سوال:
ایک امام نماز میں بہت لمبی قراءت کرتا ہے، باوجود مقتدیوں کے کہنے کے باز نہیں آتا، شریعت میں اس کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب:
جماعت میں تخفیف کرنی چاہیے، کیونکہ اقتدا میں بیمار، کمزور اور حاجت مند افراد ہوتے ہیں۔ جو شخص باوجود مقتدیوں کے کہنے کے قراءت لمبی کرتا ہے، اس کے بارے میں یہ حدیث ملاحظہ ہو:
❀ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
”سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کرتے، پھر آ کر اپنی قوم کی امامت فرماتے۔ ایک رات انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں عشا کی نماز ادا کی اور اپنی قوم کو آکر یہی نماز پڑھائی اور سورۃ البقرہ کی قراءت شروع کر دی۔ ایک آدمی نے نماز توڑ کر پیچھے پلٹا اور اکیلے اپنی نماز ادا کر کے چلا گیا۔ دوسرے صحابہ نے کہا: اے فلاں! کیا تو منافق ہو گیا ہے؟ اس نے جواباً کہا: اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہے، البتہ میں یہ قصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار ضرور کروں گا۔ چنانچہ اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم سارا دن اونٹوں کے ذریعے کھیت سیراب کرتے ہیں۔ معاذ نے آپ کے ساتھ عشا کی نماز پڑھی اور ہمارے پاس آکر سورۃ البقرہ شروع کر دی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
يا معاذ أفتان أنت اقرأ بكذا واقرأ بكذا.
”اے معاذ! کیا آپ لوگوں کو دین سے متنفر کرتے ہیں؟ فلاں فلاں سورت پڑھا کیجیے۔“
(صحيح البخاري: 700؛ صحيح مسلم: 465، واللفظ له)