِ علیؓ (فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ) — دایاں ہاتھ بائیں پر (بیہقی)
امام بہیقی اور متعدد محدثین کرام نے نقل کیا ہے کہ:
3: أخبرنا أبو عبدالله الحافظ: ثنا على بن حمشا د العدل: حدثنا هشام بن على ومحمد بن أيوب قالا حدثنا موسى بن إسماعيل: ثنا حماد بن سلمة عن عاصم الجحدرى عن عقبة بن صهبان عن على بن ابي طالب رضى الله عنه ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ : قال هو وضع يمينك على شمالك فى الصلوة
یعنی خلیفہ راشد سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قرآنی آیت ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ کا معنی و مطلب یہ ہے کہ نماز میں بحالت قیام داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا جائے (سنن بیہقی ج 2 ص 29 و متعدد کتب حدیث )
اس حدیث کی سند حماد بن سلمہ تک کئی معتبر طرق سے مروی ہے اس لئے حماد سے پہلے والے راویوں کی توثیق و تعدیل پر بحث کی ضرورت نہیں اور حماد بن سلمہ صحیح مسلم و متعدد کتب حدیث کے ثقہ رواۃ میں سے ہیں (عام کتب رجال) اور عاصم حجدری بھی ثقہ ہیں (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج 6 ص 349 ولسان المیزان ج 3 ص 220 ترجمه 968 وغیرہ ) اور عاصم جحدری نے یہ حدیث عقبہ بن صحبان (عاصم جحدری کی عقبہ بن صحبان سے ملاقات میں نظر ہے ۔ صحیح یہ ہے کہ دونوں کے درمیان العجاج الجحدری کا واسطہ ہے ، دیکھئے التاريخ الكبر للبخاری (437/6) اور العجاج مجہول الحال ہے، دیکھئے میری کتاب ”نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام“ ص 33 ، عاصم کی عقبہ سے سماع کی تصریح کسی روایت میں نہیں ملی، المزید فی متصل الاسانید کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ اس روایت کی بعض سندوں میں ”تحت السرة“ کے الفاظ بھی آئے ہیں (اتمھید 78/20 ) ابن الترکمانی حنفی لکھتے ہیں: وفي سنده و متنه اضطراب اور اس کی سند اور متن میں اضطراب ہے (الجوھرانی 30، 2) یہ عام طالب علم بھی جانتے ہیں کہ اضطراب والی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ ابن الترکمانی پر رد کےلئےدیکھئے یہی مضمون ص 22 ، 23 ) سے نقل کی جو کہ کبار تابعین میں سے ہیں اور ثقہ راوی ہیں۔ (تقریب التہذیب و تہذیب التہذیب ج 7 ص 315) اور عقبہ بن صھبان نے اسے خلیفہ راشد امیرالمؤمنین علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے لہذا باعتبار سند و متن یہ حدیث صحیح ہے اور مرفوع یعنی حدیث نبوی کا حکم رکھتی ہے کیوں کہ یہ ممکن نہیں کہ کوئی صحابی خصوصاً کوئی خلیفہ راشد کسی قرآنی آیت کی تفسیر من مانی اپنے قیاس ورائے سے کرے الا یہ کہ جس تفسیر صحابی کے خلاف نص قرآنی یا نص نبوی اس طرح مروی ہو کہ دونوں کے درمیان تطبیق و توثیق نا ممکن ہو جائے۔
④ تفسیرِ علیؓ — وضع اليمين على الشمال (مصنف ابن أبی شیبہ)
4۔ «قال الإمام ابن أبى شيبة: حدثنا وكيع: حدثنا يزيد بن زياد بن أبى الجعد عن عاصم الجحدري عن عقبة بن ظهير عن على فى قوله ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ قال وضع اليمين على الشمال فى الصلوة» (مصنف ابن ابی شیبہ ج 1ص390 ح 3941)
یعنی سند مذکورہ سے مروی ہے کہ خلیفہ راشد سیدنا علی مرتضی نے فرمایا کہ سورہ کوثر کے مذکورہ الفاظ کے معنی ہیں کہ نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے بائیں ہاتھ پر داہنا ہاتھ رکھنا چاہئے۔ نیز ملاحظہ ہو سنن دار قطنی ج 1ص 285 مع التعلیق المغنی وتفسیر ابن جریج 30 ص 210
ناظرین کرام دیکھ رہے ہیں کہ اس حدیث کی سند اپنے سے پہلی حدیث کی سند سے مختلف ہے اور معنی یکساں ہے سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے اسے نقل کرنے والے عقبہ بن ظہیر ہیں جن کو عقبہ بن ظبیان بھی کہا جاتا ہے (الجرح والتعدیل ج 6 ص 313) یعنی کہ سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کرنے میں عقبہ بن ظہیر بن ظبیان نے عقبہ بن صھبان کی متابعت کی ہے دونوں کی ایک دوسرے کی متابعت سے اس حدیث کا پایہ اعتبار بڑھ گیا ہے۔
⑤ تفسیرِ علیؓ — وضع اليد على اليد (تفسیر طبری)
5۔ «قال الإمام ابن جرير: حدثنا ابن بشار قال: ثنا عبد الرحمن بن مهدي قال: حدثنا حماد بن سلمة عن عاصم الجحدري عن عقبة بن ظبيان عن أبيه عن على بن أبى طالب ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ قال: وضع اليد على اليد فى الصلوة»
یعنی سند مذکورہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ نے آیت مذکورہ کی تفسیر بتلاتے ہوئے کہا کہ نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے ایک ہاتھ یعنی بائیں ہاتھ پر دوسرا ہاتھ یعنی داہنا ہاتھ رکھنا ہے ۔ (تفسیر ابن جریر طبری ج 30 ص310)
اس حدیث کی سند بھی معتبر ہے اور اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عقبہ بن ظبیان یا عقبہ بن ظہیر نے اپنے باپ سے نقل کر رکھا ہے یعنی کہ اس حدیث کو سیدنا علی سے عقبہ نے بھی نقل کیا ہے اور ان کے باپ ظبیان یا ظہیر نے بھی نقل کیا ہے اور اہل علم کو معلوم ہے کہ ایک راوی کوئی حدیث اپنے باپ سے روایت کرتا ہے پھر اسے وہ اپنے باپ کے استاد سے بھی نقل کرنے کا موقع پا جاتا ہے تو اس اعتبار سے اس حدیث کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرنے میں تین ثقہ رواۃ (راویوں) نے ایک دوسرے کی متابعت کی ہے اس لئے اس کی قوت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ظلبیان یا ظہیر کو ابن حبان نے ثقہ کہا ہے اور ابوالفتح از دی نے مجروح کہا ہے مگر ابوافتح از دی بذات خود کذاب ہے اس کی بات غیر معتبر اور حافظ ابن حبان کی بات اپنی جگہ پر برقرار ہے۔
(ملاحظہ ہو لسان المیزان میں ترجمہ طبیان بن عمارہ الکوفی ج 3 ص 215 الجرح والتعدیل ج 5 ترجمه ظبیان و ظہیر )
نماز میں رکوع سے پہلے والے پورے قیام میں بائیں ہاتھ پر داہنے ہاتھ کا باندھنا سنت ہے:
تمام ائمہ اہل سنت و جماعت اس بات پر متفق ہیں کہ نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے اور قیام کے لئے تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہی یا ذرا سا فصل کے بعد بائیں ہاتھ پر دائیں ہاتھ کو باندھا جائے۔
امام مالک کی طرف یہ بات منسوب ہو گئی کہ دونوں ہاتھوں کو باندھنے کے بجائے چھوڑ کر لٹکائے رکھنا چاہئے مگر محققین نے اس انتساب کو رد کر دیا ہے اور خود امام مالک نے اپنی کتاب موطا میں باب وضع الیدین احداهما علی الاخری فی الصلوة مع اوجز المسالک ج 2 ص 15 تا 19 میں اس مفہوم کی احادیث نقل کر کے واضح کر دیا ہے کہ جمہوری کا موقف صحیح اور قابل عمل ہے۔ امام مالک نے اس موقف کی تائید میں دو احادیث نقل کی ہیں ان میں سے دوسری حدیث ہم بھی نقل کر رہے ہیں۔
⑥ سهل بن سعدؓ: “لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا”—یمنی على الیسری (موطا/بخاری)
6۔ «مالك عن أبى حازم بن دينار عن سهل بن سعد الساعدى قال: كان الناس يؤمرون أن يضع الرجل اليد اليمنى على ذراعة اليسرى فى الصلوة، قال أبو حازم: ولا أعلم إلا أنه ينمي ذالك»
یعنی ابو حازم بن دینار نے سیدنا سھل بن سعد ساعدی سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ سیدنا سھل صحابی (رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ آدمی بحالت نماز قیام میں اپنا داہنا ہاتھ بائیں ذراع پر رکھے۔ ابوحازم نے کہا کہ میں صرف یہ جانتا ہوں کہ سھل یہ حدیث نبی صلى الله عليه وسلم سے مرفوعاً بیان کرتے تھے (موطا امام مالک ج 2 ص 117 تا 119 صحیح البخاری مع فتح الباری ج 2 ص 224، 225 موطا محمد بن الحن مع تعليق الممجد باب وضع اليمني على اليسرى في الصلوة ص 156 )
اس حدیث صحیح میں صراحت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حکم دیا تھا کہ بحالت نماز رکوع سے پہلے والے قیام میں بائیں ہاتھ پر داہنے ہاتھ کو رکھیں اور یہ معلوم ہے کہ صیغہ امر وجوب پر دلالت کرتا ہے الایہ کہ کوئی معتبر شرعی دلیل اسے وجوب سے پھیر کر غیر وجوب کی طرف لائے اسی مفہوم کی کئی احادیث ہیں مثلاً آپ نے فرمایا:
⑦ انّا معشر الأنبیاء… سحری/افطار/ہاتھ باندھنا (طبرانی/ابن حبان)
7: «إنا معشر الأنبياء أمرنا بتعجيل فطرنا وتأخير سحورنا وأن نضع أيماننا على شمائلنا فى الصلوة»
یعنی ہم انبیاء و مرسلین (علیہم الصلوۃ والسلام ) کو (اللہ کی طرف سے) حکم دیا گیا ہے کہ روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں اور سحری کھانے میں تاخیر کریں اور نماز میں (رکوع سے پہلے والے قیام میں) اپنے داہنے ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ پر باندھیں۔
(رواه الطبراني في الكبير وابن حبان في الموارد ح885 و الطبراني في الأوسط 1، 10/1 والضياء المقدسي في المختارة 2/10/63 قال الشيخ الألباني في أحكام الجنائز: سنده صحيح وصححه السيوطي فـي تـنـويـر الـحـوالك 174/1 وقال الهيثمي في مجمع الزوائد: سنده صحیح رجاله رجال الصحيح ) (یہ حدیث پہلے گزرچکی ہے۔)
⑧ عملی تصحیح: نبی ﷺ نے نمازی کے ہاتھ دائیں پر بائیں رکھوائے (ابو داؤد/نسائی)
8۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک شخص (عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ) کو دیکھا کہ وہ نماز میں بحالت قیام داہنے ہاتھ پر بایاں ہاتھ رکھے ہوئے ہیں تو آپ نے ان کے داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔ (سنن ابی داؤد مع عون المعبود ج 2 ص 322 ح 755 وسنن نسائی و ابن ماجہ وسنده صحیح حسن)
⑨ ابنِ زبیرؓ: صفِ قدمین اور وضع الید علی الید سنّت ہے
9۔ اس حدیث میں واقع فعل امر کو وجوب سے پھیر کر سنت مؤکدہ تک لانے والے متعدد نصوص ہیں ان میں سے ایک حدیث عبد اللہ بن زبیر بن عوام (رضی اللہ عنہما) سے مروی نقل کر رہے ہیں انھوں نے کہا کہ:
«صف القدمين ووضع اليد على اليد من السنة»
یعنی بحالت نماز دونوں پاؤں کی صف لگانی اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا مراد (بحالت قیام رکوع سے پہلے ) بائیں ہاتھ پر داہنا ہاتھ رکھنا نماز کی سنتوں میں سے ہے۔ (سنن ابی داؤ د معع ون المعبود ج 2 ص 322)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جن احادیث میں بصیغہ امر بحالت قیام بائیں ہاتھ پر داہنے ہاتھ کور کھنے وباندھنے کا حکم دیا گیا ہے وہ حکم مسنون ہے البتہ ان کو سنت موکدہ کہنا زیادہ بہتر ہے۔
⑩ مرسلِ حسن بصری: احبارِ بنی اسرائیل ہاتھ باندھتے تھے
۱۰۔ سیدنا امام حسن بصری سے مروی ہے کہ:
«قال رسول اللـه صلى الله عليه وسلم كـأنـي أنـظـر إلى أحبار بنى إسرائيل واضعي أيمانهم على شمائلهم فى الصلوة»
یعنی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں علاء، وفقہاء وائمہ بنو اسرائیل کو دیکھتا ہوں کہ وہ نماز میں اپنے بائیں ہاتھوں پہ داہنے ہاتھوں کو رکھے ہوئے ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج اص390)
یہ روایت مرسل ہے، یعنی حسن بصریؒ نے براہِ راست نبی ﷺ سے بیان کیا، درمیان کا واسطہ (صحابی) ذکر نہیں کیا۔
▸ روایت کا درجہ
-
حسن بصریؒ تک اس کی سند صحیح ہے، مگر چونکہ یہ مرسل ہے، اس لیے اصولی طور پر ضعیف شمار کی جاتی ہے۔
-
امام ابن المدینی (استادِ بخاری) فرماتے ہیں:
“حسن بصریؒ کی مرسل احادیث اکثر صحیح ہوتی ہیں، بہت کم ان میں ضعف پایا جاتا ہے۔”
▸ وضاحت خود امام حسن بصریؒ کی طرف سے
-
یونس بن عبیدؒ نے ان سے پوچھا: "آپ براہِ راست نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں حالانکہ آپ عہدِ نبوی میں موجود نہ تھے؟”
-
حسن بصریؒ نے جواب دیا:
-
میں دراصل یہ روایات سیدنا علیؓ سے سنتا تھا۔
-
لیکن حجاج بن یوسف کے دور کی سختیوں کی وجہ سے علیؓ کا نام نہ لیتا اور سیدھا کہہ دیتا: “قال رسول الله ﷺ”۔
-
✔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ روایت دراصل سیدنا علیؓ کے واسطے سے ہے، اور مفہوم کے اعتبار سے متصل اور معتبر ہے۔
⑪ مرسلِ طاؤس: “سینے پر باندھتے تھے”
«قال الامام أبو داؤد حدثنا أبو توبة حدثنا الهيثم بن حميد عن ثور عن سليمان بن موسى عن طاؤس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع يده اليمنى على يده اليسرى ثم يشد بينهما على صدره وهو فى الصلاة»
یعنی امام طاؤس یمانی نے کہا کہ نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بائیں ہاتھ پر داہنا ہاتھ رکھ کر سینے پر باندھتے تھے (سنن ابی داؤ د مع عون المعبود حدیث نمبر: 755 ج 2 ص 327 و کتاب المعرفة للبیہقی )
مذکورہ بالا حدیث مرسل ہے کیونکہ امام طاؤس یمانی تابعی ہیں اور انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ کسی صحابی سے انہوں نے نقل کیا ہے البتہ طاؤس تک اس کی سند صحیح وحسن و معتبر ہے جس کی تفصیل ابکار المنن ج 1 ص 74، 373 ، 3 و عون المعبود ج 2 ص 327، 328 و تحفۃ الاحوذی شرح جامع ترمذی میں ہے۔
مرسل حدیث امام ابو حنیفہ اور تمام احناف و امام مالک کے یہاں مطلقاً حجت ہے اور امام شافعی اور دوسرے ائمہ کے نزدیک بعض شرائط موجود ہیں جن کی بنیاد پر مرسل حدیث حجت ہوتی ہے اس کی تفصیل ابکار المنن وعون المعبود و تحفتہ الاحوذی میں ہے نیز اس مرسل حدیث کے دس معتبر متابع و شواہد کا ذکر ہم کر آئے ہیں لہذا اپنے اتنے سارے متابع و شواہد کے سبب یہ حدیث معنوی طور پر متصل صحیح اور قابل حجت ہے۔ (ہماری تحقیق میں مرسل ضعیف ہوتی ہے، تاہم اسے صحیح یا حسن لذاتہ حدیث کی تائید میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ )
⑫ اثرِ علیؓ: ناف سے اوپر—رسغ پر امساک (ابو داؤد)
«قال الإمام أبوداؤد: حدثنا محمد بن قدامة بن أعين عن أبى طالوت عبد السلام عن غزوان بن جرير الضبي عن أبيه قال: رأيت عليا رضى الله عنه يمسك شماله بيمينه على الرسغ فوق السرة»
جریر ضبی نے کہا کہ میں نے سیدنا علی بن ابی طالب خلیفہ راشد رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نماز میں بحالت قیام (رکوع سے پہلے ) وہ اپنے بائیں ہاتھ پر داہنے ہاتھ کو ناف سے اوپر رکھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد مع عون المعبود حدیث نمبر 753 ص 353)
▸ روایت کی حیثیت
-
اس روایت کی سند معتبر ہے (تفصیل: ابکار المنن)۔
-
یہ اثر بظاہر علیؓ پر موقوف ہے، لیکن چونکہ صحابہ کرامؓ قرآن و سنت کے مطابق عمل کرتے تھے، اس لیے یہ معنوی طور پر مرفوع ہے۔
-
قرآن میں بھی “اولی الامر” یعنی خلفائے راشدین کی اتباع کا حکم ہے، بشرطیکہ ان کا عمل نصوص کے خلاف نہ ہو۔
▸ مراد “فوق السرة” سے
-
ناف کے اوپر ہاتھ رکھنے کا مطلب دوسری صحیح احادیث کی روشنی میں یہ ہے کہ ہاتھ سینے پر یا سینے کے قریب رکھے جائیں۔
-
سیدنا علیؓ جیسے خلیفہ راشد کا عمل یقیناً سنت نبوی کے عین مطابق تھا۔
▸ صحابہ کا اجماعی عمل
-
اس سے پہلے گیارہ صحیح احادیث گزر چکی ہیں کہ نبی ﷺ قیام میں ہاتھ سینے پر یا ذرا نیچے رکھتے تھے۔
-
کسی بھی صحابی سے معتبر روایت ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی ثابت نہیں۔
-
لہٰذا:
-
صحابہؓ کا اجماع سکوتی یہی ہے کہ ہاتھ سینے پر یا اس کے قریب رکھے جائیں۔
-
جو لوگ ناف کے نیچے ہاتھ باندھتے ہیں وہ دراصل سنت اور اجماع صحابہ کے خلاف عمل کرتے ہیں۔
-
▸ نتیجہ
-
سیدنا علیؓ کا یہ اثر واضح کرتا ہے کہ ناف کے اوپر ہاتھ باندھنے سے مراد سینے پر یا اس کے قریب ہاتھ باندھنا ہے۔
-
یہی سنت ہے، اسی پر صحابہؓ کا اجماع ہے، اور یہی اتباع نبویﷺ ہے۔
-
ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی کوئی قابلِ حجت دلیل نہیں ملتی۔
⑬ نصِ قرآنی (وانحر) کی تفسیر کا اجماعی استدلال—سینہ پر ہاتھ
13، نص قرآنی ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ﴾ کی تفسیر سیدنا علی خلیفہ راشد نے سینے پر ہاتھ باندھنے سے کی:
خلیفہ راشد سیدنا علی مرتضی سے مندرجہ بالا حدیث مروی ہے جس کا مطلب ہے نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے سینے پر ہاتھ باندھنا مشروع ومسنون ہے۔ اسی طرح متعدد محدثین و مفسرین نے نقل کیا ہے کہ سیدنا علی مرتضی نے قرآنی فرمان ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ﴾ میں واقع لفظ ﴿انْحَرْ﴾ کا معنی و مطلب یہ بتلایا ہے کہ نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے سینے پر دونوں ہاتھ باندھے یار کھے جائیں سیدنا علی مرتضی سے یہ تفسیر امام بیہقی وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم والدارقطنی و ابوالشیخ والحاکم وابن مردویہ نے نقل کی ہے اور یہی تفسیر ابن عباس وانس بن مالک سے بھی مروی ہے۔ (تفسیر در منثور سورہ کوثر ۔ مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص 90 والتاریخ البر البخاری و تفسیر ابن جریرج 30 ص 183 و سن بیہقی ج 2 ص 30، 29 والمستدرک ج 2 ص 537، 538) شیخ ملا الله داد نے ھدایہ کے حواشی میں لکھا ہے کی چونکہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے والی حدیث علی ضعیف ہے اور انہیں سیدنا علی مرتضی سے سورہ کوثر کی تفسیر ﴿وانْحَرْ﴾ میں سینے پر ہاتھ باندھنا منقول ہے لہذا اسی تفسیر کا اختیار کرنا واجب ہے (حواشی علی الھدایہ لملا الله دادو ابکار المنن ج اص395 وتحفۃ الاحوذی شرح ترمذی ج ا ص 215)
ملا اللہ داد حنفی اور عینی حنفی نے بھی سینے پر ہاتھ باندھنے والی احادیث کو صحیح اور ناف پر یا ناف سے نیچے ہاتھ باندھنے والی احادیث کو ضعیف اور نا قابل وثوق کہا ہے اسی طرح کی بات مشہور حنفی کتاب ”البحر الرائق“ میں بھی کہی گئی ہے اور مرزا مظہر جاناں اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی بھی سینے پر ہاتھ باندھنے کے قائل تھے جیسا کہ تفصیل ہماری کتاب ”ضمیر کا بحران“ (یہ کتاب 469 صفحات پر ادارة البحوث العلمیۃ ، جامعہ سلفیہ بنارس، ہندوستان سے شائع شدہ ہے اور انتہائی بہترین کتاب ہے۔ ) میں ہے۔
تنبیہ اول:
احناف اپنے فقہی مذہب کا سلسلہ عام طور سے سیدنا عبداللہ بن مسعود صحابی (رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ جوڑتے ہیں اور وہ مدعی ہیں کہ جس طرح ائمہ احناف خصوصاً امام ابو حنیفہ سے کسی فقہی موقف میں غلطی کا صدور مستبعد ہے اسی طرح سیدنا ابن مسعود سے بھی ، حالانکہ متعدد کتب حدیث میں بسند معتبر مروی ہے کہ سیدنا ابن مسعود نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے داہنے ہاتھ پر بایاں ہاتھ رکھ کر باندھتے تھے ان کو ایک بار ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح ہاتھ باندھتے دیکھ لیا تو آپ نے ان کے بائیں ہاتھ پر داہنا ہاتھ رکھ دیا۔ (ملاحظہ ہو سنن ابی داؤد مع عون المعبود جلد دوم رقم الحدیث 755 ص 322 واخرجه النسائی وابن ماجہ وقال في فتح الباری: اسنادہ حسن)
تنبیہ ثانی:
احناف کا فتوی ہے کہ نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے دونوں ہاتھ باندھنے کے معاملہ میں مردوں اور عورتوں کے درمیان تفریق ہے عورتیں اپنے ہاتھ سینے پر باندھیں اور مرد سینے سے بہت نیچے حتی کہ ناف سے بھی نیچے باندھیں ان کا یہ مضحکہ خیز فتوی بہر حال شرعی دلیل سے عاری و خالی ہے ان کے اس دوغلے موقف پر کوئی بھی دلیل نہیں ہے۔
⑭ “تحت السُّرّة” اضافی لفظ کی تردید—وائل والی روایت میں الحاق
14: «أخرج غير واحد من المحدثين فى كتبهم بأسانيد هم إلى وكيع قال: حدثنا موسى بن عمير العنبرى عن علقمة بن وائل الحضر مي عن أبيه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم واضعا يمينه على شماله فى الصلوة»
یعنی سیدنا وائل بن حجر حضرمی نے کہا کہ میں نے نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ بحالت قیام رکوع سے پہلے اپنے بائیں ہاتھ پر داہنا ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔ (مسند احمد ج 2 ص 316 وسنن دار قطنی ج اص 286 و فتح الغفور ، مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص 290 و نور السنہ لعلامہ محمد فاخر زائر الحرم مطبوع محمدی لاہور 296 اص 6 و بیہقی ج 2 ص 30، 29)
اس حدیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ نمازی اپنے دونوں ہاتھ کہاں باندھے سینے پر یا سینے سے ذرا نیچے یا ناف پر یا ناف سے نیچے مگر مصنف ابن ابی شیبہ کے کسی نسخہ میں کسی ناخدا ترس نے عملاً یا کسی کاتب نے سہواً اس حدیث کے آخر میں ”تحت السرة“ کا لفظ بڑھا دیا جس کا مطلب یہ ہو گیا کہ سیدنا وائل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں دیکھا کہ بائیں ہاتھ پر داہنا ہاتھ ناف کے نیچے رکھے ہوئے تھے لیکن عام کتب حدیث میں یہ لفظ موجود نہیں اور مشہور ہندوستانی حنفی المذہب تقلید پرست نیموی نے اعتراف کیا ہے کہ ”مصنف ابن ابی شیبہ“ میں اس حدیث کے آخر میں جو ایک جملہ بڑھا دیا ہے”تحت السرة“ وہ غیر محفوظ اور ضعیف ہے۔ (آثار السنن مع التعلیق الحسن ج ا ص70، 71 ) یہ لفظ یا تو کسی تقلید پرست ناخدا ترس حنفی نیاس حدیث میں بطور الحاق اپنی طرف سے لکھ دیا ہے جیسا کہ متعدد حنفیوں میں یہ عادت پائی جاتی ہے یا پھر نساخ یا کاتب سے سہواً یہ لفظ اس میں داخل ہو گیا بہر حال حنفی تقلید پرستوں میں سے کئی اہل علم مثلاً نیموی، شیخ اللہ داد وغیرہ نے اس لفظ کو مدخول اور غیر محفوظ و غیر معتبر کہا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کیونکہ سیدنا وائل سے بسند معتبر ثابت ہے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں بحالت قیام سینے پر ہاتھ باندھے ہوئے دیکھا اور ارشاد نبوی ہے کہ صلوا كمارأيتموني أصلي تم لوگ اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ زیر نظر روایت اولاً الحاق (والی ) و غیر محفوظ ہے۔ ثانیاً احادیث معتبرہ ثابتہ کے معارض ہے اگر یہ روایت معتبر ہوتی تو تطبیق کے لئے کہہ دیا جاتا کہ دونوں طرح سے نماز میں ہاتھوں کا باندھنا صحیح اور درست ہے جس طرح بھی نمازی چاہے کرے لیکن ساقط الاعتبار روایت کو ثابت شدہ احادیث کے بالمقابل رد کر دینا ہی ضروری ہے ۔ ثالثاً: سیدنا وائل (رضی اللہ عنہ ) سے مروی اس حدیث کا ذکر آچکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے سینے پر ہاتھ باندھتے تھے اور یہ حدیث اپنے شواہد کے ساتھ صحیح اور معتبر ہے لہذا زیر نظریہ حدیث احادیث صحیحہ کے معارض ہوئی اور اس معارضہ کے باوصف اس کا غیر محفوظ والحاق ہونا واضح ہے لہذ ازیر ناف ہاتھ باندھنے والی یہ حدیث وائل رد ہی ہے۔ (راقم الحروف نے مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت پر تفصیلی بحث کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ”تحت السرۃ“ کے الفاظ اصل نسخوں میں موجود نہیں ہیں۔ دیکھئے نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام ص 27، 26
یہ الفاظ سب سے پہلے قاسم بن قطلوبغا (كذاب بقول المحدث البقاعى: الضوء العامع 186/6) نے پیش کئے تھے۔ )
⑮ ہدایہ/احناف کی دلیل “إن من السنة تحت السرة” کا سندی جائزہ (ضعیف)
صاحب ہدایہ نے اپنی کتاب ھدایہ میں جو احناف کے یہاں کا لقرآن کہی جاتی ہے اپنے موقف پر استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
لقوله عليه السلام: إن من السنة وضع اليمين على الشمال تحت السرة
یعنی ہم احناف نے اپنا یہ موقف اس لئے اختیار کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے بائیں ہاتھ پر داہنے ہاتھ کو ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے (ہدایہ مع شرحہ عین الھد امیج اص 1449)
صاحب ھدایہ کی اس جہالت آفریں ظرافت پر اس کے اردو مترجم و شارح جسٹس امیر علی نے فرمایا:
مترجم کہتا ہے کہ ظاہراً عبارت یوں تھی بقول علي: إن من السنة الخ اس کو نادان لکھنے والوں نے علی کا حرف پڑھ کر بے ربط جانا اور اس کی جگہ پر لقولہ علیہ السلام کر دیا کیوں کہ صحابی کا یہ کلام خود بظاہر ہے کہ سنت سے یہ ثابت ہے یعنی پیغمبر علیہ السلام کی سنت سے ہے نہ آنکہ خود پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا الخ (ھدایہ مع عین الھدایہ ج اص 449 ص 450 )
صاحب عین الھدایہ نے یہ کہا کہ زیر نظر حدیث سنن ابی داؤد کے بعض نسخوں میں ہے اس کو امام احمد و دار قطنی و بیہقی نے روایت کیا ہے امام نووی نے کہا کہ اس روایت کے ضعیف ہونے پر ائمہ حدیث متفق ہیں (عین الھدایہ ج اص 450)
ہم کہتے ہیں کہ جب حنفی ہی شارح نے اس حدیث کا متفق علیہ طور پر ضعیف ہونا تسلیم کیا ہے تو اس کے ساقط الاعتبار ہونے پر کیا شک ہوسکتا ہے۔
اس حدیث کی سند کا دارو مدار عبدالرحمن بن اسحاق بن سعد بن الحارث ابو شیبہ واسطی انصاری پر ہے اسے امام احمد نے ضعيف ، منكر الحديث ، ليس بشي کہا ہے اور امام کی بن معین نے بھی اس طرح کی تجریح کی ہے۔ امام ابن سعد، یعقوب بن سفیان و ابو داؤد سجستانی و نسائی و ابن ماجه وابن حبان نے ضعیف کہا۔ امام بخاری نے کہا فيه نظر اس لفظ کے ساتھ جس راوی کی تجریح امام بخاری کریں وہ بہت زیادہ مجروح وساقط الاعتبار ہوتا ہے امام ابوزرعہ رازی نے اسے ليس بقوي کہا، ابو حاتم رازی نے ضعيف الحديث منكر الحديث لايحتج کہا۔
ما حصل از تہذیب التہذیب و میزان الاعتدال ترجمه عبد الرحمان بن اسحاق واسطی )
حافظ ابن حبان نے اس کی بابت مزید کہا كان ممن يقلب الإسناد والأخبار وينفرد بالمناكير عن المشاهير لا يحل الاحتجاج بخبره (المجر وحین لابن حبان ج 2 ص55، 52)
ظاہر ہے کہ یہ تجریح بھی بہت سخت ہے اس لئے اس کی بیان کردہ اس حدیث کو تمام ائمہ جرح و تعدیل نے متفقہ طور پر ضعیف و ساقط الاعتبار کہا ہے اور امام بیہقی نے اس کو متروک کہا ہے۔ (سن کبیر للبیہقی ج 2 ص 53)
مسخ حقائق اور قلب وقائع اور قرآن مجید وحدیث شریف میں تحریف لفظی و معنوی کے عادی احناف میں سے ابن الترکمانی نے سنن بیہقی کے باب وضع اليدين على الصدر بزعم خویش احناف والی مصطلح امانت داری اور تحقیقی دیانت داری کا حیرت انگیز مظاہرہ کرتے ہوئے سیدنا علی مرتضی سے مروی حدیث عن على أنه قال فى هذه الآية ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ﴾ قال وضع يده اليمنى على وسط يده اليسرى ثم وضعها على صدره پر اپنی مصطلح داد تحقیق ظاہر کرتے ہوئے کہا قلت قد تقدم هذا الأثر فى باب الذى قبل هذا الباب وفي سنده و متنه اضطراب یعنی میں ابن الترکمانی کہتا ہوں کہ سیدنا علی کا اثر مذکور اس باب والے اثر مذکور کے پہلے والے باب میں گزر چکا ہے کہ اس کی سند ومتن میں اضطراب ہے (الجوھر انقی مع سنن بیہقی ج 2 ص 40)
حالانکہ باب مذکور والے باب سے پہلے والے باب میں اس اثر علی مرتضی پر ابن الترکمانی نے اس کی سند و متن کے اضطراب کی طرف کسی قسم کے اضطراب کی طرف ذرہ برابر اشارہ نہیں کیا اور نہایت شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پر کسی طرح کے اظہار اضطراب کے بغیر اپنی معروف معصومیت ظاہر کرتے ہوئے گزر گئے اور نہ ازروئے تحقیق اس حدیث کی سند و متن میں کوئی اضطراب (دیکھئے ص 6 ) وعلت ہے۔
قرآنی آیت ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ﴾ کی معنوی تفسیر نبوی یہ کی گئی ہے کہ نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے دونوں ہاتھ سینے پر باندھیں۔
امام ابو شیخ ابو محمد بن حیان نے کہا:
18: ثنا أبو الحريش الكلابي: ثنا شيبان: حدثنا حماد بن سلمة عن عاصم الجحدري عن أبيه
(1) عن عقبة بن صهبان كذا قال إن عـلـيـا رضى الله عنه وقال فى هذه الآية ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ﴾ قال: وضع يده اليمنى على وسط يده اليسرى ثم وضعها على صدره
یعنی عقبہ بن صہبان نے کہا کہ سیدنا علی مرتضی خلیفہ راشد نے فرمایا کہ سورۃ کوثر کی آیت ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ﴾ کا معنی ومطلب یہ ہے کہ نمازی بحالت قیام رکوع سے پہلے اپنے بائیں ہاتھ کے وسط (بیچ ) پر اپنا داہنا ہاتھ سینے پر رکھے (سنن بیہقی مع الجوهر القی ج 2 ص 30)
