نماز میں مقتدی سورۃ فاتحہ کب پڑھے؟ شرعی وضاحت

ماخوذ: احکام و مسائل، نماز کا بیان، جلد 1، صفحہ 143

امام کے پیچھے نماز پڑھتے وقت سورۃ فاتحہ پڑھنے کا حکم

سوال:

جب امام نماز پڑھا رہا ہو تو مقتدی کو سورۃ فاتحہ کب پڑھنی چاہیے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

«لاَ صَلٰوۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرأ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ»

(صحیح بخاری، کتاب الاذان، باب وجوب القراءۃ للامام والماموم فی الصلوٰت کلھا فی الحضر والسفر و ما یجھر فیھا وما یخافت)

یعنی:
"جس نے سورۃ فاتحہ نہ پڑھی، اس کی کوئی نماز نہیں”

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نماز کی صحت کے لیے سورۃ فاتحہ پڑھنا لازمی ہے۔

لہٰذا مقتدی کے لیے بھی نماز کے دوران سورۃ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے، چاہے وہ:

◈ امام کے ساتھ ساتھ پڑھے، یا

◈ امام سے پہلے پڑھے، یا

◈ امام کے پیچھے بعد میں پڑھے

شریعت نے مقتدی کو ان تینوں میں سے کسی ایک طریقے کا پابند نہیں بنایا، لہٰذا وہ ان میں سے کسی بھی صورت میں سورۃ فاتحہ پڑھ سکتا ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے