ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری
سوال:
نماز میں پھونکیں مارنا کیسا ہے؟
جواب:
بلا ضرورت نماز میں آواز نکالنا یا پھونک مارنا درست نہیں۔ نماز میں اطمینان اور سکون واجب ہے۔
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
أجمع العلماء على كراهية النفخ فى الصلاة.
” علما کا اجماع ہے کہ نماز میں پھونکیں مارنا مکروہ ہے۔“
(التمهيد: 157/14)
البتہ نماز میں پھونک مارنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، اسی طرح اگر نماز میں جمائی لیتے ہوئے آواز نکل آئے، تو یہ مکروہ ضرور ہے، مگر اس سے نماز فاسد نہ ہوگی۔