مذکورہ بالا روایت میں سیدنا علی مرتضی خلیفہ راشد نے سورہ کوثر کی مذکورہ بالا آیت کی تفسیر یہ بتلائی کہ نمازی اپنے بائیں ہاتھ کے وسط پر اپنا داہنا ہاتھ رکھے پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے سینے پر باندھے اور بائیں ہاتھ کا وسط دوسری احادیث سے ہاتھ کا وسط گٹھا (پہونچا ) یا اس کے اوپر قرار پاتا ہے اور بائیں ہاتھ کے گٹھے (پہونچے ) یا اس سے کچھ اوپر داہنا ہاتھ رکھنے پر دونوں ہاتھ سینے پر یا اس سے برائے نام نیچے رکھے جا سکیں گے جس طرح ہاتھ باندھنے کا طریقہ اس روایت میں بتلایا گیا ہے اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ نمازی بحالت قیام رکوع سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر یا سینے سے کچھ نیچے رکھ سکے گا اس طرح بندھے ہوئے ہاتھ ناف سے نیچے رکھنے میں تکلف و تکلیف سے کام لینے کے ساتھ ہی ساتھ نمازی پر اچھی خاصی مشکل و پریشانی لاحق ہوگی جس سے نمازی کا سکون واطمینان باقی نہیں رہ سکے گا حالانکہ جس طرح نماز پڑھنے میں پر سکون و مطمئن رہنے کا حکم شریعت میں دیا گیا ہے اور تکلف اور تکلیف اٹھانے سے منع کیا گیا ہے اس طرح نمازی نماز نہ پڑھ سکنے کی سبب خلجان واطمینان وسکون سے محروم رہے گا اور اس طرح کی نماز پڑھنے سے اس طرح کی پریشانی و زحمت نمازی کو لاحق ہوگی جس طرح کی پریشانی و زحمت پیشاب و پاخانہ اور کھانا رہتے ہوئے شدید بھوک وکھانے کی خواہش میں ہوتی ہے اور اس طرح کی نماز پڑھنے سے شریعت نے منع کیا ہے اس کا دوسرا مطلب یہ ہوا کہ نمازی کو بحالت قیام ناف کے نیچے دونوں ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے شریعت میں منع کیا گیا ہے بلکہ اس حدیث میں پوری صراحت کے ساتھ سینے پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اور شریعت کی اس صراحت و وضاحت کی مخالفت بہت زیادہ غلط کاری ہے اور سیدنا علی کی یہ بات معنوی طور پر حدیث نبوی کے حکم میں ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ سیدنا علی جیسا خلیفہ راشد نص (دلیل) کے خلاف جان بوجھ کر اپنی رائے وقیاس پر کام لے۔ اس طرح کا قول و فعل صحابی مرفوع معنوی کا حکم رکھتا ہے چہ جائیکہ کہ خلیفہ راشد کی اس طرح والی بات اور شریعت نے اللہ ورسول کی اطاعت کے ساتھ اولوالامر کے حکم کی پابندی کو واجب قرار دیا ہے بشرطیکہ خلیفہ راشد یا کسی بھی صحابی کی بات (ہر لحاظ سے ) خلاف نصوص قرآنیہ و نصوص نبویہ نہ ہو اور یہاں پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول مذکور خلاف نصوص ہونا مستبعد ہے بلکہ نص شرعی کے عین مطابق ہے۔ كما سيأتي
حدیث مذکور کی سند پر بحث:
سیدنا علی مرتضی سے حدیث مذکور کے ناقل عقبہ بن صہبان تقریب التہذیب کے طبقہ ثالثہ کے ثقہ و صحیح الحدیث راوی ہیں تقریب التہذیب و تهذیب التهذیب جلد 7 ص 315 و عام کتب رجال و عقبہ بن صہبان تک پہنچنے والی سند معتبر ہے کیونکہ عاصم جحدری کے باپ نے اس حدیث کو عقبہ بن صہبان سے نقل کیا ہے ۔ عاصم جحدری کے باب کا لقب عجاج ہے اور عجاج کا اصل نام عبد اللہ بن روبہ جحدری ہے وہ مخضرم تابعی ہیں اور مخضرم تابعی کا ثقہ ہونا طے شدہ امر ہے الا یہ کہ جس کے غیر ثقہ ہونے پر واضح و معتبر دلائل ہیں صرف اسی مخضرم تابعی کو غیر ثقہ مانا جاسکتا ہے اور موصوف عجاج مخضرم تابعی سے ایک سے زیادہ ثقہ روات (راویوں) نے نقل کی ہے جو امام ابن حبان اور اس طرح کے دوسرے تمام ائمہ خصوصاً احناف کے نزدیک ثقہ ہیں نیز ان سے روایت کرنے والوں میں سے ابن قطان بھی ہیں جو صرف ثقہ روات سے روایت کا التزام کرتے ہیں عجاج اور ان کے بیٹوں اور باپ کا ترجمہ و تذکرہ کیلئے تاریخ دمشق لابن عساکر کی طرف رجوع کریں عجاج مخضرم تابعی سے یہ حدیث امام عاصم نے نقل کی ہے جو ثقہ ہیں امام ابن ابی حاتم کی کتاب الجرح والتعدیل میں انھیں بالصراحت ثقہ کہا گیا ہے اور لسان المیزان میں بھی۔ عاصم جحدری سے اسے نقل کرنے والے حماد بن سلمہ پختہ کار ثقہ ہیں ۔ ۔ حماد بن سلمہ سے اسے روایت کرنے والے شیبان بن فروخ ابی شیبہ حطی الایلی ثقہ و ثبت صدوق ہیں (عام کتب رجال ) شیبان بن فروخ سے اس کے ناقل ابو الحریش احمد بن عیسی کلابی (ابوالحریش کا ثقہ و صدوق ہونا ثابت نہیں ہے، ہماری تحقیق میں یہ روایت بلحاظ سند ضعیف ہے جبکہ مولانامحمد رئیس ندوی حفظہ اللہ کی تحقیق میں یہ روایت یقینی طور پر صحیح ہے، واللہ اعلم ) ہیں جن کے کئی ثقات مثلاً ابو العباس هشمر دو ابوالقاسم بن محمد بن شعیب بن نھیک بن یزداد بن علی بن بشیر بن زیاد دهستانی و امام ابوبکر اسماعیلی و غیره (تاریخ جرجان ص 334، 62، 480، 414) [روایت کرتے ہیں]
ابوالحریش سے اس حدیث کو امام ابوالشیخ بن حیان اصبہانی نے نقل کیا ہے ان کا ثقہ وثبت ہونا بہت واضح ہے عام کتب رجال میں ان کا ترجمہ دیکھا جا سکتا ہے امام ابوالشیخ کثیر التصنیف تھے ان کی کسی کتاب ہی سے اس حدیث کو امام بیہقتی نے نقل کیا ہے مگر رسمی طور پر ابوالشیخ اور امام بیہقی کے درمیان ابوبکر احمد بن محمد فقیہ ہیں ظاہر ہے کہ یہ ثقہ ہیں۔
⑯ تفسیرِ علیؓ کی پہلی متابعت: تاریخ کبیر—“على صدره”
امام بخاری نے اپنی کتاب تاریخ کبیر ترجمہ عقبہ بن ظبیان میں کہا:
16: أنبأ موسى بن إسماعيل عن حماد بن سلمة سمع عاصم الجحدري عن أبيه عن عقبة بن ظبيان عن على ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ﴾ وضع يده اليمنى على وسط ساعده على صدره
یعنی سند مذکور سے مروی ہے کہ سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ نے قرآنی آیت مذکور کا یہ معنی بتلایا کہ نمازی بحالت قیام رکوع سے پہلے اپنے داہنے ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ کے ”ساعد“ کے درمیان رکھے اور یہ دونوں ہاتھ سینے پر رہیں۔ (تاریخ کبیر للبخاری ترجمہ عقبہ بن ظبیان ح 6 ص 437 و سنن بیہقی ج 2 ص 29 و مستدرک ج 2 ص 538، 537)
ناظرین کرام دیکھ رہے ہیں کہ اس حدیث کی سند کے مطابق سیدنا علی سے اسے نقل کرنے میں عقبہ بن ظبیان نے اس سے پہلے والی سند میں واقع راوی عقبہ بن صہبان کی متابعت کر رکھی ہے اور عقبہ بن ظبیان سے اسے عجاج نے نقل کی ہے اور عجاج سے اسے عاصم نے نقل کی ہے اور عاصم سے اسے حماد بن سلمہ نے نقل کی اور عجاج و عاصم وحماد بن سلمہ کی توثیق ہم بیان کر آئے ہیں۔ حماد بن سلمہ سے یہ روایت موسی بن اسماعیل نے نقل کی یعنی کہ موسی بن اسماعیل نے اسے حماد سے نقل کرنے میں شیبان بن فروخ الابُلّی کی متابعت کر رکھی ہے ان دو ثقہ رواۃ کی ایک دوسرے کی متابعت سے اس کی اسنادی قوت میں اضافہ ہو گیا ہے اس سے پہلے والی حدیث کی سند میں واقع ابوالحریش کی معنوی متابعت امام بخاری جیسے بلند پایہ امیر المؤمنین فی الحدیث نے کی ہے اس تفصیل کے مطابق دوسندوں پر مشتمل یہ حدیث یقینی طور پر صحیح ہوگئی ہے جو اس امر کی دلیل صریح ہے کہ خلیفہ راشد سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ نے آیت مذکورہ کا معنی یہی بتلایا ہے کہ نمازی بحالت قیام دونوں ہاتھ سینے پر باندھے یا رکھے۔
⑰ دوسری متابعت: “وضعهما على الكرسوع” (بیہقی عن بخاری/قتیبہ)
نقل البيهقي عن الإمام البخارى قال لنا قتيبة عن حميد بن عبد الرحمن عن يزيد بن زياد بن ابي الجعد عن عاصم الجحدري عن عقبة من أصحاب على عن على رضى الله عنه وضعهما على الكرسوع
یعنی سیدنا علی (رضی اللہ عنہ ) نے اپنے دونوں گٹھوں میں سے بائیں گٹھے پر داہنے گٹھے کو رکھا (سنن بیہقی ج2ص29)
اس حدیث میں بھی لازمی مطلب وہی بتلایا گیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی بیان کردہ تفسیر ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ﴾ کے مطابق بائیں ہاتھ کے گٹھے پر داہنے ہاتھ کے گٹھے کور کھتے تھے کیوں کہ اس طریق پر ہاتھ باندھنے سے لازمی طور پر دونوں ہاتھ سینے پر یا سینے سے ذرا سا نیچے رہیں گے اس طریق پر دونوں ہاتھ رکھنے کی صورت میں کسی طرح بھی دونوں ہاتھ ناف کے نیچے یا ناف پر نہیں باندھے جاسکیں گے ہر شخص اس کا تجربہ کر کے خود دیکھ سکتا ہے نیز اس حدیث کو اس سے پہلے والی حدیثوں کے تناظر میں دیکھنے سے اور دونوں قسم کی روایات میں تطبیق و توفیق دینے سے یہی لازم آتا ہے کہ علی کرم اللہ وجہہ سینے ہی پر ہاتھ باندھتے تھے اور سورہ کوثر والی آیت مذکورہ کی اپنی بیان کردہ تفسیر پر عمل کرتے ہوئے سینے ہی پر ہاتھ باندھتے تھے۔ اس حدیث کے جملہ رواۃ ثقہ ہیں اور سند متصل ہے اس کے اندر باعتبار سند و متن کسی بھی طرح کی کوئی علت قادحہ نہیں ہے۔
⑱ اثرِ علیؓ: پورے قیام میں رسغ پر دایاں—حتیٰ یرکع (مصنف ابن أبی شیبہ)
18: قال الإمام ابن أبى شيبة حدثنا وكيع: حدثنا عبد السلام بن شداد الحريري أبو طالوت قال: نا غزوان بن جرير الضبي عن أبيه قال: كان على إذا قام فى الصلوة وضع يمينه على رسغ يساره ولا يزال كذالك حتى يركع متى ماركع إلا أن يصلح ثوبه أو يحك جسده
یعنی سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ جب نماز میں قیام فرماتے تو اپنے بائیں ہاتھ کے پہنچے (گٹھے ) پر داہنا ہاتھ رکھتے اور پورے قیام میں دونوں ہاتھ اسی طرح رکھے رہتے الا یہ کہ اپنے کپڑے کی اصلاح (کی ضرورت ) پیش آئے یا جسم پر کہیں کھجلی ہو تو کپڑے کی اصلاح اور کھجلانے والے عضو کو کھجلاتے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص390 وسنن بینتی ج 2 ص 29 وصحیح البخاری مع فتح البارى تعليقاً ج 3 ص 72، 71 وعمدة القاری شرح صحیح البخاری للعینی ج 2 ص 265، 266)
اس حدیث کا لازمی مطلب ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بحالت قیام نماز میں دونوں ہاتھوں کو ناف کے نیچے یا ناف پر نہیں باندھتے تھے بلکہ اپنے بائیں ہاتھ کے گٹھے پر داہنا ہاتھ رکھتے تھے اور بائیں ہاتھ کے گٹھے پر داہنا ہاتھ رکھ کر ہر آدمی دیکھ سکتا ہے کہ دونوں ہاتھ سینے پر یا سینے سے برائے نام نیچے ہی رکھے جاسکیں گے۔ ناف کے نیچے یا ناف پر ہرگز نہیں رکھے جاسکیں گے اور دونوں طرح سے دو مختلف نمازوں یا رکعتوں میں دونوں ہی باتیں ثابت ہیں دونوں میں سے کسی ایک پر عمل کیا جاسکتا ہے یعنی سینے پر یا سینے سے ذرا نیچے۔
مذکورہ حدیث کی تصحیح :
مندرجہ بالا روایت کو غالی ترین اور علمی و تحقیقی میدان کی ابجد سے بھی ناواقف اپنے ابنائے جنس مقلدین حنفیہ کی طرح ابن الترکمانی نے جب دیکھا کہ مذکورہ بالا روایت حنفی مذھب کے خلاف رد بلیغ ہے تو اپنی عادت کے مطابق اسے ضعیف قرار دینے پر تل گئے خصوصاً اس وجہ سے بھی کہ ابن الترکمانی نے دیکھا کہ امام بیہقی نے اس کی سند کو حسن کہا ہے تو اپنے مقلدانہ ہتھیار کا استعمال کرتے ہوئے کہا:
جرير أبو غزوان لا يعرف كذا ذكر صاحب الميزان
یعنی اس سند میں علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے جریر ابوغزوان کو صاحب میزان امام ذھمی نے لا يعرف ، کہا ہے یعنی کہ موصوف جریر ابو غزوان مجہول وغیر معروف راوی ہے اس لئے روایت مذکور کی سند ساقط الاعتبار ہے۔ جبکہ بیہقی نے اس کی سند کو حسن کہا ہے یعنی کہ سند حسن سے مروی حدیث چونکہ معتبر و حجت ہونے کی اقسام سے ہے اس لئے علت مذکورہ کی بنیاد پر ابن الترکمانی نے اپنے ابنائے جنس کی طرح اپنا فرض سمجھا کہ اسے ضعیف وغیر معتبر قرار دیں۔ (ملاحظہ ہوالجوھر انقی مع سنن بیہقی لا بن الترکمانی ج 2 ص 30، 29)
ہم کہتے ہیں کہ اس حدیث کو امام بخاری نے اپنی صحیح میں تعلیقاً پورے جزم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اسے متصل امام بخاری کے استاد مسلم بن ابراھیم اور ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے (فتح الباری مع البخاری کتاب العمل في الصلوۃ ج 3 ص 72 نیز ملاحظہ ہو عمدۃ القاری مع صحیح البخاری ج 7 ص 226، 265 ، وغیرہ ) اور امام بخاری کی تعلیق بالجزم ہو تو وہ معتبر اور کم از کم حسن ہوتی ہے انھیں حافظ ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ، (ثقات ابن حبان ج 4 ص 108) اور توثیق کے بالمقابل تجھیل کالعدم ہے لہذا ان کا ثقہ ہونا بر قرار ہے لہذا انھیں ابن الترکمانی کا ذھبی کے حوالہ سے لا يعرف کہنا سراسر غلط ہے نیز امام بیہقی نے زیر نظر حدیث کو نقل کرتے ہوئے کہا کہ جریر کوعلی مرتضی رضی اللہ عنہ سے بہت لگاؤ تھا چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں أنه كان شديد اللزوم لعلي بن أبى طالب (سن بیہقی ج2ص29) جرير تابعی بھی ہیں جریر سے اس حدیث کو ان کے بیٹے غزوان بن جریر نے نقل کیا ہے اور ان سے یہ حدیث نقل کرنے والے ان کے صاحب زادے بھی انھیں کی طرح ثقہ ہیں۔
غزوان سے اس حدیث کے راوی عبداللہ بن شداد ابوحازم عبدی قیسی ابو طالوت بصری ثقہ ہیں (تہذیب التہذیب ج 2 ص282) عبدالسلام سے اس کے ناقل امام وکیع ہیں اور وکیع سے اسے امام ابن شیبہ نے نقل کیا یہ سند متصل ہے اور اپنے متعدد شواہد ومتابع سے مل کر حسن سے بڑھ کر صحیح قرار پاتی ہے۔
⑲ ابو داؤد: “يمسك شماله بيمينه … فوق السرة” کی توضیح
حدیث مذکور کی چوتھی معنوی متابعت و شہادت:
19 : قال الإمام أبـو داؤد: حدثنا محمد بن قدامة بن أعين عن أبى بدر عن أبى طالوت عبد السلام بن شداد أبى حازم عن ابن جرير الضبي عن أبيه قال: رأيت عليا رضى الله عنه يمسك شماله بيمينه على الرسغ فوق السرة
جریر ضبی نے کہا میں نے دیکھا کہ نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے علی رضی اللہ عنہ داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کے پہونچے ( گٹھے ) پر چمٹائے ہوئے ناف سے اوپر باندھے ہوئے تھے ( سنن ابی داؤ د مع عون المعبود و شرح تلخیص سنن ابی داؤ د للمنذی باب وضع الیمنی على اليسرى في الصلوة ج 2 ص 324)
مذکورہ بالا حدیث کی سند بھی حسن ہے اور اپنے معنوی شواہد ومتابع سے مل کر صحیح ہوگئی ہے۔ اس حدیث میں جو یہ مذکور ہے کہ فوق السرة (اس) سے مراد دوسری احادیث صحیحہ کی بنا پر یہ ہے کہ ناف کے اوپر سینے پر سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ باندھتے تھے کیوں کہ متعدد روایات معتبرہ سے ثابت و متعین ہو چکا ہے کہ سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ بائیں ہاتھ پر داہنے ہاتھ کو اس طرح رکھتے تھے کہ دونوں ہاتھ سینے پر بندھے ہوتے تھے اس سے ثابت و متعین بات کے خلاف دوسرا معنی مراد لینا قطعاً مناسب نہیں ہے بلکہ اس کا معنی یہی سمجھایا اور بتلایا جاتا ہے کہ سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ بائیں ہاتھ پر داہنے ہاتھ کو اس طرح چمٹا کر رکھتے تھے کہ ناف سے اوپر یہ دونوں ہاتھ سینے پر بندھے یا رکھے رہتے تھے کسی صحابی معظم وخلیفہ راشد کی بات (کے ) جب تک نہایت صریح روایات سے بظاہر دو مختلف معنی نکل رہے ہیں تو اسی معنی کو ترجیح دینا چاہئے جس سے قول و عمل خلیفہ راشدین میں تعارض و تضاد اور حقیقی اختلاف نہ نظر آئے اور ہمارے بتلائے ہوئے معنی کے اعتبار سے اسی روایت علی مرتضی کا ان سے مروی احادیث صحیحہ میں حقیقی اختلاف و تضاد نظر نہیں آتا اور فوق السرة کا لفظ بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ ناف سے اس قدر اونچے دونوں ہاتھوں کو رکھا جائے جو سینے پر یا اس سے ذرا سا نیچے رہیں۔
يمسك کا لفظ امساک مصدر سے نکلا ہے جس کے معنی چمٹانا بھی آتے ہیں جیسا کہ منجد کے ترجمہ مصباح اللغات میں صراحت ہے۔ اور جب نمازی بائیں ہاتھ کے پہونچے پر داہنے ہاتھ کو اس طرح چمٹائے گا کہ داہنے ہاتھ کی انگلیاں کہنی پر رہیں جیسا کہ دوسری احادیث نبویہ میں صراحت ہے (كـمـا سيأتي وقد مر بعضها) تو ممکن نہیں کہ دونوں ہاتھ ناف کے نیچے یا ناف پر آسکیں بلکہ اس صورت میں ہاتھ سینے پر رہیں گے یا اس سے برائے نام نیچے رہیں گے۔
تنبیہ :
بعض احناف نے اپنی عادت کے خلاف معلوم نہیں کیسے محسوس کر لیا کہ زیر نظر حدیث موقف حنفی مذہب کی تردید اور موقف مذہب اہلحدیث کی تائید کرتی ہے اس لئے فرقہ دیوبندیہ کے پیرومرشد شوق نیموی نے اس زیر نظر روایت میں واقع لفظ فوق السرة کو غیر محفوظ و ساقط الاعتبار قرار دے ڈالا۔( آثار السنن مع التعلیق الحسن ج ا ص 69) حالانکہ یہ محض ڈھکوسلہ اور بے معنی راگنی ہے ۔ ( اس روایت کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی ضعیف قراردیا ہے لیکن حق یہی ہے کہ یہ روایت حسن ہے۔ )
کسی قرآنی آیت کی تفسیر میں کسی صحابی خصوصاً خلفائے راشدین کی بات مرفوع حدیث کا حکم رکھتی ہے بشر طیکہ قول صحابی کے خلاف کوئی نص قرآنی و نص نبوی نہ ہو۔ اور ایک ہی آیت کی تفسیر میں صحابہ کے متعدد اقوال ہو سکتے ہیں دریں صورت پر قول صحابی معنوی طور پر نص نبوی قرار پائے گا بشرطیکہ ان متعدد اقوال میں ایسا اختلاف نہ ہو جس کے سبب تطبیق و توفیق ناممکن ہو جائے ایسے اختلاف کی صورت میں علمی دیانت داری کے ساتھ اپنی صواب دید کے مطابق ہر صاحب علم جس پہلو کو راجح سمجھے اسے ایسا کرنے پر حق حاصل ہے اس میں شک نہیں کہ ایک قرآنی آیت کے کسی ایک لفظ کے کئی معنی ہو سکتے ہیں اور اصول کے مطابق ان سارے معنوں کو مقبول یا کسی کو راجح یا کسی کو مرجوح قرار دیا جا سکتا ہے تمام کتب لغات یہ بتلانے پر متفق ہیں کہ لفظ نحر کے معانی میں سے ایک معنی سینہ پر ہاتھ رکھنا یا مارنا بھی ہوتا ہے اور ضرب (مارنے) والے لفظ کا استعمال متعدد احادیث صحیحہ میں رکھنے کے معنی میں ہوا ہے اس تحقیق کا التزامی معنی یہ ہوا کہ نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے نمازی اپنے ہاتھ سینے پر رکھے اور التزامی طور پر اس کا یہی معنی ہونے پر دلائل قاصرہ قائم ہیں۔
امام بخاری نے اپنی کتاب تاریخ کبیر کے ترجمہ عقبہ بن ظبیان میں اور متعدد محدثین و مفسرین نے نقل کیا ہے:
⑳ تاریخ کبیر/بیہقی/طبری: “على صدره” کی پھر تاکید
20 : أنبا موسى بن إسماعيل عن حماد بن سلمة سمع عاصم الجحدري عن أبيه عن عقبة بن ظبيان عن على ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ﴾ وضع يده اليمنى على وسط ساعده اليسرى على صدره
یعنی علی مرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سورہ کوثر کی آیت مذکورہ کی تفسیر یہ ہے کہ نمازی بحالت قیام رکوع سے پہلے اپنے بائیں ہاتھ کے پہونچے کے بیچوں بیچ یعنی درمیان پہونچے پر رکھ کر سینے پر باندھے۔ ( تاریخ کبیر للبخاری ترجمہ عقبہ بن ظبیان، سنن بیہقی ج 2 ص 29 تفسیر ابن جریر ج 30 ص210) حدیث کی صراحت آنے والی تفصیلی تحقیق میں پیش کی گئی ہے۔
اس حدیث کی سند عاصم جحدری تک متعدد طرق سے اس طرح مروی ہے کہ یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ اسے عاصم جحدری نے بالیقین روایت کیا ہے اور عاصم جحدری بقول ابن معین وابن حبان ثقہ ہیں۔
(الجرح والتعدیل ج 6 ص 349 ولسان المیزان لابن حجر ج 3 ص 220 ترجمه 986 و کتاب الثقات للامام ابن حبان) کسی بھی امام جرح و تعدیل نے ان پر معمولی ترین تجریح نہیں کی ہے۔ عاصم جحدری نے اسے اپنے باپ عجاج سے نقل کیا ہے اور عجاج موصوف کا اصل نام عبد اللہ بن روبہ ( دیکھئے ص 6،24 العجاج کے بارے میں راجح یہی ہے کہ وہ عبد اللہ بن روبہ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص ہے۔ واللہ اعلم ) ہے، عبد اللہ بن روبہ کو بعض اہل علم نے صحابی کہا اور بعض نے مخضرم تابعی کہا۔ مخضرم اس تابعی کو کہتے ہیں جو عہد نبوی میں موجود رہے اور اسلام بھی لائے لیکن کسی باعث دیدار نبوی سے بہرہ ور نہیں ہو سکے۔ مخضرم تابعی عہد نبوی و عہد صحابہ میں رہنے والے ثقہ ہوا کرتے ہیں اور انہیں امام ابن عسا کرنے ان کے بیٹے رو بہ کے ترجمہ میں بحوالہ ابن عدی لا باس به کہا ہے۔( تاریخ دمشق لابن عساکر ترجمہ رو بہ بن عجاج ج 6 ص 283 تا 392)
لاباس به بھی کلمہ توثیق ہے بلکہ امام بن معین اور اس طرح کے متعدد اہل علم اسے لفظ ثقة کا مترادف لفظ مانتے ہیں ۔ عجاج جحدری نے اس حدیث کو عقبہ بن ظبیان یا عقبہ بن ظہیر سے نقل کیا ہے اور عقبہ بن ظبیان یا عقبہ بن ظہیر صحابی ہیں اور عقبہ صحابی نے یہ حدیث سیدنا علی مرتضی خلیفہ راشد سے نقل کی ہے یعنی کہ یہ حدیث اس سند کے ساتھ صحیح معتبر ہے اس میں کوئی بھی علتِ قادحہ موجود نہیں ہے۔ شارح سنن دار قطنی امام شمس الحق تعلیق المغنی میں اس حدیث اور اس کی سند کو صالح ليس فى سنده مجروح کہا ہے اس کے باوجود نا معلوم کیوں حافظ ابن کثیر نے کہا کہ وقيل المراد بقوله وانحر وضع اليد اليمنى على اليسرى تحت النحر يروى هذا عن على ولا يصح وعن الشعبي مثله یعنی یہ بھی کہا گیا ہے کہ سورہ کوثر کے لفظ انحر کا معنی ہے کہ نحر یعنی حلقوم سے نیچے نماز میں ہاتھ باندھے جائیں یہ بات علی مرتضی خلیفہ راشد وعامرشعبی سے مروی ہے مگر صحیح نہیں ہے۔
( تفسیر ابن کثیر پ 30 سوره کوثر ج 4 ص 108 طبع علم الكتب الرياض 1418ھ 1997ء)
ہم کہتے ہیں کہ جس لفظ اور سند کے ساتھ یہ حدیث حافظ ابن کثیر کو ملی ہوگی وہ ضرور ضعیف ہوگی کیوں کہ اسے حافظ ابن کثیر نے تفسیر ابن جریر سے نقل کیا ہے حالانکہ تفسیر ابن جریر میں حافظ ابن کثیر کے بتلائے ہوئے لفظ کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے البتہ معنوی طور پر مروی ہے اور حافظ ابن کثیر کی محولہ کتاب کی اس بالمعنی حدیث کی سند میں محمد بن حمید رازی واقع ہیں اور محمد بن حمید رازی بطور راجح ضعیف ہیں اگرچہ کچھ ائمہ نے ان کی توثیق بھی کی ہے لیکن جس سند و متن کے ساتھ اسے ہم نے بحوالہ تاریخ کبیر للبخاری و سنن بیہقی نقل کی ہے اس کی بابت ہم بتلا چکے ہیں کہ یہ سند متصل اور معتبر رواۃ سے مروی ہے لہذا حافظ ابن کثیر کی نقل کردہ روایت جو تفسیر ابن جریر میں ہے باعتبار سند و متن ضعیف ہے کیوں کہ ثقہ رواۃ نے اسے جن الفاظ درواۃ سے نقل کیا ہے وہ معتبر وصحیح ہے اس لئے تفسیر ابن جریر والی حدیث ضعیف و غیر صحیح ہونے کے باوجود معنوی طور پر ہماری ذکر کردہ معتبر سند و متن والی حدیث کی متابع یا شاہد ہے اسی طرح خلیفہ راشد سیدنا علی مرتضی سے اس معنی والی روایت کئی دوسری سندوں سے مروی ہے مگر مذکورہ بالا تفصیلی تحقیق ہی اثبات مدعا کے لئے کافی اور وافی ہے نیز اس قرآنی لفظ انحر کی یہی تفسیر متعدد صحابہ سے بھی مروی ہے اور یہ چیز بھی اس حدیث کو مزید تقویت دینے والی ہے۔
اس تفصیل کا ماحصل ہوا کہ بشمول علی مرتضی متعدد صحابہ سے اس قرآنی لفظ کی یہی تفسیر منقول ہے اور یہ بات اس امر کی دلیل ہے کہ حدیث مذکورہ حکمی طور پر مرفوع یعنی حدیث نبوی ہے۔ اگر متعدد صحابہ نے لفظ قرآنی انحر کا یہی مطلب بتلایا ہے اور دوسرے صحابہ نے یا انہیں صحابہ نے اس لفظ کے اور بھی دوسرے معانی بتلائے ہوں تو جب تک ان میں تطبیق ناممکن نہ ہو جائے تب تک اس کے سارے معنی حجت ہیں اور انہیں معنوی طور پر حدیث نبوی کے حکم میں مان کر حجت بنانا اہل علم کا اصول ہے۔
㉑ طبری (مہران سند): “ثم وضعهما على صدره”
قال الإمام ابن جرير الطبرى: حدثنا ابن حميد قال: حدثنا مهران عن حماد بن سلمة عن عاصم الجحدري عن عقبة بن ظهير عن أبيه وفي رواية عقبة بن ظبيان(عن) على رضى الله عنه ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ﴾ قال: وضع يده اليمنى على وسط ساعده اليسرى ثم وضعهما على صدره
یعنی ظہیر صحابی ، اور طبیان صحابی نے کہا کہ علی مرتضی نے ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ﴾ والی آیت کریمہ کا یہ معنی بتلایا کرتے تھے کہ نمازی بحالت قیام رکوع سے پہلے اپنا دایاں ہاتھ بائیں کلائی کے وسط ( بیچوں بیچ ) پر اس طرح رکھے کہ دونوں ہاتھ سینے پر بندھے ہیں۔ (تفسیر ابن جریر طبری ج 30 ص310)
اس سند کے راوی ظہیر بن رافع انصاری اور بیان بن عمارہ دونوں صحابی ہیں (اصابہ ج 2 ص 232) اور ہر صحابی کا ثقہ ہونا منصوص ہے ان سے ان کے صاحبزادے عقبہ روایت کرتے ہیں ان کا معتبر ہونا خصوصاً متابعت و شاہد کی موجودگی میں ظاہر کیا جا چکا ہے عقبہ سے روایت عاصم جحدری نے نقل کی ان کا بھی ثقہ ہونا ثابت کیا جا چکا ہے۔ عاصم جحدری سے اسے نقل کرنے والے امام حماد بن سلمہ کا صحیح الروایۃ ہونا معلوم ہو چکا ہے حماد بن سلمہ سے اسے روایت کرنے والے مھران بن ابی۔۔ ابو عبد اللہ الرازی (مهران مذکور تک اگر سند صحیح ہو تو اس کی روایت حسن ہوتی ہے۔ ) راجح طور پر ثقہ ہیں ان پر بعض جرحیں مبہم ہیں جو توثیق ثابت کے برخلاف ساقط الاعتبار ہیں۔ سفیان ثوری سے روایت کرنے میں وہ کثیر الغلط والاضطراب ہیں۔ جنہوں نے انھیں مطلقاً مضطرب کہا ہے ان کی بات قید مذکور یعنی سفیان ثوری سے مقید ہے ہمارے نزدیک تمام کتب رجال میں ان کے ترجمہ پر نظر ڈالنے سے یہی مستفاد ہوتا ہے۔ اس معنی و مفہوم کی جتنی روایات حماد بن سلمہ سے مروی ہیں ان روایات کو نقل کرنے والے جن رواۃ کا ذکر گذشتہ روایات میں آچکا ہے ان رواۃ کی متابعت زیر نظر روایت مھران نے کر رکھی ہے اور یہ متابعت ظاہر ہے کہ قوی ہے مھران بن ابی عطاء سے یہ حدیث محمد بن حمید رازی (محمد بن حمید سخت ضعیف راوی ہے۔ ) تمیمی نے نقل کی ان کی توثیق و تجریح میں اختلاف ہے کچھ ائمہ نے انھیں مطلقاً ثقہ و صدوق کہا بعض نے ان پر شدید تجریح کی حتی کہ بعض نے ان کی تکذیب کی اور بعض نے خفیف تجریح کی ۔ زیر نظر حدیث میں کسی قسم کے کذب کا کوئی اثر نہیں معلوم ہوتا بلکہ یہ حدیث دوسری کئی معتبر سندوں سے مروی ہونے کے سبب باعتبار متن صحیح ہے اور باعتبار سند متابع وشاھد کا کام دے رہی ہے۔
㉒ طبری (ابو صالح خراسانی سند): “على صدره”
23 : قال الإمام ابن جرير الطبري: ثنا أبو صالح الخراساني :
㉓ طبری کی تیسری تقویت: ایک اور طریق سے “على صدره”
ثنا حماد بن سلمة عن عاصم الجحدري عن أبيه عن عقبة بن ظبيان أن على بن أبى طالب رضى الله عنه قال فى قول الله تعالي ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ﴾ قال : وضع يده اليمنى على وسط ساعده الأيسر ثم وضعهما على صدره
یعنی آیت مذکورہ کا مطلب و معنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ بتلایا ہے کہ داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے وسط ساعد (کلائی کے بیچوں بیچ) ) اس طرح رکھا جائے کہ دونوں ہاتھ نماز کی حالت قیام میں سینے پر رہیں ( تفسیر ابن جریر ج 30 ص210)
ناظرین کرام دیکھ رہے ہیں کہ حماد بن سلمہ سے روایت کرنے والے بہت سارے معتبر رواۃ کی متابعت ابو صالح احمد بن ابراھیم خراسانی نے کر رکھی ہے۔ امام ابن ابی حاتم نے ان کی بابت کہا : الحديث الذى رواه صحيح یعنی ان کی روایت کردہ حدیث صحیح ہے تو ان کا ثقہ و صدوق و صحیح الحدیث ہونالازم ہے لہذا جن لوگوں نے انھیں مجہول کہا وہ بے معنی اور کالعدم ہے۔
(ملاحظہ ہوالجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج 2 ص 39 ولسان المیزان ج 1ص 132 ،133)
㉔ انسؓ موقوفاً: تفسیرِ (وانحر) = سینہ پر ہاتھ
قال أبو الشيخ: ثنا ابو الحريش: ثنا شيبان: ثنا حماد ثنا عاصم الأحول عن رجل عن أنس مثله
یعنی سند مذکور کے ساتھ سیدنا انس سے موقوفاً مروی ہے کہ سورہ کوثر والی آیت مذکورہ کا یہ مطلب ہے کہ نمازی بحالت قیام رکوع سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے۔ (سنن بیہقی ج 1 ص30 ،31)
اس روایت میں سیدنا انس بن مالک سے روایت کرنے والے جس رجل تابعي کا ذکر ہے اس سے بہر حال مذکورہ بالا روایات کی معنوی متابعت ہوئی ہے۔ اگرچہ رجل تابعي کا نام معلوم نہ ہو سکنے کے سبب انہیں مجہول کہا جائے گا اس روایت کے جملہ رواۃ ”رجل“ کو چھوڑ کر معتبر ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ موقوف روایت معنوی طور پر مرفوع ہے۔ (یہ روایت بلحاظ سند ضعیف ہے۔ )
㉕ انسؓ مرفوعاً: سینے پر ہاتھ کی روایت
مذکورہ بالا حدیث اسی سند کے ساتھ مرفوعاً یعنی نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے بھی مروی ( یہ بھی ضعیف روایت ہے۔ ) ہے۔ (سنن بیہقی ج 2 ص 31 واخرجہ ابو الشيخ ايضا تفسیر در منثور ج 8 ص 650)
㉖ ابنِ عباسؓ: “عند النحر”—نحر/سینہ پر ہاتھ
قال الإمام البيهقي: أخبرنا أبو زكريا بن أبى إسحاق أنبأ الحسن بن يعقوب بن البخارى: أنبأ يحيى بن أبى طالب أنبأ زيد بن الحباب : ثنا روح بن المسيب قال: حدثني عمرو بن مالك النكرى عن أبى الجوزاء عن ابن عباس فى قول الله تعالى ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ﴾ قال: وضع اليمين على الشمال فى الصلوة عند النحر
یعنی سیدنا ابن عباس (رضی اللہ عنہ ) نے آیت مذکورہ کا یہ معنی بتلایا ہے کہ نمازی بحالت قیام رکوع سے پہلے اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر نحر کے پاس یعنی سینے پر رکھے۔ (سن بیہقی ج 2 ص 31)
روایت مذکورہ کی تصحیح :
سیدنا ابن عباس کو صحابہ و تابعین ترجمان القرآن وحبر الاسلام کہتے تھے صحابی ہونے کے سبب ان کا ثقہ ہونا منصوص ہے اور ان سے اس روایت کے ناقل ابو الجوزاٗ کا ابن عباس سے گہرا لگاؤ تھا امام عجلی وابن حبان وابن عدی نے ان کی توثیق کی ہے اور یہ جب صحیحین کے راوی ہیں تو بالا جماع ثقہ ہیں جیسا کہ امام مسلم نے صراحت کی ہے امام بخاری نے جو یہ کہا کہ ”فی اسنادہ نظر “ تو اس سے امام بخاری کی مراد ان کی تجریح نہیں ہے بلکہ جس سند کے ساتھ ان سے کوئی خاص روایت ہے مروی ہے اس کے کسی راوی پر امام بخاری نے کلام کیا ہے ورنہ ان سے امام بخاری اپنی صحیح میں روایت نہ کرتے ۔ امام مسلم بھی (اس سے روایت کرتے ہیں ) جیسا کہ اس کی تفصیل تہذیب التہذیب وغیرہ مطول کتب رجال میں ہے۔ ابوالجوزاء کنیت والے اس راوی کا اصل نام اوس بن عبد اللہ ربعی از دی بصری مقتول 83 ھ ہے ،یہ کبار تابعین میں سے ہیں۔ ابوالجوزاء سے یہ روایت عمرو بن مالک نکری ابویحیی ابو مالک بصری ( عمرو بن مالک النکری جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہونے کی وجہ سے قول راج میں ضعیف ہی ہے۔ ) متوفی 129ھ نے نقل کی ہے انھیں امام ابن حبان نے ثقہ کہا ہے اور مزید کہا کہ يعتبر حديثه من غير رواية ابنه عنه يخطى يغرب (تہذیب التہذیب ج 8 ص 85،84) تقریب التھذیب میں اعدل الا قوال کے طور پر کہا صدوق له أوهام اور صدوق لـه أوهام وصف والے راوی کی جس روایت میں وقوع و ہم متحقق ہو وہ بغیر متابع معتبر نہیں ورنہ متابع ہونے کی صورت میں معتبر ہے اور اس میں شک نہیں کہ ان زیر نظر روایات کے پچاس سے بھی زیادہ معنوی متابع ہیں لہذا اس روایت میں کلام کی گنجائش نہیں مگر تقلید پرستی کے جذبات غالبہ سے مغلوب ہو کر سنن بیہقی پر رد لکھنے والے علوم وفنون سے ناواقف ابن الترکمانی نے موصوف عمرو فکری کی بابت کہا کہ قال ابن عدى عمرو النكري منكر الحديث عن الثقات يسرق الحديث ضعفه أبو يعلى الموصلي ذكره ابن الجوزى
( الجوہر النقى مع سنن بیہقی ج 2 ص 30 نیز ملاحظہ ہوالکامل لابن عدی ج 5 ص 1799 ص 1800)
ہم کہتے ہیں کہ اہل علم نے ابن عدی وابو یعلی کی تجریح کو کالعدم قرار دیا ہے حافظ ذھبی نے عمرو بن مالک نکری وعمرو بن
مالک الجنبی کو یعنی دونوں کو ثقہ کہا ہے۔ ( میزان الاعتدال ج 3 ص 287، 6439، 6437)
اور یہ گزر چکا ہے کہ انھیں حافظ ابن حجر نے صدوق لــه أوهام کہا اس توثیق کے بالمقابل ابن عدی کی بے دلیل تجریح کالعدم ہے اور اس حدیث کی نقل میں بہت ساری احادیث متابع وشاہد ہیں حافظ ذہبی کی (ابن الترکمانی کے نزدیک ) من پسند باتوں کو بحوالہ ذھبی ابن الترکمانی بکثرت نقل کرتے ہیں۔ انکی توثیق نکری ابن الترکمانی کو نظر نہیں آتی ؟ اس کا سبب تقلید پرستی کے علاوہ اور کیا ہے؟ ان کی غیر محفوظ روایات کا تعلق صرف ثابت و یزید رقاشی ہی سے ہے جس ابن الترکمانی کو اتنی بھی تمیز نہیں وہ سنن بیہقی پر رد کرنے بیٹھ جائے تو کیا ہوگا؟ اور یروی ( جس راوی پر جمہور کی جرح ہو، وہ یروی الموضوعات کی وجہ سے غیر معتبر وساقط العدالت ہوتا ہے۔ ) الموضوعات سے راوی کا معتبر ہونا لازم نہیں آتا۔ عمرو نکری سے اسے روح بن المسیب کلبی نے نقل کیا ہے انھیں امام بزاز نے ثقہ کہا، امام ابن معین نے صد و یلح کہا اور ابو حاتم رازی نے صالح لیس بالقوی کہا۔ (لسان المیزان ج 2 ص 469 ،468م)
ایسے راوی کی روایت کردہ حدیث کو اپنے من کی پا کر فرقہ دیوبندیہ کے لامدعیان تحقیق (حسن و صحیح ) کہنے کے عادی ہیں انکی کتاب اعلاء السنن ایسی باتوں سے بھری پڑی ہے (اور ) دوسری کتابیں بھی۔
ان سے روایت کرنے والے زید بن الحباب مشہور ثقہ ہیں ( عام کتب رجال ) زید بن الحباب سے یہ روایت یحیی بن ابی طالب جعفر بن عبد الله بن الزبرقان (ابوبکر متوفی 275ھ) نے نقل کی ہے ان کی بابت ابن الترکمانی نے خطیب کی تاریخ بغداد کے حوالہ سے لکھا عن موسى بن هارون قال: أشهد أنه يكذب إلخ ابن التركماني نے اس کا معنی و مطلب نہیں سمجھا۔ جن حافظ ذہبی سے مطلب کی باتیں نقل کرنے کے ابن الترکمانی عادی ہیں انہوں نے اس کا مطلب بتلایا۔
عني فى كلامه ولم يعن فى الحديث یعنی حدیث بیان کرنے میں ان پر موسی بن ھارون کی یہ تجریح نہیں ہے نیز یہ کہ وثقه الدارقطني وغيره إلى أن قال والداقطنى من اخبر الناس به یعنی انہیں دار قطنی وغیره نے ثقہ کہا اور دار قطنی ان کے حالات سے ( موسی کی بہ نسبت) کہیں زیادہ باخبر تھے۔
(میزان الاعتدال ج 2 ص 386، 387)
جس تاریخ خطیب کے حوالہ سے ابن الترکمانی نے یہ تجریح نقل کی ہے اس میں صراحت ہے کہ ذكــــر الدارقطني يحيى بن أبى طالب فقال: لا بأس به عندي ولم يطعن فيه أحد بحجة ، يعني یحیی بن ابی طالب کو امام دارقطنی نے لا باس به یعنی ثقہ کہا نیز یہ کہا کہ کسی نے ان پر دلیل کے بغیر جرح وطعن کیا ہے۔
(خطیب ج 14 ص 221)
اس سے معلوم ہوا کہ ابن الترکمانی نے یحیی موصوف کو بلا دلیل محض دھاندلی بازی سے کام لے کر مجروح قرار دیا۔ امام برقانی نے کہا کہ مجھے امام دار قطنی نے حکم دیا کہ یحیی بن ابی طالب اور حارث بن ابی اسامہ کی احادیث أحاديث صحيحة میں درج کروں امام ابو حاتم رازی نے انھیں محله الصدق کہا۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ابن الترکمانی تقلید پرستی کے سمندر میں اس طرح غوطہ زن تھے کہ انھیں دائیں بائیں اور آگے پیچھے کی کوئی خبر نہیں تھی۔ الحاصل ائمہ کرام نے موصوف یحیی کو ثقہ وصحیح الحدیث قرار دیا ہے۔
یحیی بن ابی طالب سے اسے حسن بن یعقوب بخاری (متوفی 344ھ) نقل کیا ہے کہ انھیں امام ذھبی نے الصدوق النبيل کہا یعنی کہ موصوف ثقہ تھے۔ نیز انھیں حافظ ذہبی نے ”عدل“ (ثقہ) کہا ہے۔
(سیر اعلام النبلاء ج 15 ص 433 و العبر للذھبی ج 2 ص 259 و شذرات الذهب ج 2 ص 362)
ان سے یہ حدیث ابو زکریا یحیی بن ابی اسحاق ابراهیم بن محمد بن یحیی المز کی النیسابوری (متوفی 414 ھ ) نے نقل کی ، ان کے بارے میں حافظ ذھبی نے فرمایا:
الشيخ الإمام الصدوق ، القدوة الصالح یعنی وہ شیخ امام سچے ،نمونہ اور نیک تھے۔
(سیر اعلام النبلاء 295/17ت 179)
حافظ ذھبی مزید فرماتے ہیں کہ:
وكان شيخا ثقه ، نبيلا خيرا، زاهدا ورعا متقنا ، ما كان يحدث إلا وأصله بيده يعارض ، حدث بالكبير
وہ ثقہ شیخ شریف نیک، زاهد ، پرہیز گار اور زبر دست ثقہ تھے ۔ آپ جب بھی حدیث بیان کرتے تو اپنی اصل کتاب اپنے ہاتھ میں لے کر مراجعت کرتے رہتے تھے۔ آپ نے بہت حدیثیں بیان کی ہیں ۔ (ایضاً ص 296) ان سے یہ حدیث امام بیہقی نے نقل کی لہذا اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ حدیث معتبر مسیح وحسن ( یہ روایت النکری کی وجہ سے ضعیف ہے۔ ) ہے۔
29/28/27 امام سعید بن جبیر ( رحمہ اللہ ) والی روایت:
قال الإمام البيهقي وأخبرنا أبو زكريا بن أبى اسحاق أنبأ الحسن بن يعقوب: ثنا يحيى بن أبى طالب: أنبأ زيد بن الحباب: ثنا سفيان عن ابن جريج عن أبى الزبير قال أمرني عطاء أن أسأل سعيدا أين تكونان اليدان فى الصلوة فوق السرة أو أسفل من السرة فسألته عنه فقال: فوق السرة ، يعنى به سعيد بن جبير
یعنی امام عطاء بن ابی رباح نے ابوالزبیر کوحکم دیا کہ سعید بن جبیر سے پوچھو کہ نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے دونوں ہاتھ کہاں رکھے جائیں ناف سے نیچے یا ناف سے اوپر ( مراد سینے پر ) تو سعید بن جبیر نے کہا کہ ناف سے اوپر یعنی سینے پر یا سینے سے ذرا سا نیچے ۔ (سنن بیہقی ج 2 ص31)
یہ روایت بھی صحیح ومعتبر (اس روایت کی سند سفیان (ثوری) اور ابن جریج کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔ لیکن امام عبدالرزاق بن ھمام الصفانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انبا ابن جريج قال: وأنبأ نا أبو الزبير قال: قال لي عطاء بن أبى رباح : سئل سعيد بن جبير ، أين موضع اليدين فى الصلوة ؟ فقال: فوق السرة يعنی: عطاء بن ابی رباح نے فرمایا کہ سعید بن جبیر سے پوچھا گیا کہ نماز میں کہاں ہاتھ رکھنے چاہئیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ناف سے اوپر أمالی عبد الرزاق/ الفوائد لا بین مندہ ج 2 ص 234 ح 1899) اس کی سند بالکل صحیح ہے۔ اس صحیح روایت کے ساتھ بھیتی کی روایتو مذکورہ بھی صحیح قرار پاتی ہے والحمد للہ ) ہے اور اس امر کی دلیل ہے کہ کبار تابعین میں سے سعید بن جبیر بحالت قیام نمازی کے لئے فتوی دیتے کہ سینے پر ہاتھ باندھیں اور ظاہر ہے کہ اس سلسلے میں ابوزبیر کے ذریعہ اس فتوی کو طلب کرنے کے لئے امام عطاء بن ابی رباح بھی سعید بن جبیر کے فتوی پر عمل پیرا ہوئے اور ابوزبیر بھی اس لئے یہ روایت دراصل تین روایات ہوئیں۔
㉚ بیہقی کا حکم: “اصح اثر” = سعید بن جبیر اور ابو مجلز
حافظ بیہقی نے اثر سعید بن جبیر کو نقل کر کے کہا:
30: كذالك قاله أبو مجلز لا حق بن حميد أصح أثر روى فى هذا الباب أثر سعيد بن جبير وأبي مجلز
یعنی سعید بن جبیر ہی جیسا فتوی مشہور تابعی ابو مجلز لاحق بن حمید نے بھی دیا ہے اس سلسلے میں مروی شدہ آثار میں سب سے زیادہ صحیح اثر سعید بن جبیر اور اثر ابی مجلز لاحق بن حمید ہے۔ (سن بیہقی ج 2 ص 31)
اس عبارت بیہقی کا مطلب ہے کہ جس سند و متن کے ساتھ امام سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ نمازی بحالت قیام اپنے دونوں ہاتھ فوق السرة باندھے جس کا مطلب ہے کہ اس قول سعید بن جبیر میں بتلایا گیا ہے کہ نمازی بحالت قیام اپنے دونوں ہاتھ سینے پر یا سینے سے ذرا سا نیچے باندھے اسی سند و متن کے ساتھ یہ روایت ابو مجلز تابعی سے مروی ہے۔
اثر سعید بن جبیر واثر ابی مجلز وعطاء بن ابی رباح کی تصحیح:
او پر حدیث نمبرے 17 تحت ہم جو سند و متن نقل کر آئے ہیں اور اس سند کی تصحیح بھی واضح کر چکے ہیں اسی سند سے معمولی تغیر کے ساتھ یہ سند مروی ہے عطاء بن ابی رباح وسعید بن جبیر اور ابو مجلز لاحق بن حمید سے اس حدیث کے راوی ابوزبیر محمد بن مسلم بن تدرس صحیحین اور دیگر کتب حدیث کے رواۃ میں سے ہیں اس لئے ان کا ثقہ ہونا اجماعی ہے البتہ یہ مدلس تھے لہذا ان کی جس روایت میں تدلیس واقع ہو اور شواہد ومتابع سے مجروح ہو، اسے کمزور سمجھا جائے گا۔ زیر نظر روایت کی سند میں تدلیس نہیں بلکہ عطاء سے ان کا مکالمہ مذکور ہے اس لئے اس کی سند علت تدلیس سے پاک ہے اور ابوزبیر سے اس کے راوی ابن جریج ہیں جن کی حدیث و تفسیر پر متعدد کتابیں ہیں ان کی کسی کتاب ہی سے یہ حدیث منقول ہوگی۔
ابوالزبیر سے اس روایت کے ناقل سفیان ثوری ( یہاں سفیان ثوری ہی مراد ہیں جو کہ مدلس ہیں۔ دیکھئے ص 16 ) یا سفیان بن عیینہ ہیں اور یہ دونوں کے دونوں ثقہ ہیں سفیان سے اس کے راوی زید بن الحباب مشہور ثقہ محدث ہیں اور ان سے اس روایت کے ناقل یحیی بن ابی طالب کا ثقہ ہونا بھی بیان کیا جا چکا ہے اسی طرح ان سے روایت کرنے والے حسن بن یعقوب اور حسن سے نقل کرنے والے ابو زکریا کا ثقہ ہونا بھی ظاہر کیا جا چکا ہے۔ لہذا یہ سند صحیح ہے اور اس امر کی دلیل ہے کہ یہ چاروں جلیل القدر کبار تابعین نمازی کے لئے بحالت قیام سینے پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیتے تھے ظاہر ہے کہ یہ کبار تابعین ان احادیث مرفوعہ اور آثار موقوفہ جو معنوی طور پر احادیث مرفوعہ ہی ہیں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی فعل خود کرتے اور دوسروں کو بھی کرنے کا فتوی دیتے اور لوگ ان کے فتوی پر عمل کرتے تھے۔
㉛ عامر شعبیؒ: فتویٰ—سینہ/فوق السرة
امام عامر شعبی کو احناف ( بریلوی و دیوبندی حضرات بھی امام مانتے ہیں ) وہ بھی امام ابن جریر طبری کی تصریح و نقل کے مطابق نماز میں بحالت قیام سینے پر ہاتھ باندھنے کا فتوی دیا کرتے تھے (تفسیر ابن جریر طبری ج 30 ص210) یہ روایت بھی اپنے شواہد ومتابع سے مل کر صحیح و معتبر ہے۔ فرقہ دیوبندیہ وبریلویہ عام شعبی کو امام ابو حنیفہ کا سب سے بڑا استاد و شیخ الحدیث کہتے ہیں جس کا جائزہ ہم نے اپنی دوسری کتاب اللمحات الي ماني انوار الباري من الظلمات میں لیا ہے اور ابو زبیر محمد بن مسلم بن تدرس کو بھی حنفی لوگ امام ابو حنیفہ کا استاد کہتے ہیں۔
㉜ ابو الجوزاءؒ: اپنے اصحاب کو حکم—یمنی على الیسرى
قال الإمام ابن أبى شيبة: حدثنا عبد الأعلى عن المستمر بن الريان عن أبى الجوزاء كان يامر أصحابه أن يضع أحدهم يده اليمنى على اليسرى وهو يصلى
یعنی ابو الجوزاء اوس بن عبد اللہ ربعی اپنے اصحاب کو حکم دیتے تھے کہ وہ سب اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر نماز میں بوقت قیام رکھیں ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ص 391)
یہ بات گزر چکی ہے کہ ابو الجوزاء اوس بن عبد اللہ ربعی سیدنا عبد اللہ بن عباس ترجمان القرآن سے سورہ کوثر کی آیت ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ﴾ کا ایک معنی یہ بتلاتے کہ بوقت قیام نماز میں لوگ سینے پر ہاتھ رکھیں اور بنظر ظاہر یہ بات واضح ہے کہ اس آیت کے جو معنی ابن عباس جیسے ترجمان القرآن سے ابوالجوزاء نے سنے اور یاد کئے اسی پر ان کا ذاتی عمل بھی تھا اور اس کا فتوی وہ اپنے اصحاب کو دیا کرتے تھے اور ابوالجوزاء کے شاگرد متعدد تابعین بھی ہیں۔
یہ کل چھ کبار تابعین ہوئے جن سے بالصراحت نماز میں بوقت قیام سینے پر ہاتھ رکھنے یا باندھنے کا قول و عمل و فتوی منقول ہے ۔ اس کسی بھی صحابی یا تابعی سے معتبر سندوں سے یہ منقول نہیں کہ سینے کی بجائے ناف کے نیچے ہاتھ باندھے یا رکھے جائیں۔
㉝ وائل بن حجرؓ: کف/رسغ/ساعد—جامع نص (صحیح ابن خزیمہ 480)
قال الإمام ابن خزيمة: حدثنا محمد بن يحيي نا معاويه بن عمرو: نا زائدة: نا عاصم بن كليب الـجـرمـى: حـدثـنـي أبـي أن وائل بن حجر أخبره قال: قلت لأ نظر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف يصلي؟ قال فنظرت إليه قال : فكبر ورفع يديه حتى حاذتا أدنيه ثم وضع يده اليمنى على ظهر كفه اليسرى و الرسغ والساعد (صحیح ابن خزیمہ حدیث نمبر: 480 ج 1 ص 223)
یہ حدیث دوسرے طرق سے ہم نقل کر آئے ہیں اس کا حاصل معنی یہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم اپنے داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی کلائی ، پہونچے اور ہتھیلی پر چپکا کر رکھتے تھے اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کا التزامی معنی ہے کہ سینے پر ہاتھ رکھے جائیں۔
خاتمہ:
ہم اپنی دانست اور جان کاری کے مطابق اس موضوع پر اپنی یہ کتاب لکھ چکے ہیں۔ ناظرین کرام اسے دیکھ کر بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کوئی ایک بھی معتبر مرفوع نص نبوی یا نص قرآنی نہ قول صحابی نہ قول تابعی نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے اور تکبیر تحریمہ کے بعد زیر ناف کے نا پسندیدہ بالوں پر ہاتھ رکھنے کی تائید میں نہیں ملتا۔ پھر نہ جانے کس بنیاد پر بے سر و پایہ بدعت اہل الرائے مرجیہ اور اس کی ذیلی شاخوں میں رائج ہوگئی اور اسلام و ایمان کے مدعی بلکہ علم و فضل کی طرف منسوب لوگوں نے اسے اپنا دین و ایمان بنا لیا اور نہایت حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ اس سنت واضحہ کے معاملہ میں اپنے آپ کو اہل سنت و جماعت کہنے والوں نے شریعت محمدی کی تصریح کو چھوڑ کر ہمیشہ سنت نبوی کے خلاف نماز پڑھاتے ہیں۔ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے” اسوہ حسنہ“ بہترین نمونہ قرار دیا ہے وہ اپنی بعثت سے لے کر تا حیات، وفات پانے تک نماز میں بحالت قیام رکوع سے پہلے سینے پر یا سینے سے ذرا سا نیچے دونوں ہاتھ رکھ کر خود نماز پڑھتے رہے اور اپنی امت کو پڑھنے کا حکم دیتے رہے اور تاکید کے ساتھ فرماتے کہ صلوا كمار أيتموني أصلي تم اپنی نماز اس طور طریق پر پڑھو جس طور طریق پر پڑھتے ہوئے مجھے دیکھتے ہو، ( عام کتب حدیث )
فرقہ اہل الراوی مرجہ اور اس کی تمام ذیلی شاخیں دیوبندیہ و بریلویہ وغیرہ علم وفضل کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے کے باوجود نہ جانے کیسے اپنے یہاں اس سنت متواترہ خصوصاً نماز جیسے معاملہ میں ترک کر کے دوسرا راستہ اختیار کرلیا۔ والله يهدى من يشاء إلى صراط مستقيم
ضمیمہ: مقلدین کے اعتراضات اور ان کا جواب
ابن الترکمانی کے اعتراضات کا خلاصہ
-
اعتراض 1: بیہقی نے ابو مجلزؒ کا فتویٰ (فوق السرة) اپنی طرف سے لکھا ہے۔
-
جواب: بیہقی نے وہی سند دی ہے جو سعید بن جبیرؒ کے فتویٰ کی ہے۔ اس لئے یہ الزام باطل ہے۔
-
-
اعتراض 2: علیؓ اور ابن عباسؓ کے آثار ضعیف ہیں۔
-
جواب: یہ دونوں آثار صحیح اور متعدد اسانید سے ثابت ہیں۔ ابن الترکمانی کا کلام بے دلیل ہے۔
-
-
اعتراض 3: سعید بن جبیرؒ کی روایت میں یحییٰ بن ابی طالب ضعیف ہے۔
-
جواب: یحییٰ بن ابی طالب کو جمہور محدثین نے ثقہ کہا ہے، ان پر جرح مردود ہے۔
-
-
اعتراض 4: تابعی کے قول کو “اثر” کہنا درست نہیں۔
-
جواب: محدثین و فقہاء نے کبار تابعین کے اقوال کو بھی “آثار” میں شامل کیا ہے (مثلاً موطا، معانی الآثار)۔
-
زیر ناف ہاتھ باندھنے کی روایات
-
علیؓ سے مروی “تحت السرة” روایت ضعیف ہے اور بیہقی نے خود اسے متروک کہا۔
-
ابو ہریرہؓ اور انسؓ سے منسوب روایات بھی ضعیف ہیں (ان کے راوی سخت مجروح ہیں)۔
ائمہ کے مسالک
-
امام مالکؒ: موطا میں ہاتھ باندھنے کی حدیث لا کر خود اسی پر عمل کرتے تھے—یعنی سینے پر یا اس سے ذرا نیچے۔
-
امام شافعیؒ، امام احمدؒ، امام اسحاقؒ: سب کا مسلک یہی ہے کہ قیام میں دایاں ہاتھ بائیں پر، سینے پر یا اس کے قریب رکھا جائے۔
-
امام احمدؒ کے الفاظ: “بعضہ على الكف وبعضها على الذراع… وزاد على الرسغ والساعد” (یعنی کہنی تک)۔
نتیجہ: ناف سے نیچے ہاتھ باندھنے پر کوئی صحیح روایت نہیں، جبکہ سینے پر باندھنے پر متواتر احادیث اور ائمہ کا عمل موجود ہے۔
مزید احادیث (تقویت کے لیے)
-
وائل بن حجرؓ: “میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے دایاں ہاتھ بائیں پر رکھ کر سینے پر باندھا” (صحیح ابن خزیمہ، بیہقی وغیرہ)۔
-
ہلبؓ (یزید بن عدیؓ): “میں نے رسول اللہ ﷺ کو سینے پر ہاتھ باندھتے دیکھا” (مسند احمد)۔
-
راوی قبیصہ بن ہلب اور سماک بن حرب حسن الحدیث ہیں، سفیان ثوری نے ان سے قبل از اختلاط روایت کی ہے۔
-
اس لیے یہ روایت صحیح ہے اور پہلی روایات کی قوی متابعت ہے۔
-
خلاصہ
-
تمام صحیح دلائل سینے پر یا اس سے ذرا نیچے ہاتھ باندھنے پر متفق ہیں۔
-
ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے والی روایات یا تو ضعیف ہیں یا من گھڑت اضافہ۔
-
ائمہ اربعہ (احمد، شافعی، مالک) اور کبار تابعین سب سینے پر ہاتھ باندھنے کے قائل ہیں۔